মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

روزے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯৩৬ টি

হাদীস নং: ৯২৭৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٧٩) حضرت ابن عمر فرمایا کرتے تھے کہ اگر روزہ دار کو قے خود بخود آگئی تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور اگر اس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
(۹۲۷۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : مَنْ ذَرَعَہُ الْقَیْئُ وَہُوَ صَائِمٌ فَلاَ یُفْطِرْ ، وَمَنْ تَقَیَّأَ فَقَدْ أَفْطَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٨٠) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر روزہ دار نے جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
(۹۲۸۰) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا اسْتَقَائَ الصَّائِمُ أَعَادَ۔ (ابوداؤد ۲۳۷۲۔ احمد ۲/۴۹۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٨١) حضرت حسن اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار کو قے خود بخود آگئی تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور اگر اس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
(۹۲۸۱) حَدَّثَنَا أَزْہَرُ السَّمَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَابْنِ سِیرِینَ قَالاَ : إذَا ذرَعَ الصَّائِمَ الْقَیْئُ فَلاَ یُفْطِرُ، وَإِذَا تَقَیَّأَ أَفْطَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٨٢) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار نے خود قے کی تو اس روزے کی قضاء کرے گا اور اگر خود بخود قے آگئی تو قضا نہیں کرے گا۔
(۹۲۸۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی الصَّائِمِ یَقِیئُ ، قَالَ : إِنْ کَانَ اسْتَقَائَ فَعَلَیْہِ أَنْ یَقْضِیَ ، وَإِنْ کَانَ ذَرَعَہُ فَلَیْسَ عَلَیْہِ أَنْ یَقْضِیَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٨٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار کو خود بخود قے آگئی تو اس پر اعادہ لازم نہیں، اگر اس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر اعادہ لازم ہے۔
(۹۲۸۳) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا ذَرَعَہُ الْقَیْئُ فَلاَ إعَادَۃَ عَلَیْہِ ، وَإِنْ تَہَوَّعَ فَعَلَیْہِ الإِعَادَۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٨٤) حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار کو خود بخود قے آگئی تو اس پر قضا لازم نہیں، اگر اس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر قضا لازم ہے۔
(۹۲۸۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ حَبَّانَ السُّلَمِیِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: الصَّائِمُ إذَا ذَرَعَہُ الْقَیْئُ فَلَیْسَ عَلَیْہِ الْقَضَائُ ، وَإِنْ قَائَ مُتَعَمِّدًا فَعَلَیْہِ الْقَضَائُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٨٥) حضرت یعقوب بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ اگر کسی آدمی کو روزے کی حالت میں قے آگئی تو کیا وہ اس روزے کی قضا کرے گا ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔
(۹۲۸۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَید ، عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ قَیْسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ عَنِ الرَّجُلِ یَسْبِقُہُ الْقَیْئُ وَہُوَ صَائِمٌ ، أَیَقْضِی ذَلِکَ الْیَوْمَ ؟ قَالَ : لاَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٨٦) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ جس نے جان بوجھ کر قے کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
(۹۲۸۶) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ؛ إذَا تَقَیَّأَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ أَفْطَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٨٧) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار نے جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
(۹۲۸۷) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرِ ، عَنْ طَلْحَۃَ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إذَا تَقَیَّأَ الصَّائِمُ فَقَدْ أَفْطَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٨٨) حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ اگر روزے کی حالت میں کسی آدمی نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر قضا لازم ہے اور اگر خود بخود قے آگئی تو قضاء لازم نہیں۔
(۹۲۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : إذَا تَقَیَّأَ الرَّجُلُ وَہُوَ صَائِمٌ فَعَلَیْہِ الْقَضَائُ ، وَإِنْ ذَرَعَہُ الْقَیْئُ فَلَیْسَ عَلَیْہِ الْقَضَائُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٨٩) حضرت علی فرماتے ہیں کہ اگر روزے کی حالت میں کسی آدمی نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر قضا لازم ہے اور اگر خود بخود قے آگئی تو قضاء لازم نہیں۔
(۹۲۸۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : إذَا تَقَیَّأَ الصَّائِمُ مُتَعَمِّدًا أَفْطَرَ ، وَإِذَا ذَرَعَہُ الْقَیْئُ فَلاَ شَیْئَ عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৯০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٩٠) حضرت مجاہد سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۹۲۹۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، مِثْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৯১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٩١) حضرت ابو شیبہ مہری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے حضرت ثوبان سے کہا کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی حدیث سنائیے۔ انھوں نے بتایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے قے کرنے کے بعد روزہ توڑ دیا تھا۔
(۹۲۹۱) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی الْجَوْدِیِّ ، عَنْ بَلْجٍ الْمَہْرِیِّ ، عَنْ أَبِی شَیْبَۃَ الْمَہْرِیِّ ، قَالَ : قِیلَ لِثَوْبَانَ : حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَائَ فَأَفْطَرَ۔ (احمد ۲۸۳۔ طحاوی ۹۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৯২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٩٢) حضرت معدان کہتے ہیں کہ حضرت ابو الدردائ نے بیان کیا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قے آنے پر روزہ توڑ دیا تھا۔ معدان کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت ثوبان سے میری ملاقات ہوئی اور انھوں نے مجھے بتایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کا پانی دیا تھا۔
(۹۲۹۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ یعیش بْنِ الْوَلِیدِ بْنِ ہِشَامٍ، أَنَّ مَعْدَانَ أَخْبَرَہُ ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ أَخْبَرَہُ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَائَ فَأَفْطَرَ ، قَالَ : فَلَقِیتُ ثَوْبَانَ ، فَقَالَ : أَنَا صَبَبْت لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَضُوئَہُ۔ (ترمذی ۸۷۔ ابوداؤد ۲۳۷۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৯৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٩٣) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ روزہ کسی چیز کے اندر جانے سے ٹوٹتا ہے باہر آنے سے نہیں ٹوٹتا۔
(۹۲۹۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : الإِفْطَارُ مِمَّا دَخَلَ ، وَلَیْسَ مِمَّا خَرَجَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৯৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزے کی حالت میں قے اور اس کے احکام
(٩٢٩٤) حضرت عامر سے روزہ دار کی قے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ اگر اسے خود بخود قے آگئی تو اس کی قضا نہ کرے گا اور اگر جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
(۹۲۹۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : سُئِلَ عَامِرٌ عَنِ الصَّائِمِ یَقِیئُ ؟ قَالَ : إذَا فَجَأَہُ الْقَیْئُ فَلاَ یَقْضِی ، وَإِنْ کَانَ تَقَیَّأَ عَمْدًا فَقَدْ أَفْطَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৯৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار افطار کے وقت کلی کرسکتا ہے ؟
(٩٢٩٥) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ روزہ دار جب افطار کے وقت کلی کرے تو اسے باہر نہ تھوکے بلکہ نگل لے۔
(۹۲۹۵) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : إذَا أَفْطَرَ الصَّائِمُ فَتَمَضْمَضَ ، فَلاَ یَمُجَّہُ ، وَلَکِنْ یَستَرطُہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৯৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار افطار کے وقت کلی کرسکتا ہے ؟
(٩٢٩٦) حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اسے باہر تھوکنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۹۲۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ إِبْرَاہِیمَ عَن ذَلِکَ ؟ فَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ أَنْ یَمُجَّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৯৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار افطار کے وقت کلی کرسکتا ہے ؟
(٩٢٩٧) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ یہ امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک افطار میں جلدی کرتی رہے گی۔ اگر کسی کا روزہ ہو تو وہ افطار کے وقت کلی کرکے اسے باہر نہ پھینکے بلکہ نگل لے کیونکہ اس کا اول حصہ خیر ہے۔
(۹۲۹۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رضی اللَّہُ عَنْہُ : لاَ تَزَالُ ہَذِہِ الأُمَّۃُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ ، فَإِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمِ أَحَدِکُمْ فَمَضْمَضَ فَلاَ یَمُجَّہُ ، وَلَکِنْ لِیَشْرَبْہُ ، فَإِنَّ خَیْرَہُ أَوَّلُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৯৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار افطار کے وقت کلی کرسکتا ہے ؟
(٩٢٩٨) حضرت عطاء افطاری کے وقت کلی کرنے کو مکروہ قرار دیتے تھے۔
(۹۲۹۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُمَضْمضَ عِنْدَ الإِفْطَارِ۔
tahqiq

তাহকীক: