মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
دعاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮০১ টি
হাদীস নং: ৩০৩৫০
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب آدمی اپنی بیوی سے ہمبستری کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھے
(٣٠٣٥١) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی سے ہمبستری کا ارادہ کرے تو یہ دعاپڑھ لے : اللہ کا نام لے کر کرتا ہوں، اے اللہ ! تو ہمیں شیطان سے محفوظ فرما اور جو تو اولاد ہمیں دے اس کو بھی شیطان سے محفوظ فرما۔ پس اگر اس فعل میں اس کے لیے کوئی بچہ مقدر ہوگا تو شیطان اس کو کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
(۳۰۳۵۱) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن سَالِمٍ ، عَن کُرَیْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ إذَا أَرَادَ أَنْ یَأْتِیَ أَہْلَہُ ، قَالَ : بِسْمِ اللہِ اللَّہُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبَ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ، فَإِنَّہُ إِنْ یُقَدَّرْ بَیْنَہُمَا وَلَدٌ فِی ذَلِکَ لَمْ یَضُرَّہُ شَیْطَانٌ أَبَدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫১
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب آدمی اپنی بیوی سے ہمبستری کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھے
(٣٠٣٥٢) حضرت ابو سعید جو کہ ابو اسید کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں : میں نے شادی کی اس حال میں کہ میں غلام تھا۔ پس میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک جماعت کو دعوت دی جن میں حضرت ابو مسعود اور حضرت ابو ذر اور حضرت حذیفہ وغیرہ حضرات بھی شامل تھے۔ ان لوگوں نے مجھے آداب سکھائے پس کہنے لگے : جب تیرے گھر والے تیرے پاس حاضر ہوں پس تو دو رکعت نماز پڑھ۔ اور اللہ سے خیر مانگ ان کے تیرے پاس آنے کی۔ پھر ان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگ۔ پھر تو جانے اور تیرے گھر والے۔
(۳۰۳۵۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَن دَاوُد ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی أَبِی أسَیْدَ : تَزَوَّجْت وَأَنَا مَمْلُوکٌ فَدَعَوْت نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ منہم أبو مَسْعُودٍ ، وَأَبُو ذَرٍّ وَحُذَیْفَۃُ یُعَلِّمُونَنِی ، فَقَالَ : إذَا دَخَلَ عَلَیْک أَہْلُک فَصَلِّ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلِ اللَّہَ مِنْ خَیْرِ مَا دَخَلَ عَلَیْک ، ثُمَّ تَعَوَّذْ بِہِ مِنْ شَرِّہِ ، ثُمَّ شَأْنُکَ وَشَأْنُ أَہْلِک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫২
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب آدمی اپنی بیوی سے ہمبستری کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھے
(٣٠٣٥٣) حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود جب اپنی بیوی سے ہمبستری کرتے تو انزال ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتے۔ اے اللہ ! جو اولاد تو ہمیں دے شیطان کو اس میں سے کچھ حصہ بھی مت دے۔
(۳۰۳۵۳) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ ابْنِ أَخِی عَلْقَمَۃَ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ کَانَ إذَا غَشِیَ أَہْلَہُ فَأَنْزَلَ ، قَالَ : اللَّہُمَّ لاَ تَجْعَلْ لِلشَّیْطَانِ فِیمَا رَزَقْتَنِی نَصِیبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫৩
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص اپنے کپڑے اتارنے کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھے
(٣٠٣٥٤) حضرت بکر فرماتے ہیں کہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ بنی آدم کے ستروں اور جن اور شیاطین کی آنکھوں کے درمیان ایک پردہ ہے جب تم میں سے کوئی اپنے کپڑے اتارے تو یوں کہہ لیا کرے : اللہ کے نام کے ساتھ اتارتا ہوں۔
(۳۰۳۵۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَن بَکْرٍ ، قَالَ : کَانَ یُقَالُ : إنَّ سَتْرَ مَا بَیْنَ عَوْرَاتِ بَنِی آدَمَ وَبَیْنَ أَعْیُنِ الْجِنِّ وَالشَّیَاطِینِ أَنْ یَقُولَ أَحَدُکُمْ إذَا وَضَعَ ثِیَابَہُ بِسْمِ اللہِ۔ (ترمذی ۶۰۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫৪
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھے تو یوں دعا کرے
(٣٠٣٥٥) حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے ارشاد فرمایا : کوئی بھی آدمی کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھ کر یہ دعا نہیں پڑھتا : شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے اس چیز سے عافیت میں رکھا جس میں تجھ کو مبتلا کیا ہے، اور مجھے تجھ پر اور بہت سی مخلوق پر نمایاں طور پر فضیلت دی۔ مگر یہ کہ اللہ اس بندے کو اس مصیبت میں مبتلا نہیں فرمائیں گے وہ مصیبت جیسی بھی ہو۔
(۳۰۳۵۵) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ الْقَہْرَمَانِیِّ ، عَن سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : مَا مِنْ رَجُلٍ یَرَی مُبْتَلًی فَیَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی عَافَانِی مِمَّا ابْتَلاک بِہِ وَفَضَّلَنِی عَلَیْک ، وَعَلَی کَثِیرٍ مِنْ خَلْقِہِ تَفْضِیلاً إِلاَّ عَافَاہُ اللَّہُ مِنْ ذَلِکَ الْبَلائِ کَائِنًا مَا کَانَ۔ (ترمذی ۳۴۳۱۔ ابن ماجہ ۳۸۹۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫৫
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ وہ یوں دعا مانگیں اور یہ کلمات پڑھیں
(٣٠٣٥٦) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ کو فرعون کے پاس بھیجا گیا تو آپ نے فرمایا : میرے رب ! میں کیا چیز پڑھوں ؟ اللہ نے ارشاد فرمایا : تم یوں کہو : ھیا شرًّا ھیا۔ اعمس کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے ” اے وہ ذات ! جو ہر چیز سے پہلے زندہ تھی اور ہر چیز کے فنا ہوجانے کے بعد زندہ رہے گی۔ “
(۳۰۳۵۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : لَمَّا بُعِثَ مُوسَی إِلَی فِرْعَوْنَ ، قَالَ : رَبِّ أَیَّ شَیْئٍ أَقُولُ ؟ قَالَ : قُلْ : ہَیَّا شَرًّا ہَیَّا ، قَالَ الأَعْمَشُ : تَفْسِیرُ ذَلِکَ : الْحَیُّ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ ، وَالْحَیُّ بَعْدَ کُلِّ شَیْئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫৬
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا : بیشک دعا آدمی کو اور اس کے بچہ کو پہنچ جاتی ہے
(٣٠٣٥٧) حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کے لیے دعا فرمائی جو اسے اور اس کے بچوں کو اور پوتوں کو پہنچی۔
(۳۰۳۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ أبی العمیس ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُتْبَۃَ ، عَنِ ابْنِ حُذَیْفَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إذَا دَعَا لِرَجُلٍ أَصَابَتْہُ وَأَصَابَتْ وَلَدَہُ وَوَلَدَ وَلَدِہِ۔ (احمد ۳۸۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫৭
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا : بیشک دعا آدمی کو اور اس کے بچہ کو پہنچ جاتی ہے
(٣٠٣٥٨) حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب نے ارشاد فرمایا : بیشک آدمی کے مرنے کے بعد اس کے بچہ کی دعا کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کیا جاتا ہے۔
(۳۰۳۵۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَن یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَن سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : إنَّ الرَّجُلَ لَیُرْفَعُ بِدُعَائِ وَلَدِہِ مِنْ بَعْدِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫৮
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا : بیشک دعا آدمی کو اور اس کے بچہ کو پہنچ جاتی ہے
(٣٠٣٥٩) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک ایک آدمی کا جنت میں درجہ بلند کردیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے : اے میرے رب ! یہ درجہ کیسے مجھے عطا کیا گیا ؟ پس کہا جاتا ہے : تیرے بیٹے کے استغفار کرنے کی بدولت یہ درجہ عطا کیا گیا۔
(۳۰۳۵۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَن حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَہْدَلَۃَ عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إنَّ الرَّجُلَ لَتُرْفَعُ لَہُ الدَّرَجَۃُ فِی الْجَنَّۃِ فَیَقُولُ : یَا رَبِّ أَنَّی لِی ہَذِہِ ؟ فَیُقَالُ : بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِک۔ (احمد ۵۰۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫৯
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب شیطان جن دکھائی دے تو آدمی یوں دعا کرے
(٣٠٣٦٠) حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب شیاطین جن تمہیں راستہ بھٹکا دیں۔ پس تم بلند آواز سے اذان دو ۔
(۳۰۳۶۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَن ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا تَغَوَّلَتْ لکُمَ الْغِیلانُ فَنَادُوا بِالأَذَانِ۔ (نسائی ۱۰۷۹۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬০
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب شیطان جن دکھائی دے تو آدمی یوں دعا کرے
(٣٠٣٦١) حضرت یسیر بن عمرو فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے پاس غیلان جن کا ذکر کیا جو شکل تبدیل کر کے لوگوں کو راستہ سے بھٹکا دیتے ہیں۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا : بیشک کسی چیز میں اتیش استطاعت نہیں کہ وہ اللہ کی تخلیق کو جیسے اللہ نے پیدا کی تھی بد ل دے۔ لیکن یہ دھوکا دہی تمہاری دھوکا دہی کی طرح ہے۔ جب تم ایسی کوئی چیز دیکھو تو اذان دے دیا کرو۔
(۳۰۳۶۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَن یُسَیْرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : ذُکِرَتِ الْغِیلانُ عِنْدَ عُمَر رحمہ اللہ فَقَالَ : إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ شَیْئٍ یَسْتَطِیعُ أن یتغیر عَن خَلْقِ اللہِ خَلْقَہُ ، وَلَکِنْ لَہُمْ سَحَرَۃٌ کَسَحَرَتِکُمْ ، فَإِذَا رَأَیْتُمْ مِنْ ذَلِکَ شَیْئًا فَأَذِّنُوا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬১
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب شیطان جن دکھائی دے تو آدمی یوں دعا کرے
(٣٠٣٦٢) حضرت ابو ایوب فرماتے ہیں کہ میں چبوترے میں ہوتا تو ایک شکل بدلنے والا جن میرے پاس آتا تھا، پس میں نے اس بات کی شکایت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تو اس کو دیکھے تو یوں کہہ : اللہ کے نام کے ساتھ : تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جواب دو ۔ آپ فرماتے ہیں : جب وہ آیا۔ پس میں نے یہ کلمات کہے اور اس کو پکڑ لیا۔ تو وہ مجھے کہنے لگا : یقیناً میں دوبارہ نہیں آؤں گا ۔ تو میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تمہارے قیدی کا کیا بنا ؟ تو آپ نے عرض کیا : میں نے اس کو پکڑا ۔ تو وہ کہنے لگا : میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔ پھر میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک وہ دوبارہ واپس آئے گا۔ آپ فرماتے ہیں : میں نے اس کو دو یا تین مرتبہ پکڑا۔ وہ ہر مرتبہ کہتا : میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔ اور آپ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاتے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے : تمہارے قیدی کا کیا بنا ؟ تو آپ فرماتے : میں نے اس کو پکڑا تو وہ کہنے لگا : میں دوبارہ نہیں آؤں گا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے : بیشک وہ دوبارہ آئے گا۔ آپ نے فرماتے ہیں ! پھر میں نے اس کو پکڑا تو وہ کہنے لگا : تم مجھے چھوڑ دو اور میں تمہیں ایسی چیز سکھاؤں گا جب تم اسے پڑھو گے تو کوئی چیز بھی تمہارے قریب نہیں آئے گی، وہ آیت الکرسی ہے۔ پس آپ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کی خبر دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس نے سچ بات کی حالانکہ ہے وہ جھوٹا۔
(۳۰۳۶۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ عن سفیان ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أَخِیہِ عِیسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ أَبِی أَیُّوبَ ، أَنَّہُ کَانَ فِی سَہْوَۃٍ لَہُ فَکَانَتِ الْغُولُ تَجِیئُ ، فَشَکَاہَا إِلَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إذَا رَأَیْتہَا فَقُلْ : بِسْمِ اللہِ أَجِیبِی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: فَجَائَتْہُ فَقَالَ : لَہَا فَأَخَذَہَا فَقَالَتْ لَہُ : إنِّی لاَ أَعُودُ ، فَأَرْسَلِہَا ، فَجَائَ فَقَالَ لَہُ : النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا فَعَلَ أَسِیرُک ؟ فَقَالَ : أَخَذْتہَا فَقَالَتْ : إنِّی لاَ أَعُودُ ، فَأَرْسَلْتہَا ، فَقَالَ : إِنَّہَا عَائِدَۃٌ ، فَأَخَذْتہَا مَرَّتَیْنِ، أَوْ ثَلاثًا کُلَّ ذَلِکَ تَقُولُ: لاَ أَعُودُ، وَیَجِیئُ إِلَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَقُولُ: مَا فَعَلَ أَسِیرُک؟ فَیَقُولُ : أَخَذْتہَا فَتَقُولُ : لاَ أَعُودُ ، فَیَقُولُ : إِنَّہَا عَائِدَۃٌ فَأَخَذْتہَا فَقَالَتْ : أَرْسِلْنِی وَأُعَلِّمُک شَیْئًا تَقُولُہُ لاَ یَقْرَبُک شَیْئٌ، آیَۃَ الْکُرْسِی، فَأَتَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ: صَدَقَتْ وَہِیَ کَذُوبٌ۔ (ترمذی ۲۸۸۰۔ احمد ۴۲۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬২
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب نیا چاند دیکھے تو یوں دعا کرے
(٣٠٣٦٣) حضرت عبادہ بن الصامت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نیا چاند دیکھتے تو یوں دعا فرماتے : اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے، اے اللہ ! میں آپ سے اس مہینہ کی بھلائی مانگتا ہوں۔ اور میں تقدیر کے شر سے آپ کی پناہ لیتا ہوں۔ اور حشر کے دن کے شر سے میں آپ کی پناہ لیتا ہوں۔
(۳۰۳۶۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَنْ لاَ أَتَّہِمُ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ ، عَن عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا رَأَی الْہِلالَ ، قَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّہِ لاَ حَوْلَ وَلا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ ، اللَّہُمَّ إنِّی أَسْأَلُک خَیْرَ ہَذَا الشَّہْرِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ الْقَدَرِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ یَوْمِ الْحَشْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬৩
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب نیا چاند دیکھے تو یوں دعا کرے
(٣٠٣٦٤) حضرت عبد الرحمن بن حرملہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن المسیب کے ساتھ واپس لوٹ رہا تھا تو ہم نے کہا : اے ابو محمد ! یہ نیا چاند ہے، پس جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا : میں ایمان لایا اس ذات پر جس نے تجھے پیدا کیا پس تجھے برابر اور تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نیا چاند دیکھتے تو اس طرح دعا فرماتے تھے۔
(۳۰۳۶۴) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ ، قَالَ : انْصَرَفْت مَعَ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ فَقُلْنَا: ہَذَا الْہِلالُ یَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، فَلَمَّا أَبْصَرَہُ ، قَالَ : آمَنْت بِالَّذِی خَلَقَک فَسَوَّاک فَعَدَلَک ، ثُمَّ الْتَفَتَ إلَیَّ فَقَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا رَأَی الْہِلالَ ، قَالَ ہَکَذَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬৪
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب نیا چاند دیکھے تو یوں دعا کرے
(٣٠٣٦٥) حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی ایک نیا چاند دیکھے تو اس کی طرف سر مت اٹھائے۔ تم میں سے ہر ایک کے لیے کافی ہے کہ وہ یوں کہہ لے۔ میرا رب اور تیرا رب اللہ ہے۔
(۳۰۳۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبِیدَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ ، قَالَ : إذَا رَأَی أَحَدُکُمَ الْہِلالَ فَلا یَرْفَعْ بِہِ رَأْسًا إنما یَکْفِی أَحَدَکُمْ أَنْ یَقُولَ : رَبِّی وَرَبُّک اللَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬৫
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب نیا چاند دیکھے تو یوں دعا کرے
(٣٠٣٦٦) حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی جب نیا چاند دیکھتے تو یوں فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! ہمیں عطا فرما اس کی بھلائی، اور اس کی مدد، اور اس کی برکت، اور اس کی فتح اور اس کا نور، اور ہم تیری پناہ لیتے ہیں اس کے شر سے اور اس چیز کے شر سے جو اس کے بعد ہو۔
(۳۰۳۶۶) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، أَنَّ عَلِیًّا کَانَ یَقُولُ إذَا رَأَی الْہِلالَ : اللَّہُمَّ ارْزُقْنَا خَیْرَہُ وَنَصْرَہُ وَبَرَکَتَہُ وَنُورَہُ وَنَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہِ وَشَرِّ مَا بَعْدَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬৬
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب نیا چاند دیکھے تو یوں دعا کرے
(٣٠٣٦٧) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس مکروہ سمجھتے تھے کہ خاص طور پر نیا چاند دیکھنے کے لیے کھڑا ہوا جائے۔ اور لیکن جب وہ سامنے نظر آجاتا تو یہ کلمات پڑھتے : اللہ سب سے بڑا ہے، سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو چاند کو اس طرح اور اس طرح لے گیا۔ اور اس طرح اور اس طرح چاند کو لے آیا۔
(۳۰۳۶۷) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حُجَّاجُ بْنُ دِینَارٍ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَنْتَصِبَ لِلْہِلالِ وَلَکِنْ یَعْتَرِضُ فَیَقُولُ : اللَّہُ أَکْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی ذَہَبَ بِہِلالِ کَذَا وَکَذَا ، وَجَائَ بِہِلالِ کَذَا وَکَذَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬৭
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب نیا چاند دیکھے تو یوں دعا کرے
(٣٠٣٦٨) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نیا چاند دیکھتے تو تین مرتبہ یوں کہتے : بھلائی اور ہدایت کا چاند ہے، ہدایت اور بھلائی کا چاند ہے، اور بھلائی اور ہدایت کا چاند ہے۔ میں ایمان لایا اس ذات پر جس نے تجھے پیدا کیا۔ پھر یہ پڑھتے سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو چاند کو اس طرح اور اس طرح لے گیا۔ اور چاند کو اس طرح اور اس طرح لے آیا۔
(۳۰۳۶۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدٌ ، عَن قَتَادَۃَ ، أَنَّ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إذَا رَأَی الْہِلالَ ، قَالَ : ہِلالُ خَیْرٍ وَرُشْدٍ ، ہِلالُ رُشْدٍ وَخَیْرٍ ، ہِلالُ خَیْرٍ وَرُشْدٍ ، آمَنْت بِالَّذِی خَلَقَک ثَلاثًا ، الْحَمْدُ لِلَّہِ ذَہَبَ بہِلالِ کَذَا وَکَذَا ، وَجَائَ بِہِلالِ کَذَا وَکَذَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬৮
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب نیا چاند دیکھے تو یوں دعا کرے
(٣٠٣٦٩) حضرت حسین بن علی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ہشام بن حسان سے پوچھا : جب حضرت حسن نیا چاند دیکھتے تو کون سی دعا پڑھتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : وہ یہ دعا پڑھتے تھے ! اے اللہ ! اس مہینہ کو برکت اور نور کا مہینہ بنا دے اور اجر اور معافی کا مہینہ بنا دے ۔ اے اللہ تو اپنے بندوں کے درمیان بھلائی کو تقسیم فرمانے والا ہے، پس تو ہمارے درمیان بھی اس خیر میں سے تقسیم فرما دے، جو تو نے اپنے نیک بندوں کے درمیان تقسیم فرمائی ہے۔
(۳۰۳۶۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ہِشَامَ بْنَ حَسَّانَ : أَیُّ شَیْئٍ کَانَ الْحَسَنَ یَقُولُ إذَا رَأَی الْہِلالَ ؟ قَالَ : کَانَ یَقُولُ : اللَّہُمَّ اجْعَلْہُ شَہْرَ بَرَکَۃٍ وَنُورٍ وَأَجْرٍ وَمُعَافَاۃٍ اللَّہُمَّ إنَّک قَاسِمٌ بَیْنَ عِبَادٍ مِنْ عِبَادِکَ فِیہِ خَیْرًا فَاقْسِمْ لَنَا فِیہِ مِنْ خَیْرِ مَا تَقْسِمُ لِعِبَادِکَ الصَّالِحِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬৯
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب نیا چاند دیکھے تو یوں دعا کرے
(٣٠٣٧٠) حضرت حسین بن علی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن جریج سے سوال کیا (نئے چاند کے متعلق) تو انھوں نے حضرت عطاء کے حوالہ سے نقل کیا : کہ بیشک ایک آدمی نے بنجر زمین میں نیا چاند دیکھا۔ اس نے بیان کیا کہ میں نے کسی کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا : اے اللہ ! تو اس چاند کو ہم پر امن اور ایمان کے ساتھ، اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ، اور ہدایت اور مغفرت کے ساتھ، اور ہر اس عمل کی توفیق کے ساتھ نکال جو تجھے پسند ہو، اور ہر اس عمل سے حفاظت کے ساتھ نکال جس سے تو ناراض ہوتا ہو۔ اے چاند تیرا اور میرا دونوں کا پروردگار اللہ ہے۔ وہ آدمی کہتا ہے : وہ مسلسل یہ کلمات پڑھتا رہا یہاں تک کہ میں نے ان کو یاد کرلیا : اور میں نے کسی کو بھی وہاں نہیں دیکھا۔
(۳۰۳۷۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ جُرَیْجٍ فَذَکَرَ عَنْ عَطَائٍ ، أَنَّ رَجُلاً أَہَلَّ ہِلالاً بِفَلاۃٍ مِنَ الأَرْضِ ، قَالَ : فَسَمِعَ قَائِلاً یَقُولُ : اللَّہُمَّ أَہِلَّہُ عَلَیْنَا بِالأَمْنِ وَالإِیمَانِ وَالسَّلامَۃِ وَالإِسْلامِ وَالْہُدَی وَالْمَغْفِرَۃِ وَالتَّوْفِیقِ لِمَا تَرْضَی وَالْحِفْظِ مِمَّا تَسْخَطُ ، رَبِّی وَرَبُّک اللَّہُ ، قَالَ : فَلَمْ یُتِمَّہُنَّ حَتَّی حَفِظْتہنَّ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا۔
তাহকীক: