মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২২১২৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص ہبہ دینے کے بعد واپس لینے کا ارادہ کرے
(٢٢١٢٧) حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ جو صلہ رحمی ، قرابت داری یا اچھے طریقے سے یا کسی کے حق کی وجہ سے عطاء کرے تو اس کا عطیہ ( ہبہ) جائز ہے۔ اور جانب مستغزر کو یا تو ثواب مل جاتا ہے یا پھر اپنا عطیہ واپس مل جاتا ہے۔ (جانب مستغزر ایک اصطلاح ہے۔ یعنی دو ھبہ کرنے والوں کو جو باہمی ہبہ کر رہے ہوں تو ان میں سے جس کو زیادہ چیز حصہ میں آجائے وہ جانب مستغزر ہے۔
(۲۲۱۲۷) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، قَالَ : مَنْ أَعْطَی فِی صِلَۃٍ ، أَوْ قَرَابَۃٍ ، أَوْ مَعْرُوفٍ ، أَوْ حَقٍّ ، فَعَطِیَّتُہُ جَائِزَۃٌ ، وَالْجَانِبُ الْمُسْتَغْزر یُثَابُ مِنْ ہِبَتِہِ ، أَوْ تُرَدُّ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص ہبہ دینے کے بعد واپس لینے کا ارادہ کرے
(٢٢١٢٨) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں جو ثواب کے لیے ہبہ دے اگر اس کو واپس بھی لٹا دیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۲۱۲۸) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَن إبراہیم ، عن عمرو بْن دِینَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَنْ وَہَبَ ہِبَۃً لِوَجْہِ الثَّوَابِ فَلاَ بَأْسَ أَنْ یَرُدَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص ہبہ دینے کے بعد واپس لینے کا ارادہ کرے
(٢٢١٢٩) حضرت سعید بن المسیب (رض) فرماتے ہیں کہ جو غیر ذی رحم محرم کو ہبہ دے اس پر عوض نہ وصول کرے اس کو واپس لینے کا اختیار ہے۔
(۲۲۱۲۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : مَنْ وَہَبَ ہِبَۃً لِغَیْرِ ذِی رَحِمٍ فَلَہُ أَنْ یَرْجِعَ مَا لَمْ یُثِبْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص ہبہ دینے کے بعد واپس لینے کا ارادہ کرے
(٢٢١٣٠) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ جب آدمی کسی کو ہبہ دے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے جب تک کہ وہ اس کے قبضہ میں ہے پھر جب اس نے اس کو عطاء کردیا تو اب وہ نافذ ہوگیا۔
(۲۲۱۳۰) حَدَّثَنَا عَبِیدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : إذَا وَہَبَ الرَّجُلُ الْہِبَۃَ ، فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا مَا دَامَتْ فِی یَدِہِ ، فَإِذَا أَعْطَاہَا ، فَقَدْ جَازَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہبہ دے کر رجوع کرنے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٢١٣١) حضرت ابن عمر (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ ہدیہ دے کر واپس لے، جو ایسا کرے اس کی مثال اس کتے کی ہے جو پہلے خوب کھائے جب اس کا پیٹ بھر جائے تو قے کر دے پھر اپنی قے کو چاٹ لے۔
(۲۲۱۳۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالاَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ یُعْطِی عَطِیَّۃً ثُمَّ یَرْجِعُ فِیہَا ، فَمَثَلُہُ مَثَلُ الْکَلْبِ أَکَلَ حَتَّی إذَا شَبِعَ قَائَ ، ثُمَّ عَادَ فِی قَیْئِہِ۔ (ترمذی ۱۲۹۹۔ ابوداؤد ۳۵۳۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہبہ دے کر رجوع کرنے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٢١٣٢) حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہمارے لیے بروں کی مثال نہیں ہے ( کہ ان کی پیروی کریں ) ہبہ دے کر واپس لینے والا اس کتّے کی طرح ہے جو قے کر کے اس کو چاٹ لے۔
(۲۲۱۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَیْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْئِ ، الْعَائِدُ فِی ہِبَتِہِ کَالْکَلْبِ یَعُودُ فِی قَیْئِہِ۔ (بخاری ۲۶۲۲۔ ترمذی ۱۲۹۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہبہ دے کر رجوع کرنے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٢١٣٣) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص ہبہ دے کر رجوع کرے اس کی مثال اس کتے کی ہے جو پیٹ بھرنے کے بعد قے کر دے پھر اپنی قے کو دوبارہ چاٹ لے۔
(۲۲۱۳۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خِلاَسٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الَّذِی یَعُودُ فِی عَطِیَّتِہِ مَثَلُ الْکَلْبِ أَکَلَ حَتَّی إذَا شَبِعَ قَائَ ، ثُمَّ عَادَ فِی قَیْئِہِ۔
(ابن ماجہ ۲۳۴۔ احمد ۲/۲۵۹)
(ابن ماجہ ۲۳۴۔ احمد ۲/۲۵۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہبہ دے کر رجوع کرنے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٢١٣٤) حضرت طاؤس سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : آدمی کے لیے ہبہ دے کر رجوع کرنا حلال نہیں ہے سوائے اپنے بیٹے سے۔
(۲۲۱۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ یَرْجِعَ فِی ہِبَتِہِ إلاَّ الْوَالِدَ۔ (بیہقی ۱۷۹۔ نسائی ۶۵۳۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہبہ دے کر رجوع کرنے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٢١٣٥) حضرت اسلم سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص ہبہ دے کر واپس رجوع کرے اس کی مثال اس کتے کی ہے جو قے کر کے اس کو چاٹ لے۔
(۲۲۱۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الَّذِی یَعُودُ فِی صَدَقَتِہِ کَمِثْلِ الْکَلْبِ یَعُودُ فِی قَیْئِہِ۔ (بخاری ۲۶۲۳۔ احمد ۱/۵۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہبہ دے کر رجوع کرنے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٢١٣٦) حضرت طاؤس حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہب ہے کر واپس لینے والے کی مثال اس کتے کی ہے جو قے کر کے پھر اس کو چاٹ لے۔
(۲۲۱۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَثَلُ الَّذِی یَعُودُ فِی ہِبَتِہِ ، کَالْکَلْبِ یَقِیئُ ثُمَّ یَعُودُ فِی قَیْئِہِ۔ (نسائی ۶۵۳۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہبہ دے کر رجوع کرنے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٢١٣٧) حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہبہ دے کر واپس لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کی طرح ہے۔
(۲۲۱۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْعَائِدُ فِی ہِبَتِہِ کَالْعَائِدِ فِی قَیْئِہِ۔ (بخاری ۲۶۲۱۔ مسلم ۱۲۴۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نشئی آدمی کا خرید و فروخت کرنا
(٢٢١٣٨) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ نشئی آدمی جس چیز کے بارے میں کلام کرے وہ اس پر نافذ ہوجائے گا۔
(۲۲۱۳۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : مَا تَکَلَّمَ بِہِ السَّکْرَانُ مِنْ شَیْئٍ جَازَ عَلَیْہِ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ یُونُسَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَقِیُّ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْر ، قَالَ:
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ یُونُسَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَقِیُّ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْر ، قَالَ:
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نشئی آدمی کا خرید و فروخت کرنا
(٢٢١٣٩) حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ نشئی آدمی کا خریدو فروخت کرنا جائز اور درست نہیں ہے وہ بیوقوف کے منزلہ میں ہے۔
(۲۲۱۳۹) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِی ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، أَنَّہُ قَالَ فِی السَّکْرَانِ : أَمَّا بَیْعُہُ وَشِرَاؤُہُ فَلاَ یَجُوزُ ، ہُوَ بِمَنْزِلَۃِ السَّفِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نشئی آدمی کا خرید و فروخت کرنا
(٢٢١٤٠) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں نشئی آدمی کی خریدو فروخت درست نہیں۔
(۲۲۱۴۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عن عمرو ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ لاَ یُجِیزُ بَیْعَہُ ، وَلاَ شِرَائَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৪০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی کسی سامان کے مالک ہوں ان میں سے ایک کو دس درہم اور دوسرے کو نو درہم میں ملے ہوں
(٢٢١٤١) حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ ایک کپڑا دو آدمیوں کے درمیان مشترک تھا ، ان میں سے ایک نے نصف بیس درہم میں اور دوسرے نے نصف دس درہم میں خریدا ۔ فرمایا اگر وہ دونوں اس کو مساومۃ اور مرابحۃً فروخت کریں تو منافع ان کے درمیان آدھا آدھا ہوگا۔
(۲۲۱۴۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، أَنَّہُ قَالَ فِی ثَوْبٍ بَیْنَ رَجُلَیْنِ نِصْفُہُ عَلَی أَحَدِہِمَا بِعِشْرِینَ ، وَنِصْفُہُ عَلَی الآخَرِ بِعَشْرَۃٍ ، قَالاَ : إِنْ بَاعَاہُ مُسَاوَمَۃً ، أَوْ مُرَابَحَۃً ، فَہُوَ نِصْفَانِ بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৪১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی کسی سامان کے مالک ہوں ان میں سے ایک کو دس درہم اور دوسرے کو نو درہم میں ملے ہوں
(٢٢١٤٢) حضرت شعبی (رض) اور حضرت حکم (رض) سے مروی ہے کہ دو آدمیوں نے مل کر ایک سامان خریدا، ایک نے آدھا بیس درہم میں اور دوسرے نے آدھا دس درہم میں خریدا، حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر وہ اس سامان کو مرابحۃً فروخت کریں تو نفع رأس المال کے اعتبار سے ہوگا اور اگر وہ مبیع مساومۃ کے اعتبار سے فروخت کریں تو منافع نصف نصف ہوگا۔ اور حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں منافع آدھا آدھا ہوگا۔
(۲۲۱۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ وَالْحَکَمِ : فِی رَجُلَیْنِ اشْتَرَیَا سِلْعَۃً اشْتَرَی أَحَدُہُمَا نِصْفَہَا بِعِشْرِینَ ، وَاشْتَرَی الآخَرُ نِصْفَہَا بِعَشْرَۃٍ ، فَقَالَ الشَّعْبِیُّ : إِنْ بَاعَاہَا مُرَابَحَۃً فَعَلَی رُؤُوسِ أَمْوَالِہِمَا ، وَإِنْ بَاعَاہَا مُسَاوَمَۃً فَالنِّصْفُ وَالنِّصْفُ ، وَقَالَ الْحَکَمُ : ہُوَ بَیْنَہُمَا نِصْفَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৪২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی کسی سامان کے مالک ہوں ان میں سے ایک کو دس درہم اور دوسرے کو نو درہم میں ملے ہوں
(٢٢١٤٣) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر وہ اس کو مرابحتہً فروخت کریں تو منافع رأس المال کی بقدر ہوگا، اور اگر بیع مساومۃً کے ساتھ فروخت کریں تو منافع آدھا آدھا ہوگا۔ حضرت قتادہ (رض) بھی اسی طرح فرماتے ہیں۔
(۲۲۱۴۳) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ زِیَادِ الأَعْلَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إِنْ بَاعَاہَا مُرَابَحَۃً فَالرِّبْحُ عَلَی رَأْسِ الْمَالِ ، وَإِنْ بَاعَاہَا مُسَاوِمَۃً ، فَہُوَ بَیْنَہُمَا ، وَعَنْ قَتَادَۃَ مِثْلُ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৪৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی کسی سامان کے مالک ہوں ان میں سے ایک کو دس درہم اور دوسرے کو نو درہم میں ملے ہوں
(٢٢١٤٤) حضرت حماد سے دریافت کیا گیا کہ ایک سامان دو شخصوں کے درمیان مشترک ہے۔ ایک کو دوسرے سے زیادہ قیمت میں پڑا ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا نفع رأس المال کی بقدر ملے گا۔
(۲۲۱۴۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، قَالَ : سُئِلَ حماد عَنْ سِلْعَۃٍ بَیْنَ رَجُلَیْنِ تُقَوَّمُ عَلَی أَحَدِہِمَا بِأَکْثَرَ مِمَّا تُقَوَّمُ عَلَی الآخَرِ ، قَالَ : الرِّبْحُ عَلَی قَدْرِ رُؤُوسِ أَمْوَالِہِمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৪৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کے پاس رہن رکھواتے ہوئے یوں کہے کہ اگر میں تیرے پاس رہن چھڑوانے نہ آیا تو یہ چیز تیری
(٢٢١٤٥) حضرت ابن عمر (رض) سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص دوسرے کے پاس رہن رکھواتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ اگر میں تیرے پاس اتنے اتنے نہ لے کر آیا تو یہ تیری ؟ آپ (رض) نے فرمایا یہ اس کی نہیں ہوگی۔
(۲۲۱۴۵) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِینَارٍ ، عنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یَرْہَنُ الرَّہْنَ فَیَقُولُ : إِنْ لَمْ أَجِئْک بِہِ إلَی کَذَا وَکَذَا ، فَہُوَ لَکَ ؟ قَالَ : لَیْسَ لَہُ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৪৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کے پاس رہن رکھواتے ہوئے یوں کہے کہ اگر میں تیرے پاس رہن چھڑوانے نہ آیا تو یہ چیز تیری
(٢٢١٤٦) حضرت ابراہیم (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص دوسرے کے پاس رہن رکھواتے ہوئے یوں کہے کہ اگر میں تیرے پاس اتنے اتنے نہ لے کر آیا تو یہ چیز تیری۔ آپ نے فرمایا : مقررہ چیز ادا نہ کرسکنے کی صورت میں مرتہن اس کا مالک نہیں ہوتا۔ اور اگر وہ رہن رکھتے وقت یوں کہہ دے کہ اگر میں تیرے پاس اتنے اتنے نہ لے کر آیا تو اس کو فروخت کر کے جتنے تیرے بنتے ہیں وہ پورے کرلے۔ آپ نے فرمایا : اپنے نفس کا امین نہیں ہوگا۔ وہ اس کو فروخت نہ کرے۔
(۲۲۱۴۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی الرَّجُلِ یَرْہَنُ عِنْدَہُ الرَّجُلُ الرَّہْنَ فَیَقُولُ : إِنْ لَمْ آتِکَ بِہِ إلَی کَذَا وَکَذَا ، فَہُوَ لَکَ ، قَالَ : الرَّہْنُ لاَ یَغْلقُ ، وَإِنْ قَالَ : إَنْ لَمْ آتِکَ بِہِ إلَی کَذَا وَکَذَا فَبِعْہُ وَاقْتَضِ الَّذِی لَکَ ، قَالَ : لاَ یَکُن أَمِینَ نَفْسِہِ ، وَلاَ یَبعْہ۔
তাহকীক: