মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২২০০৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دس کی بیع بارہ کے ساتھ
(٢٢٠٠٧) حضرت حسن (رض) اس کو ناپسند سمجھتے تھے اور حضرت عکرمہ فرماتے ہیں یہ حرام ہے۔
(۲۲۰۰۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ رَبِیعٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ یَکْرَہُہُ ، وَقَالَ عِکْرِمَۃُ : ہُوَ حَرَامٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০০৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دس کی بیع بارہ کے ساتھ
(٢٢٠٠٨) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہ سود ہے۔
(۲۲۰۰۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ہُوَ رِبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০০৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد کی بیع کرنا
(٢٢٠٠٩) حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس شخص کی باندی اس سے بچہ جَنْ دے وہ اس کے مرنے کے بعد آزاد ہے۔
(۲۲۰۰۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ حُسَیْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَیُّمَا رَجُلٍ وَلَدَتْ مِنْہُ أَمَتُہُ فَہِیَ مُعْتَقَۃٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْہُ۔
(ابن ماجہ ۲۵۱۵۔ دارمی ۲۵۷۴)
(ابن ماجہ ۲۵۱۵۔ دارمی ۲۵۷۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০০৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد کی بیع کرنا
(٢٢٠١٠) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے مجھ سے ام ولد کی بیع کے متعلق مشورہ طلب فرمایا۔ میری اور ان کی رائے یہ ہوئی کہ جب ام ولد بچہ جَنْ دے تو وہ آقا کے مرنے کے بعد آزاد کردی جائے گی، حضرت عمر (رض) نے اپنی زندگی میں اسی پر فیصلہ فرمایا : اور آپ (رض) کے بعد حضرت عثمان (رض) نے بھی اسی پر فیصلہ فرمایا، پھر جب ان کے بعد میں امیر المؤمنین بنا تو میں نے یہی بہتر سمجھا کہ اس کو باندی بنا دوں، حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن سیرین نے بیان فرمایا کہ میں نے حضرت عبیدہ (رض) سے عرض کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا علی (رض) نے ادراکِ اختلاف کے وقت جو قول اختیار کیا ہے اس سے زیادہ مجھے وہ رائے پسند ہے جو علی اور عمر کی مشترکہ رائے تھی صحابہ کے مشورہ میں۔
(۲۲۰۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَبِیدَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : اسْتَشَارَنِی عُمَرُ فِی بَیْعِ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ فَرَأَیْتُ أَنَا وَہُوَ إذَا وَلَدَتْ أُعْتِقَتْ فَقَضَی بِہِ عُمَرُ حَیَاتَہُ وَعُثْمَانُ مِنْ بَعْدِہِ ، فَلَمَّا وَلِیتُ الأَمْرَ مِنْ بَعْدِہِمَا رَأَیْت أَنْ أُرِقَّہَا۔ قَالَ الشَّعْبِیُّ : فَحَدَّثَنِی ابْنُ سِیرِینَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبِیدَۃَ : مَا تَرَی ؟ قَالَ : رَأْیُ عُمَرَ وَعَلِیٍّ فِی الْجَمَاعَۃِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ قَوْلِ عَلِیٍّ حِینَ أَدْرَکَ فی الاخْتِلاَفَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد کی بیع کرنا
(٢٢٠١١) حضرت نافع سے مروی ہے کہ اہل عراق میں سے دو اشخاص نے حضرت ابن عمر (رض) سے الأبواء مقام میں سوال کیا، انھوں نے کہا کہ ہم نے ابن زبیر کو مکہ میں اس حال پر چھوڑا کہ وہ ام ولد کی بیع کر رہے تھے۔ حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا لیکن کیا تم حضرت عمر (رض) کو جانتے ہو ؟ آپ (رض) نے فرمایا تھا : جس کی باندی اس سے حاملہ ہو کر بچہ جن دے وہ اس کے لیے اس کی زندگی میں نفع کا سامان ہے اور اس کے مرنے کے بعد وہ باندی آزاد ہے ، اور جس شخص نے باندی سے ہمبستری کی اور بچہ ضائع کردیا اور وہ بچہ اسی کا ہے اور بچہ ضائع کرنے کا وبال اسی پر ہے۔
(۲۲۰۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا نَافِعٌ : أَنَّ رَجُلَیْنِ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ سَأَلاَ ابْنَ عُمَرَ بِالأَبْوَائِ ، قَالاَ: تَرَکْنَا ابْنَ الزُّبَیْرِ یَبِیعُ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ بِمَکَّۃَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ: أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ أَتَعْرِفَانِہِ؟ قَالَ : أَیُّمَا رَجُلٍ وَلَدَتْ مِنْہُ جَارِیَۃٌ فَہِیَ لَہُ مُتْعَۃٌ حَیَاتَہُ ، وَہِیَ حُرَّۃٌ مِنْ بَعْدِ مَوْتِہِ ، وَأَیُّمَا رَجُلٍ وَطِئَ جَارِیَۃً ، ثُمَّ أَضَاعَہَا فَالْوَلَدُ لَہُ وَالضَّیْعَۃُ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد کی بیع کرنا
(٢٢٠١٢) حضرت زید بن وہب (رض) سے مروی ہے کہ محلہ میں ایک شخص فوت ہوگیا، اس کی ایک ام ولد تھی، حضرت ولید بن عقبہ (رض) نے فرمایا اس کو فروخت کردو، ہم لوگ حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ (رض) سے دریافت کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : تم لوگ بیشک لازمی ایسا کرنا چاہتے ہو تو اس باندی کو اس کے بیٹے کے حصہ میں رکھ دو ۔
(۲۲۰۱۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْحَیِّ وَتَرَکَ أُمَّ وَلَدٍ فَقَالَ الْوَلِیدُ بْنُ عُقْبَۃَ یَبِیعُہَا ، فَأَتَیْنَا عَبْدَ اللہِ بْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلْنَاہُ فَقَالَ : إِنْ کُنْتُمْ لاَ بُدَّ فَاعِلِینَ فَاجْعَلُوہَا مِنْ نَصِیبِ ابْنِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد کی بیع کرنا
(٢٢٠١٣) حضرت زید بن وھب (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ہماری ام اولاد کو فروخت کردیا۔ پھر وہ ہمیں لٹا دی گئیں۔
(۲۲۰۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنَ کُہَیْلٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : بَاعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ فِینَا ، ثُمَّ رَدَّہُنَّ فِینَا ، حَتَّی رَدَّہُنَّ حَبَالَی مِنْ تُسْتَرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد کی بیع کرنا
(٢٢٠١٤) حضرت علی (رض) کے پاس ام ولد آئی ، آپ (رض) نے فرمایا بیشک حضرت عمر (رض) نے ام ولد کو آزاد کیا تھا۔
(۲۲۰۱۴) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : أَتَتْ عَلِیًّا أُمُّ وَلَدٍ فَقَالَ : إنَّ عُمَرَ قَدْ أَعْتَقَکُنَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد کی بیع کرنا
(٢٢٠١٥) حضرت میمون بن مہران سے مروی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کے لشکر میں یہ بات پھیل گئی کہ عمر بن عبدالعزیز ام ولد کی بیع کو جائز سمجھتے ہیں۔ پھر ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور اس نے اس بارے میں سوال کیا۔ تب معلوم ہوا کہ عمر بن عبدالعزیز سوال کرنے والے آدمی سے بھی زیادہ سختی سے ام ولد کی آزادی کے قائل تھے اور نیز عمر بن عبدالعزیز کے نزدیک عمر بن خطاب (رض) کی بھی یہی رائے تھی۔
(۲۲۰۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، قَالَ : فَشَا فِی عَسْکَرِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَنَّہُ یَرَی بَیْعَ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ فَذَاکَرَہُ فِی ذَلِکَ ، فَإِذَا عُمَرُ أَشَدُّ فِی عِتْقِہِنَّ مِنَ الرَّجُلِ الَّذِی ذَاکَرَہُ ذَلِکَ ، وَإِذَا عُمَرُ یَرَی أَنَّ ذَلِکَ رَأْیُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد کی بیع کرنا
(٢٢٠١٦) حضرت ابن عمر (رض) سے دریافت کیا گیا کہ حضرت ابن زبیر (رض) ام ولد کی بیع کرتے ہیں۔ حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا کہ بیشک حضرت عمر (رض) نے فیصلہ فرمایا تھا کہ اس کی بیع نہ کی جائے، نہ اس کو ہبہ کیا جائے اور نہ ہی اس میں وارثت جاری ہوگی، اس کا آقا اپنی زندگی میں فائدہ اٹھائے گا اور اس کے مرنے کے بعد یہ آزاد ہے۔
(۲۲۰۱۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِینَارٍ ، قَالَ : قیلَ لاِبْنِ عُمَرَ : إنَّ ابْنَ الزُّبَیْرَ یَبِیعُ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ ، فَقَالَ : ابْنُ عُمَرَ : لَکِنَّ عُمَرَ قَضَی أَنْ لاَ تُبَاعَ وَلاَ تُوہَبَ وَلاَ تُورَثَ ، یَسْتَمْتِعُ مِنْہَا صَاحِبُہَا حَیَاتَہُ، فَإِذَا مَاتَ فَہِیَ حُرَّۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد کی بیع کرنا
(٢٢٠١٧) حضرت عبداللہ (رض) سے ام ولد کی بیع کا ذکر کیا گیا ، آپ (رض) نے فرمایا : لیکن حضرت عمر (رض) جو قوی بھی تھے اور امین بھی تھے وہ ان کو آزاد کرتے تھے۔
(۲۲۰۱۷) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ : أَنَّہُ ذُکِرَ لَہُ بَیْعَ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ ، فَقَالَ : لَکِنَّ عُمَرَ الْقَوِیَّ الأَمِینَ أَعْتَقَہُنَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد کی بیع کرنا
(٢٢٠١٨) حضرت عثمان (رض) نے ام ولد کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ جب وہ اپنے آقا سے بچہ جن دے تو وہ آزاد ہے۔
(۲۲۰۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : قَضَی عُثْمَانُ فِی أُمِّ الْوَلَدِ أَنَّہَا حُرَّۃٌ إذَا وَلَدَتْ مِنْ سَیِّدِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد کی بیع کرنا
(٢٢٠١٩) حضرت ابن عباس (رض) نے ام ولد کو میراث میں بیٹے کے حصہ میں رکھا۔
(۲۲۰۱۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہُ جَعَلَ أُمَّ الْوَلَدِ مِنْ نَصِیبِ وَلَدِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد اگر فحش کام کر ے تو کیا وہ دوبارہ غلامی میں آ جائے گی یا نہیں ؟
(٢٢٠٢٠) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں اگر ام ولد کوئی فحش کام کرے تو وہ دوبارہ غلامی میں نہیں آئے گی ، بلکہ وہ اپنی حالت پر برقرار رہے گی۔ جب اس کا آقا فوت ہوگا تو وہ آزاد شمار ہوگی۔
(۲۲۰۲۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا أَتَتْ أُمُّ وَلَدٍ بِفَاحِشَۃٍ لاَ یُرِقُّہَا ذَلِکَ ، فَہِیَ عَلَی حَالِہَا ، إذَا مَاتَ سَیِّدُہَا عَتَقَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد اگر فحش کام کر ے تو کیا وہ دوبارہ غلامی میں آ جائے گی یا نہیں ؟
(٢٢٠٢١) حضرت حسن (رض) اور حضرت ابراہیم (رض) ام ولد کی بیع کو درست نہ سمجھتے تھے اگرچہ وہ کوئی فحش کام کرے، اور حضرت ابن سیرین اس کی بیع کے قائل تھے۔
(۲۲۰۲۱) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: کَانَ الْحَسَنُ وَإِبْرَاہِیمُ لاَ یَرَیَانِ أَنْ تُبَاعَ أُمُّ الْوَلَدِ ، وَإِنْ بَغَتْ، وَکَانَ ابْنُ سِیرِینَ یَرَی أَنْ تُبَاعَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد اگر فحش کام کر ے تو کیا وہ دوبارہ غلامی میں آ جائے گی یا نہیں ؟
(٢٢٠٢٢) حضرت عمر بن عبد العزیز نے تحریر فرمایا تھا کہ ام ولد اگرچہ کوئی فحش کام کرے وہ آزاد ہے۔
(۲۲۰۲۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَمْعَۃَ ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْمُزَنِیِّ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی أُمِّ الوَلَدِ : ہِیَ حُرَّۃٌ ، وَإِنْ بَغَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد اگر فحش کام کر ے تو کیا وہ دوبارہ غلامی میں آ جائے گی یا نہیں ؟
(٢٢٠٢٣) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ کوئی بھی نیا کام ( حادثہ) ام ولد کو دوبارہ غلامی میں نہیں لائے گا۔
(۲۲۰۲۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : أُمُّ الوَلَدٍ لاَ یُرِقُّہَا الْحَدَثُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد اگر فحش کام کر ے تو کیا وہ دوبارہ غلامی میں آ جائے گی یا نہیں ؟
(٢٢٠٢٤) حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ اگرچہ ام ولد کوئی فحش کام کرے پھر بھی اس کو فروخت نہیں کیا جائے گا۔
(۲۲۰۲۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ أَبِی ہِلاَلٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیزِ ، قَالَ: لاَ تُبَاعُ أُمُّ الْوَلَدِ ، وَإِنْ فَجَرَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد اگر فحش کام کر ے تو کیا وہ دوبارہ غلامی میں آ جائے گی یا نہیں ؟
(٢٢٠٢٥) حضرت سالم بن عبداللہ (رض) سے دریافت کیا گیا کہ اگر ام ولد کوئی فحش کام کرے تو میں اس کو فروخت کر کرسکتا ہوں ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ نہیں، اس کا غلط کام اس کے نفس پر ہے ( وبال اسی پر ہے ) وہ آزاد ہے۔
(۲۲۰۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا جَرِیرُ بنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللہِ أَوْ سَأَلَہُ رَجُلٌ ، قَالَ: أُمُّ الْوَلَدِ إِذَا فَجَرَتْ أَبِیعُہَا ؟ قَالَ : لاَ ، فُجُورُہَا عَلَی نَفْسِہَا ، وَہِیَ امْرَأَۃٌ حُرَّۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ام ولد اگر فحش کام کر ے تو کیا وہ دوبارہ غلامی میں آ جائے گی یا نہیں ؟
(٢٢٠٢٦) حضرت عمر (رض) نے ام ولد کے متعلق ارشاد فرمایا : اگر وہ پاکدامن اور مسلمان رہے تو وہ آزاد ہے، اور اگر اس نے غلط کام کیا ہے ؟ کافرہ ہوگئی اور زنا کروایا تو وہ دوبارہ غلامی میں آجائے گی۔
(۲۲۰۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ مَالِکٍ بْن عَامِرٍ الْہَمْدَانِیِّ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ فِی أُمِّ الْوَلَدِ : إِنْ ہِیَ أَحْصَنَتْ وَأَسْلَمَتْ وعفت عَتَقَتْ ، وَإِنْ ہِیَ فَجَرَتْ وَکَفَرَتْ وَزَنَتْ رُقَّتْ۔
তাহকীক: