মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২২০৪৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شراب کی بیع کا بیان
(٢٢٠٤٧) حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن شراب کی بیع اور بتوں کی پوجا سے منع فرمایا۔
(۲۲۰۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی یَوْمَ الْفَتْحِ عَنْ بَیْعِ الْخَمْرِ وَالأَصْنَامِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৪৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شراب کی بیع کا بیان
(٢٢٠٤٨) حضرت عطائ (رض) سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ مجھے وراثت میں انگور کی بیل ملی ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا اس کے انگور فروخت کرو، اس نے عرض کیا کہ اگر انگور کا خریدار نہ ملے ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ پھر اس کا شیرا بنا کر فروخت کر دے، اس نے عرض کیا کہ اگر اس کا بھی خریدار نہ ملے ؟ آپ نے فرمایا پھر شراب بنا کر فروخت مت کرنا کیونکہ شراب کی بیع جائز نہیں ہے۔
(۲۲۰۴۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ جَہْمٍ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عَطَائً ، قَالَ : وَرِثْت غَرْسًا ، قَالَ : بِعْہُ عِنَبًا ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَجِدْ أَحَدًا یَشْتَرِیہِ ؟ قَالَ : فَبِعْہُ عَصِیرًا ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَجِدْ أَحَدًا یَشْتَرِیہِ ؟ قَالَ : فَلاَ تَبِعِ الْخَمْرَ فَإِنَّہُ لاَ یَحِلُّ بَیْعُ الْخَمْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৪৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے ؟
(٢٢٠٤٩) حضرت رفیع (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے بیس دینار ملے، میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا اونچی جگہ اس کا ایک سال تک اعلان کرو، اگر کوئی نہ ملے تو صدقہ کردو پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اس کو اختیار ہے۔ چاہے صدقہ کا اجر لے یا نقصان اپنا لے۔
(۲۲۰۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبِی ، قَالَ : وَجَدْت عَشْرَۃَ دَنَانِیرَ ، فَأَتَیْت ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُہُ عَنْہَا ، فَقَالَ : عَرِّفْہَا عَلَی الْحَجَرِ سَنَۃً ، فَإِنْ لَمْ تُعْرَفْ فَتَصَدَّقْ بِہَا ، فَإِذَا جَائَ صَاحِبُہَا فَخَیِّرْہُ الأَجْرَ ، أَوِ الْغُرْمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৪৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے ؟
(٢٢٠٥٠) حضرت ابو وائل سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ (رض) سے سات سو دراہم میں باندی خریدی، باندی کا مالک غائب ہوگیا تو آپ نے ایک سال تک اس کی تشہیر کی پھر مسجد میں آئے اور وہ صدقہ کر دئیے اور فرمایا : اے اللہ ! یہ اس کے لیے ہیں، اگر وہ انکار کر دے تو پھر میرے لیے ہیں۔ پھر فرمایا : گم شدہ اور ملی ہوئی شے کے ساتھ بھی اسی طرح کرو۔
(۲۲۰۵۰) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِیقٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : اشْتَرَی عَبْدُ اللہِ جَارِیَۃً بِسَبْعِمِئَۃِ دِرْہَمٍ ، فَغَابَ صَاحِبُہَا ، فَأَنْشَدَہُ حَوْلاً ، أَوْ قَالَ : سَنَۃً ، ثُمَّ خَرَجَ إلَی الْمَسْجِدِ فَجَعَلَ یَتَصَدَّقُ وَیَقُولُ : اللَّہُمَّ فَلَہُ ، فَإِنْ أَبَی فَعَلَیَّ ، ثُمَّ قَالَ : ہَکَذَا افْعَلُوا بِاللُّقَطَۃِ ، أَوْ بِالضَّالَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৫০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے ؟
(٢٢٠٥١) حضرت عمرو بن شعیب (رض) سے مروی ہے کہ میں نے مزینہ کے ایک شخص کو حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرتے سنا کہ : جو پڑی ہوئی چیز ہمیں آباد (جہاں لوگوں کی آمد و رفت کثرت سے ہو) راستے میں ملے اس کا کیا کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک مل جائے تو اچھا ہے اگر نہ ملے تو پھر وہ تیرے لیے ہے۔
(۲۲۰۵۱) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلاً مِنْ مُزَیْنَۃَ یَسْأَلُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا نَجِدُ فِی السَّبِیلِ الْعَامِرَۃِ مِنَ اللُّقَطَۃِ ؟ فَقَالَ : عَرِّفْہَا حَوْلاً ، فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَإِلاَّ فَہِیَ لَک۔ (ابوداؤد ۱۷۰۷۔ احمد ۱۸۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৫১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے ؟
(٢٢٠٥٢) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص کہنے لگا کہ مجھے ایک دینار ملا ہے۔ دوسرے شخص نے کہا کہ گم شدہ چیز کو گمراہ آدمی ہی ٹھکانا دیتا ہے۔ وہ شخص اس کو مارنے کے لیے آگے بڑھا تو حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے اس سے فرمایا ایسا مت کرو، اس نے دریافت کیا کہ پھر اس دینار کا کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا اس کی تشہیر کرو، اگر مالک مل جائے تو اس کو لٹا دو ، وگرنہ اس کی طرف سے صدقہ کردو۔
(۲۲۰۵۲) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَیْحٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو قَبِیلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلاً ، قَالَ : الْتَقَطْت دِینَارًا فَقَالَ : لاَ یُؤوِی الضَّالَّۃَ إلاَّ ضَالٌّ ، قَالَ : فَأَہْوَی بِہِ الرَّجُلُ لِیَرْمِیَ بِہِ فَقَالَ : لاَ تَفْعَلْ ، قَالَ : فَمَا أَصْنَعُ بِہِ ؟ قَالَ : تُعَرِّفُہُ فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہُ فَرُدَّہُ إلَیْہِ وَإِلاَّ فَتَصَدَّقْ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৫২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے ؟
(٢٢٠٥٣) حضرت ابن عمر (رض) سے لقطہ ( گری پڑی ہوئی چیز) کے متعلق سوال کیا گیا آپ نے فرمایا امیر وقت کے حوالہ کردو۔
(۲۲۰۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْیَانُ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ ، عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ : ادْفَعْہَا إلَی الأَمِیرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৫৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے ؟
(٢٢٠٥٤) حضرت ابو سفر (رض) سے مروی ہے کہ بنی رُؤاس میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ مجھے تین سو دراہم ملے، میں نے ان کی تھوڑی سی تشہیر کروائی میں ان دنوں خود محتاج تھا۔ تشہیر کے بعد جب میں نے کسی کو نہ پایا تو میں نے وہ کھا لیئے، پھر بعد میں صاحب استطاعت ہوگیا تو میں نے حضرت علی (رض) سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا ایک سال تک ان کی تشہیر کرو ، اگر مالک آجائے تو اس کے حوالے کردو، وگرنہ اس کی طرف سے صدقہ کردو، اور اس کو اختیار ہے کہ اس کا اجر ( صدقہ) لے لے یا تُو اس کا نقصان پورا کر دے۔
(۲۲۰۵۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی السَّفَرِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی رُؤَاسٍ ، قَالَ: الْتَقَطْت ثَلاَثَ مِئَۃِ دِرْہَمٍ فَعَرَّفْتہَا تَعْرِیفًا ضَعِیفًا وَأَنَا یَوْمَئِذٍ مُحْتَاجٌ فَأَکَلْتہَا حِینَ لَمْ أَجِدْ أَحَدًا یَعْرِفُہَا ، ثُمَّ أَیْسَرْت فَسَأَلْت عَلِیًّا فَقَالَ : عَرِّفْہَا سَنَۃً ، فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَادْفَعْہَا إلَیْہِ وَإِلاَّ فَتَصَدَّقْ بِہَا وَإِلاَّ فَخَیِّرْہُ بَیْنَ الأَجْرِ وَبَیْنَ أَنْ تَغْرَمَہَا لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৫৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے ؟
(٢٢٠٥٥) حضرت علی (رض) سے اسی طرح منقول ہے۔
(۲۲۰۵۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : سمِعْت ہَذَا الْحَدِیثَ مِنْ أَبِی السَّفَرِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی رُؤَاسٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، مِثْلَہُ إلأَأَنَّہُ لَمْ یَقُلْ : عَرِّفْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৫৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے ؟
(٢٢٠٥٦) حضرت عمر بن خطاب (رض) لقطہ کے متعلق حکم فرماتے تھے کہ ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر مالک آجائے تو ٹھیک وگرنہ اس کی طرف سے صدقہ کردو، اگر پھر اس کا مالک آجائے تو اختیار ہے۔
(۲۲۰۵۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ سُوَیْد ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَأْمُرُ أَنْ تُعَرَّفَ اللُّقَطَۃُ سَنَۃً ، فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَإِلاَّ یتصدق بِہَا ، فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا خُیِّرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৫৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے ؟
(٢٢٠٥٧) حضرت ابو عقرب (رض) سے مروی ہے کہ مجھے پیسوں کی ایک تھیلی ملی۔ میں حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے امیر المؤمنین ! آپ میری طرف سے ان کی حفاظت کرنے کے لیے نائب بن جائیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : ایام حج میں اعلان کرنا، میں نے ایام حج میں اعلان کیا۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا ایک سال تک تشہیر کرو۔ میں نے تشہیر کی لیکن مالک کو نہ پایا، میں پھر آپ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ میری طرف سے حفاظت کے لیے نائب بن جائیں، آپ (رض) نے فرمایا کیا تجھے ایک بہتر راستہ بتلاؤں، ان کو صدقہ کر دے، اگر پھر مالک آجائے اور مال مانگے تو نقصان کا ذمہ دار ہے، اور صدقہ کا اجر تجھے ملے گا، اور اگر وہ اجر کا طالب ہو تو اجر اس کو ملے گا اور تجھے وہی ملے گا جس کی تو نیت کرے گا۔
(۲۲۰۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَیْبَانَ ، عَنْ أَبِی نَوْفَلِ بْنِ أَبِی عَقْرَبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : الْتَقَطْت بَدْرۃً فَأَتَیْت بِہَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ : أَغْنِہَا عَنِّی ، فَقَالَ : وَافِ بِہَا الْمَوْسِمَ فَوَافَیْت بِہَا الْمَوْسِمَ فَقَالَ : عَرِّفْہَا حَوْلاً ، فَعَرَّفْتہَا ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا یَعْرِفُہَا فَأَتَیْتہ ، فَقُلْتُ فَأَغْنِہَا عَنِّی فَقَالَ: أَلاَ أُخْبِرُک بِخَیْرِ سَبِیلِہَا ؟ تَصَدَّقْ بِہَا ، فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَاخْتَارَ الْمَالَ غَرِمْت لَہُ وَکَانَ الأَجْرُ لَکَ ، وَإِنِ اخْتَارَ الأَجْرَ کَانَ الأَجْرُ لَہُ وَلَک مَا نَوَیْت۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৫৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے ؟
(٢٢٠٥٨) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ لقطہ کی ایک سال تشہیر کی جائے گی، اگر اس کا مالک نہ ملے تو فقراء اہل بیت کو دے دے اور ان کو یہ کہہ دے کہ یہ تم پر اس کے مالک کی طرف سے قرض ہے اگر تو مالک آگیا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اور اگر وہ نہ آیا اس کی طرف سے تم پر صدقہ ہے۔
(۲۲۰۵۸) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : تُعَرَّفُ اللُّقَطَۃُ سَنَۃً ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ لَہَا طَالِبًا فَأَعْطِہَا أَہْلَ بَیْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فُقَرَائَ ، وقُلْ لَہُمْ : ہَذِہِ قَرْضٌ مِنْ صَاحِبِہَا عَلَیْکُمْ ، فَإِنْ جَائَ فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا، وَإِنْ لَمْ یَجِیئْ فَہِیَ صَدَقَۃ عَلَیْکُمْ مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৫৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے ؟
(٢٢٠٥٩) حضرت سوید بن غفلہ سے مروی ہے کہ میں ، زید بن صوحان اور حضرت سلمان بن ربیعہ سفر پر نکلے یہاں تک کہ مقام عذیب پر جب پہنچے تو میں نے ایک کوڑا گرا ہوا اٹھا لیا، اُن دونوں نے مجھ سے کہا کہ اس کو پھینک دو ، لیکن میں نے انکار کردیا۔ جب میں مدینہ آیا تو میں حضرت ابی بن کعب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : مجھے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں سو دینار ملے تھے میں نے ان کو ذکر جب حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر مالک آجائے تو اس کے حوالہ کردو ورنہ ان دیناروں کی تعداد اور تھیلی، برتن وغیرہ کی اچھی طرح پہچان کرلو۔ پھر تو اس رقم کے مالک کے راستہ کی مانند ہے (یعنی پہلے وہ اس رقم کو راستہ سے اٹھا لیتا لیکن اب وہ تیرے سے لے گا) ۔
(۲۲۰۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ سُوَیْد بْنِ غَفَلَۃَ ، قَالَ : خَرَجْت أَنَا وَزَیْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِیعَۃَ حَتَّی إذَا کُنَّا بِالْعُذَیْبِ الْتَقَطْت سَوْطًا ، فَقَالاَ : لِی : أَلْقِہِ ، فَأَبَیْت ، فَلَمَّا أَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ أَتَیْتُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ : الْتَقَطْتُ مِئَۃ دِینَارٍ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْت ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : عَرِّفْہَا سَنَۃً ، فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَادْفَعْہَا إلَیْہِ وَإِلاَّ فَاعْرِفْ عَدَدَہَا وَوِعَائَہَا وَوِکَائَہَا، ثُمَّ تَکُونُ کَسَبِیلِ مَالِک۔ (بخاری ۲۴۲۶۔ مسلم ۱۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৫৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے ؟
(٢٢٠٦٠) حضرت سعید بن مسیب (رض) سے لقطہ کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا ایک سال تک تشہیر کرو ، اور خوب اس کی مشہوری کرو، اگر مالک آجائے تو اس کے حوالہ کردو، وگرنہ اس کے لیے صدقہ کردو، پھر صدقہ کرنے کے بعد مالک آجائے تو اس کو اختیار ہے ، صدقہ کا ثواب لے یا گم شدہ چیز۔
(۲۲۰۶۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ، عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ : عَرِّفْہَا سَنَۃً وَأَنْشِدْ ذِکْرَہَا ، فَإِنْ جَائَ مَنْ یَعْرِفُہَا فَأَعْطِہَا إیَّاہُ ، وَإِلاَّ فَتَصَدَّقْ بِہَا ، فَإِنْ جَائَ فَخَیِّرْہُ بَیْنَ الأَجْرِ وَاللُّقَطَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৬০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے ؟
(٢٢٠٦١) حضرت ابن عمر (رض) لقطہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کی تشہیر کرو، میں آپ کو کھانے کا مشورہ نہیں دوں گا ، اگر آپ چاہو تو اس کو مت اٹھاؤ۔
(۲۲۰۶۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّہُ قَالَ فِی اللُّقَطَۃِ: عَرِّفْہَا، لاَ آمُرُک أَنْ تَأْکُلَہَا، لَوْ شِئْت لَمْ تَأْخُذْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৬১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے ؟
(٢٢٠٦٢) حضرت عیاض بن حمار سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس کو لقطہ ملے اس کو چاہیے کہ اس پر دو گواہ بنا لے ، پھر نہ اس کو تبدیل کرے نہ ہی چھپائے، اگر اس کا مالک آجائے تو وہ زیادہ حق دار ہے ، اور اگر مالک نہ آئے تو وہ اللہ کا مال (نعمت) ہے جس کو چاہے وہ عطاء کرے۔
(۲۲۰۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ وَجَدَ لُقَطَۃً فَلْیُشْہِدْ ذَا عَدْلٍ ، أَوْ ذَوِی عَدْلٍ ، ثُمَّ لاَ یُغَیِّرُ وَلاَ یَکْتُمُ ، فَإِنْ جَائَ رَبُّہَا فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا ، وَإِلَّا فَہُوَ مَالُ اللہِ یُؤْتِیہِ مَنْ یَشَائُ۔ (ابوداؤد ۱۷۰۶۔ احمد ۴/۱۶۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৬২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ لقطہ میں جو رخصت دی گئی ہے
(٢٢٠٦٣) حضرت زید بن خالد (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لقطہ کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایک سال تک اس کی تشہیر کرو اگر مالک آجائے تو ٹھیک وگرنہ خود خرچ کرلو۔
(۲۲۰۶۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ : عَرِّفْہَا سَنَۃً ، فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَإِلاَّ فَاسْتَنْفِقْہَا۔ (بخاری ۹۱۔ مسلم ۱۳۴۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৬৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ لقطہ میں جو رخصت دی گئی ہے
(٢٢٠٦٤) حضرت ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ ایک شخص کو کوڑا ملتا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا کوئی حرج نہیں اس میں، اس تک ایک مسلمان کا ہاتھ پہنچا ہے۔ اس نے دریافت کیا کہ جوتا ملتا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا جوتی بھی (استعمال کرے) ۔ اس نے دریافت کیا برتن ؟ آپ (رض) نے فرمایا جو اللہ نے حرام کیا ہے وہ حلال نہیں کیا جائے گا ۔ برتن میں لقطہ کے احکام جاری ہوتے ہیں۔
(۲۲۰۶۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بن فروخ مَوْلی أُم سَلَمَۃَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَہَا: الرَّجُلُ یَجِدُ سَوْطًا؟ فَقَالَتْ : لاَ بَأْسَ بِہِ ، یَصِلُ بِہِ الْمُسْلِمُ یَدَہُ، قَالَ : وَالْحِذَائَ ؟ قَالَتْ : وَالْحِذَائَ ؟ : قَالَ : وَالْوِعَائَ ، قَالَتْ : لاَ أُحِلُّ مَا حَرَّمَ اللَّہُ ، الْوِعَائُ یَکُونُ فِیہِ اللُّقَطَۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৬৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ لقطہ میں جو رخصت دی گئی ہے
(٢٢٠٦٥) حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک کھجور ملی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں کھا لیتا۔
(۲۲۰۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَۃً ، فَقَالَ : لَوْلاَ أَنْ تَکُونِ مِنَ الصَّدَقَۃِ لأَکَلْتُکِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৬৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ لقطہ میں جو رخصت دی گئی ہے
(٢٢٠٦٦) حضرت ابن عمر (رض) کو کھجور ملی انھوں نے اس کو تناول فرما لیا۔
(۲۲۰۶۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ وَجَدَ تَمْرَۃً فَأَکَلَہَا۔
তাহকীক: