মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২১৭০৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مضارب کے خرچ کی کیا صورت ہوگی ؟
(٢١٧٠٧) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ مضارب خرچ کرے گا اور درمیانے درجہ کے کپڑے استعمال کرے گا، اگر اس کو نفع ہو تو وہ اس کے نفع میں سے ہوگا، اور اگر اس کو نقصان ہو تو وہ رأس المال میں سے ہوگا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین (رض) سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : رب المال سے اجازت کے بغیر خرچ کرنے کو میں پسند نہیں کرتا۔
(۲۱۷۰۷) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمِ وَحَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : الْمُضَارِبُ یُنْفِقُ وَیَکْتَسِی بِالْمَعْرُوفِ ، فَإِنْ رَبِحَ کَانَ مِنْ رِبْحِہِ ، وَإِنْ وَضَعَ کَانَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ۔ قَالَ : وَسَأَلْت ابْنَ سِیرِینَ ، قَالَ : مَا أُحِبُّ أَنْ یُنْفِقَ حَتَّی یَسْتَأْذِنَ رَبَّ الْمَالِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭০৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مضارب کے خرچ کی کیا صورت ہوگی ؟
(٢١٧٠٨) حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر مضارب چاہے تو اجیر کو اجرت پر لے سکتا ہے اور غلام کو کھلا سکتا ہے اگر وہ مضاربۃ میں سے ہو، لیکن خود ان کے ساتھ مت کھائے۔
(۲۱۷۰۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : إِنْ شَائَ الْمُضَارِبُ اسْتَأْجَرَ الأَجِیرَ وَأَطْعَمَ الرَّقِیقَ إذَا کَانَ مِنَ الْمُضَارَبَۃِ ، وَلاَ یَأْکُلُ مَعَہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭০৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مضارب کے خرچ کی کیا صورت ہوگی ؟
(٢١٧٠٩) حضرت حماد فرماتے ہیں کہ مضارب کے لیے کھانے اور کسی ایسی چیز کی شرط نہیں لگائیں گے جس میں اس کا فائدہ ہو، ہاں اگر اس میں مضاربۃ کا فائدہ ہو تو ٹھیک ہے، اگر مضاربہ کا فائدہ نہ ہو تو وہ اس کے اپنے ذاتی مال میں سے شمار ہوگا۔
(۲۱۷۰۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : لاَ یَشْتَرِطُ الْمُضَارِبُ طَعَامًا ، وَلاَ شَیْئًا یَنْتَفِعُ بِہِ إلاَّ أَنْ یَکُونَ فِیہِ مَنْفَعَۃٌ لِلْمُضَارَبَۃِ ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ فِیہِ مَنْفَعَۃٌ لِلْمُضَارَبَۃِ کَانَ ذَلِکَ فِی مَالِ نَفْسِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭০৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مضارب کے خرچ کی کیا صورت ہوگی ؟
(٢١٧١٠) حضرت قاسم اور سالم سے دریافت کیا گیا کہ مضارب ان پیسوں میں سے کھا پی سکتا ہے، سواری کرسکتا ہے اور کپڑے وغیرہ پہن سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر مضاربۃ کی وجہ سے ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔
(۲۱۷۱۰) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی عِمْرَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ وَسَالِمٍ : أَنَّہُ سَأَلَہُمَا عَنِ الْمُقَارِضِ یَأْکُلُ وَیَشْرَبُ وَیَکْتَسِی وَیَرْکَبُ بِالْمَعْرُوفِ ، قَالَ : إذَا کَانَ فِی سَبَبِ الْمُضَارَبَۃِ فَلاَ بَأْسَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غائب کے لیے شفعہ ہو سکتا ہے کہ نہیں ؟
(٢١٧١١) حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : شفیع پڑوسی پر شفعہ کرنے کا زیادہ حق دار ہے، اگر ان دونوں کا راستہ ایک ہو اور شفیع غائب ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا۔
(۲۱۷۱۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الشَّفِیعُ أَحَقُّ بِشُفْعَۃِ جَارِہِ ، یَنْتَظِرُ بِہَا ، وَإِنْ کَانَ غَائِبًا إذَا کَانَتْ طَرِیقُہُمَا وَاحِدَۃً۔
(ابوداؤد ۳۵۱۲۔ ترمذی ۱۳۶۹)
(ابوداؤد ۳۵۱۲۔ ترمذی ۱۳۶۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غائب کے لیے شفعہ ہو سکتا ہے کہ نہیں ؟
(٢١٧١٢) حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) نے دس سال بعد شریک کے لیے شفعہ کا فیصلہ فرمایا، اس کا شریک (ساتھی) غائب تھا۔
(۲۱۷۱۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ : أَنَّہُ قَضَی بِالشُّفْعَۃِ لِلشَّرِیکِ بَعْدَ عَشْرِ سِنِینَ وَکَانَ غَائِبًا صَاحِبُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غائب کے لیے شفعہ ہو سکتا ہے کہ نہیں ؟
(٢١٧١٣) حضرت حسن (رض) بچے اور غائب کے لیے شفعہ کا حق سمجھتے تھے۔
(۲۱۷۱۳) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ یَرَی الشُّفْعَۃَ لِلصَّغِیرِ وَالْغَائِبِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غائب کے لیے شفعہ ہو سکتا ہے کہ نہیں ؟
(٢١٧١٤) حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ اگر گھر فروخت ہو اور اس کا شفیع غائب ہو یا چھوٹا ہو تو غائب واپس آنے تک شفعہ کا زیادہ حق دار ہے اور چھوٹا بچہ بڑا ہونے تک حق دار ہے۔
(۲۱۷۱۴) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ شُرَیْحٍ : فِی الدَّارِ تُبْتَاعُ وَبِہَا شَفِیعٌ غَائِبٌ ، أَوْ صَغِیرٌ ، قَالَ : الْغَائِبُ أَحَقُّ بِالشُّفْعَۃِ حَتَّی یَرْجِعَ ، وَالصَّغِیرُ حَتَّی یَکْبُرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غائب کے لیے شفعہ ہو سکتا ہے کہ نہیں ؟
(٢١٧١٥) حضرت ابراہیم (رض) اور حضرت حارث فرماتے ہیں کہ غائب کے لیے شفعہ کا حق نہیں ہے۔
(۲۱۷۱۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لَیْسَ لِغَائِبٍ شُفْعَۃٌ۔ وَکَانَ الْحَارِثُ یَرَی ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غائب کے لیے شفعہ ہو سکتا ہے کہ نہیں ؟
(٢١٧١٦) حضرت شعبی (رض) اور حضرت حاکم (رض) فرماتے ہیں غائب کے لیے شفعہ کا حق ہے۔
(۲۱۷۱۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ وَالحَکَم ، قَالاَ : لِلْغَائِبِ شُفْعَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غائب کے لیے شفعہ ہو سکتا ہے کہ نہیں ؟
(٢١٧١٧) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ غائب کے لیے شفعہ کا حق ہے۔ اس کو خط لکھا جائے گا، اگر وہ شفعہ کو قبول کرے اور گھر کا ثمن بھیج دے تو ٹھیک وگرنہ اس کے لیے شفعہ نہیں ہے۔ ( حق ختم ہوجائے گا۔ )
(۲۱۷۱۷) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لِلْغَائِبِ شُفْعَۃٌ تُکْتَبُ إلَیْہِ، فَإِنْ أَخَذَ وَبَعَثَ بِالثَّمَنِ وَإِلاَّ فَلاَ شُفْعَۃَ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تولیۃ بیع ہے کہ نہیں ؟
(٢١٧١٨) حضرت حسن اور ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ تولیہ بھی بیع ہے۔
تولیہ کہتے ہیں کہ جتنے کی خریدی ہے اتنے میں ہی بغیر منافع حاصل کئے آگے فروخت کردینا۔
تولیہ کہتے ہیں کہ جتنے کی خریدی ہے اتنے میں ہی بغیر منافع حاصل کئے آگے فروخت کردینا۔
(۲۱۷۱۸) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : صَارَ قَوْلُہُمَا إلَی أَنَّ التَّوْلِیَۃَ بَیْعٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تولیۃ بیع ہے کہ نہیں ؟
(٢١٧١٩) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں تولیہ بھی بیع ہے۔
(۲۱۷۱۹) حَدَّثَنَا شَرِیک ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : التَّوْلِیَۃُ بَیْعٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تولیۃ بیع ہے کہ نہیں ؟
(٢١٧٢٠) حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ تولیہ بھی بیع ہی ہے، قبضہ کئے بغیر پیٹھ نہیں پھیرے گا۔
(۲۱۷۲۰) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : التَّوْلِیَۃُ بَیْعٌ ، وَلاَ تُوَلَّی حَتَّی تُقْبَضَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭২০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تولیۃ بیع ہے کہ نہیں ؟
(٢١٧٢١) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ تولیہ بیع ہے۔
(۲۱۷۲۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ وأبو أسامۃ ، عَنْ فطر ، عن الحکم ، قَالَ : التولیۃ بیع۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭২১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تولیۃ بیع ہے کہ نہیں ؟
(٢١٧٢٢) حضرت طاؤس (رض) بیع تولیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(۲۱۷۲۲) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بِالتَّوْلِیَۃِ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭২২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تولیۃ بیع ہے کہ نہیں ؟
(٢١٧٢٣) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں تولیہ بیع ہے۔
(۲۱۷۲۳) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَبِی قَیْسٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : التَّوْلِیَۃُ بَیْعٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭২৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تولیۃ بیع ہے کہ نہیں ؟
(٢١٧٢٤) حضرت زہری فرماتے ہیں تولیہ بیع ہے۔
(۲۱۷۲۴) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : التَّوْلِیَۃُ بَیْعٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭২৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تولیۃ بیع ہے کہ نہیں ؟
(٢١٧٢٥) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں تولیہ بھی بیع ہے۔
(۲۱۷۲۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : التَّوْلِیَۃُ بَیْعٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭২৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص بھگوڑے غلام کو پکڑ لے پھر وہ اُس کے پاس سے بھی بھاگ جائے
(٢١٧٢٦) ایک شخص نے بھگوڑے غلام کو پکڑ لیا تاکہ اس کے آقا کو واپس کرسکے، وہ غلام اس کے پاس سے بھی بھاگ گیا، وہ دونوں جھگڑتے ہوئے حضرت شریح کے پاس آئے، آپ نے اس شخص کو ضامن بنادیا، جب حضرت علی (رض) کو اس فیصلہ کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا قاضی نے غلطی کی، وہ اس سے قسم اٹھواتا کہ وہ اس سے بھاگ گیا ہے اور اس پر ضمان نہیں ۔
(۲۱۷۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانَ ، عَنْ حَزْنِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ رَجَائِ بْنِ الْحَارِثِ : أَنَّ رَجُلاً اجْتَعَلَ فِی عَبْدٍ آبِقٍ ، فَأَخَذَہُ لِیَرُدَّہُ ، فَأَبِقَ مِنْہُ ، فَخَاصَمَہُ إلَی شُرَیْحٍ فَضَمَّنَہُ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ عَلِیًّا فَقَالَ : أَسَائَ الْقَضَائَ ، یَحْلِفُ بِاللَّہِ : لاَبِقَ مِنْہُ ، وَلاَ ضَمَانَ عَلَیْہِ۔
তাহকীক: