মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২১৭২৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص بھگوڑے غلام کو پکڑ لے پھر وہ اُس کے پاس سے بھی بھاگ جائے
(٢١٧٢٧) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بھگوڑا واپس کرنے کے لیے پکڑے اور وہ غلام اس کے پاس سے بھی بھاگ جائے تو اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہے۔
(۲۱۷۲۷) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، وَعَبْدَۃُ وَوَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ : فِی رَجُلٍ أَخَذَ عَبْدًا آبِقًا لِیَرُدَّہُ ، فَذَہَبَ مِنْہُ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص بھگوڑے غلام کو پکڑ لے پھر وہ اُس کے پاس سے بھی بھاگ جائے
(٢١٧٢٨) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہے۔
(۲۱۷۲۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدِ الْقَطَّانُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص بھگوڑے غلام کو پکڑ لے پھر وہ اُس کے پاس سے بھی بھاگ جائے
(٢١٧٢٩) حضرت شریح (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بھگوڑا غلام پکڑا تو وہ اس کے پاس بھی بھاگ گیا، غلام کا آقا آیا اور دونوں کا مقدمہ حضرت شریح کے پاس آیا، آپ نے فرمایا : غلام اس سے پہلے ہی تیرے پاس سے بھاگا تھا لہٰذا اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہے۔
(۲۱۷۲۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، أَنَّ رَجُلاً أَخَذَ عَبْدًا آبِقًا فَأَبَقَ مِنْہُ ، قَالَ : فَجَائَ مَوْلَی الْعَبْدِ فَقَدَّمَہُ إلَی شُرَیْحٍ ، فَقَالَ شُرَیْحٌ : قَدْ أَبِقَ مِنْک قَبْلَہُ ، فَلَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص بھگوڑے غلام کو پکڑ لے پھر وہ اُس کے پاس سے بھی بھاگ جائے
(٢١٧٣٠) حضرت ابن جریج (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن ابی ملیکۃ نے مجھ سے فرمایا اگر بھگوڑا غلام اس کے پاس سے بھی بھاگ جائے تو اس پر کچھ لازم نہیں ہے۔
(۲۱۷۳۰) حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ: قَالَ لِی ابْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ: إِنْ ذَہَبَ مِنْہُ فَلَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص بھگوڑے غلام کو پکڑ لے پھر وہ اُس کے پاس سے بھی بھاگ جائے
(٢١٧٣١) حضرت قتادہ، حضرت ہاشم اور منصور (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے بھگوڑے غلام کو پکڑا ہے اس سے بھی غلام اگر بھاگ جائے تو اس پر کچھ لازم نہیں۔
(۲۱۷۳۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ ، عَنْ قَتَادَۃَ وَأَبِی ہَاشِمٍ وَمَنْصُورٍ قَالُوا : إِنْ فَرَّ مِنَ الَّذِی أَخَذَہُ فَلَیْسَ عَلَیْہِ ضَمَانٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب کیل اور وزن کو نام لے کر متعین کر لیا جائے تو پھر کیل کر دینا چاہیے
(٢١٧٣٢) حضرت حکم سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں حضرت عثمان (رض) کے لیے گندم وغیرہ آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : چلو ہمارے ساتھ حضرت عثمان (رض) کے پاس تاکہ گندم فروخت کرنے میں ہم ان کی مدد کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پہلو میں کھڑے ہوگئے، حضرت عثمان (رض) فرما رہے تھے کہ اس بوری میں اتنی اتنی گندم ہے اور میں اس کو اتنے اتنے میں فروخت کروں گا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم نام لے کر متعین کردو تو کیل کردیا کرو۔
(۲۱۷۳۲) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ وَابْنُ أَبِی غَنِیَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی غَنِیَّۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : قدِّمَ لِعُثْمَانَ طَعَامٌ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اذْہَبُوا بِنَا إلَی عُثْمَانَ نُعِینُہُ عَلَی بَیْعِ طَعَامِہِ ، فَقَامَ إلَی جَنْبِہِ وَعُثْمَانُ یَقُولُ : فِی ہَذِہِ الْغِرَارَۃِ کَذَا وَکَذَا ، وَأَبِیعُہَا بِکَذَا وَکَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا سَمَّیْتَ فَکِلْ۔ (عبد بن حمید ۵۲۔ احمد ۷۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب کیل اور وزن کو نام لے کر متعین کر لیا جائے تو پھر کیل کر دینا چاہیے
(٢١٧٣٣) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جب کیل اور وزن کا نام لے کر متعین کردیا جائے تو کیل کرنے سے پہلے آگے فروخت نہ کیا کرو۔
(۲۱۷۳۳) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ التَّیْمِیِّ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ، قَالَ: إذَا سُمِّی الْکَیْلَ وَالْوَزْنَ فَلاَ تَبِعْہُ حَتَّی تَکِیلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب کیل اور وزن کو نام لے کر متعین کر لیا جائے تو پھر کیل کر دینا چاہیے
(٢١٧٣٤) حضرت قتادہ اور حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ جب کیل اور وزن کو نام لے کر متعین کردیا جائے تو پھر کیل کردینا چاہیے۔
(۲۱۷۳۴) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سَعِیدٍ، عَنْ قَتَادَۃَ ، وَالْحَسَنِ ، أَنَّہُمَا قَالاَ : إذَا سَمَّی الْکَیْلَ وَالْوَزْنَ فَلْیَکِلْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب کیل اور وزن کو نام لے کر متعین کر لیا جائے تو پھر کیل کر دینا چاہیے
(٢١٧٣٥) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ جب سلم کو اختیار کرلو اور کیل کو متعین کرلو تو پھر اندازے کے ساتھ مت لو۔
(۲۱۷۳۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا أَسْلَمْتَ سَلَمًا ، وَسَمَّیْتَ کَیْلاً ، فَلاَ تَأْخُذْ جُزَافًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب کیل اور وزن کو نام لے کر متعین کر لیا جائے تو پھر کیل کر دینا چاہیے
(٢١٧٣٦) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ جب کیل کر کے کوئی چیز فروخت کرنی ہو تو اس کو کیل کرلیا کرو۔
(۲۱۷۳۶) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : إذَا ابْتَعْت طَعَامًا فِی أَوْسَاقِہِ فَکتلْہُ ، یَعْنِی إذَا ابْتَعْتہ کَیْلاً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص گندم پر قبضہ کرنے سے پہلے اس میں بیع تولیہ (بغیر نفع کی بیع) کرسکتا ہے ؟
(٢١٧٣٧) حضرت حسن (رض) گندم وغیرہ پر قبضہ سے پہلے بیع تولیہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۱۷۳۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُوَلِّیَ مِنَ الطَّعَامِ شَیْئًا حَتَّی یَقْبِضَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص گندم پر قبضہ کرنے سے پہلے اس میں بیع تولیہ (بغیر نفع کی بیع) کرسکتا ہے ؟
(٢١٧٣٨) حضرت قتادہ گندم پر قبضہ سے پہلے اس کو بیع تولیہ کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے اور فرماتے ہیں یہ معروف ہے۔
(۲۱۷۳۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ : أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا بِتَوْلِیَۃِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ یَقْبِضَ ، وَیَقُولُ : ہُوَ مَعْرُوفٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص گندم پر قبضہ کرنے سے پہلے اس میں بیع تولیہ (بغیر نفع کی بیع) کرسکتا ہے ؟
(٢١٧٣٩) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۱۷۳۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عن ابن عون ، عن محمد : أنہ کرہہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৩৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص گندم پر قبضہ کرنے سے پہلے اس میں بیع تولیہ (بغیر نفع کی بیع) کرسکتا ہے ؟
(٢١٧٤٠) حضرت عطائ (رض) بھی قبضہ سے پہلے بیع تولیہ کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
(۲۱۷۴۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ سَعِیدٍ، عَنْ وَہْبٍ الْعَمِّیِّ، عَنْ عَطَائٍ: أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یُوَلِّیَہُ قَبْلَ أَنْ یَقْبِضَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৪০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص گندم پر قبضہ کرنے سے پہلے اس میں بیع تولیہ (بغیر نفع کی بیع) کرسکتا ہے ؟
(٢١٧٤١) حضرت سعید (رض) فرماتے ہیں کہ جو شخص کیل یا وزن کے ساتھ کوئی چیز خریدے تو قبضہ سے پہلے اس کو آگے فروخت نہ کرے، لیکن بیع تولیہ کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے، یا وہ بغیر وزن اور کیل کے کسی کو شریک کرلے ۔
(۲۱۷۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، قَالَ : مَنِ اشْتَرَی شَیْئًا بِکَیْلٍ ، أَوْ وَزْنٍ فَلاَ یَبِعْہُ حَتَّی یَقْبِضَہُ ، وَکَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یُوَلِّیَہُ أَوْ یُشْرِکَ فِیہِ بِغَیْرِ کَیْلٍ ، وَلاَ وَزْنٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৪১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص گندم پر قبضہ کرنے سے پہلے اس میں بیع تولیہ (بغیر نفع کی بیع) کرسکتا ہے ؟
(٢١٧٤٢) حضرت سعید بن المسیب (رض) سے مرفوعاً مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سپردگی سے قبل ( قبضہ سے پہلے ) بیع تولیہ اور شرکت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۱۷۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ ، عَنْ رَبِیعَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، رَفَعَہُ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِالتَّوْلِیَۃِ وَالشِّرْکَ قَبْلَ أَنْ یُسْتَوْفَی۔ (عبدالرزاق ۱۴۲۵۷۔ ابوداؤد ۱۹۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৪২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قبضہ کرنے سے قبل آگے بیع مت کرو
(٢١٧٤٣) حضرت حکیم فرماتے ہیں کہ میں نے قبضہ کرنے سے پہلے صدقات کی گندم میں سے کچھ گندم فروخت کی، مجھے اس میں نفع ہوا۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قبضہ کرنے سے پہلے آگے بیع مت کیا کرو۔
(۲۱۷۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَکِیمٍ ، قَالَ : قَالَ لِی حَکِیمٌ: ابْتَعْت طَعَامًا مِنْ طَعَامِ الصَّدَقَۃِ فَرَبِحْت فِیہِ قَبْلَ أَنْ أَقْبِضَہُ ، فَأَتَیْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَألتہ؟ فَقَالَ : لاَ تَبِعْہُ حَتَّی تَقْبِضَہُ۔ (نسائی ۶۱۹۵۔ طیالسی ۱۳۱۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৪৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قبضہ کرنے سے قبل آگے بیع مت کرو
(٢١٧٤٤) حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیع کرے تو کیل کرنے سے پہلے بیع نہ کرے، حضرت ابن ابی زائدہ فرماتے ہیں یہ بھی فرمایا کہ جب تک قبضہ نہ کرلے۔
(۲۱۷۴۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ وَابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، کِلاَہُمَا عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا ابْتَاعَ أَحَدُکُمْ طَعَامًا فَلاَ یَبِعْہُ حَتَّی یَکِیلَہُ ، قَالَ ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ : وَیُقْبِضَہُ۔ (مسلم ۱۱۶۱۔ بخاری ۲۱۲۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৪৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قبضہ کرنے سے قبل آگے بیع مت کرو
(٢١٧٤٥) حضرت ابن عمر (رض) سے تیل ، گھی، گندم اور جَوْ کے بیعانہ کے متعلق دریافت کیا گیا آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : کوئی حرج نہیں مگر اس پر قبضہ کرنے سے قبل بیع مت کرنا۔
(۲۱۷۴۵) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلْتُہ عَنِ الْسَّلفِ فِی الزَِّیتِ وَالسَّمْن وَالْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیرِ ؟ فَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ ، وَلَکِنْ لاَ تَبِعْہُ حَتَّی تَقْبِضَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৪৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قبضہ کرنے سے قبل آگے بیع مت کرو
(٢١٧٤٦) حضرت نافع (رض) سے مروی ہے کہ حضرت حکیم بن حزام (رض) نے راشن کی پرچی خریدی تو حضرت ابن عمر (رض) نے ان کو منع فرما دیا کہ اس پر قبضہ کرنے سے قبل اس کو فروخت نہ کرنا۔
(۲۱۷۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : نُبِّئْت أَنَّ حَکِیمَ بْنَ حِزَامٍ کَانَ یَشْتَرِی صِکَاکَ الرَّزْقِ فَنَہَاہُ ابن عُمَرُ أَنْ یَبِیعَ حَتَّی یَقْبِضَ۔
tahqiq

তাহকীক: