মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

روزے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯৩৬ টি

হাদীস নং: ৯১৯৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی کو کھانا نہ ملے تو وہ روزہ رکھ لے
(٩١٩٩) حضرت ام دردائ فرماتی ہیں کہ کبھی حضرت ابو الدردائ صبح کے وقت کھانا منگواتے، نہ ہوتا تو آپ اس دن روزہ رکھ لیتے۔
(۹۱۹۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ؛ أَنَّہُ کَانَ رُبَّمَا دَعَا بِالْغَدَائِ فَلاَ یَجِدُہُ ، فَیَفْرِضُ الصَّوْمَ عَلَیْہِ ذَلِکَ الْیَوْمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২০০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی کو کھانا نہ ملے تو وہ روزہ رکھ لے
(٩٢٠٠) حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ اپنے گھر والوں سے پوچھتے کہ کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کوئی چیز ہے ؟ وہ جواب دیتے نہیں۔ تو آپ روزہ رکھ لیتے۔ ثقفی کی روایت میں اضافہ ہے کہ اگر ان کے پاس کچھ ہوتا تو روزہ نہ رکھتے۔
(۹۲۰۰) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، وَیَزِیدُ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ کَانَ یَأْتِی أَہْلَہُ فَیَقُولُ : ہَلْ عِنْدَکُمْ مِنْ غَدَائٍ ؟ فَإِنْ قَالُوا لاَ ، قَالَ : فَإِنِّی صَائِمٌ ۔ زَادَ الثَّقَفِیُّ : إِنْ کَانَ عِنْدَہُمْ أَفْطَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২০১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی کو کھانا نہ ملے تو وہ روزہ رکھ لے
(٩٢٠١) حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ زوال کے بعد اپنے گھر والوں کے پاس آتے اور ان سے پوچھتے کہ کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے ؟ وہ معذرت کرتے تو حضرت معاذ فرماتے کہ باقی دن میرا روزہ ہے۔ ان سے کہا جاتا کہ آپ دن کے آخری حصہ میں روزہ رکھیں گے۔ وہ فرماتے کہ جس نے دن کے آخری حصہ میں روزہ نہیں رکھا اس نے اول حصہ میں روزہ نہیں رکھا۔
(۹۲۰۱) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُعَاذٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَأْتِی أَہْلَہُ بَعْدَ الزَّوَالِ فَیَقُولُ : عِنْدَکُمْ غَدَائٌ ؟ فَیَعْتَذِرُونَ إلَیْہِ ، فَیَقُولُ : إنِّی صَائِمٌ بَقِیَّۃَ یَوْمِی ، فَیُقَالُ لَہُ : تَصُومُ آخِرَ النَّہَارِ! فَیَقُولُ : مَنْ لَمْ یَصُمْ آخِرَہُ ، لَمْ یَصُمْ أَوَّلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২০২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی کو کھانا نہ ملے تو وہ روزہ رکھ لے
(٩٢٠٢) حضرت ام دردائ فرماتی ہیں کہ بعض اوقات حضرت ابو دردائ دوپہر کو کھانا طلب کرتے، اگر ہمارے پاس کھانا نہ ہوتا تو وہ روزہ رکھ لیتے۔
(۹۲۰۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ قَالَتْ : کَانَ أَبُو الدَّرْدَائِ یَغْدُو أَحْیَانًا، فَیَجِیئُ فَیَسْأَلُ الْغَدَائَ ، فَرُبَّمَا لَمْ یُوَافِقْہُ عِنْدَنَا ، فَیَقُولُ : إنِّی إذًا صَائِمٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২০৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی کو کھانا نہ ملے تو وہ روزہ رکھ لے
(٩٢٠٣) حضرت ابو اشعث کہتے ہیں کہ حضرت معاذ چاشت کے بعد اپنے گھر والوں کے پاس آتے اور ان سے کھانا طلب کرتے، اگر کھانا نہ ہوتا تو وہ اس دن روزہ رکھ لیتے۔
(۹۲۰۳) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ ، عَنْ أَبِی قَحْذَمٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ ، قَالَ : کَانَ مُعَاذٌ یَأْتِی أَہْلَہُ بَعْدَ مَا یُضْحی فَیَسْأَلُہُمْ فَیَقُولُ : عِنْدَکُمْ شَیْئٌ ؟ فَإِذَا قَالُوا لاَ ، صَامَ ذَلِکَ الْیَوْمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২০৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک رات سے روزے کی نیت نہ کی جائے روزہ نہیں ہوتا
(٩٢٠٤) حضرت حفصہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس نے رات سے اپنے اوپر روزہ فرض نہ کیا اس کا روزہ نہیں ہوتا۔
(۹۲۰۴) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ حَازِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ صِیَامَ لِمَنْ لَمْ یُوَرِّضْہُ بِاللَّیْلِ۔ (ترمذی ۷۳۰۔ ابوداؤد ۲۴۴۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২০৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک رات سے روزے کی نیت نہ کی جائے روزہ نہیں ہوتا
(٩٢٠٥) حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ جس نے فجر سے پہلے روزے کا عزم نہ کیا اس کا روزہ نہیں ہوگا۔
(۹۲۰۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَۃَ ، أَنَّہَا قَالَتْ : لاَ صِیَامَ لِمَنْ لَمْ یُجْمِعِ الصِّیَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২০৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضاء متفرق کرکے کرنے کا بیان
(٩٢٠٦) حضرت محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ رمضان کی قضاء میں تقطیع اور تفریق کی جاسکتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں ایسا کرسکتے ہو۔ دیکھو اگر تم میں سے کسی پر قرضہ ہو اور وہ ایک یا دو دو درہم کرکے اسے ادا کرے تو کیا قرضہ ادا نہ ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ تو زیادہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
(۹۲۰۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ الطَّائِفِیُّ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ ، قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ تَقْطِیعِ قَضَائِ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ : ذَاکَ إلَیْک ، فَقَالَ : أَرَأَیْت لَوْ کَانَ عَلَی أَحَدِکُمْ دَیْنٌ ، فَقَضَی الدِّرْہَمَ وَالدِّرْہَمَیْنِ ، أَلَمْ یَکُ قَضَی ؟ وَاللَّہُ أَحَقّ أَنْ یَعْفُوَ وَیَغْفِرَ۔ (دارقطنی ۷۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২০৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضاء متفرق کرکے کرنے کا بیان
(٩٢٠٧) حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رمضان کے روزوں کی قضاء متفرق کرکے رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۹۲۰۷) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالاَ : لاَ بَأْسَ بِقَضَائِ رَمَضَانَ مُتَفَرِّقًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২০৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضاء متفرق کرکے کرنے کا بیان
(٩٢٠٨) حضرت انس فرماتے ہیں کہ اگر تم چاہو تو رمضان کے روزوں کی قضا ترتیب سے مسلسل کرلو اور اگر چاہو تو متفرق کرکے کرلو۔
(۹۲۰۸) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: أَنْبَأَنِی بَکْرٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : إِنْ شِئْتَ فَاقْضِ رَمَضَانَ مُتَتَابِعًا، وَإِنْ شِئْتَ مُتَفَرِّقًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২০৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضاء متفرق کرکے کرنے کا بیان
(٩٢٠٩) حضرت عبید بن عمیر رمضان کے روزوں کی قضا کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر چاہے تو متفرق کرکے قضا کرلے۔
(۹۲۰۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ؛ فِی قَضَائِ رَمَضَانَ ، قَالَ : إِنْ شَائَ فَرَّقَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২১০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضاء متفرق کرکے کرنے کا بیان
(٩٢١٠) حضرت ابن محیریز رمضان کی قضاء کے بارے میں فرماتے ہیں کہ گنتی پوری کرو چاہے جیسے بھی روزے رکھو۔
(۹۲۱۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ ، أَنَّہُ قَالَ فِی قَضَائِ رَمَضَانَ ، قَالَ : أَحْصِ الْعِدَّۃَ ، وَصُمْ کَیْفَ شِئْت۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২১১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضاء متفرق کرکے کرنے کا بیان
(٩٢١١) حضرت معاذ سے رمضان کی قضاء کے بارے سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ گنتی پوری کرو چاہے جیسے بھی روزے رکھو۔
(۹۲۱۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ یَزِیدَ بْنِ مَوْہَبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ یُخَامِرَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ قَضَائِ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ : أَحْصِ الْعِدَّۃَ ، وَصُمْ کَیْفَ شِئْت۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২১২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضاء متفرق کرکے کرنے کا بیان
(٩٢١٢) حضرت رافع فرمایا کرتے تھے کہ گنتی پوری کرو چاہے جیسے بھی روزے رکھو۔
(۹۲۱۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ ، عَنْ جَدَّتِہِ ، أَنَّ رَافِعًا کَانَ یَقُولُ : أَحْصِ الْعِدَّۃَ وَصُمْ کَیْفَ شِئْت۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২১৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضاء متفرق کرکے کرنے کا بیان
(٩٢١٣) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت نے حضرت ابن عباس سے رمضان کی قضاء کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ گنتی پوری کرو خواہ روزوں کو متفرق کرکے رکھو۔ حضرت سعید بن جبیر اور حضرت عکرمہ بھی اسی بات کے قائل تھے۔
(۹۲۱۳) حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَیْمَانَ الرَّقِّیُّ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : جَائَتِ امْرَأَۃٌ إلَی ابْنِ عَبَّاسٍ تسْأَلُہُ عَنْ قَضَائِ صِیَامِ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ : أَحْصِی الْعِدَّۃَ وَفَرِّقِی ، قَالَ : وَکَانَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ وَعِکْرِمَۃُ یَقُولاَنِ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২১৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضاء متفرق کرکے کرنے کا بیان
(٩٢١٤) حضرت عطائ، حضرت مجاہد ، حضرت طاوس اور حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو رمضان کی قضا مسلسل کرو اور اگر چاہو تو متفرق کرکے کرو۔
(۹۲۱۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، وَمُجَاہِدٍ ، وَطَاوُسٍ ، وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالُوا : إِنْ شِئْتَ فَاقْضِ رَمَضَانَ مُتَتَابِعًا ، أَوْ مُتَفَرِّقًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২১৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضاء متفرق کرکے کرنے کا بیان
(٩٢١٥) حضرت سعید بن جبیر، حضرت عطائ، حضرت مجاہد اور حضرت طاوس رمضان کی قضاء میں تفریق کو ممنوع قرار نہیں دیتے تھے۔
(۹۲۱۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، وَعَطَائٍ ، وَمُجَاہِدٍ ، وَطَاوُسٍ ؛ أَنَّہُمْ کَانُوا لاَ یَرَوْنَ بَأْسًا بِتَفْرِیقِ قَضَائِ رَمَضَانَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২১৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضاء متفرق کرکے کرنے کا بیان
(٩٢١٦) حضرت مجاہد سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی پر رمضان کے روزے ہوں وہ مسلسل روزے رکھے گا یا الگ الگ رکھ سکتا ہے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر آسانی چاہتا ہے۔ جو طریقہ اسے آسان لگتا ہے اس پر عمل کرلے اگر ملا کر رکھنا آسان ہے تو ایسا کرلے اور اگر جدا جدا کرکے رکھنا آسان ہے تو ایسا کرلے۔
(۹۲۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یَکُونُ عَلَیْہِ صَوْمٌ مِنْ رَمَضَانَ ، فَیُفَرِّقُ صِیَامَہُ ، أَوْ یَصِلُہُ ، قَالَ : إنَّ اللَّہَ أَرَادَ بِعِبَادِہِ الْیُسْرَ ، فَلْیَنْظُرْ أَیْسَرَ ذَلِکَ عَلَیْہِ ، إِنْ شَائَ وَصَلَہُ ، وَإِنْ شَائَ فَرَّقَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২১৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضاء متفرق کرکے کرنے کا بیان
(٩٢١٧) حضرت ابومیسرہ رمضان کے قضاء روزے الگ الگ کرکے رکھا کرتے تھے۔
(۹۲۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ زُہَیْرٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ زُہَیْرٍ مِنْ أَصْحَابِ أَبِی مَیْسَرَۃَ ؛ أَنَّ أَبَا مَیْسَرَۃَ کَانَ یُقَطِّعُ قَضَائَ رَمَضَانَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২১৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضاء متفرق کرکے کرنے کا بیان
(٩٢١٨) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کو مسلسل روزے رکھنا مشکل لگے تو الگ الگ کرکے رکھ لے، کیونکہ یہ دوسرے دنوں کی گنتی ہے۔
(۹۲۱۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : إِنْ شَقَّ عَلَیْک أَنْ تَقْضِیَ مُتَتَابِعًا ، فَرِّقْ فَإنَّمَا ہِیَ عِدَّۃٌ مِنْ أَیَّامٍ أُخَرَ۔
tahqiq

তাহকীক: