মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

دیت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৯৪ টি

হাদীস নং: ২৮২০০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس نے آدمی کو ضرب لگائی پس وہ شخص مسلسل مریض رہ کر وفات پا گیا
(٢٨٢٠١) حضرت تمیم بن سلمہ فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے حضرت شریح کے سامنے ایک آدمی کے خلاف گواہی دی پس ان دونوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس شخص نے اس کو پچھاڑا پس مسلسل اسے اپنی کہنی سے اسے دباتا رہا یہاں تک کہ وہ شخص مرگیا حضرت شریح نے پوچھا : کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اس نے اسے قتل کیا ہے ؟ ان دونوں نے جواب دیا ہم دونوں گواہی دیتے ہیں کہ اس شخص نے اسے پچھاڑا اور مسلسل اپنی کہنی سے اسے دباتا رہا یہاں تک کہ وہ مرگیا آپ نے پوچھا : کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اس نے اسے قتل کیا ہے ؟
(۲۸۲۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَن تَمِیمِ بْنِ سَلَمَۃَ ، قَالَ : شَہِدَ رَجُلاَنِ عَندَ شُرَیْحٍ عَلَی رَجُلٍ ، فَقَالاَ : نَشْہَدُ أَنَّ ہَذَا صَرَعَ ہَذَا ، فَلَمْ یَزَلْ یَعْصِرُہُ بِمِرْفَقِہِ حَتَّی مَاتَ ، فَقَالَ شُرَیْحٌ : تَشْہَدَان أَنَّہُ قَتَلَہُ ؟ فَقَالاَ : نَشْہَدُ أَنَّہُ صَرَعَہُ ، فَلَمْ یَزَلْ یَعْصِرُہُ بِمِرْفَقِہِ حَتَّی مَاتَ ، فَقَالَ : تَشْہَدَان أَنَّہُ قَتَلَہُ؟۔

(عبدالرزاق ۱۸۳۰۰۔ بیہقی ۱۳۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২০১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس نے آدمی کو ضرب لگائی پس وہ شخص مسلسل مریض رہ کر وفات پا گیا
(٢٨٢٠٢) حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں قبیلہ جھینہ کے ایک آدمی نے قبیلہ بنو غفار کے ایک شخص کو روند ڈالا یا راوی نے یوں فرمایا : کہ قبیلہ بنو غفار کے ایک شخص نے قبیلہ جہینہ کے آدمی کو روند ڈالا تو اس آدمی کے گھر والوں نے یہ دعویٰ کردیا کہ اس وجہ سے مرا ہے تو حضرت عمر نے مدعیوں کے پچاس آدمیوں کو قسم اٹھانے کے لیے کہا۔ ان لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا اور جن لوگوں کے خلاف دعویٰ کیا گیا تھا ان لوگوں نے بھی قسم اٹھانے سے انکار کردیا تو حضرت عمر نے اس بارے میں نصف دیت کا فیصلہ فرمایا۔
(۲۸۲۰۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ شِہَابٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَوْطَأَ فِی زَمَانِہِ رَجُلٌ مِنْ جُہَیْنَۃَ رَجُلاً مِنْ بَنِی غِفَارٍ ، أَوْ رَجُلٌ مِنْ بَنِی غِفَارٍ رَجُلاً مِنْ جُہَیْنَۃَ ، فَادَّعَی أَہْلُہُ أَنَّہُ مَاتَ مِنْ ذَلِکَ ۔ فَأَحْلَفَہُمْ عُمَرُ خَمْسِینَ رَجُلاً مِنْہُمْ مِنَ الْمُدَّعِینَ فَأَبَوْا أَنْ یَحْلِفُوا ، وَأَبَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِمْ أَنْ یَحْلِفُوا ، فَقَضَی عُمَرُ فِیہَا بِشَطْرِ الدِّیَۃِ۔ (عبدالرزاق ۱۸۲۹۷۔ مالک ۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২০২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس نے آدمی کو ضرب لگائی پس وہ شخص مسلسل مریض رہ کر وفات پا گیا
(٢٨٢٠٣) حضرت حسن بن مسلم فرماتے ہیں کہ ایک باندی نے بنو زید کے آزاد کردہ غلام کی انگلی کو کاٹا جس سے وہ ورم آلود ہوگئی پھر اس شخص کی وفات ہوگئی اور باندی نے بھی اس کی انگلی کے کاٹنے کا اعتراف کیا اس بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بنو زید والے پچاس قسمیں اٹھائیں گے اس طور پر کہ ان پر قسم کو لوٹایا جائے گا وہ شخص ان باندی کے کاٹنے کی وجہ سے مرا ہے پھر باندی ان کو مل جائے گی ورنہ ان کو کوئی حق نہیں ملے گا پس ان لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا۔
(۲۸۲۰۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ؛ أَنَّ أَمَۃً عَضَّتْ إِصْبَعًا لِمَوْلَی لِبَنِی زَیْدٍ ، فَطُمِرَ فِیہَا فَمَاتَ ، فَاعْتَرَفَتِ الْجَارِیَۃُ بِعَضَّتِہَا إِیَّاہُ ، فَقَضَی فِیہَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِأَنْ یُحَلِّفَ بَنُو زَیْدٍ خَمْسِینَ یَمِینًا ، تُرَدَّدُ عَلَیْہِمُ الأَیْمَانُ ، لَمَاتَ مِنْ عَضَّتِہَا ، ثُمَّ الأَمَۃُ لَہُمْ ، وَإِلاَّ فَلاَ حَقَّ لَہُمْ ، فَأَبَوْا أَنْ یَحْلِفُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২০৩
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس نے دوسرے آدمی کو دھکا دیا
(٢٨٢٠٤) حضرت ابو عون فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی کو کرسی ماری اور دھکا دیا پس وہ آدمی مرگیا اس پر حضرت شریح نے فرمایا : دھکا دینے والا دوسرے آدمی کے لیے ضامن ہوگا۔
(۲۸۲۰۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ ، عَنْ شُرَیْحٍ ؛ أَنَّ رَجُلاً لَقِیَ رَجُلاً بِکُرْسِیٍّ فَصَدَمَہُ فَقَتَلَہُ ، فَقَالَ شُرَیْحٌ : ضَمِنَ الصَّادِمُ لِلْمَصْدُومِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২০৪
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس نے دوسرے آدمی کو دھکا دیا
(٢٨٢٠٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ دو شہسوار آپس میں ٹکڑا گئے اور ان میں ایک مرگیا تو حضرت علی نے زندہ کو مردہ کا ضامن بنایا۔
(۲۸۲۰۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَن حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلِیٍّ ؛ فِی فَارِسَیْنِ اصْطَدَمَا فَمَاتَ أَحَدُہُمَا ، فَضَمِنَ الْحَیُّ الْمَیِّتَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২০৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس نے دوسرے آدمی کو دھکا دیا
(٢٨٢٠٦) حضرت اسماعیل بن سالم فرماتے ہیں کہ امام شعبی سے دریافت کیا گیا دو ایسی کشتیوں کے بارے میں جو آپس میں ٹکڑا گئی تھیں پس ان دونوں میں سے ایک غرق ہوگئی ؟ آپ نے جواب دیا : دوسری کشتی والوں پر کوئی ضمان نہیں لیکن ہر وہ شخص جس نے مسلمان کے طریقہ پر مضبوط کشتی بنائی پھر بھی وہ ڈوب گئی تو وہ شخص ضامن ہوگا۔
(۲۸۲۰۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَن سَفِینَتَیْنِ اصْطَدَمَتَا ، فَغَرِقَتْ إِحْدَاہُمَا ؟ فَقَالَ : لَیْسَ عَلَی الآخِرین ضَمَان ، وَلَکِنْ أَیُّمَا رَجُلٍ أَوْثَقَ سَفِینَۃً عَلَی طَرِیقِ الْمُسْلِمِینَ فَأَصَابَتْ ، فَہُوَ ضَامِنٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২০৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس نے دوسرے آدمی کو دھکا دیا
(٢٨٢٠٧) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے دو شہسواروں کے بارے میں جو آپس میں ٹکڑا گئے تھے آپ نے یوں ارشاد فرمایا : زندہ مردہ کی دیت کا ضامن ہوگا۔
(۲۸۲۰۷) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ فِی الْفَارِسَیْنِ یَصْطَدِمَانِ ، قَالَ : یَضْمَنُ الْحَیُّ دِیَۃَ الْمَیِّتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২০৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس نے دوسرے آدمی کو دھکا دیا
(٢٨٢٠٨) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی گدھے پر سوار تھا کہ اس کے سامنے سے گلی میں اونٹ پر سوار ایک شخص آیا پس گدھا خوف زدہ ہوگیا اور آدمی کو نیچے گرادیا جس سے وہ آدمی زخمی ہوگیا تو حضرت کعب بن سور نے اونٹ پر سوار کو کسی چیز کا بھی ضامن نہیں بنایا۔
(۲۸۲۰۸) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَن کَعْبِ بْنِ سُورٍ ؛ أَنَّ رَجُلاً کَانَ عَلَی حِمَارٍ ، فَاسْتَقْبَلَہُ رَجُلٌ عَلَی بَعِیرٍ فِی زُقَاقٍ ، فَنَفَرَ الْحِمَارُ ، فَصُرعَ الرَّجُلُ فَأَصَابَہُ شَیْئٌ ، فَلَمْ یضَمِّنْ کَعْبُ بْنُ سُورٍ صَاحِبَ الْبَعِیرِ شَیْئًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২০৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس نے دوسرے آدمی کو دھکا دیا
(٢٨٢٠٩) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان نے فیصلہ فرمایا کہ دو آپس میں لڑنے والے ایک دوسرے کے نقصان کے ضامن ہوں گے۔
(۲۸۲۰۹) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ السَّائِبِ السَّہْمِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ؛ أَنَّ عُثْمَانَ قَضَی أَنَّ کُلَّ مُقْتَتِلَیْنِ اقْتَتَلاَ ضَمِنَا مَا بَیْنَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২০৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس جھکی ہوئی دیوار کا بیان کہ جس کے مالک کے خلاف اس کے جھکے ہونے کی گواہی د ی گئی ہو
(٢٨٢١٠) حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے ارشاد فرمایا : جب جھکی ہوئی دیوار کے مالک کے خلاف گواہی دی گئی پھر وہ دیوار کسی پر گرپڑی اور وہ شخص مرگیا تو وہ مالک ضامن ہوگا۔
(۲۸۲۱۰) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إِذَا أُشْہِدَ عَلَی صَاحِبِ الْحَائِطِ الْمَائِلِ فَوَقَعَ فَأَصَابَ ، فَہُوَ ضَامِنٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২১০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس جھکی ہوئی دیوار کا بیان کہ جس کے مالک کے خلاف اس کے جھکے ہونے کی گواہی د ی گئی ہو
(٢٨٢١١) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے ارشاد فرمایا : جب آدمی کی دیوار جھکی ہوئی ہو اور اس کے بارے میں اس کے خلاف گواہی دے دی گئی تو وہ شخص ضامن ہوگا۔
(۲۸۲۱۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، قَالَ : إِذَا کَانَ حَائِطُ الرَّجُلِ مَائِلاً فَأَشْہَدَ عَلَیْہِ ، ضَمِنَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২১১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس جھکی ہوئی دیوار کا بیان کہ جس کے مالک کے خلاف اس کے جھکے ہونے کی گواہی د ی گئی ہو
(٢٨٢١٢) حضرت مغیرہ سے حضرت ابراہیم کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
(۲۸۲۱۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ؛ مِثْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২১২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس جھکی ہوئی دیوار کا بیان کہ جس کے مالک کے خلاف اس کے جھکے ہونے کی گواہی د ی گئی ہو
(٢٨٢١٣) حضرت سعید فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ جھکی ہوئی دیوار کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ جب لوگ اس کے مالک کے خلاف گواہی دے دیں پھر اس سے کوئی انسان مرگیا تو وہ شخص ضامن ہوگا۔
(۲۸۲۱۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ الْخَفَّافُ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی الْحَائِطِ الْمَائِلِ إِذَا شَہِدُوا عَلَی صَاحِبِہِ فَقَتَلَ إِنْسَانًا ، فَہُوَ ضَامِنٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২১৩
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس جھکی ہوئی دیوار کا بیان کہ جس کے مالک کے خلاف اس کے جھکے ہونے کی گواہی د ی گئی ہو
(٢٨٢١٤) حضرت ابو عون فرماتے ہیں کہ ایک بچہ نے دوسرے پر چھلانگ ماری نیچے والا وہاں سے ہٹ گیا اور اوپر والے کا دانت ٹوٹ گیا تو حضرت شریح نے اوپر والے کو ضامن قرار دیا نہ کر نیچے والے کو۔
(۲۸۲۱۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ ، عَنْ شُرَیْحٍ ؛ أَنَّ غُلاَمًا وَثَبَ عَلَی آخَرَ ، فَتَنَحَّی الأَسْفَلُ وَانْکَسَرَتْ ثَنِیَّۃُ الأَعْلَی ، فَضَمَّنَ الأَعْلَی ، وَلَمْ یُضَمِّنِ الأَسْفَلَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২১৪
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس جھکی ہوئی دیوار کا بیان کہ جس کے مالک کے خلاف اس کے جھکے ہونے کی گواہی د ی گئی ہو
(٢٨٢١٥) حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز نے ارشاد فرمایا : اگر ایک آدی کسی پر گرگیا پھر ان دونوں میں سے ایک کی موت واقع ہوگئی تو بچنے والا ضمان دے گا راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا : کیوں ؟ آپ نے فرمایا : اس لیے کہ مسلمان کا خون رائیگاں قرار نہیں دیا جائے گا۔
(۲۸۲۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : لَوْ صَرَعَ رَجُلٌ عَلَی رَجُلٍ فَمَاتَ أَحَدُہُمَا ضمن الْبَاقِی ، قَالَ : قُلْتُ : لِمَ ؟ قَالَ : لأَنَّہُ لاَ یُطَلُّ دَمُ مُسْلِمٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২১৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس جھکی ہوئی دیوار کا بیان کہ جس کے مالک کے خلاف اس کے جھکے ہونے کی گواہی د ی گئی ہو
(٢٨٢١٦) حضرت منصور فرماتے ہیں کہ دو بچے کھیل رہے تھے کہ ایک نے دوسرے کو پچھاڑا جس سے ایک کے سر میں چوٹ لگ گئی اور دوسرے کا دانت ٹوٹ گیا۔ حضرت ابراہیم نے اوپر گرنے والے کو نیچے والے کا ضامن بنایا اور نیچے والے کو اوپر والے کا ضامن بنایا۔
(۲۸۲۱۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّ غُلاَمَیْنِ کَانَا یَلْعَبَانِ التَّحِیَۃَ ، فَصَرَعَ أَحَدُہُمَا الآخَرَ ، فَشُجَّ أَحَدُہُمَا وَانْکَسَرَتْ ثَنِیَّۃُ الآخَرِ ، فَضَمَّنَ الأَعْلَی الأَسْفَلَ ، وَلَمْ یُضَمنْ الأَسْفَلُ الأَعْلَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২১৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس جھکی ہوئی دیوار کا بیان کہ جس کے مالک کے خلاف اس کے جھکے ہونے کی گواہی د ی گئی ہو
(٢٨٢١٧) حضرت ابو حصین فرماتے ہیں کہ ایک آدمی گھر کے اوپر سے کسی آدمی پر گرا تو اوپر سے گرنے والا مرگیا اس پر حضرت شریح نے فرمایا کیا میں زمین کو ضامن بناؤں ؟
(۲۸۲۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی حَصیْنٍ ، عَنْ شُرَیْحٍ ؛ فِی رَجُلٍ وَقَعَ عَلَی رَجُلٍ مِنْ فَوْقِ بَیْتٍ ، فَمَاتَ الأَعْلَی ، قَالَ شُرَیْحٌ : أُضَمِّنُ الأَرْضَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২১৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس جھکی ہوئی دیوار کا بیان کہ جس کے مالک کے خلاف اس کے جھکے ہونے کی گواہی د ی گئی ہو
(٢٨٢١٨) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا : اگر نیچے والا مرجائے تو اوپر سے گرنے والے کو ضامن بنایا جائے گا۔
(۲۸۲۱۸) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : إِنْ مَاتَ الأَسْفَلُ ضَمِنَ الأَعْلَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২১৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس جھکی ہوئی دیوار کا بیان کہ جس کے مالک کے خلاف اس کے جھکے ہونے کی گواہی د ی گئی ہو
(٢٨٢١٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا : دو بچے کھیل رہے تھے ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی کے کمر پر چھلانگ ماری تو اوپر والے کے دانت ٹوٹ گئے اور نیچے والے کے سر پر چوٹ آئی تو آپ نے ان میں سے بعض کو بعض کا ضامن بنایا۔
(۲۸۲۱۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ، قَالَ : کَانَ غُلاَمَانِ یَلْعَبَانِ ، فَوَثَبَ أَحَدُہُمَا عَلَی ظَہْرِ صَاحِبِہِ ، فَانْکَسَرَتْ ثَنِیَّۃُ الأَعْلَی ، وَشُجَّ الأَسْفَلُ ، فَضَمَّنَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২১৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس جھکی ہوئی دیوار کا بیان کہ جس کے مالک کے خلاف اس کے جھکے ہونے کی گواہی د ی گئی ہو
(٢٨٢٢٠) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ حضرت حکم نے ایسے شخص کے بارے میں جو گھر کی چھت سے کسی پر گرا تو ان میں سے ایک مرگیا۔ آپ نے یوں فرمایا : ان دونوں میں سے زندہ کو ضامن بنایا جائے گا۔
(۲۸۲۲۰) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ فِی رَجُلٍ وَقَعَ عَلَی رَجُلٍ مِن فَوْق بَیْتٍ ، فَمَاتَ أَحَدُہُمَا ، قَالَ: یَضْمَنُ الْحَیُّ مِنْہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক: