মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
سزاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৬ টি
হাদীস নং: ২৮৯৯৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگور یا کھجور کی نچوڑ ی ہوئی شراب جو اس میں حد لگانے کی رائے رکھے
(٢٨٩٩٥) حضرت عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : نبیذ سے نشہ میں مدہوش ہونے کی صورت میں اسی کوڑے ہیں۔
(۲۸۹۹۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فِی السّکْرِ مِنَ النَّبِیذِ ، ثَمَانُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৯৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگور یا کھجور کی نچوڑ ی ہوئی شراب جو اس میں حد لگانے کی رائے رکھے
(٢٨٩٩٦) حضرت فضیل فرماتے ہیں کہ حضرت شقیق ضبی نے ارشاد فرمایا : اس میں حد ہوگی، اسی کوڑے مارے جائیں گے۔
(۲۸۹۹۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَن شَقِیقٍ الضَّبِیِّ ، قَالَ : فِیہِ الْحَدُّ ، یُضْرَبُ ثَمَانِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৯৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگور یا کھجور کی نچوڑ ی ہوئی شراب جو اس میں حد لگانے کی رائے رکھے
(٢٨٩٩٧) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے چھوٹے مٹکوں میں لوگوں کو انگور کا پکا ہوا شیرہ دیا پس اس سے ایک آدمی نشہ میں مدہوش ہوگیا حضرت علی نے اسے اسی کوڑے مارے راوی کہتے ہیں سب لوگوں نے آپ کے پاس اس بات کی گواہی دی کہ یہ شخص اسی شیرہ سے نشہ میں مدہوش ہوا ہے جو آپ نے لوگوں کو دیا تھا۔ آپ نے فرمایا : اس نے اس میں سے اتنا کیوں پی لیا کہ یہ نشہ میں چور ہوگیا ؟
(۲۸۹۹۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَن مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ یَرْزُقُ النَّاسَ الطِّلائَ فِی دِنَانٍ صِغَارٍ ، فَسَکِرَ مِنْہُ رَجُلٌ ، فَجَلَدَہُ عَلِیٌّ ثَمَانِینَ ، قَالَ : فَشَہِدُوا عَندَہُ أَنَّہُ إِنَّمَا سَکِرَ مِنَ الَّذِی رَزَقَہُمْ ، قَالَ : وَلِمَ شَرِبَ مِنْہُ حَتَّی سَکِرَ؟۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৯৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کی سزا کے بیان میں کہ وہ کتنی ہے ؟ اور اس کے پینے والے کو کتنے کوڑے مارے جائیں گے ؟
(٢٨٩٩٨) حضرت حضین ابو ساسان فرماتے ہیں کہ اہل کوفہ میں سے چند لوگ سوار ہو کر حضرت عثمان کے پاس آئے انھوں نے آپ کو ولید بن عقبہ کے شراب پینے کے متعلق بتلایا۔ تو حضرت علی نے اس بارے میں آپ سے بات کی۔ حضرت عثمان نے فرمایا : اپنے چچا زاد بھائی کے پاس جاؤ اور تم اس پر حد قائم کرو سو حضرت علی نے فرمایاٖ اے حسن ! کھڑے ہو اور اسے کوڑے مارو اس نے کہا : تم اس عمل کے اہل نہیں ! اپنے علاوہ کسی کو سپرد کرو آپ نے فرمایا : بلکہ تو ضعیف ہوگیا، کمزور ہوگیا اور عاجز ہوگیا ہے اے عبداللہ بن جعفر کھڑے ہوجاؤ پس انھوں نے اس کو کوڑے مارنے شروع کردیے اور حضرت علی شمار کررہے تھے یہاں تک کہ وہ چالیس تک پہنچ گئے، آپ نے فرمایا : ٹھہرو یا فرمایا : رک جاؤ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چالیس کوڑے مارے ہیں اور حضرت ابوبکر نے بھی چایس کوڑے مارے ہیں اور حضرت عمر نے اس کی اسی کوڑے تک تکمیل فرمائی ہے اور تمام سنت طریقے ہیں۔
(۲۸۹۹۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ الدَّانَاجِ ، عَنْ حُضَیْنٍ أَبِی سَاسَانَ ؛ أَنَّہُ رَکِبَ أناسٌ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ إِلَی عُثْمَانَ ، فَأَخْبَرُوہُ بِمَا کَانَ مِنْ أَمْرِ الْوَلِیدِ بْنِ عُقْبَۃَ مِنْ شُرْبِ الْخَمْرِ ، فَکُلِّمَہُ فِی ذَلِکَ عَلِیٌّ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : دُونَک ابْنَ عَمِّکَ ، فَأَقِمْ عَلَیْہِ الْحَدَّ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : قُمْ یَا حَسَنُ فَاجْلِدْہُ ، فَقَالَ : فِیمَ أَنْتَ مِنْ ہَذَا ؟ َولِّ ہَذَا غَیْرَک ، قَالَ : بَلْ ضَعُفْتَ ، وَوَہَنْتَ وَعَجَزْتَ ، قُمْ یَا عَبْدَ اللہِ بْنَ جَعْفَرٍ ، فَجَعَلَ یَجْلِدُہُ ، وَیَعُدُّ عَلِیٌّ حَتَّی بَلَغَ أَرْبَعِینَ ، فَقَالَ : کُفَّ ، أَوْ أَمْسِکْ ، جَلَدَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِینَ ، وَأَبُو بَکْرٍ أَرْبَعِینَ ، وَکَمَّلَہَا عُمَرُ ثَمَانِینَ ، وَکُلٌّ سُنَّۃٌ۔ (مسلم ۱۳۳۱۔ ابوداؤد ۴۴۷۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৯৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کی سزا کے بیان میں کہ وہ کتنی ہے ؟ اور اس کے پینے والے کو کتنے کوڑے مارے جائیں گے ؟
(٢٨٩٩٩) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے شراب میں اسی کوڑے لگائے۔
(۲۸۹۹۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّ عُمَرَ ضَرَبَ فِی الْخَمْرِ ثَمَانِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৯৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کی سزا کے بیان میں کہ وہ کتنی ہے ؟ اور اس کے پینے والے کو کتنے کوڑے مارے جائیں گے ؟
(٢٩٠٠٠) حضرت ابو عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا : اہل شام میں سے چند لوگوں نے شراب پی۔ اس وقت ان پر یزید بن ابو سفیان امیر تھے اور ا ن لوگوں نے کہا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایمان اور اعمال صالحہ والوں پر کوئی چیز کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ یزید بن ابی سفیان نے اس بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ قبل اس کے کہ یہ لوگ فساد مچائیں انھیں میرے پاس بھجوا دو ۔ جب وہ آئے تو حضرت عمر نے ان کے بارے میں مشورہ کیا۔ آپ سے کہا گیا اے امیرالمومنین ! ان لوگوں نے اللہ کے بارے میں جھوٹ بولا اور شریعت میں شریعت کے خلاف بات کی۔ لہٰذا انھیں قتل کروا دیں۔ اس دوران حضرت علی خاموش رہے۔ حضرت عمر نے پوچھا اے ابوالحسن ! آپ کیا کہتے ہیں ؟ حضرت علی نے کہا کہ اگر وہ توبہ کرتے ہیں تو انھیں اسی کوڑے لگائیں اگر توبہ نہ کریں تو قتل کردیں۔ انھوں نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے۔ حضرت عمر نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے توبہ کا اظہار کیا اس پر انھیں صرف اسی کوڑوں کی سزا دی گئی۔
(۲۹۰۰۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : شَرِبَ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ الْخَمْرَ ، وَعَلَیْہِمْ یَزِیدُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ ، وَقَالُوا : ہِیَ لَنَا حَلاَلٌ ، وَتَأَوَّلُوا ہَذِہِ الآیَۃَ : {لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَعِمُوا} الآیَۃَ ، قَالَ : فَکَتَبَ فِیہِمْ إِلَی عُمَرَ ، فَکَتَبَ : أَنِ ابْعَثْ بِہِمْ إِلَیَّ قَبْلَ أَنْ یُفْسِدُوا مَنْ قِبَلِکَ ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَی عُمَرَ ، اسْتَشَارَ فِیہِمُ النَّاسَ ، فَقَالُوا : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، نَرَی أَنَّہُمْ قَدْ کَذَبُوا عَلَی اللہِ ، وَشَرَعُوا فِی دِینِہِمْ مَا لَمْ یَأْذَنْ بِہِ اللَّہُ ، فَاضْرِبْ رِقَابَہُمْ ، وَعَلِیٌّ سَاکِتٌ ، فَقَالَ : مَا تَقُولُ یَا أَبَا الْحَسَنِ فِیہِمْ ؟ قَالَ : أَرَی أَنْ تَسْتَتِیبَہُمْ ، فَإِنْ تَابُوا جَلَدْتَہُمْ ثَمَانِینَ لِشُرْبِہم الْخَمْرِ ، وَإِنْ لَمْ یَتُوبُوا ضَرَبْتَ أَعْنَاقَہِمْ ، فَإِنَّہُمْ قَدْ کَذَبُوا عَلَی اللہِ ، وَشَرَعُوا فِی دِینِہِمْ مَا لَمْ یَأْذَنْ بِہِ اللَّہُ، فَاسْتَتَابَہُمْ فَتَابُوا ، فَضَرَبَہُمْ ثَمَانِینَ ثَمَانِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০০০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کی سزا کے بیان میں کہ وہ کتنی ہے ؟ اور اس کے پینے والے کو کتنے کوڑے مارے جائیں گے ؟
(٢٩٠٠١) حضرت عبدالرحمن بن ازھر فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس غزوہ حنین کے دن ایک شرابی لایا گیا سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے فرمایا : تم اس کی طرف اٹھو۔ پس لوگ اس کی طرف گئے اور انھوں نے اپنی جوتیوں سے اسے مارا۔
(۲۹۰۰۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ ،وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ ، وَالزُّہْرِیُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَزْہَرِ ، قَالَ : أُتِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشَارِبٍ یَوْمَ حُنَیْنٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلنَّاسِ : قُومُوا إِلَیْہِ ، فقام إِلَیْہِ النَّاسُ فَضَرَبُوہُ بِنِعَالِہِمْ۔
(نسائی ۵۲۸۴۔ حاکم ۳۷۴)
(نسائی ۵۲۸۴۔ حاکم ۳۷۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০০১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کی سزا کے بیان میں کہ وہ کتنی ہے ؟ اور اس کے پینے والے کو کتنے کوڑے مارے جائیں گے ؟
(٢٩٠٠٢) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب میں چالیس جوتیاں ماریں اور حضرت عمر نے جوتی کے بدلے میں کوڑا ماناشروع کیا۔
(۲۹۰۰۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِیُّ ، عَنْ زَیْدٍ الْعَمِّیِّ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فِی الْخَمْرِ بِنَعْلَیْنِ أَرْبَعِینَ ، فَجَعَلَ عُمَرُ مَکَانَ کُلِّ نَعْلٍ سَوْطًا۔ (احمد ۶۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০০২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کی سزا کے بیان میں کہ وہ کتنی ہے ؟ اور اس کے پینے والے کو کتنے کوڑے مارے جائیں گے ؟
(٢٩٠٠٣) حضرت سمیط بن عمیر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی جمعہ کے دن میں داخل ہوا اور اس نے چار رکعت نماز پڑھ لی اس پر ایک آدمی نے اپنے ساتھی سے کہا : کیا تم نے بھی وہی دیکھا جو میں نے دیکھا ؟ وہ کہنے لگا : ہاں پھر ان دونوں نے اس شخص کو پکڑا اور کہنے لگے : بیشک یہ شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے چار رکعت نماز پڑھی آپ نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : بیشک یہ تو شک کی بات ہے۔ آپ نے پوچھا : جو تجھے اس کام پر کس بات نے ابھارا ؟ اس شخص نے جواب دیا : میں نے آج سے پہلے کبھی شراب نہیں پی تو آپ نے اسے اسّی کوڑے مارے۔
(۲۹۰۰۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَیْرٍ ، عَنِ السَّمَیْطِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّی أَرْبَعًا ، فَقَالَ رَجُلٌ لِصَاحِبِہِ : رَأَیْتَ مَا رَأَیْتُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَخَذَاہُ فَأَتَیَا بِہِ أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِیَّ ، فَقَالاَ : إِنَّ ہَذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّی أَرْبَعًا ، فَقَالَ : ہَلْ غَیَّرَ ؟ فَقَالاَ : لاَ ، قَالَ : إِنَّ ہَذِہِ لَرِیبَۃٌ ، قَالَ : مَا حَمَلَک عَلَی مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : مَا شَرِبْتہَا قَبْلَ الْیَوْمِ ، فَجَلَدَہُ ثَمَانِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০০৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کی سزا کے بیان میں کہ وہ کتنی ہے ؟ اور اس کے پینے والے کو کتنے کوڑے مارے جائیں گے ؟
(٢٩٠٠٤) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب میں چالیس کوڑے مارے۔
(۲۹۰۰۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ زَیْدٍ الْعَمِّیِّ ، عَنْ أَبِی الصِّدِّیقِ النَّاجِی ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ أَنَّہُ ضَرَبَ فِی الْخَمْرِ أَرْبَعِینَ۔ (ترمذی ۱۴۴۲۔ احمد ۳۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০০৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس حالت میں واجب ہوجاتا ہے کہ آدمی پر حد قائم کردی جائے ؟
(٢٩٠٠٥) حضرت یعلی بن امیہ نے حضرت عمر بن خطاب سے فرمایا یا ان کو خط لکھا : بیشک ہمارے پاس ایسے لوگ لائے گئے ہیں جنہوں نے شراب پی ہے، پس ہم کس حالت میں ان پر حد قائم کریں ؟ حضرت عمر نے فرمایا : ان سے قرآن پڑھواؤ اور ان کی چادر بہت سی چادروں کے درمیان ڈال دو پس اگر وہ قرآن نہ پڑھ سکیں اور اپنی چادر کو نہ پہچان سکیں تو ان پر حد قائم کردو۔
(۲۹۰۰۵) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَی عَبْدُ الْحَکِیمِ بْنُ فلاَنِ بْنِ یَعْلَی ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ یَعْلَی بْنَ أُمَیَّۃَ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَوْ کَتَبَ إِلَیْہِ : إِنَّا نُؤْتَی بِقَوْمٍ قَدْ شَرِبُوا الشَّرَابَ ، فَعَلَی مَنْ نُقِیمُ الْحَدَّ ؟ فَقَالَ: اسْتَقْرِئْہُ الْقُرْآنَ ، وَأَلْقِ رِدَائَہُ بَیْنَ أَرْدِیَۃٍ ، فَإِنْ لَمْ یَقْرَأَ الْقُرْآنَ وَلَمْ یَعْرِفْ رِدَائَہُ ، فَأَقِمْ عَلَیْہِ الْحَدَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০০৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس حالت میں واجب ہوجاتا ہے کہ آدمی پر حد قائم کردی جائے ؟
(٢٩٠٠٦) حضرت ابوبکر بن عمرو بن عتبہ فرماتے ہیں کہ (مصنف فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ انھوں نے حضرت عمر سے نقل کیا) حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : حد نہیں ہوگی مگر جب چیزوں میں عقل دھوکا کھاجائے۔
(۲۹۰۰۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ: حدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُتْبَۃَ ، قَالَ : أُرَاہُ ذَکَرَہُ عَنْ عُمَرَ، أَنَّہُ قَالَ : لاَ حَدَّ إِلاَّ فِیمَا خَلَسَ الْعَقْلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০০৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس حالت میں واجب ہوجاتا ہے کہ آدمی پر حد قائم کردی جائے ؟
(٢٩٠٠٧) حضرت عبداللہ بن عتبہ فرماتے ہیں (مصنف فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ) حضرت عمر سے نقل فرمایا : کہ حد نہیں ہوگی مگر جب چیزوں میں عقل دھوکا کھاجائے۔
(۲۹۰۰۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُتْبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، قَالَ : أُرَاہُ عَنْ عُمَرَ، قَالَ : لاَ حَدَّ إِلاَّ فِیمَا خَلَسَ الْعَقْلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০০৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس مسلمان کا بیان جو ذمی کی شراب چوری کرلے کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں ؟
(٢٩٠٠٨) حضرت سعید بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ نے ارشاد فرمایا : جب مسلمان ذمی کی شراب چوری کرلے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور جب وہ کسی مسلمان کی شراب چوری کرلے تو اس کا ہاتھ نہیں کٹے گا۔
(۲۹۰۰۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : إِذَا سَرَقَ الْمُسْلِمُ مِنَ الذِّمِّیِّ خَمْرًا ، قُطِعَ ، وَإِذَا سَرَقَہَا مِنْ مُسْلِمٍ لَمْ یُقْطَعْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০০৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس مسلمان کا بیان جو ذمی کی شراب چوری کرلے کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں ؟
(٢٩٠٠٩) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے ایک مسلمان کو شراب کا ضامن بنایا جو اس نے کسی ذمی کی بہاد ی تھی۔
(۲۹۰۰۹) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَن مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ؛ أَنَّ شُرَیْحًا ضَمَّنَ مُسْلِمًا خَمْرًا أَہْرَاقَہَا لِذِمِّیٍّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০০৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس مسلمان کا بیان جو ذمی کی شراب چوری کرلے کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں ؟
(٢٩٠١٠) حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے یہودی یا عیسائی کی چوری کی یا ذمی سے لے لی تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
(۲۹۰۱۰) حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : مَنْ سَرَقَ مِنْ یَہُودِیٍّ ، أَوْ نَصْرَانِیٍّ ، أَوْ أَخَذَ مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ ، قُطِعَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০১০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب عورت کو بدکاری پر مجبور کرنے کے بیان میں ہے
(٢٩٠١١) حضرت وائل بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایک عورت کو بدکاری کرنے پر مجبور کیا گیا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت سے سزا ختم کردی۔
(۲۹۰۱۱) حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَیْمَانَ الرَّقِّی ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : اسْتُکْرِہَتِ امْرَأَۃٌ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَرَأَ عَنہَا الْحَدَّ۔ (ترمذی ۱۴۵۳۔ ابن ماجہ ۲۵۹۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০১১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب عورت کو بدکاری پر مجبور کرنے کے بیان میں ہے
(٢٩٠١٢) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس حکومت کی باندیوں میں سے چند باندیاں لائی گئیں جن کو حکومت کے غلاموں میں سے چند غلاموں نے بدکاری پر مجبور کیا تھا تو آپ نے ان غلاموں کو کوڑے مارے اور ان باندیوں کو نہیں مارا۔
(۲۹۰۱۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَن عُبَیْدِ اللہِ ، عَن نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّ عُمَرَ أُتِیَ بِإِمَائٍ مِنْ إِمَائِ الإِمَارَۃِ اسْتَکْرَہَہُنَّ غِلْمَانٌ مِنْ غِلْمَانِ الإِمَارَۃِ ، فَضَرَبَ الْغِلْمَانَ وَلَمْ یَضْرِبِ الإِمَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০১২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب عورت کو بدکاری پر مجبور کرنے کے بیان میں ہے
(٢٩٠١٣) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی گھر والوں کی دعوت کی پس اس نے ان میں سے ایک عورت کو بدکاری پر مجبور کیا، یہ معاملہ حضرت ابوبکر کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے اس شخص کو کوڑے لگائے اور اس کو جلاوطن کردیا اور آپ نے اس عورت کو کوڑے نہیں د مارے۔
(۲۹۰۱۳) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَن عُبَیْدِ اللہِ ، عَن نَافِعٍ ؛ أَنَّ رَجُلاً أَضَافَ أَہْلَ بَیْتٍ ، فَاسْتَکْرَہَ مِنْہُمُ امْرَأَۃً ، فَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ ، فَضَرَبَہُ وَنَفَاہُ ، وَلَمْ یَضْرِبِ الْمَرْأَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০১৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب عورت کو بدکاری پر مجبور کرنے کے بیان میں ہے
(٢٩٠١٤) حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ ایک حبشی نے اپنے میں سے کسی عورت کو بدکاری پر مجبور کیا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس پر حد قائم فرمائی۔ اور آپ نے اس عورت کو اس کی ملکیت پہ قدرت دے دی۔
(۲۹۰۱۴) حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَیْمَانَ الرَّقِّی ، عَنْ حَجَّاجٍ ؛ أَنَّ حَبَشِیًّا اسْتَکْرَہَ امْرَأَۃً مِنْہُمْ ، فَأَقَامَ عَلَیْہِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْحَدَّ ، وَأَمْکَنَہَا مِنْ رَقَبَتِہِ۔
তাহকীক: