মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

روزے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯৩৬ টি

হাদীস নং: ৯১৭৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ نفلی روزے کے بارے میں روزہ دار کو اختیار ہے
(٩١٧٩) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نصفِ نہار تک روزہ دار کو اختیار ہے۔ جب نصفِ نہار سے آگے گذر جائے تو اس کے لیے دن کا باقی ماندہ حصہ ہے۔
(۹۱۷۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : الصَّائِمُ بِالْخِیَارِ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ نِصْفِ النَّہَارِ ، فَإِذَا جَاوَزَ ذَلِکَ فَإِنَّمَا لَہُ بِقَدْرِ مَا بَقِیَ مِنَ النَّہَارِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৮০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ نفلی روزے کے بارے میں روزہ دار کو اختیار ہے
(٩١٨٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر آدمی روزے کی نیت سے صبح نہ کرے تو اسے روزے کے بارے میں اختیار ہے، اگر روزے کی حالت میں صبح کرے تو روزہ پورا کرے۔
(۹۱۸۰) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ یُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِی الصَّوْمِ؛ یُتَخَیَّرُ مَا لَمْ یُصْبِحْ صَائِمًا، فَإِذَا أَصْبَحَ صَائِمًا صَامَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৮১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ نفلی روزے کے بارے میں روزہ دار کو اختیار ہے
(٩١٨١) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ جب تک آدمی کوئی چیز کھا نہ لے نصفِ نہار تک روزہ دار کو اختیار ہے۔ اگر اسے کھانے کا خیال ٹھہرے تو وہ کھانا کھالے اگر اس کے لیے روزہ رکھنے کا فیصلہ ٹھہرے تو روزہ رکھ لے۔
(۹۱۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : الرَّجُلُ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَطْعَمْ إلَی نِصْفِ النَّہَارِ ، فَإِنْ بَدَا لَہُ أَنْ یَطْعَمَ طَعِمَ ، وَإِنْ بَدَا لَہُ أَنْ یَجْعَلَہُ صَوْمًا کَانَ صَائِمًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৮২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ نفلی روزے کے بارے میں روزہ دار کو اختیار ہے
(٩١٨٢) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نصفِ نہار تک روزہ دار کو اختیار ہے۔
(۹۱۸۲) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ فِی الرَّجُلِ یُرِیدُ الصَّوْمَ ؟ قَالَ : ہُوَ بِالْخِیَارِ إلَی نِصْفِ النَّہَارِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৮৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ نفلی روزے کے بارے میں روزہ دار کو اختیار ہے
(٩١٨٣) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے سحری کھالی تو اس پر روزہ واجب ہوگیا۔ اگر اس نے روزہ توڑ دیا تو اس پر قضاء واجب ہے۔ اگر اس نے روزے کا محض ارادہ کیا توا سے اختیار ہے۔ اگر چاہے تو روزہ رکھے اور اگر چاہے تو روزہ نہ رکھے۔ اگر کسی نے اس سے سوال کیا کہ کیا تمہارا روزہ ہے ؟ اس نے جواب میں ہاں کہا تو اس پر روزہ واجب ہوگیا۔ البتہ اگر اس نے ان شاء اللہ کہا تو پھر روزہ واجب نہیں ہوا۔ اس صورت میں اسے اختیار ہے چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے تو نہ رکھے۔
(۹۱۸۳) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا تَسَحَّرَ الرَّجُلُ فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الصَّوْمُ ، فَإِنْ أَفْطَرَ فَعَلَیْہِ الْقَضَائُ ، وَإِنْ ہَمَّ بِالصَّوْمِ فَہُوَ بِالْخِیَارِ ، إِنْ شَائَ صَامَ ، وَإِنْ شَائَ أَفْطَرَ ، وَإِنْ سَأَلَہُ إنْسَانٌ ، فَقَالَ: أَنْتَ صَائِمٌ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الصَّوْمُ إِلاَّ أَنْ یَقُولَ إِنْ شَائَ اللَّہُ ، فَإِنْ قَالَ فَہُوَ بِالْخِیَارِ ، إِنْ شَائَ صَامَ ، وَإِنْ شَائَ أَفْطَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৮৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ نفلی روزے کے بارے میں روزہ دار کو اختیار ہے
(٩١٨٤) حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ کو زوال شمس کے بعد روزہ رکھنے کا خیال آیا اور انھوں نے روزہ رکھ لیا۔
(۹۱۸۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ طَلْحَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؛ أَنَّ حُذَیْفَۃَ بَدَا لَہُ فِی الصَّوْمِ بَعْدَ مَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَامَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৮৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نفلی روزہ رکھ کر اسے توڑ دے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٨٥) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے روزہ رکھا اور پھر توڑ دیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اس روزے کی قضا کرنے کا حکم دیا۔
(۹۱۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ خُصَیْفٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ؛ أَنَّ عَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ أَصْبَحَتَا صَائِمَتَیْنِ فَأَفْطَرَتَا، فَأَمَرَہُمَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَضَائِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৮৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نفلی روزہ رکھ کر اسے توڑ دے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٨٦) حضرت عثمان بتی فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن سیرین نے یوم عرفہ کو روزہ رکھا، لیکن انھیں شدید پیاس لگی اور انھوں نے روزہ توڑ دیا۔ اس کے بعد انھوں نے بہت سے صحابہ کرام سے اس بارے میں سوال کیا تو سب نے اس کے بدلے ایک دن کی قضاء کرنے کا حکم دیا۔
(۹۱۸۶) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عُثْمَانَ البَتِّی ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ؛ أَنَّہُ صَامَ یَوْمَ عَرَفَۃَ فَعَطِشَ عَطَشًا شَدِیدًا فَأَفْطَرَ ، فَسَأَلَ عِدَّۃً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَمَرُوہُ أَنْ یَقْضِیَ یَوْمًا مَکَانَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৮৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نفلی روزہ رکھ کر اسے توڑ دے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٨٧) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نفلی روزہ توڑنے کے بدلے ایک دن کی قضاء کرے گا۔
(۹۱۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : یَقْضِی یَوْمًا مَکَانَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৮৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نفلی روزہ رکھ کر اسے توڑ دے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٨٨) حضرت عبدالرحمن بن یزید بن جابر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مکحول سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو روزہ رکھے اور پھر اسے توڑ دے۔ انھوں نے فرمایا کہ وہ ایک دن کی قضا کرے گا۔
(۹۱۸۸) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ بن جَابِرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ مَکْحُولاً عَنْ رَجُلٍ أَصْبَحَ صَائِمًا ، عَزَمَتْ عَلَیْہِ أُمُّہُ أَنْ یُفْطِرَ ؟ قَالَ : کَأَنَّہُ کَرِہَ ذَلِکَ ، وَقَالَ : یَقْضِی یَوْمًا مَکَانَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৮৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نفلی روزہ رکھ کر اسے توڑ دے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٨٩) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے سحری کھائی تو اس پر روزہ واجب ہوگیا، اگر اس نے روزہ توڑا تو اس پر قضاء لازم ہے۔
(۹۱۸۹) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا تَسَحَّرَ الرَّجُلُ فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الصَّوْمُ ، فَإِنْ أَفْطَرَ فَعَلَیْہِ الْقَضَائُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৯০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نفلی روزہ رکھ کر اسے توڑ دے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٩١٩٠) حضرت عبداللہ بن مسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء اور حضرت مجاہد اگر کسی آدمی سے ملاقات کے لیے جاتے اور ان حضرات کا روزہ ہوتا۔ اس حالت میں انھیں کھانے کی دعوت دی جاتی تو یہ روزہ توڑ دیتے اور فرماتے کہ ہم اس کے بدلے ایک دن کی قضا کرلیں گے۔
(۹۱۹۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَائٍ وَمُجَاہِدٍ ؛ أَنَّہُمَا کَانَا إذَا زَارَا رَجُلاً وَ دُعِیَا إلَی طَعَامٍ ، وَہُمَا صَائِمَانِ ، إِنْ سَأَلَہُمَا أَنْ یُفْطِرَا أَفْطَرَا ، کَانَا یَقُولاَنِ : نَقْضِی یَوْمًا مَکَانَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৯১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نفلی روزہ توڑنے پر قضاء کے قائل نہ تھے
(٩١٩١) حضرت ام ہانی فرماتی ہیں کہ میں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھی تھی۔ آپ کے پاس پینے کی کوئی چیز لائی گئی جو آپ نے پی لی۔ آپ نے وہ چیز مجھے دی میں نے بھی اس میں سے پی لیا۔ پھر میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے ایک گناہ کیا ہے، میرے لیے استغفار فرما دیجئے۔ آپ نے پوچھا تم نے ایسا کون سا گناہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میں روزے سے تھی میں نے روزہ توڑ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم کسی روزے کی قضا کررہی تھیں ؟ میں نے کہا نہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تمہیں اس کا کوئی نقصان نہیں۔
(۹۱۹۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَن ابن أُمِّ ہَانِیئٍ ، عَن أُمِّ ہَانِیئٍ قَالَتْ : کُنْت قَاعِدَۃً عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأُتِیَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْہُ ، ثُمَّ نَاوَلَنِیہِ فَشَرِبْت قَالَتْ : فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، قَدْ أَذْنَبْت فَاسْتَغْفِرْ لِی ، قَالَ : وَمَا ذَاکَ ؟ قَالَتْ : کُنْت صَائِمَۃً فَأَفْطَرْت ، قَالَ : أَمِنْ قَضَائٍ کُنْت تَقْضِینَہُ ؟ قَالَتْ : لاَ ، قَالَ : لاَ یَضُرُّک۔ (ترمذی ۷۳۱۔ احمد ۶/۳۴۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৯২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نفلی روزہ توڑنے پر قضاء کے قائل نہ تھے
(٩١٩٢) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس نفلی روزہ توڑ دیتے تھے اور اس کی کوئی پروا نہ کرتے تھے۔
(۹۱۹۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ، عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، قَالَ: کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یُفْطِرُ مِنْ صَوْمِ التَّطَوُّعِ، وَلاَ یُبَالِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৯৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نفلی روزہ توڑنے پر قضاء کے قائل نہ تھے
(٩١٩٣) حضرت یوسف بن ماہک مکی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے روزے کی حالت میں اپنی ایک باندی سے جماع کیا ۔ کسی نے ان سے کہا کہ آپ نے روزے کی حالت میں اس سے جماع کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ میری باندی تھی، مجھے اچھی لگی۔ روزہ تو ویسے بھی نفلی تھا۔
(۹۱۹۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ ، عَنْ یُوسُفَ بْنِ مَاہَکَ الْمَکِّیِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّہُ وَطِیئَ جَارِیَۃً لَہُ وَہُوَ صَائِمٌ ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : وَطِئْتہَا وَأَنْتَ صَائِمٌ ؟ قَالَ : ہِیَ جَارِیَتِی أَعْجَبَتْنِی ، وَإِنَّمَا ہُوَ تَطَوُّعٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৯৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نفلی روزہ توڑنے پر قضاء کے قائل نہ تھے
(٩١٩٤) حضرت شعبی اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ آدمی نفلی روزہ توڑ دے۔
(۹۱۹۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، قَالَ: کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یُصْبِحَ الرَّجُلُ صَائِمًا، ثُمَّ یُفْطِرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৯৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نفلی روزہ توڑنے پر قضاء کے قائل نہ تھے
(٩١٩٥) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بعض اوقات کوئی عمدہ اور نادر چیز ہمیں ہدیہ کی جاتی۔ ہم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کرتیں کہ اگر آپ کا روزہ نہ ہوتا تو ہم آپ کو یہ چیز پیش کردیتیں۔ آپ اس چیز کو منگواتے اور ہم اس پر روزہ افطار کردیتے۔
(۹۱۹۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : رُبَّمَا أُہْدِیَتْ لَنَا الطَّرْفَۃُ ، فَنَقُولُ : لَوْلاَ صَوْمُک قَرَّبْنَاہَا إلَیْکَ ، فَیَدْعُو بِہَا فَنُفْطِرُ عَلَیْہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৯৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نفلی روزہ توڑنے پر قضاء کے قائل نہ تھے
(٩١٩٦) حضرت ابو مسکین کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم اور حضرت سعید بن جبیر ایک دعوت میں تھے۔ حضرت سعید نے کہا کہ میں نے تو روزے کی بات کی تھی۔ پھر انھوں نے کھالیا اور حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ مجھے یہ بات پسند نہ تھی۔
(۹۱۹۶) حَدَّثَنَا عَبِیْدَۃُ ، عَنْ أَبِی مِسْکِینٍ ، قَالَ : کَانَ إبْرَاہِیمُ وَسَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ فِی دَعْوَۃٍ ، فَقَالَ سَعِیدٌ : إنِّی کُنْت حَدَّثَتْنِی نَفْسِی بِالصَّوْمِ ، ثُمَّ أَکل ۔ وَقَالَ إبْرَاہِیمُ : مَا یُعْجِبُنِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৯৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نفلی روزہ توڑنے پر قضاء کے قائل نہ تھے
(٩١٩٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی روزے کی نیت کرلے تو اسے روزہ توڑنا نہیں چاہیے۔
(۹۱۹۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَیَانٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا أَصْبَحَ وَہُوَ صَائِمٌ فَلاَ یُفْطِرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৯৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی کو کھانا نہ ملے تو وہ روزہ رکھ لے
(٩١٩٨) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بعض اوقات نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کے وقت کھانا منگواتے، نہ ہوتا تو آپ اس دن روزہ رکھ لیتے۔
(۹۱۹۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : رُبَّمَا دَعَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِغَدَائِہِ فَلاَ یَجِدُہُ ، فَیَفْرِضُ عَلَیْہِ صَوْمَ ذَلِکَ الْیَوْمَ۔
tahqiq

তাহকীক: