মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২১৯৮৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یا باندی خریدے
(٢١٩٨٧) حضرت حسن (رض) اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو غلام خرید کر آزاد کر دے پھر اس کو پتہ لگے کہ اس میں بیماری ہے جو بائع کے پاس سے چلی آرہی تھی، تو وہ غلام اس پر لینا واجب ہوگا اور بائع پر کچھ بھی واپس لٹانا واجب نہ ہوگا۔
(۲۱۹۸۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ : فِی رَجُلٍ اشْتَرَی عَبْدًا فَأَعْتَقَہُ ، ثُمَّ ظَہَرَ بِہِ دَائٌ کَانَ عِنْدَ الْبَائِعِ ، قَالَ : کَانَ یُوجِبُہُ عَلَیْہِ ، وَلاَ یَرُدُّ الْبَائِعُ شَیْئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৮৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یا باندی خریدے
(٢١٩٨٨) حضرت زہری (رض) عیب کی بقدر ثمن کم کرنے کے قائل تھے جبکہ اس کی موت کے بعد بیماری کا پتہ لگے۔
(۲۱۹۸۸) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : کَانَ یَرَی أَنْ یُحَطَّ عَنْہُ بِقَدْرِ الْعَیْبِ إذَا وُجِدَ بِہَا دَائٌ بَعْدَ الْمَوْتِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৮৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یا باندی خریدے
(٢١٩٨٩) حضرت عطا فرماتے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
(۲۱۹۸۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنِ مُبَارَکٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : لاَ عُہْدَۃَ بَعْدَ الْمَوْتِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৮৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ وسعت کے بعد قرض فی الفور ادا کرنا واجب ہے
(٢١٩٩٠) حضرت حارث (رض) اور حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ وسعت کے بعد قرض فی الفور ادا کرنا واجب ہے اگرچہ وہ مدت ( بعیدہ) کے لیے لیا ہو۔
(۲۱۹۹۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُکْلِیِّ وَأَصْحَابِہِ ۔ وَعَنْ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالُوا : الْقَرْضُ حَالٌّ ، وَإِنْ کَانَ إلَی أَجَلٍ ، وَبِہِ یَأْخُذُ أَبُو بَکْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৯০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کی زوجیت میں باندی ہو پھر وہ اُس سے بچہ جَنْ دے
(٢١٩٩١) حضرت ابراہیم اور حضرت عامر (رض) سے دریافت کیا گیا کہ آدمی باندی سے نکاح کرے پھر اس سے اس کا بچہ ہوجائے پھر وہ اس کو خرید بھی لیتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ دونوں حضرات نے فرمایا : وہ اس کو فروخت کرسکتا ہے جب تک اس نے اس کی ملکیت میں بچہ نہ جنا ہو ۔
(۲۱۹۹۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ وَعَامِرٍ : فِی الرَّجُلِ یَتَزَوَّجُ الأَمَۃَ فَتَلِدُ مِنْہُ ، ثُمَّ یَشْتَرِیہَا ، قَالاَ : یَبِیعُہَا مَا لَمْ تَلِدْ فِی مِلْکِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৯১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کی زوجیت میں باندی ہو پھر وہ اُس سے بچہ جَنْ دے
(٢١٩٩٢) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ وہ اس کو خرید ( بیچ ) سکتا ہے۔
(۲۱۹۹۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : یَبِیعُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৯২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کی زوجیت میں باندی ہو پھر وہ اُس سے بچہ جَنْ دے
(٢١٩٩٣) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ وہ اس کی ام ولد ہے۔
(۲۱۹۹۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : ہِیَ أُمُّ وَلَدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৯৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کی زوجیت میں باندی ہو پھر وہ اُس سے بچہ جَنْ دے
(٢١٩٩٤) حضرت حماد فرماتے ہیں اس کو نہ فروخت کرے وہ اس کی ام ولد ہے۔
(۲۱۹۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : لاَ یَبِیعُہَا ، ہِیَ بِمَنْزِلَۃِ أُمِّ الوَلَدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৯৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو مضاربۃً کوئی چیز دے
(٢١٩٩٥) حضرت حماد اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کوئی شخص کسی کو بطور مضاربت کوئی سامان دے اور سامان کی قیمت ہزار درہم لگائے، پھر وہ اس کو نو سو درہم میں فروخت کر دے، آپ نے فرمایا راس المال نو سو درہم ہوں گے۔
(۲۱۹۹۵) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ حَمَّادٍ : فِی رَجُلٍ دَفَعَ إلَی رَجُلٍ مَتَاعًا مُضَارَبَۃً ، فَقُوِّمَ الْمَتَاعُ أَلْفَ دِرْہَمٍ ، ثُمَّ بَاعَہُ بِتِسْعِمِئَۃٍ ، قَالَ : رَأْسُ الْمَالِ تِسْعُمِئَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৯৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو مضاربۃً کوئی چیز دے
(٢١٩٩٦) حضرت حسن (رض) اس مسئلہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ ایک شخص دوسرے کو بطور مضاربت سامان دے اور وہ دونوں اس کی قیمت لگائیں، آپ نے فرمایا جو سامان کی قیمت لگائی گئی ہے وہ راس المال شمار ہوگا، اور اس کی اپنی قیمت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
(۲۱۹۹۶) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّہُ قَالَ فِی رَجُلٍ دَفَعَ إلَی رَجُلٍ مَتَاعًا مُضَارَبَۃً وَقَوَّمَاہُ بَیْنَہُمَا قَالَ : رَأْسُ الْمَالِ مَا قُوِّمَ بِہِ الْمَتَاعُ : وَلَیْسَ قِیمَتُہَا بِشَیْئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৯৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو مضاربۃً کوئی چیز دے
(٢١٩٩٧) حضرت طاؤس (رض) فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی دوسرے سامان کی قیمت لگائے اور پھر اس قیمت پر اس کو بطور مضاربت دے دے۔
(۲۱۹۹۷) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ کَثِیرِ بْنِ نَبَاتَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ طَاوُوسٍ : أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یُقَوِّمَ الرَّجُلُ عَلَی الرَّجُلِ الْمَتَاعَ فَیَدْفَعُہُ إلَیْہِ مُضَارَبَۃً بِتِلْکَ الْقِیمَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৯৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دس کی بیع بارہ کے ساتھ
(٢١٩٩٨) حضرت ابن عباس (رض) دس کی بارہ کے ساتھ بیع کو ناپسند فرماتے تھے، اور فرماتے تھے کہ یہ عجمیوں کی بیع ہے۔
(۲۱۹۹۸) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ کَرِہَ بَیْعَ دہ دوازدہ ، وَقَالَ : بَیْعُ الأَعَاجِمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৯৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دس کی بیع بارہ کے ساتھ
(٢١٩٩٩) حضرت سعید بن جبیر (رض) دس کی گیارہ کے ساتھ اور دس کی بارہ کے ساتھ بیع کرنے کو ناپسند کرتے تھے، راوی فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ پھر میں کس طرح کروں ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ تو کہہ : میں اس کو اتنے میں لیتا ہوں ۔ اور اس کو اتنے اتنے میں فروخت کرتا ہوں۔
(۲۱۹۹۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَتِیقٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ بَیْعَ دہ دیَازدہ ودہ دوازدہ ، قُلْتُ لَہُ : فَکَیْفَ أَصْنَعُ ؟ قَالَ : قُلْ : أَخَذَتْہُ بِکَذَا ، وَأَبِیعُکَہُ بِکَذَا وَکَذَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৯৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دس کی بیع بارہ کے ساتھ
(٢٢٠٠٠) حضرت ابن عمر (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ سود ہے۔
(۲۲۰۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عن عمار الدہنی ، عن ابن أبی نعم ، عن ابن عمر ، قَالَ : ہو رباً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০০০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دس کی بیع بارہ کے ساتھ
(٢٢٠٠١) حضرت سعید بن المسیب (رض) سے بیع دہ دوازدہ ( دس کی بارہ کے بدلے میں ) کے متعلق سوال کیا گیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۲۰۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہلال بن میمون ، قَالَ : سمعت سعید بن المسیب سئل عن بیع دہ دوازدہ ؟ قَالَ : لاَ بأس بہ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০০১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دس کی بیع بارہ کے ساتھ
(٢٢٠٠٢) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ پہلے ہم اس کو ناپسند کرتے تھے پھر ہم اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
(۲۲۰۰۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کُنَّا نَکْرَہُہُ ، ثُمَّ لَمْ نَرَ بِہِ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০০২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دس کی بیع بارہ کے ساتھ
(٢٢٠٠٣) حضرت ابراہیم اور حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ بیع دہ ، دوازدہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۲۰۰۳) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمِ وَحَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ وَابْنِ سِیرِینَ ، أَنَّہُمَا قَالاَ : لاَ بَأْسَ بِبَیْعِ دہ دوازدہ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০০৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دس کی بیع بارہ کے ساتھ
(٢٢٠٠٤) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہ سود ہے۔
(۲۲۰۰۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عبد الأعلی ، عن سعید بن جبیر ، عن ابن عباس ، قَالَ : ہو ربا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০০৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دس کی بیع بارہ کے ساتھ
(٢٢٠٠٥) حضرت جعد بن ذکوان (رض) فرماتے ہیں کہ میں قاضی شریح کی خدمت میں حاضر تھا آپ نے اس بیع کو جائز قرار دیا۔
(۲۲۰۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الْجَعْدِ بْنِ ذَکْوَانَ ، قَالَ : شَہِدْت شُرَیْحًا أَجَازَ بَیْعَ دہ دوازدہ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০০৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دس کی بیع بارہ کے ساتھ
(٢٢٠٠٦) حضرت مسروق اس بیع کو ناپسند کرتے تھے ، اور فرماتے کہ وہ یوں کہے : میں نے اتنے اتنے کا خریدا ہے اور اتنے کا فروخت کرتا ہوں۔
(۲۲۰۰۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ : أَنَّہُ کَرِہَ بَیْعَ دہ دوازدہ ، قَالَ : یَقُولُ : اشْتَرَیْتہ بِکَذَا وَکَذَا ، وَأَبِیعہُ بِکَذَا وَکَذَا۔
তাহকীক: