মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০০৮ টি
হাদীস নং: ১০৩১৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال مستفاد پر زکوۃ کب واجب ہے ؟
(١٠٣١٥) حضرت عاصم سے مروی ہے کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا کہ جب تک مال پر سال نہ گذرے اس پر زکوۃ واجب نہیں ہے۔
(۱۰۳۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : لَیْسَ فِی مَالٍ زَکَاۃٌ ، حَتَّی یَحُولَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩১৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال مستفاد پر زکوۃ کب واجب ہے ؟
(١٠٣١٦) حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے ارشاد فرمایا کہ : جس کو مال ملے (دوران سال) اس پر زکوۃ واجب نہیں ہے جب تک کہ اس پر سال نہ گذر جائے۔
(۱۰۳۱۶) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَنْ أَصَابَ مَالاً فَلاَ زَکَاۃَ عَلَیْہِ حَتَّی یَحُولَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩১৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال مستفاد پر زکوۃ کب واجب ہے ؟
(١٠٣١٧) حضرت جابر سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ جب تک مال پر سال نہ گذر جائے اس پر زکوۃ نہیں ہے۔
(۱۰۳۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی بَکْر ، قَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ زَکَاۃٌ حَتَّی یَحُولَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩১৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال مستفاد پر زکوۃ کب واجب ہے ؟
(١٠٣١٨) حضرت حمید سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے (اپنے عمال کو) لکھا کہ : جس شخص کو (دوران سال) مال ملے اس پر زکوۃ نہیں ہے جب تک کہ اس مال پر پورا سال نہ گذر جائے۔
(۱۰۳۱۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : أَیُّمَا رَجُلٍ أَفَادَ مَالاً فَلاَ زَکَاۃَ عَلَیْہِ ، حَتَّی یَعُودَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩১৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال مستفاد پر زکوۃ کب واجب ہے ؟
(١٠٣١٩) حضرت سالم فرماتے ہیں کہ مال پر زکوۃ نہیں کہ جب تک کہ اس پر سال نہ گذر جائے۔
(۱۰۳۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : لَیْسَ فِیہِ زَکَاۃٌ حَتَّی یَحُولَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩২০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال مستفاد پر زکوۃ کب واجب ہے ؟
(١٠٣٢٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ مال پر زکوۃ نہیں کہ جب تک کہ اس پر سال نہ گذر جائے۔
(۱۰۳۲۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لَیْسَ فِی مَالٍ زَکَاۃٌ ، حَتَّی یَحُولَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩২১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال مستفاد پر زکوۃ کب واجب ہے ؟
(١٠٣٢١) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ مال پر زکوۃ نہیں کہ جب تک کہ اس پر سال نہ گذر جائے۔
(۱۰۳۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، أَوْ غَیْرِہِ، عَنْ َإِبْرَاہِیمَ قَالَ: لاَ زَکَاۃَ فِیہِ حَتَّی یَحُولَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩২২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال مستفاد پر زکوۃ کب واجب ہے ؟
(١٠٣٢٢) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مال پر زکوۃ نہیں کہ جب تک کہ اس پر سال نہ گذر جائے۔
(۱۰۳۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ،قَالَتْ : لَیْسَ فِی مَالٍ زَکَاۃٌ حَتَّی یَحُولَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩২৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال مستفاد پر زکوۃ کب واجب ہے ؟
(١٠٣٢٣) حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ مال پر زکوۃ نہیں کہ جب تک کہ اس پر سال نہ گذر جائے۔
(۱۰۳۲۳) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : لَیْسَ فِیہِ زَکَاۃٌ حَتَّی یَحُولَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩২৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال مستفاد پر زکوۃ کب واجب ہے ؟
(١٠٣٢٤) حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ مال پر اس وقت تک زکوۃ نہیں ہے جب تک کہ اس پر پورا سال نہ گذر جائے جس وقت سے کہ اس پر نفع ہوا ہے (کچھ مال کا اضافہ ہوا ہے) ۔
(۱۰۳۲۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی التَّیْمِیُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ نُعْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ زَکَاۃٌ حَتَّی یَحُولَ عَلَیْہِ حَوْلٌ ، مِنْ حِینَ یَسْتَفِیدُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩২৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جس وقت فائدہ ہو اسی وقت زکوۃ ادا کرے سال گزرنا ضروری نہیں ہے
(١٠٣٢٥) حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی مہینے میں زکوۃ ادا کرے پھر اسی مہینے اس کو کچھ اور مال ملے اور وہ اس کو خرچ کر دے تو جو مال اس نے خرچ کیا ہے اس پر زکوۃ نہیں ہے۔ لیکن جس مہینے اس نے زکوۃ ادا کی اور اس کو کچھ مال ملا جو پورا مہینہ اس کے پاس رہا تو اس پر زکوۃ ادا کرنی پڑے گی۔ اور اگر جس مہینے اس نے زکوۃ ادا نہیں کی اس مہینے اس کو کچھ مال ملا تو جس وقت اس کو فائدہ ہوا اسی وقت اس پر زکوۃ ادا کرنا پڑے گی۔ (اس پر سال گذرنا شرط نہیں ہے) ۔
(۱۰۳۲۵) حَدَّثَنَا مُعْتَمِر ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ : إذَا کَانَ لِلرَّجُلِ شَہْرٌ یُزَکِّی فِیہِ فَأَصَابَ مَالاً فَأَنْفَقَہُ ، فَلَیْسَ عَلَیْہِ زَکَاۃُ مَا أَنْفَقَ ، وَلَکِنْ مَا وَافَی الشَّہْرَ الَّذِی یُزَکِّی فِیہِ مَالَہُ زَکَّاہُ ، فَإِنْ کَانَ لَیْسَ لَہُ شَہْرٌ یُزَکِّی فِیہِ فَاسْتَفَادَ مَالاً ، فَلْیُزَکِّہِ حِینَ یَسْتَفِیدُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩২৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جس وقت فائدہ ہو اسی وقت زکوۃ ادا کرے سال گزرنا ضروری نہیں ہے
(١٠٣٢٦) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس سے سوال کیا گیا کہ کسی آدمی کو کچھ مال ملتا ہے (دوران سال اس پر زکوۃ ہے کہ نہیں ؟ ) آپ نے فرمایا جس وقت اس کو فائدہ ہو اسی وقت زکوۃ ہے۔
(۱۰۳۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یَسْتَفِیدُ مَالاً ؟ قَالَ : یُزَکِّیہ حِینَ یَسْتَفِیدُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩২৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جس وقت فائدہ ہو اسی وقت زکوۃ ادا کرے سال گزرنا ضروری نہیں ہے
(١٠٣٢٧) حضرت امام زہری ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کو مال ملے اور جس مہینے وہ زکوۃ ادا کرتا ہے اس سے قبل ہی اس مال کو خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اس کو چاہیے کہ پہلے اس کی زکوۃ ادا کر دے پھر خرچ کرے اور اگر زکوۃ کے مہینے سے قبل خرچ کرنے کا ارادہ نہ ہو تو اس مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر اکٹھے ہی وقت پر زکوۃ ادا کرے۔ (اس مال پر سال گزرنے کا انتظار نہ کرے) ۔
(۱۰۳۲۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : إذَا اسْتَفَادَ الرَّجُلُ مَالاً فَأَرَادَ أَنْ یُنْفِقَہُ قَبْلَ مَجِیئِ شَہْرِ زَکَاتِہِ فَلْیُزَکِّہِ ، ثُمَّ لْیُنْفِقْہُ ، وَإِنْ کَانَ لاَ یُرِیدُ أَنْ یُنْفِقَ فَلْیُزَکِّہِ مَعَ مَالِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩২৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ مکاتب غلام کے مال پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٣٢٨) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مکاتب غلام کے مال پر زکوۃ نہیں ہے۔
(۱۰۳۲۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لَیْسَ فِی مَالِ الْمُکَاتَبِ زَکَاۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩২৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ مکاتب غلام کے مال پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٣٢٩) حضرت حکم سے مروی ہے کہ حضرت عبد العزیز فرماتے ہیں کہ مکاتب کے مال پر زکوۃ نہیں ہے۔
(۱۰۳۲۹) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَوَّامٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ : لَیْسَ فِی مَالِ الْمُکَاتَبِ زَکَاۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৩০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ مکاتب غلام کے مال پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٣٣٠) حضرت صبیح ابی جہم جو بنو عبس کے غلام تھے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر اور حضرت سعید بن مسیب سے دریافت فرمایا کہ مکاتب کے پاس اگر مال ہو تو اس کے مال پر زکوۃ ہے ؟ دونوں حضرات نے جواب دیا کہ نہیں۔
(۱۰۳۳۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ صُبَیْحٍ أَبِی الْجَہْمِ مَوْلَی بَنِی عَبْسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ ، وَابْنَ الْمُسَیَّبِ عَنْ رَجُلٍ مُکَاتَبٍ لَہُ مَالٌ ، أَعَلَی مَالِہِ زَکَاۃٌ ؟ قَالاَ : لاَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৩১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ مکاتب غلام کے مال پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٣٣١) حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ مکاتب کے مال پر زکوۃ نہیں ہے۔
(۱۰۳۳۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، عَنْ أَبِیہِ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، عَنْ جَدَّتِہِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: لَیْسَ فِی مَالِ الْمُکَاتَبِ زَکَاۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৩২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ مکاتب غلام کے مال پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٣٣٢) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ مکاتب اور غلام پر زکوۃ نہیں ہے جب تک کہ وہ آزاد نہ ہوجائیں۔ (آزادی کے بعد زکوۃ ہے) ۔
(۱۰۳۳۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَیْسَ فِی مَالِ الْمُکَاتَبِ ، وَلاَ الْعَبْدِ زَکَاۃٌ حَتَّی یُعْتَقَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৩৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ مکاتب غلام کے مال پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٣٣٣) حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ مکاتب اور غلام پر زکوۃ نہیں ہے۔
(۱۰۳۳۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْعُمَرِیِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَیْسَ فِی مَالِ الْمُکَاتَبِ ، وَلاَ الْعَبْدِ زَکَاۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৩৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ مکاتب غلام کے مال پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٣٣٤) حضرت کیسان ابو سعید المقبری فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس دو سو درھم اپنے مال کی زکوۃ لے کر حاضر ہوا اور میں مکاتب تھا، حضرت عمر نے فرمایا کیا تو آزاد ہوگیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں، آپ نے فرمایا تو پھر یہ مال لے کر جا اور (فقراء میں) تقسیم کر دے۔
(۱۰۳۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِی صَخْرٍ ، عَنْ کَیْسَانَ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ ، قَالَ : أَتَیْتُ عُمَرَ بِزَکَاۃِ مَالِی ، مِئَتَیْ دِرْہَمٍ وَأَنَا مُکَاتَبٌ ، فَقَالَ : ہَلْ عُتِقْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : اذْہَبْ فَاقْسِمْہَا۔
তাহকীক: