মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
دیت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৯৪ টি
হাদীস নং: ২৮০৪০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے : جب مسلمان نے ذمی کو قتل کردیا تو اس کو بھی قصاصاً قتل کیا جائے گا
(٢٨٠٤١) حضرت عبدالملک بن میسرہ نے ارشاد فرمایا مسلمانوں کے ایک آدمی نے مقام حیرہ کے ایک عیسائی باشندے کو قتل کردیا۔ پھر اس بارے میں حضرت عمر بن خطاب کو خط لکھا : تم اس کو اس کے قصاص میں قتل کردو پس اس مقتول کے بھائی حنین کو کہا گیا کہ اس کو قتل کردو راوی کہتے ہیں یہاں تک اس کو غصہ آگیا اور اس نے قتل کردیا۔ پھر حضرت عمر کو یہ خبر پہنچی کہ قاتل مسلمانوں کے شہسواروں میں سے ہے حضرت عمر نے پھر خط لکھا کہ تم اسے قصاصاً قتل مت کرو راوی کہتے ہیں : آپ کا خط ان کے پاس آیا اس حال میں کہ اس کو قتل کردیا گیا تھا۔
(۲۸۰۴۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَیْسٍ الأَسَدِیُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَۃَ ؛ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِینَ قَتَلَ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْحِیرَۃِ ، فَکَتَبَ فِیہِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَکَتَبَ عُمَرُ : أَنِ اقْتُلُوہُ بِہِ ، فَقِیلَ لأَخِیہِ حُنَیْنٍ : اقْتُلْہُ ، قَالَ : حَتَّی یَجِیئَ الْغَضَبُ ، قَالَ : فَبَلَغَ عُمَرَ أَنَّہُ مِنْ فُرْسَانِ الْمُسْلِمِینَ ، قَالَ : فَکَتَبَ عُمَرُ : أَنْ لاَ تُقِیدُوہُ بِہِ ، قَالَ : فَجَائَہُ الْکِتَابُ وَقَدْ قُتِلَ۔ (طحاوی ۱۹۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৪১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے ! مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
(٢٨٠٤٢) حضرت ابو جحیفہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی سے پوچھا کہ آپ لوگوں کے پاس قرآن مجید کے سوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی حدیث وغیرہ موجود ہے ؟ اس پر آپ نے فرمایا : نہیں ! قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو وجود بخشا اور ہر جاندار کو پیدا کیا مگر جو کچھ اللہ نے کسی آدمی کو قرآن مجید میں فہم عطا کی ہے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اس صحیفہ میں کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : دیت کے احکام قیدی کو چھڑانا اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
(۲۸۰۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، قَالَ : قُلْنَا لِعَلِیٍّ : ہَلْ عِنْدَکُمْ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئٌ سِوَی الْقُرْآنِ ؟ فَقَالَ : لاَ ، وَالَّذِی فَلَقَ الْحَبَّۃَ وَبَرَأَ النَّسَمَۃَ ، إِلاَّ أَنْ یُعْطِیَ اللَّہُ رَجُلاً فَہْمًا فِی کِتَابِ اللہِ ، وَمَا فِی ہَذِہِ الصَّحِیفَۃِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَمَا فِی ہَذِہِ الصَّحِیفَۃِ ؟ قَالَ : الْعَقْلُ ، وَفِکَاکُ الأَسِیرِ ، وَلاَ یُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ۔ (بخاری ۱۱۱۔ ترمذی ۱۴۱۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৪২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے ! مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
(٢٨٠٤٣) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کسی مومن کو کافر کے بدلہ قتل نہیں کیا جائے گا۔
(۲۸۰۴۳) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لاَ یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ۔ (ابوداؤد ۲۷۴۵۔ ترمذی ۱۴۱۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৪৩
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے ! مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
(٢٨٠٤٤) حضرت عطائ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی عہد والے کو اس کے معاہدے کے دوران۔
(۲۸۰۴۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن مَعْقِلٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ ، وَلاَ ذُو عَہْدٍ فِی عَہْدِہِ۔ (ابوداؤد ۴۵۱۹۔ نسائی ۶۹۳۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৪৪
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے ! مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
(٢٨٠٤٥) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الملیح نے ارشاد فرمایا : کہ میری قوم میں سے ایک شخص نے ایک یہودی آدمی کو تیر مار کر قتل کردیا۔ پس یہ معاملہ حضرت عمر بن خطاب کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اس شخص پر چار ہزار درہم کا تاوان ڈالا اور اس کو قصاصاًقتل نہیں کیا۔
(۲۸۰۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ ؛ أَنَّ رَجُلاً مِنْ قَوْمِہِ رَمَی رَجُلاً یَہُودِیًّا بِسَہْمٍ فَقَتَلَہُ ، فَرُفِعَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَأَغْرَمہُ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ ، وَلَمْ یُقِدْ مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৪৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے ! مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
(٢٨٠٤٦) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی یہودی یا عیسائی کو قتل کردیا ہو ؟ آپ نے فرمایا : کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اگرچہ مومن نے اسے عمداً قتل کیا ہو۔
(۲۸۰۴۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : سُئِلَ عَمَّنْ یَقْتُلُ یَہُودِیًّا ، أَوْ نَصْرَانِیًّا ؟ قَالَ : لاَ یُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ ، وَإِنْ قَتَلَہُ عَمْدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৪৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے ! مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
(٢٨٠٤٧) حضرت عبدالملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ نے ارشاد فرمایا : مسلمان آدمی کو یہودی اور عیسائی کے بدلہ قصاصاً قتل نہیں کیا جائے گا لیکن اس کو دیت کی ادائیگی کا ذمہ دار بنایا جائے گا۔
(۲۸۰۴۷) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : لاَ یُقْتَلُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ بِالْیَہُودِیِّ ، وَلاَ بِالنَّصْرَانِیِّ ، وَلَکِنْ یُغْرَمُ الدِّیَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৪৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے ! مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
(٢٨٠٤٨) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا ! سنت میں ہے کہ کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی آزاد کو غلام کے بدلے میں۔
(۲۸۰۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : مِنَ السُّنَّۃِ أَنْ لاَ یُقْتَلَ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ، وَلاَ حُرٌّ بِعَبْدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৪৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس نے عورت کو عمداً (جان بوجھ کر) قتل کردیا ہو
(٢٨٠٤٩) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس نے ارشاد فرمایا : ایک یہودی نے کسی عورت کا سر پتھر سے کچل کر اسے مار دیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدلے میں اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان کچل دیا۔
حدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَقِیُّ بْنُ مَخْلَدٍ ، حدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ الْعَبْسِیُّ ، قَالَ :
(۲۸۰۴۹) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ یَہُودِیًّا رَضَخَ رَأْسَ امْرَأَۃٍ بِحَجَرٍ فَقَتَلَہَا ، فَرَضَخَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأْسَہُ بَیْنَ حَجَرَیْنِ۔ (بخاری ۶۸۸۵۔ احمد ۱۷۰)
(۲۸۰۴۹) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ یَہُودِیًّا رَضَخَ رَأْسَ امْرَأَۃٍ بِحَجَرٍ فَقَتَلَہَا ، فَرَضَخَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأْسَہُ بَیْنَ حَجَرَیْنِ۔ (بخاری ۶۸۸۵۔ احمد ۱۷۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৪৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس نے عورت کو عمداً (جان بوجھ کر) قتل کردیا ہو
(٢٨٠٥٠) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے صنعاء کے تین باشندوں کو ایک عورت کے بدلے میں قصاصاً قتل کیا۔
(۲۸۰۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ؛أَنَّ عُمَرَ قَتَلَ ثَلاَثَۃَ نَفَرٍ مِنْ أَہْلِ صَنْعَائَ بِامْرَأَۃٍ۔ (عبدالرزاق ۱۸۰۷۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৫০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس نے عورت کو عمداً (جان بوجھ کر) قتل کردیا ہو
(٢٨٠٥١) حضرت ابراہیم اور حضرت عامر شعبی ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : جب آدمی عورت کو عمداً قتل کردے تو اس عورت کے بدلے میں آدمی کو قصاصاً قتل کیا جائے گا۔
(۲۸۰۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ (ح) وَعَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالاَ : یُقْتَلُ الرَّجُلُ بِالْمَرْأَۃِ إِذَا قَتَلَہَا عَمْدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৫১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس نے عورت کو عمداً (جان بوجھ کر) قتل کردیا ہو
(٢٨٠٥٢) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : جب آدمی عورت کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کے بدلے میں آدمی کو قصاصاً قتل کیا جائے گا۔
(۲۸۰۵۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، وَعَبْدِ اللہِ ، قَالاَ : إِذَا قَتَلَ الرَّجُلُ الْمَرْأَۃَ مُتَعَمِّدًا ، فَہُوَ بِہَا قَوَدٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৫২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس نے عورت کو عمداً (جان بوجھ کر) قتل کردیا ہو
(٢٨٠٥٣) حضرت ابن جریج فرماتے حضرت عطائ نے ارشاد فرمایا : اسے قتل کیا جائے گا آدمی اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
(۲۸۰۵۳) حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : یُقْتَلُ وَلَیْسَ بَیْنَہُمَا فَصْلٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৫৩
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے : اس آدمی کو قتل نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ آدمی دیت ادا کردے
(٢٨٠٥٤) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے سامنے ایک آدمی کو پیش کیا گیا جس نے ایک عورت کو قتل کیا تھا اس پر حضرت علی نے اس عورت کے سرپرستوں سے فرمایا : اگر تم چاہو تو قاتل کے خاندان والوں کو آدھی دیت ادا کردو اور تم اسے قتل کردو۔
(۲۸۰۵۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَن سِمَاکٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : رُفِعَ إِلَی علِیٍّ رَجُلٌ قَتَلَ امْرَأَۃً ، فَقَالَ عَلِیٌّ لأَوْلِیَائِہَا : إِنْ شِئْتُمْ فَأَدُّوا نِصْفَ الدِّیَۃِ وَاقْتُلُوہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৫৪
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے : اس آدمی کو قتل نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ آدمی دیت ادا کردے
(٢٨٠٥٥) حضرت عوف فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے ارشاد فرمایا : مرد کو عورت کے بدلے قصاصاً قتل نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ قاتل کے اہل کو آدھی دیت ادا کردیں۔
(۲۸۰۵۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: لاَ یُقْتَلُ الذَّکَرُ بِالأُنْثَی حَتَّی یُؤَدِّی نِصْفَ الدِّیَۃِ إِلَی أَہْلِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৫৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے : اس آدمی کو قتل نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ آدمی دیت ادا کردے
(٢٨٠٥٦) حضرت عبدالملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ نے اس آدمی کے بارے میں جس نے عورت کو قتل کردیا ہو، آپ نے یوں ارشاد فرمایا : اگر وہ اس کو قصاصاً قتل کردیں تو وہ آدھی دیت ادا کریں اور اگر عورت کے خاندان والے چاہیں تو دیت قبول کرلیں۔
(۲۸۰۵۶) حَدَّثَنَا یَعْلَی ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یَقْتُلُ الْمَرْأَۃَ ، قَالَ : إِنْ قَتَلُوہُ أَدَّوْا نِصْفَ الدِّیَۃَ ، وَإِنْ شَاؤُوا قَبِلُوا الدِّیَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৫৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمیوں اور عورتوں کے درمیان قصاص کا بیان
(٢٨٠٥٧) حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ارشاد فرمایا کہ عمد کی صورت مرد اور عورت کے مابین وہی قصاص ہے جو ایک نفس سے دوسرے نفس کے بدلے ہوتا ہے۔
(۲۸۰۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ : الْقِصَاصُ فِیْمَا بَیْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَۃِ فِی الْعَمْدِ ، فِیمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ النَّفْسِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৫৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمیوں اور عورتوں کے درمیان قصاص کا بیان
(٢٨٠٥٨) حضرت ابراہیم اور حضرت عامرشعبی ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : قصاص آدمی اور عورت کے درمیان عمد کی صورت میں ہر چیز میں ہوگا۔
(۲۸۰۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ (ح) وَعَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالاَ : الْقِصَاصُ فِیمَا بَیْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَۃِ فِی الْعَمْدِ ، فِی کُلِّ شَیْئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৫৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمیوں اور عورتوں کے درمیان قصاص کا بیان
(٢٨٠٥٩) حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت حماد آدمیوں اور عورتوں کے درمیان جان سے کم زخم کی صورت میں قصاص لینے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اور حضرت حکم نے ارشاد فرمایا : ہم نے ان دونوں کے بارے میں اس کے متعلق کوئی حدیث نہیں سنی اور یقیناً ان دونوں کے درمیان قصاص بہتر ہے۔
(۲۸۰۵۹) حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ، عَن حَمَّادٍ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَیْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ قِصَاصًا فِیمَا دُونَ النَّفْسِ۔
وَقَالَ الْحَکَمُ : مَا سَمِعْنَا فِیہِمَا بِشَیْئٍ ، وَإِنَّ الْقِصَاصَ بَیْنَہُمَا لَحَسَنٌ۔
وَقَالَ الْحَکَمُ : مَا سَمِعْنَا فِیہِمَا بِشَیْئٍ ، وَإِنَّ الْقِصَاصَ بَیْنَہُمَا لَحَسَنٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৫৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمیوں اور عورتوں کے درمیان قصاص کا بیان
(٢٨٠٦٠) حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ امام زہری نے ارشاد فرمایا : سنت اس بارے میں گزر چکی ہے کہ آدمی نے عورت کو مار کر زخمی کردیا تو اس آدمی سے قصاصاً بدلہ لیا جائے گا اور وہ آدمی عورت کو دیت ادا کرے گا۔
(۲۸۰۶۰) حَدَّثَنَا عِیسَی ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : مَضَتِ السُّنَّۃُ فِی الرَّجُلِ یَضْرِبُ امْرَأَتَہُ فَیَجْرَحُہَا أَنْ لاَ تَقْتَصَّ مِنْہُ ، وَیَعْقِلَ لَہَا۔
তাহকীক: