মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
روزے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৩৬ টি
হাদীস নং: ৯৩৩৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
(٩٣٣٩) حضرت شعبی نے صرف جمعہ کے دن کو خاص کرتے ہوئے اس دن روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
(۹۳۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَصُومَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، یَتَعَمَّدُہ وَحْدَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৪০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
(٩٣٤٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے تاکہ جمعہ کی نماز بھر پور قوت کے ساتھ ادا کی جاسکے۔
(۹۳۴۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّہُمْ کَرِہُوا صَوْمَ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ لِیَتَقَوَّوْا بِہِ عَلَی الصَّلاَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৪১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
(٩٣٤١) حضرت ابو ایوب عتکی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن حضرت جویریہ بنت حارث کے پاس تشریف لائے۔ ان کا روزہ تھا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا کہ کیا کل تمہارا روزہ تھا ؟ انھوں نے کہا نہیں۔ آپ نے پوچھا کہ کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے ؟ انھوں نے کہا نہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ پھر روزہ توڑ دو ۔
(۹۳۴۱) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الْعَتَکِیِّ ، عَنْ جُوَیْرِیَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَیْہَا وَہِیَ صَائِمَۃٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، فَقَالَ : أَصُمْتِ أَمْسِ ؟ قَالَتْ : لاَ ، قَالَ : فَتَصُومِینَ غَدًا ؟ قَالَتْ : لاَ ، قَالَ : فَأَفْطِرِی۔ (بخاری ۱۹۸۶۔ احمد ۶/۴۳۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৪২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
(٩٣٤٢) حضرت زیاد حارثی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے حضرت ابوہریرہ سے کہا کہ کیا آپ ہیں جو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں ؟ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کہ اس حرمت کے رب کی قسم یا اس عمارت یعنی خانہ کعبہ کے رب کی قسم ! میں نے اس سے منع نہیں کیا بلکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع کیا ہے۔
(۹۳۴۲) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ زِیَادٍ الْحَارِثِیِّ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ لَہُ رَجُلٌ : أَنْتَ الَّذِی تَنْہَی عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ ؟ قَالَ : لاَ ، وَرَبِّ ہَذِہِ الْحُرْمَۃِ ، أَوْ ہَذِہِ الْبُنْیَۃِ ، مَا أَنَا نَہَیْت عَنْہُ ، مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَہُ۔ (نسائی ۲۷۴۴۔ احمد ۲/۵۲۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৪৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کسی دن یا مہینے کو مقرر کرکے روزہ رکھنا یا کسی رات کو مقرر کرکے اس میں عبادت کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٩٣٤٣) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ رمضان کے علاوہ کوئی ایسا دن مقرر نہ کرو جس دن روزہ رکھنا ضروری سمجھو۔
(۹۳۴۳) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ حُصَیْنِ بْنِ أَبِی الْحُرِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنِ ؟ قَالَ : لاَ تَصُمْ یَوْمًا تَجْعَلُ صَوْمَہُ عَلَیْک حَتْمًا ، لَیْسَ مِنْ رَمَضَانَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৪৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کسی دن یا مہینے کو مقرر کرکے روزہ رکھنا یا کسی رات کو مقرر کرکے اس میں عبادت کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٩٣٤٤) حضرت ابن عباس کسی دن کو کوئی خصوصی امتیاز دینے، یا مخصوص دنوں میں روزہ رکھنے یا مخصوص مہینوں میں اس طرح روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ اسے کبھی نہ چھوڑا جائے۔
(۹۳۴۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنْ عَطَائٍ، قَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَنْہَی عَنِ افْتِرَادِ الْیَوْمِ کُلَّ مَا مَرَّ بِالإِنْسَان ، وَعَنْ صِیَامِ الأَیَّامِ الْمَعْلُومَۃِ ، وَکَانَ یَنْہَی عَنْ صِیَامِ الأَشْہُرِ لاَ یُخْطَأْنَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৪৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کسی دن یا مہینے کو مقرر کرکے روزہ رکھنا یا کسی رات کو مقرر کرکے اس میں عبادت کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٩٣٤٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ اپنے اوپر اس چیز کو فرض کرلیں تو جوان پر اللہ کی طرف سے فرض نہیں۔
(۹۳۴۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ أَنْ یَفْرِضُوا عَلَی أَنْفُسِہِمْ شَیْئًا لَمْ یُفْتَرَضْ عَلَیْہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৪৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کسی دن یا مہینے کو مقرر کرکے روزہ رکھنا یا کسی رات کو مقرر کرکے اس میں عبادت کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٩٣٤٦) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ روزہ کے لیے جمعہ کے دن کو اور عبادت کے لیے جمعہ کی رات کو خاص نہ کرو۔
(۹۳۴۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ؟ قَالَ : لاَ تَخُصُّوا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِصَوْمٍ بَیْنَ الأَیَّامِ ، وَلاَ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ بِقِیَامٍ بَیْنَ اللَّیَالِیِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৪৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کسی دن یا مہینے کو مقرر کرکے روزہ رکھنا یا کسی رات کو مقرر کرکے اس میں عبادت کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٩٣٤٧) حضرت طاوس اس بات کو مکروہ خیال فرماتے ہیں کہ روزے کے لیے کسی دن یا مہینے کا خیال رکھا جائے۔
(۹۳۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ زَمْعَۃَ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس، عَنْ أَبِیہِ؛ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَتَحَرَّی شَہْرًا، أَوْ یَوْمًا یَصُومُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৪৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کسی دن یا مہینے کو مقرر کرکے روزہ رکھنا یا کسی رات کو مقرر کرکے اس میں عبادت کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٩٣٤٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلا ف اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ جمعہ کے دن کو روزے اور رات کو عبادت کے لیے خاص کیا جائے۔
(۹۳۴۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ أَنْ یَخُصُّوا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَاللَّیْلَۃَ کَذَلِکَ بِالصَّلاَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৪৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کسی دن یا مہینے کو مقرر کرکے روزہ رکھنا یا کسی رات کو مقرر کرکے اس میں عبادت کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٩٣٤٩) حضرت عامر اور حضرت ابراہیم اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ کسی دن کو مقرر کرکے اس میں روزہ رکھاجائے۔
(۹۳۴۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ (ح) وعَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّہُمَا کَرِہَا أَنْ یَصُومَا یَومًا یُُوَقِّتَانِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৫০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کسی دن یا مہینے کو مقرر کرکے روزہ رکھنا یا کسی رات کو مقرر کرکے اس میں عبادت کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٩٣٥٠) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ کسی مہینے کو رمضان سے تشبیہ دے کر اس پورے مہینے میں روزے نہ رکھو، صرف جمعہ کے دن بھی روزہ نہ رکھو کہ کہیں تم اسے عید کا دن بنا لو، بلکہ اگر جمعہ کو روزہ رکھنا ہو تو ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں بھی روزہ رکھو۔
(۹۳۵۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَد ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؟ قَالَ : لاَ تَصُومُوا شَہْرًا کُلَّہُ تُضَاہُونَ بِہِ شَہْرَ رَمَضَانَ ، وَلاَ تَصُومُوا یَوْمًا وَاحِدًا مِنَ الْجُمُعَۃِ فَتَتَّخِذُونَہُ عِیدًا ، إِلاَّ أَنْ تَصُومُوا قَبْلَہُ ، أَوْ بَعْدَہُ یَوْمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৫১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے جمعہ کے روزہ کی رخصت دی ہے
(٩٣٥١) حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس کو جمعہ کے دن کبھی بغیر روزہ کے نہیں دیکھا۔
(۹۳۵۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَا رَأَیْتُہُ مُفْطِرًا یَوْمَ جُمُعَۃٍ قَطُّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৫২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے جمعہ کے روزہ کی رخصت دی ہے
(٩٣٥٢) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جمعہ کے دن کبھی بغیر روزہ کے نہیں دیکھا۔
(۹۳۵۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ أَبِی عُمَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَا رَأَیْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُفْطِرًا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ قَطُّ۔ (ابویعلی ۵۷۰۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৫৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے جمعہ کے روزہ کی رخصت دی ہے
(٩٣٥٣) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کا روزہ نہیں چھوڑتے تھے۔
(۹۳۵۳) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ شَیْبَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : مَا کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُفْطِرُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ (ترمذی ۷۴۲۔ ابوداؤد ۲۴۴۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৫৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار ناک میں دوائی ڈال سکتا ہے ؟
(٩٣٥٤) حضرت قعقاع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے روزہ کی حالت میں ناک میں دوائی ڈالنے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۹۳۵۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، قَالَ : سَأَلْتُ إبْرَاہِیمَ عَنِ السَّعُوطِ بِالصَّبِرِ لِلصَّائِمِ ؟ فَلَمْ یَرَ بِہِ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৫৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار ناک میں دوائی ڈال سکتا ہے ؟
(٩٣٥٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ روزہ کی حالت میں ناک میں دوائی ڈالنا جائز ہے البتہ کان میں دوائی ڈالنا مکروہ ہے۔
(۹۳۵۵) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِالسَّعُوطِ لِلصَّائِمِ ، وَکَرِہَ الصَّبَّ فِی الأُذنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৫৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار ناک میں دوائی ڈال سکتا ہے ؟
(٩٣٥٦) حضرت حسن نے روزہ کی حالت میں ناک میں دوائی ڈالنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
(۹۳۵۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ لِلصَّائِمِ أَنْ یَسْتَسْعِطَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৫৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار ناک میں دوائی ڈال سکتا ہے ؟
(٩٣٥٧) حضرت شعبی نے روزہ کی حالت میں ناک میں دوائی ڈالنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
(۹۳۵۷) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ حُرَیْثٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ السَّعُوطَ لِلصَّائِمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৫৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا روزہ دار آنکھوں میں ایلوا ڈال سکتا ہے ؟
(٩٣٥٨) حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ کیا روزہ دار آنکھوں میں ایلوا ڈال سکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا ہاں، اگر چاہے۔
(۹۳۵۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَائٍ: الصَّبِرُ یَکْتَحِلُ بِہِ الصَّائِمُ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنْ شَائَ۔
তাহকীক: