মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০০৮ টি
হাদীস নং: ১০৩৫৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض پر زکوۃ کا بیان
(١٠٣٥٥) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر تجھے معلوم ہو کہ قرض نکال کر تجھے دینے والا ہے تو اس پر زکوۃ ادا کر۔
(۱۰۳۵۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَد ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : إذَا کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّہُ خَارِجٌ فَزَکِّہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض پر زکوۃ کا بیان
(١٠٣٥٦) حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی سے پوچھا گیا کہ آدمی کا کسی پر قرض ہو لیکن واپسی یقینی نہ ہو تو کیا وہ اس کی زکوۃ ادا کرے گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا اگر مدیون سچا ہو تو قبضہ کے بعد جتنی مدت گذر گئی ہے اس کی زکوۃ ادا کر دے۔
(۱۰۳۵۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِیٌّ عَنِ الرَّجُلِ یَکُونُ لَہُ الدَّیْنُ الظَّنُونُ أَیُزَکِّیہِ ؟ فَقَالَ : إِنْ کَانَ صَادِقًا فَلْیُزَکِّہِ لِمَا مَضَی إذَا قَبَضَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض پر زکوۃ کا بیان
(١٠٣٥٧) حضرت عثمان بن ابو عثمان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد سے دریافت فرمایا : میرا کچھ قرضہ معین مدت کیلئے ہے اور کچھ کا وقت معین نہیں تو کیا ہم زکوۃ ادا کریں اس پر ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں، حضرت عائشہ نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ جو کچھ سمندر میں ہو اس پر زکوۃ ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے بھی یہی سوال پوچھا تو آپ نے بھی اسی طرح جواب ارشاد فرمایا۔
(۱۰۳۵۷) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ : إنَّ لَنَا قَرْضًا وَقَرْضًا وَدَیْنًا ، فَنُزَکِّیہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، کَانَتْ عَائِشَۃُ تَأْمُرُنَا نُزَکِّیَ مَا فِی الْبَحْرِ ۔ وَسَأَلْتُ سَالِمًا؟ فَقَالَ : مِثْلَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک قرض واپس وصول نہ کر لے اس پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٣٥٨) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ قرض پر زکوۃ نہیں ہے۔
(۱۰۳۵۸) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : لَیْسَ فِی الدَّیْنِ زَکَاۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک قرض واپس وصول نہ کر لے اس پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٣٥٩) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ قرض پر زکوۃ نہیں ہے جب تک کہ اس کو واپس وصول کر کے اس پر قبضہ نہ کرلے۔
(۱۰۳۵۹) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْمُؤَمِّلِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ،قَالَتْ : لَیْسَ فِیہِ زَکَاۃٌ حَتَّی یَقْبِضَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک قرض واپس وصول نہ کر لے اس پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٣٦٠) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ قرض پر زکوۃ نہیں ہے جب تک کہ اس کو واپس وصول کر کے اس پر قبضہ نہ کرلے۔
(۱۰۳۶۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَد ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : لاَ یُزَکِّیہِ حَتَّی یَقْبِضَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک قرض واپس وصول نہ کر لے اس پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٣٦١) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جس کا قرض ہے اس پر اور جو مقروض ہے دونوں پر زکوۃ نہیں ہے۔
(۱۰۳۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَی صَاحِبِ الدَّیْنِ الَّذِی ہُوَ لَہُ ، وَلاَ الَّذِی ہُوَ عَلَیْہِ زَکَاۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک قرض واپس وصول نہ کر لے اس پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٣٦٢) حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ قرض پر زکوۃ نہیں ہے جب تک کہ اس کو واپس وصول کر کے اس پر قبضہ نہ کرلے۔
(۱۰۳۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : لَیْسَ فِیہِ زَکَاۃٌ حَتَّی یَقْبِضَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک قرض واپس وصول نہ کر لے اس پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٣٦٣) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے پہلے میری مخالفت کی میں نے کہا تھا کہ زکوۃ ادا کرنا واجب نہیں ہے۔ پھر انھوں نے میرے قول کی طرف رجوع فرما لیا کہ زکوۃ واجب نہیں ہے۔
(۱۰۳۶۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْحَکَمِ، قَالَ: خَالَفَنِی إبْرَاہِیمُ فِیہِ، فَقُلْتُ: لاَ یُزَکِّی، ثُمَّ رَجَعَ إلَی قَوْلِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک قرض واپس وصول نہ کر لے اس پر زکوۃ نہیں ہے
(١٠٣٦٤) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ قرض پر زکوۃ نہیں ہے۔
(۱۰۳۶۴) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الْعُمَرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : لَیْسَ فِی الدَّیْنِ زَکَاۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے اجازت دی ہے کہ غلام صدقہ ادا کر سکتا ہے
(١٠٣٦٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ غلام اپنے اصحاب (آقا) کو بدلہ دے اور جو زائد بچے اس میں سے صدقہ ادا کرے۔
(۱۰۳۶۵) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یُکَافِیَٔ الْعَبْدُ أَصْحَابَہُ ، وَأَنْ یَتَصَدَّقَ مِنَ الْفَضْلِ کَذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے اجازت دی ہے کہ غلام صدقہ ادا کر سکتا ہے
(١٠٣٦٦) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ غلام اپنے مال سے اتنا صدقہ (زکوۃ ) ادا کرے گا جو کہ اس کو نقصان نہ پہنچائے۔
(۱۰۳۶۶) حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : یَتَصَدَّقُ الْعَبْدُ مِنْ قُوتِہِ بِالشَّیْئِ لاَ یُضَرُّ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے اجازت دی ہے کہ غلام صدقہ ادا کر سکتا ہے
(١٠٣٦٧) حضرت سعید بن جبیر سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ میں غلام ہوں لیکن میرے پاس مال موجود ہے کیا میں صدقہ کرسکتا ہوں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جی ہاں تین درہم یا چار درہم۔ (اس سے زیادہ نہیں) ۔
(۱۰۳۶۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ؛ أَنَّہُ سَأَلَہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَنَا رَجُلٌ مَمْلُوکٌ وَمَعِی مَالٌ ، فَأَتَصَدَّقُ مِنْہُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، بِثَلاَثَۃِ دَرَاہِمَ ، أَرْبَعَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے اجازت دی ہے کہ غلام صدقہ ادا کر سکتا ہے
(١٠٣٦٨) حضرت داؤد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے دریافت فرمایا کہ غلام اپنے مال میں سے کتنا صدقہ کرے گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا ایک صاع یا اس کے مشابہ (اس سے زائد نہیں) ۔
(۱۰۳۶۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ دَاوُدَ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ : مَا یَتَصَدَّقُ بِہِ الْعَبْدُ مِنْ مَالِہِ ؟ قَالَ : الصَّاعُ وَشَبَہُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے اجازت دی ہے کہ غلام صدقہ ادا کر سکتا ہے
(١٠٣٦٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ غلام ایک درہم سے کم صدقہ کرے گا۔
(۱۰۳۶۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : یَتَصَدَّقُ الْعَبْدُ بِمَا دُونَ الدِّرْہَمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৭০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے اجازت دی ہے کہ غلام صدقہ ادا کر سکتا ہے
(١٠٣٧٠) حضرت عبداللہ بن نافع کے والد بنو ہاشم کے غلام تھے۔ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب سے دریافت فرمایا کہ کیا وہ صدقہ کرسکتے ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ایک درہم یا روٹی کا ٹکڑا۔
(۱۰۳۷۰) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، وَکَانَ مَمْلُوکًا لِبَنِی ہَاشِمٍ ؛ أَنَّہُ سَأَلَ عُمَرَ أَیَتَصَدَّقُ ؟ قَالَ : بِالدِّرْہَمِ وَالرَّغِیفِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৭১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے اجازت دی ہے کہ غلام صدقہ ادا کر سکتا ہے
(١٠٣٧١) حضرت سالم فرماتے ہیں کہ غلام (اللہ کا) قرب حاصل کرے گا جتنے مال کی وہ استطاعت و طاقت رکھتا ہے (وہ صدقہ کر کے) ۔
(۱۰۳۷۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : یَتَقَرَّبُ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ خَیْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৭২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے اجازت دی ہے کہ غلام صدقہ ادا کر سکتا ہے
(١٠٣٧٢) حضرت عامر اور حضرت خیثمہ سے سوال کیا گیا کہ کیا غلام بھی صدقہ کرسکتا ہے ؟ دونوں حضرات نے فرمایا ایک درہم سے زائد صدقہ نہیں کرے گا۔
(۱۰۳۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، وَخَیْثَمَۃَ ؛ فِی الْعَبْدِ یَتَصَدَّقُ ؟ قَالاَ : لاَ یَتَصَدَّقُ بِمَا فَوْقَ الدِّرْہَمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৭৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے اجازت دی ہے کہ غلام صدقہ ادا کر سکتا ہے
(١٠٣٧٣) حضرت امام زہری فرماتے ہیں کہ غلام صدقہ کرے گا اس چیز کا جو کہ زیادہ قیمتی نہ ہو۔
(۱۰۳۷۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : یَتَصَدَّقُ بِالشَّیْئِ لَیْسَ بِذِی بَالٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৭৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے اجازت دی ہے کہ غلام صدقہ ادا کر سکتا ہے
(١٠٣٧٤) حضرت عمیر جو کہ آبی اللحم کے غلام تھے فرماتے ہیں کہ میں غلام تھا اور میں صدقہ کیا کرتا تھا، میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت فرمایا کہ کیا میں صدقہ کرسکتا ہوں جبکہ میرا آقا مجھے روکتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو تم صدقہ کرو گے اس کا اجر تم دونوں کیلئے ہے۔
(۱۰۳۷۴) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلَی آبِی اللَّحْمِ ، قَالَ : کُنْتُ عَبْدًا مَمْلُوکًا ، وَکُنْت أَتَصَدَّقُ ، فَسَأَلْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَانَ مَوْلاَیَ یَنْہَانِی ، أَوْ سَأَلَہُ ، فَقَالَ : الأَجْرُ بَیْنَکُمَا۔ (مسلم ۷۱۱۔ ابن ماجہ ۲۲۹۷)
তাহকীক: