মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

روزے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯৩৬ টি

হাদীস নং: ৯২৯৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار افطار کے وقت کلی کرسکتا ہے ؟
(٩٢٩٩) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ افطاری کے وقت کلی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۹۲۹۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِالْمَضْمَضَۃِ عِنْدَ الإِفْطَارِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩০০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار افطار کے وقت کلی کرسکتا ہے ؟
(٩٣٠٠) حضرت حسن اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ آدمی افطاری کے وقت جب کوئی چیز پینے لگے تو کلی کرے۔
(۹۳۰۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُمَضْمضَ الرَّجُلُ إذَا أَفْطَرَ ، إذَا أَرَادَ أَنْ یَشْرَبَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩০১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار افطار کے وقت کلی کرسکتا ہے ؟
(٩٣٠١) حضرت حکم سے روزہ دار کی کلی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔
(۹۳۰۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الصَّائِمِ یُمَضْمِضَ ؟ فَکَرِہَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩০২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار افطار کے وقت کلی کرسکتا ہے ؟
(٩٣٠٢) حضرت شعبی نے روزہ دار کے لیے کلی کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
(۹۳۰۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنِ الشعبی؛ أَنَّہُ کَرِہَ لِلصَّائِمِ أَنْ یُمَضْمِضَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩০৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار پانی سے لذت لے سکتا ہے ؟
(٩٣٠٣) حضرت عبداللہ بن ابی عثمان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر کو دیکھا کہ وہ روزے کی حالت میں کپڑا گیلا کرکے اپنے اوپر ڈال لیتے تھے۔
(۹۳۰۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ وَہُوَ صَائِمٌ یَبُلُّ الثَّوْبَ ، ثُمَّ یُلْقِیہِ عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩০৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار پانی سے لذت لے سکتا ہے ؟
(٩٣٠٤) حضرت ابراہیم اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ روزہ دار اپنے بستر کو پانی سے گیلا کرکے اس پر سوئے۔
(۹۳۰۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : یُکْرَہُ لِلصَّائِمِ أَنْ یَنْضَحَ فِرَاشَہُ بِالْمَائِ ، ثُمَّ یَنَامَ عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩০৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار پانی سے لذت لے سکتا ہے ؟
(٩٣٠٥) حضرت ابن سیرین اس بات کو جائز قرار دیتے ہیں کہ روزہ دار کپڑے کو گیلا کرکے اپنے اوپر ڈال لے۔
(۹۳۰۵) حَدَّثَنَا أَزْہَرُ السَّمَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ سِیرِینَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَبُلَّ الثَّوْبَ ، ثُمَّ یُلْقِیَہُ عَلَی وَجْہِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩০৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار پانی سے لذت لے سکتا ہے ؟
(٩٣٠٦) حضرت عثمان بن ابی العاص عرفہ کے دن اپنے اوپر پانی ڈال کر راحت لیا کرتے تھے۔
(۹۳۰۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَصُبُّ عَلَیْہِ الْمَائَ ، وَیُرَوِّحُ عَنْہُ وَہُوَ صَائِمٌ عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ ، أَوْ یَوْمَ عَرَفَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩০৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار پانی سے لذت لے سکتا ہے ؟
(٩٣٠٧) حضرت حسن بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبدالرحمن بن اسود کو دیکھا کہ وہ روزہ کی حالت میں اپنے پاؤں پانی میں ڈال کر رکھتے تھے۔
(۹۳۰۷) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، قَالَ : رَأَیْتُ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ الأَسْوَد یَنْقَعُ رِجْلَیْہِ فِی الْمَائِ وَہُوَ صَائِمٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩০৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار پانی سے لذت لے سکتا ہے ؟
(٩٣٠٨) حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گرم دن میں روزہ کی حالت میں اپنے سر مبارک پر پانی ڈالتے تھے۔
(۹۳۰۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ سُمَیٍّ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ رَجُلٍ رَأَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصُبُّ عَلَی رَأْسِہِ الْمَائَ وَہُوَ صَائِمٌ ، فِی یَوْمٍ صَائِفٍ۔ (ابوداؤد ۲۳۵۷۔ احمد ۳/۴۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩০৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار پانی سے لذت لے سکتا ہے ؟
(٩٣٠٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس بات کو مکروہ سمجھا جاتا تھا کہ آدمی روزہ کی حالت میں کپڑا گیلا کرکے اپنے اوپر ڈالے۔
(۹۳۰۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ یُکْرَہُ لِلصَّائِمِ أَنْ یَبُلَّ ثَوْبَہُ بِالْمَائِ ، ثُمَّ یَلْبَسَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩১০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عشرہ ذوالحجہ کے روزوں کا بیان
(٩٣١٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی ذوالحجہ کے دس روزے نہیں رکھے۔
(۹۳۱۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَصُمِ الْعَشْرَ قَطُّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩১১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عشرہ ذوالحجہ کے روزوں کا بیان
(٩٣١١) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عشرہ ذوالحجہ کے روزے رکھتے نہیں دیکھا۔
(۹۳۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَد ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : مَا رَأَیْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَامَ الْعَشْرَ قَطُّ۔ (مسلم ۱۰۔ ابوداؤد ۲۴۳۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩১২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عشرہ ذوالحجہ کے روزوں کا بیان
(٩٣١٢) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت محمد عشرہ ذوالحجہ کے سارے روزے رکھا کرتے تھے اور جب ایام تشریق گذر جاتے تو آپ مزید نو روزے رکھا کرتے تھے۔
(۹۳۱۲) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : کَانَ مُحَمَّدٌ یَصُومُ الْعَشْرَ ، عَشْرَ ذِی الْحِجَّۃِ کُلِّہِ ، فَإِذَا مَضَی الْعَشْرُ وَمَضَتْ أَیَّامُ التَّشْرِیقِ ، أَفْطَرَ تِسْعَۃَ أَیَّامٍ مِثْلَ مَا صَامَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩১৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عشرہ ذوالحجہ کے روزوں کا بیان
(٩٣١٣) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد عشرہ ذو الحجہ کے روزے رکھا کرتے تھے اور حضرت عطاء بھی ان کا اہتمام کرتے تھے۔
(۹۳۱۳) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، قَالَ : کَانَ مُجَاہِدٌ یَصُومُ الْعَشْرَ ، قَالَ : وَکَانَ عَطَائٌ یَتَکَلَّفُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩১৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ محرم اور اشہرِ حرم میں روزہ رکھنے کا بیان
(٩٣١٤) حضرت نعمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت علی کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اے امیر المؤمنین ! میں رمضان کے بعد کس مہینے میں روزے رکھا کروں ؟ حضرت علی نے فرمایا کہ جب سے میں نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں سوال کیا ہے اس کے بعد سے تمہارے علاوہ کسی نے مجھ سے اس بارے میں نہیں پوچھا۔ جب میں نے پوچھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ اگر تم نے رمضان کے بعد کسی مہینے میں روزہ رکھنا ہو تو محرم کے مہینے میں روزہ رکھو ، کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے، اس میں ایک دن ایسا ہے جس میں ایک قوم اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے دوسروں کو معاف فرما دیتے ہیں۔
(۹۳۱۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : أَتَی عَلِیًّا رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، أَخْبِرْنِی بِشَہْرٍ أَصُومُہُ بَعْدَ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : لَقَدْ سَأَلْتنِی عَنْ شَیْئٍ مَا سَمِعْت أَحَدًا یَسْأَلُ عَنْہُ، بَعْدَ رَجُلٍ سَمِعْتُہُ یَسْأَلُ عَنْہُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَہُ : إِنْ کُنْت صَائِمًا شَہْرًا بَعْدَ رَمَضَانَ فَصُمِ الْمُحَرَّمَ ، فَإِنَّہُ شَہْرُ اللہِ ، وَفِیہِ یَوْمٌ تَابَ فِیہِ قَوْمٌ ، وَیُتَابُ فِیہِ عَلَی آخَرِینَ۔ (ترمذی ۷۴۱۔ دارمی ۱۷۵۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩১৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ محرم اور اشہرِ حرم میں روزہ رکھنے کا بیان
(٩٣١٥) حضرت حسن اشہر حرم میں روزے رکھا کرتے تھے۔
(۹۳۱۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَصُومُ أَشْہُرَ الْحُرُمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩১৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ محرم اور اشہرِ حرم میں روزہ رکھنے کا بیان
(٩٣١٦) حضرت ابن عمر اشہر حرم میں مکہ میں روزہ رکھا کرتے تھے۔
(۹۳۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَسَارٍ ، وَسَلِیطٍ أَخِیہِ قَالاَ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ بِمَکَّۃَ یَصُومُ أَشْہُرَ الْحُرُمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩১৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ محرم اور اشہرِ حرم میں روزہ رکھنے کا بیان
(٩٣١٧) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! رمضان کے بعد سب سے افضل روزے کون سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کے اس مہینے کے روزے جسے تم محرم کہتے ہو۔
(۹۳۱۷) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْیَرِیِّ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَیُّ الصِّیَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ : شَہْرُ اللہِ الَّذِی تَدْعُونَہُ الْمُحَرَّمَ۔ (مسلم ۲۰۳۔ ابوداؤد ۲۴۲۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩১৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ پیر اور جمعرات کے روزے کا بیان
(٩٣١٨) حضرت مسیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیر اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے۔
(۹۳۱۸) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَصُومُ الاِثْنَیْن وَالْخَمِیسَ۔
tahqiq

তাহকীক: