মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২২২৬৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ یہودی، نصرانی اور غلام کی گواہی دینا
(٢٢٢٦٧) حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ اگر غلام گواہی دے اور اس کی گواہی رد کردی جائے پھر وہ آزاد ہوجائے تو اس کی گواہی معتبر نہیں۔
(۲۲۲۶۷) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، أَنَّہُ قَالَ : إذَا شَہِدَ الْعَبْدُ فَرُدَّتْ شَہَادَتُہُ ، ثُمَّ أُعْتِقَ ، قَالَ : فَإِنَّہَا لاَ تَجُوزُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৬৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ یہودی، نصرانی اور غلام کی گواہی دینا
(٢٢٢٦٨) حضرت عمر (رض) یہودی، نصرانی اور غلام کی گواہی کے متعلق فرماتے ہیں کہ جب انھوں نے کوئی گواہی دی جس کو وہ قائم نہ کرسکے (یعنی دو ہوگئی) یہاں تک کہ غلام آزاد ہوگیا اور یہودی اور نصرانی مسلمان ہوگئے تو ان کی گواہی جائز ہوگی تو ان کی گواہی درست ہے۔
(۲۲۲۶۸) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ وَعَطَائٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ فِی الْیَہُودِیِّ وَالنَّصْرَانِیِّ وَالْعَبْدِ : إذا شہدوا شہادۃ لم یقیموہا حتی یُعتَق ویسلم الیہودی والنصرانی ، فَشَہَادَتُہُمْ جَائِزَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৬৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نوٹس دیتے وقت دو یا زیادہ لوگوں کو گواہ بنایا جائے گا
(٢٢٢٦٩) حضرت عبیدہ بن جراح (رض) نے دیر طیایا کے لوگوں کو لکھا کہ میں نے تمہارے خون، اموال اور عبادت گاہوں کو امان دی ہے کہ ان کو برباد نہ کیا جائے اور نہ توڑا جائے، جب تک کہ تم لوگ کوئی نیا کام نہ کیے جاؤ یا تم کسی قاتل کو ٹھکانا دو ، پس اگر تم نے کوئی نیا کام کیا یا کسی قاتل کو ٹھکانا دیا تو پھر میں تمہارے ذمہ سے بری ہوں، تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم مہمان کی تین دن مہمان نوازی کرو، بیشک ہم لشکر کی غلطی، لغزش سے بری ہیں۔ حضرت خالد بن ولید (رض) ، حضرت یزید بن سفیان (رض) ، حضرت شرحبیل بن حسنہ (رض) اور قضاعی بن عامر (رض) نے گواہی دی ( گواہ بنے ) اور اس کو لکھ لیا گیا۔
(۲۲۲۶۹) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِی ، قَالَ : حدَّثَنی ابْنُ سُرَاقَۃَ : أَنَّ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ کَتَبَ لأَہْلِ دَیْرِ طَیَایَا : إنِّی أَمَّنْتُکُمْ عَلَی دِمَائِکُمْ وَأَمْوَالِکُمْ وَکَنَائِسِکُمْ أَنْ تُخَرَّبَ ، أَوْ تُکْسر مَا لَمْ تُحْدِثُوا ، أَوْ تُؤْوُوا مُحْدِثًا مَغِیلَۃً ، فَإِنْ أَنْتُمْ أَحْدَثْتُمْ ، أَوْ أَوَیْتُمْ مُحْدِثًا مَغِیلَۃً ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْکُمُ الذِّمَّۃُ ، وَإِنَّ عَلَیْکُمْ إنْزَالَ الضَّیْفِ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ ، وَإِنَّ ذِمَّتَنَا بَرِیئَۃٌ مِنْ مَعَرَّۃِ الْجَیْشِ ۔ شَہِدَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ وَیَزِیدُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ وَشُرَحْبِیلُ بْنُ حَسَنَۃَ وَقُضَاعِی بْنُ عَامِرٍ وَکَتَبَ۔ (سعید بن منصور ۲۶۰۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৬৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نوٹس دیتے وقت دو یا زیادہ لوگوں کو گواہ بنایا جائے گا
(٢٢٢٧٠) حضرت عمر (رض) ایک شخص کے پاس سے گذرے جو لوگوں کے درمیان بیٹھا لکھ رہا تھا۔ اور وہ دو سے زیادہ گواہ بنا رہا تھا، آپ (رض) نے اس کو منع فرمایا، پھر کچھ دیر بعد گذرے ( تو وہ وہی کام کررہا تھا) آپ (رض) نے فرمایا کیا میں نے تجھے منع نہیں کیا تھا ؟ اس شخص نے کہا : میں نے اللہ کی اطاعت کی اور آپ کی نافرمانی۔ اور وہ حضرت عمر (رض) کے صدقہ کے متعلق تھا، حضرت عبداللہ بن ارقم (رض) اور حضرت معیقیب (رض) نے گواہی دی تھی اور حضرت علی (رض) کے صدقہ کے متعلق فلاں بن فلاں نے گواہی دی تھی۔ اور اس نے تحریر کیا۔
(۲۲۲۷۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ، قَالَ : مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِکَاتِبٍ یَکْتُبُ بَیْنَ النَّاسِ وَہُوَ یُشْہِدُ أَکْثَرَ مِنِ اثْنَیْنِ فَنَہَاہُ ، ثُمَّ مَرَّ بَعْدُ فَقَالَ : أَلَمْ أَنْہَکَ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : أَطَعْت اللَّہَ وَعَصَیْتُک۔
وَکَانَ فِی صَدَقَۃِ عُمَرَ: شَہِدَ عَبْدُاللہِ بْنُ الأَرْقَمِ وَمُعَیْقِیبٌ۔ وَکَانَ فِی صَدَقَۃِ عَلِیٍّ شَہِدَ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ، وَکَتَبَ۔
وَکَانَ فِی صَدَقَۃِ عُمَرَ: شَہِدَ عَبْدُاللہِ بْنُ الأَرْقَمِ وَمُعَیْقِیبٌ۔ وَکَانَ فِی صَدَقَۃِ عَلِیٍّ شَہِدَ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ، وَکَتَبَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৭০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نوٹس دیتے وقت دو یا زیادہ لوگوں کو گواہ بنایا جائے گا
(٢٢٢٧١) حضرت موسیٰ بن سالم (رض) سے مروی ہے کہ جب حجاج نے اہل علاقہ کو جلا وطن کیا، میرے پاس ایک خاتون مکتوب لے کر آئی ، اس کا خیال تھا کہ اس کا والد آزاد کیا گیا ہے۔ ( کہنے لگی ) یہ وہ ہے جس کو طلحہ بن عبیداللہ (رض) نے فلان بن فلان سے خریدا، اس نے ایک نوجوان سے دینار یا درہم کے بدلے میں خریدا پانچ سو درہم کے بدلے میں جو جید، عمدہ اور اچھے تھے۔ اور اس کو ثمن بھی دے دیا، اور اس کو اللہ کے لیے آزاد کردیا، پھر کسی کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے سوائے ولاء کے راستے کے۔ پس گواہی دی زبیر بن عوام (رض) ، عبداللہ بن عامر اور زیاد نے۔
(۲۲۲۷۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ، عَنْ أَبِی الْجَرَّاحِ ، قَالَ: حدَّثَنِی مُوسَی بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: لَمَّا أَجْلَی الْحَجَّاجُ أَہْلَ الأَرْضِ أَتَتْنِی امْرَأَۃٌ بِکِتَابٍ زَعَمَتْ أَنَّ الَّذِی أُعْتِقَ أَبُوہَا : ہَذَا مَا اشْتَرَی طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ مِنْ فُلاَنِ بن فلان ، اشْتَرَی مِنْہُ فَتَاہُ دِینَارًا أَوْ دِرْہَمًا بِخَمْسِمِئَۃِ دِرْہَمٍ بِالْجَیِّدِ وَالطَّیِّبِ وَالْحَسَنِ ، وَقَدْ دَفَعَ إلَیْہِ الثَّمَنَ وَأَعْتَقَہُ لِوَجْہِ اللہِ ، فَلَیْسَ لأَحَدٍ عَلَیْہِ سَبِیلٌ إلاَّ سَبِیلَ الْوَلاَئِ ، فَشَہِدَ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَعَبْدُ اللہِ بْنُ عَامِرٍ وَزِیَادٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৭১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص سامان خریدے اور اس میں عیب ہو
(٢٢٢٧٢) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ایسی باندی خریدے جس میں عیب ہو، اور مشتری کے پاس آ کر اس میں ایک اور عیب پیدا ہوجائے تو دوسرا عیب پہلے عیب کو باطل کر دے گا ( اس کو واپس کرنے کا اختیار نہیں ہے) ۔
(۲۲۲۷۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : إذَا اشْتَرَی الرَّجُلُ الْجَارِیَۃَ عِنْدَہُ وَبِہَا عَیْبٌ وَحَدَثَ بِہَا عَیْبٌ آخَرُ ، قَالَ : أَبْطَلَ الآخَرُ الأَوَّلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৭২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص سامان خریدے اور اس میں عیب ہو
(٢٢٢٧٣) حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ اگر اس میں کوئی نئی بیماری پیدا ہوجائے جو اس کے علاوہ ہو جو اس سے چھپائی گئی تھی تو بیماری کی وجہ سے جتنے پیسے کم کیے جاتے ہیں وہ کم کر دے گا۔
(۲۲۲۷۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : إذَا حَدَثَ عِنْدَہُ دَائٌ غَیْرُ الَّذِی دُلِّسَ لَہُ فَإِنَّہُ یَمْضِی عِنْدَہُ وَیَضَعُ عَنْہُ مَا یَضَعُ ذَلِکَ الدَّائُ مِنْ ثَمَنِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৭৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص سامان خریدے اور اس میں عیب ہو
(٢٢٢٧٤) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ بیماری کو بیماری کے بدلے واپس کردیا جائے گا، اور اگر نیا عیب پیدا ہوجائے تو وہ مشتری کے مال میں شمار ہوگا، اور بائع مشتری کو عیب کی قیمت واپس کرے گا۔
(۲۲۲۷۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ یُقَالُ : رُدَّ الدَّائُ بِدَائِہِ ، فَإِنْ حَدَثَ عَیْبٌ فَہُوَ مِنْ مَالِ الْمُشْتَرِی ، وَیَرُدُّ الْبَائِعُ قِیمَۃَ الْعَیبِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৭৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص سامان خریدے اور اس میں عیب ہو
(٢٢٢٧٥) حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ وہ مشتری کے مال میں سے شمار ہوگا اور بائع عیب کی قیمت واپس کرے گا۔
(۲۲۲۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : ہُوَ مِنْ مَالِ الْمُشْتَرِی ، وَیَرُدُّ الْبَائِعُ قِیمَۃَ الْعَیْبِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৭৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اتنے اتنے کی چیز خریدے اور اُس کو پھر مرابحۃً فروخت کرے، پس وہ زیادہ وصول کر لے
(٢٢٢٧٦) حضرت عبداللہ بن حارث (رض) سے مروی ہے کہ : ایک شخص ایک قوم کے پاس سے گذرا جن میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی تشریف فرما تھے، اس کے پاس کپڑا تھا ، جس کی قیمت اس نے حقیقی قیمت سے زائد بتلائی، راوی کہتے ہیں کہ وہ چادر تھی۔ قوم کے لوگوں میں سے بعض نے اس سے پوچھا : کتنے کا فروخت کررہا ہے ؟ میرا گمان ہے اس نے قیمت سے زائد بتلایا ۔ پھر اس نے کہا کہ میں نے جُھوٹ بولا ہے۔ ان میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی موجود تھے۔ پھر وہ لوٹا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول 5! میں نے اس کو اتنے اتنے کا فروخت کیا جتنے کا یہ تھا اس کے علاوہ میں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو زیادہ وصول کیا ہے اس کو صدقہ کر دے۔
(۲۲۲۷۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ أَبِی سِنَانٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ بِقَوْمٍ فِیہِمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہُ ثَوْبٌ ، أَرَاہُ قَالَ : بُرْد ، فَقَالَ لَہُ بَعْضُہُمْ : بِکَمِ ابْتَعْت ؟ أَرَاہُ قَالَ : ہُوَ بِزِیَادَۃٍ عَلَی ثَمَنِہِ ، ثُمَّ قَالَ : کَذَبْت ، وَفِیہِمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ابْتَعْتہ بِکَذَا وَکَذَا بِدُونِ مَا کَانَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَصَدَّقْ بِالْفَضْلِ۔ (ابوداؤد ۱۶۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৭৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اتنے اتنے کی چیز خریدے اور اُس کو پھر مرابحۃً فروخت کرے، پس وہ زیادہ وصول کر لے
(٢٢٢٧٧) حضرت ابراہیم (رض) گوشت میں بیع سلم کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۲۲۷۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : أَنَّہُ کَرِہَ السَّلَمَ فِی اللَّحْمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৭৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اتنے اتنے کی چیز خریدے اور اُس کو پھر مرابحۃً فروخت کرے، پس وہ زیادہ وصول کر لے
(٢٢٢٧٨) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں جب سریوں کی مقدار معلوم ہو تو بیع سلم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۲۲۷۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِالسَّلَمِ فِی الرُّؤُوسِ إذَا أرَاہُ قَدْرًا مَعْلُومًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৭৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اتنے اتنے کی چیز خریدے اور اُس کو پھر مرابحۃً فروخت کرے، پس وہ زیادہ وصول کر لے
(٢٢٢٧٩) حضرت طاؤس گوشت کی ادھار بیع اس گوشت کے ساتھ ( جس کو نمک لگا کر دھوپ میں خشک کیا گیا ہو ) ناپسند سمجھتے تھے۔
(۲۲۲۷۹) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنِ أبی عَمْرٍو، عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ طَاوُوسٍ: أَنَّہُ کَرِہَ اللَّحْمَ بِالْقَدِیدِ نَسِیئَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৭৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اتنے اتنے کی چیز خریدے اور اُس کو پھر مرابحۃً فروخت کرے، پس وہ زیادہ وصول کر لے
(٢٢٢٨٠) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ گوشت کی بیع سلم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جبکہ اس کی مقدار ( حد) معلوم ہو ۔
(۲۲۲۸۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ : أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا بِالسَّلَمِ فِی اللَّحْمِ إذَا کَانَ لَہُ حَدٌّ یُعْلَمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سابری ّ کپڑے کی بیع کا حکم
(٢٢٢٨١) حضرت طاؤس ریشم اور باریک کپڑے کے پہننے اور اس کی خریدو فروخت کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۲۲۸۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ : أَنَّہُ کَرِہَ لُبْسَ الْحَرِیرِ وَالسَّابِرِیِّ الرَّقِیقِ وَالتِّجَارَۃَ فِیہِمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سابری ّ کپڑے کی بیع کا حکم
(٢٢٢٨٢) میں نے ازہر کو عطاء سے باریک پردہ کی بیع کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا آپ (رض) نے اس کو ناپسند کیا۔
(۲۲۲۸۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَالِکِ بْن مِغْوَلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَزْہَرَ سَأَلَ عَطَائً عَنْ بَیْعِ الْخُمُرِ الرِّقَاقِ فَکَرِہَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سابری ّ کپڑے کی بیع کا حکم
(٢٢٢٨٣) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک سابری کپڑے ( باریک کپڑے) سے بہتر ہے ریشم پہن لیا جائے۔
(۲۲۲۸۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ عَطَائٌ : الْحَرِیرُ أَحَبُّ إلَیَّ مِنَ السَّابِرِیِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غلام دو شخصوں کے درمیان مشترک ہو پھر اُن میں سے ایک اُس کو آزاد کر دے
(٢٢٢٨٤) حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ غلام دو شخصوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک اس کو آزاد کر دے تو فرماتے ہیں کہ اس پر لازم ہے کہ باقی غلام کو بھی آزاد کرے (خرید کر) اگر اس کے پاس کچھ نہ ہو تو غلام اپنی گردن کے بدلہ میں سعی کرے۔ پھر وہ دونوں اس غلام کی ولاء میں شریک ہوں گے۔
(۲۲۲۸۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّالاَنِیِّ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ الصَّائِغِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : فِی عَبْدٍ بَیْنَ اثْنَیْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُہُمَا نَصِیبَہُ ، قَالَ : عَلَیْہِ أَنْ یُعْتِقَ بَقِیَّتَہُ ، فَإِنْ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ سَعَی الْعَبْدُ فِی رَقَبَتہ ، وَکَانُوا شُرَکَائَ فِی الْوَلاَئِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غلام دو شخصوں کے درمیان مشترک ہو پھر اُن میں سے ایک اُس کو آزاد کر دے
(٢٢٢٨٥) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ آزاد کرنے والا مالک اگر مالدار ہے تو ساتھی کے لیے قیمت کا ضامن ہوگا اور غلام کی ولاء اسی کو ملے گی۔ اور اگر وہ غریب ہے تو غلام خود کوشش کرے گا ( بقیہ قیمت کی ) اور ولاء ان دونوں کو ملے گی۔
(۲۲۲۸۵) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إِنْ کَانَ مُوسِرًا ضَمِنَ ، وَکَانَ الْوَلاَئُ لَہُ ، وَإِنْ کَانَ مُعْسِرًا سَعَی الْعَبْدُ ، وَکَانَ الْوَلاَئُ بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غلام دو شخصوں کے درمیان مشترک ہو پھر اُن میں سے ایک اُس کو آزاد کر دے
(٢٢٢٨٦) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ غلام دوسرے مالک کے لیے قیمت میں خود کوشش کرے گا، اور ولاء اس کو ملے گی جس نے اس کو آزاد کیا ہے۔
(۲۲۲۸۶) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : یَسْعَی الْعَبْدُ وَالْوَلاَئُ یَکُونُ لِلَّذِی أَعْتَقَ۔
তাহকীক: