মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
سزاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৬ টি
হাদীস নং: ২৯০৭৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کے بیان میں جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پس وہ اس کے ساتھ جماع کرتا ہوا پایا گیا اور اس کے خلاف گواہی بھی دے دی گئی اور وہ طلاق دینے سے انکار کرتا ہے
(٢٩٠٧٥) حضرت قتادہ اور حضرت جابر بن زید نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کے درمیان دو اور تین آدمیوں کی گواہی سے تفریق ڈال دی جائے گی اور چار لوگوں کی گواہی سے اسے سنگسار کردیا جائے گا۔
(۲۹۰۷۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ ، وَہُوَ قَوْلُ قَتَادَۃَ ؛ أَنَّہُمَا قَالاَ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا بِشَہَادَۃِ اثْنَیْنِ وَثَلاَثَۃٍ ، وَیُرْجَمُ بِشَہَادَۃِ أَرْبَعَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৭৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کے بیان میں جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پس وہ اس کے ساتھ جماع کرتا ہوا پایا گیا اور اس کے خلاف گواہی بھی دے دی گئی اور وہ طلاق دینے سے انکار کرتا ہے
(٢٩٠٧٦) حضرت سعید فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت حیبی بن ابی ذئب کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کے درمیان چار یا اس سے زیادہ آدمیوں کی گواہی سے تفریق کردی جائے گی پس اگر وہ دوبارہ لوٹے تو اسے سنگسار کردیا جائے۔
(۲۹۰۷۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، قَالَ : نَبَّؤُوا عَنْ حَبِیْبِ بْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا بِشَہَادَۃِ أَرْبَعَۃٍ فَأَکْثَرَ ، فَإِنْ عَادَ رُجِمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৭৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کے بیان میں جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پس وہ اس کے ساتھ جماع کرتا ہوا پایا گیا اور اس کے خلاف گواہی بھی دے دی گئی اور وہ طلاق دینے سے انکار کرتا ہے
(٢٩٠٧٧) حضرت سعید فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت ابراہیم کے حوالے سے خبر دی ہے کہ آپ نے فرمایا : ان دونوں کے درمیان چار آدمیوں کی گواہی سے تفریق کردی جائے گی اور اس سے زیادہ کی صورت میں اسے سنگسار کیا جائے۔
(۲۹۰۷۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، قَالَ : نَبَّؤُووا عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا بِشَہَادَۃِ أَرْبَعَۃٍ ، وَأَکْثَرِ مِنْ ذَلِکَ رَجْمٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৭৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کے بیان میں جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پس وہ اس کے ساتھ جماع کرتا ہوا پایا گیا اور اس کے خلاف گواہی بھی دے دی گئی اور وہ طلاق دینے سے انکار کرتا ہے
(٢٩٠٧٨) حضرت محمد بن سالم فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی سے ایک آدمی کے متعلق پوچھا گیا : جس کے خلاف چند گواہوں نے گواہی دی کہ بیشک اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے پس اس نے اس کا انکار کردیا اور وہ اس سے جماع کرتا تھا، اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت شعبی نے فرمایا : اس کے انکار کرنے کی وجہ سے اس سے سزا کو ختم کردیا جائے گا۔
(۲۹۰۷۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ شَہِدَ عَلَیْہِ شُہُودٌ أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا ، فَجَحَدَ ذَلِکَ ، وَأَنَّہُ کَانَ یَغْشَاہَا ؟ قَالَ : فَقَالَ الشَّعْبِیِّ : یُدْرَأُ عَنْہُ الْحَدُّ لإِنْکَارِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৭৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کے بیان میں جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پس وہ اس کے ساتھ جماع کرتا ہوا پایا گیا اور اس کے خلاف گواہی بھی دے دی گئی اور وہ طلاق دینے سے انکار کرتا ہے
(٢٩٠٧٩) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ سے ایک آدمی کے بارے میں مروی ہے جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی پس دو گواہوں نے گواہی بھی دے دی پھر وہ شخص اس بستی میں آیا جہاں اس کی بیوی تھی اور اس نے اس سے جماع کیا۔ وہ شخص اس سے جماع کا اقرار کرتا ہے اور اس کو طلاق دینے کا انکار کرتا ہے۔ حضرت عطائ نے فرمایا : ان دونوں گواہوں کی گواہی جائز ہوگی اور ا ن کے درمیان تفرق کردی جائے گی اور اس شخص پر حد نہیں لگائی جائے گی۔
(۲۹۰۷۹) حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ فَأَشْہَدَ شَاہِدَیْنِ ، ثُمَّ قَدِمَ الْقَرْیَۃَ الَّتِی بِہَا الْمَرْأَۃُ ، فَغَشِیَہَا وَأَقَرَّ بِأَنْ قَدْ أَصَابَہَا ، وَأَنْکَرَ أَنْ یَکُونَ طَلَّقَہَا ، فَقَالَ عَطَائٌ : تَجُوزُ شَہَادَتُہُمَا ، وَیُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا ، وَلاَ یُحَدُّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৭৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کے بیان میں جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پس وہ اس کے ساتھ جماع کرتا ہوا پایا گیا اور اس کے خلاف گواہی بھی دے دی گئی اور وہ طلاق دینے سے انکار کرتا ہے
(٢٩٠٨٠) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پھر اس نے اس کے بعد اس سے جماع کرنا شروع کردیا تو اس بارے میں حضرت عمار سے پوچھا گیا ؟ آپ نے فرمایا : اگر مجھے اس پر قدرت ہوتی تو میں ضرور اس کو سنگسار کردیتا۔
(۲۹۰۸۰) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ؛ أَنَّ رَجُلاً طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا ، ثُمَّ جَعَلَ یَغْشَاہَا بَعْدَ ذَلِکَ ، فَسُئِلَ عَن ذَلِکَ عَمَّارٌ ؟ فَقَالَ : لَئِنْ قَدَرْتُ عَلَی ہَذَا لأَرْجُمَنَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৮০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کے بیان میں جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پس وہ اس کے ساتھ جماع کرتا ہوا پایا گیا اور اس کے خلاف گواہی بھی دے دی گئی اور وہ طلاق دینے سے انکار کرتا ہے
(٢٩٠٨١) حضرت خلاس سے بھی حضرت عمار کا مذکورہ ارشاد منقول ہے۔
(۲۹۰۸۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَائٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَن خِلاَسٍ ، عَنْ عَمَّارٍ ؛ بِنَحْوِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৮১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کے بیان میں جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پس وہ اس کے ساتھ جماع کرتا ہوا پایا گیا اور اس کے خلاف گواہی بھی دے دی گئی اور وہ طلاق دینے سے انکار کرتا ہے
(٢٩٠٨٢) حضرت عیسیٰ بن عاصم فرماتے ہیں کہ چند لوگ سفر میں نکلے ان کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا تو انھوں نے اس کے پاس قیام کیا اس دوران اس آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں پھر وہ واپس لوٹے تو انھوں نے اس کو اس عورت کے ساتھ پایا سو انھوں نے اس کو حضرت شریح کے سامنے پیش کیا اور کہنے لگے : بیشک اس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں اور ہم نے اسے اس عورت کے ساتھ پایا ہے اور وہ آدمی انکار کررہا تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا : کیا تم گواہی دیتے ہو کہ یہ شخص زانی ہے ؟ پس انھوں نے اپنے قول کو دھرایا جیسا انھوں نے کہا تھا پھر آپ نے پوچھا : کیا تم گواہی دیتے ہو کہ یہ شخص زانی ہے ؟ انھوں نے پھر اپنی بات دھرائی سو آپ نے ان کے درمیان تفریق کردی اور ان دونوں پر حد نہیں لگائی اور ان کی گواہی کو جائز قرار دیا۔
(۲۹۰۸۲) حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَن عِیسَی بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ : خَرَجَ قَوْمٌ فِی سَفَرٍ ، فَمَرُّوا بِرَجُلٍ فَنَزَلُوا بِہِ ، فَطَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا ، فَمَضَی الْقَوْمُ فِی سَفَرِہِمْ ، ثُمَّ عَادُوا فَوَجَدُوہُ مَعَہَا ، فَقَدَّمُوہُ إِلَی شُرَیْحٍ، فَقَالُوا: إِنَّ ہَذَا طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا وَوَجَدْنَاہُ مَعَہَا، فَأَنْکَرَ، فَقَالَ: تَشْہَدُونَ أَنَّہُ زَانٍ؟ فَأَعَادُوا عَلَیْہِ القَول کَمْا قَالُوا، فَقَالَ: تَشْہَدُونَ أَنَّہُ زَانٍ؟ فَأَعَادُوا عَلَیْہِ، فَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا، وَلَمْ یَحُدَّہُمَا، وَأَجَازَ شَہَادَتَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৮২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو دوسرے شخص کویوں کہے : فلاں کہتا ہے کہ بیشک تم زانی ہو
(٢٩٠٨٣) حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جس نے آدمی کو یوں کہا : مجھے فلاں نے خبر دی ہے کہ تو نے زنا کیا ہے۔ آپ نے فرمایا، اس پر حد قذف جاری نہیں ہوگی۔ اس لیے کہ اس نے اس بات کی نسبت کسی غیر کی طرف کی ہے۔
(۲۹۰۸۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَنْصَارِیُّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الرَّجُلِ یَقُولُ لِلرَّجُلِ : أَخْبَرَنِی فُلاَنٌ أَنَّک زَنَیْتَ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ حَدٌّ لأَنَّہُ أَضَافَہُ إِلَی غَیْرِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৮৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو دوسرے شخص کویوں کہے : فلاں کہتا ہے کہ بیشک تم زانی ہو
(٢٩٠٨٤) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی سے کہا : فلاں نے کہا ہے کہ بیشک تو زانی ہے۔ آپ نے فرمایا : اگر وہ بینہ لے آئے تو ٹھیک وگرنہ اس شخص پر حد لگائی جائے گی۔
(۲۹۰۸۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِہِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِرَجُلٍ : زَعَمَ فُلاَنٌ أَنَّک زَانٍ ، قَالَ : إِنْ جَائَ بِالْبَیِّنَۃِ ، وَإِلاَّ ضُرِبَ الْحَدَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৮৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
(٢٩٠٨٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ارشاد فرمایا : میں حدود کو شکوک و شبہات کی وجہ سے معطل کردوں یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں ان سزاؤں کو شبہات میں قائم کردوں۔
(۲۹۰۸۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : لأَنْ أُعَطِّلُ الْحُدُودَ بِالشُّبُہَاتِ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أُقِیمَہَا فِی الشُّبُہَاتِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৮৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
(٢٩٠٨٦) حضرت شعیب فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ ، حضرت ابن مسعود اور حضرت عقبہ بن عامر ان سب حضرات نے ارشاد فرمایا : جب تم پر حد مشتبہ ہوجائے تو اس کو زائل کردو۔
(۲۹۰۸۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِی فَرْوَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ مُعَاذًا ، وَعَبْدَ اللہِ بْنَ مَسْعُودٍ ، وَعُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ ، قَالُوا : إِذَا اشْتَبَہَ عَلَیْک الْحَدُّ فَادْرَأْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৮৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
(٢٩٠٨٧) حضرت طارق بن شھاب فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے زنا کیا اس پر حضرت عمر نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ وہ رات کو نماز پڑھ رہی تھی پس وہ ڈر گئی سو اس نے رکوع کیا پھر وہ سجدہ میں چلی گئی۔ اتنے میں گمراہوں میں سے ایک گمراہ شخص آیا ہوگا اور وہ اس کے اوپر چڑھ گیا ہوگا۔ حضرت عمر نے اس عورت کی طرف قاصد بھیجا تو اس عورت نے وہی بات کہی جو حضرت عمر نے بیان کی تھی۔ آپ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔
(۲۹۰۸۷) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَن قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَن طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ؛ أَنَّ امْرَأَۃً زَنَتْ ، فَقَالَ عُمَرُ : أُرَاہَا کَانَتْ تُصَلِّی مِنَ اللَّیْلِ فَخَشَعَتْ ، فَرَکَعَتْ فَسَجَدَتْ ، فَأَتَاہَا غَاوٍ مِنَ الْغُوَاۃِ فَتَجَتَّمَہَا ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَیْہَا ، فَقَالَتْ کَمَا قَالَ عُمَرُ ، فَخَلَّی سَبِیلَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৮৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
(٢٩٠٨٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ فرمایا کرتے تھے : سزاؤں کو اللہ رب العزت کے بندوں سے اپنی طاقت کے بقدر زائل کرو۔
(۲۹۰۸۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَقُولُونَ ، ادْرَؤُوا الْحُدُودَ عَنْ عِبَادِ اللہِ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৮৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
(٢٩٠٨٩) حضرت برد فرماتے ہیں کہ حضرت زھری نے ارشاد فرمایا : ہر شبہ کی وجہ سے سزاؤں کو دور کردو۔
(۲۹۰۸۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَن بُرْدٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : ادْفَعُوا الْحُدُودَ لِکُلِّ شُبْہَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৮৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
(٢٩٠٩٠) حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : قتل اور کوڑے کو مسلمانوں سے اپنی طاقت کے بقدر زائل کرو۔
(۲۹۰۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : ادْرَؤُوا الْقَتْلَ وَالْجَلْدَ عَنِ الْمُسْلِمِینَ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৯০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
(٢٩٠٩١) حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : اعتراف کرنے والوں سے سزاؤں کو دور کرو۔
(۲۹۰۹۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : قَالَ : اطْرُدُوا الْمُعْتَرِفِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৯১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
(٢٩٠٩٢) حضرت کلیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے ارشاد فرمایا : میں یمن میں تھا کہ میرے پاس ایک حاملہ عورت لائی گئی میں نے اس سے اس بارے میں سوال کیا ؟ تو اس نے کہا : کیا آپ ایسی حاملہ عورت کے متعلق پوچھ رہے ہیں جو خاوند کے علاوہ سے ثیبہ کی گئی ہے ؟ اللہ کی قسم ! جب سے میں اسلام لائی ہوں نہ میں نے کسی کو دوست بنایا اور نہ ہی کسی کو ہمنشین بنایا ہے لیکن ایک دن میں اپنے گھر کے صحن میں سوئی ہوئی تھی۔ اللہ کی قسم ! مجھے بیدار نہیں کیا گیا مگر ایک آدمی نے اس نے مجھے ہلکے سے اٹھایا اور اس نے میرے پیٹ میں ستارے جیسی چیز ڈال دی پھر میں نے اسے دور کرتے ہوئے اس کی طرف غور سے دیکھا میں نہیں جانتی کہ وہ اللہ کی مخلوق میں سے کون تھا ؟ آپ فرماتے ہیں : میں نے اس بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا : تو حضرت عمر نے جواب لکھا : اس عورت کو اور اس کی قوم کے چند لوگوں کو میرے پاس لے کر آؤ آپ فرماتے ہیں : ہم لوگ موسم حج میں ان کے پاس آئے حضرت عمر نے غصہ کی سی حالت میں فرمایا : شاید کہ تم اس عورت کے معاملہ میں مجھ پر کچھ سبقت لے گئے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں، وہ عورت اور اس کی قوم کے چند لوگ میرے ساتھ ہیں۔ پھر آپ نے اس عورت سے سوال کیا، تو اس نے آپ کو بھی ویسے ہی بات بتلائی جیسے اس نے مجھے بتلائی تھی۔ پھر آپ نے اس کی قوم سے اس کے متعلق پوچھا : تو ان لوگوں نے اس کی تعریف بیان کی اس پر حضرت عمر نے فرمایا : تِھَامیۃ کی جوان عورت بہت سونے والی ہے کبھی کبھار ایسا ہوجاتا ہے پس آپ نے اسے خوراک دی اور اسے کپڑے پہنائے اور اس کی قوم کو اس کے ساتھ اچھے برتاؤ کی وصیت کی۔
(۲۹۰۹۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَی : أُتِیَت وَأَنَا بِالْیَمَنِ بِامْرَأَۃٍ حُبْلَی ، فَسَأَلْتُہَا ؟ فَقَالَتْ : مَا تَسْأَلُ عَنِ امْرَأَۃٍ حُبْلَی ثَیِّبٍ مِنْ غَیْرِ بَعْلٍ ؟ أَمَا وَاللَّہِ مَا خَالَلْتُ خَلِیلاً ، وَلاَ خَادَنْتُ خِدْنًا مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، وَلَکِنْ بَیْنَا أَنَا نَائِمَۃٌ بِفِنَائِ بَیْتِی ، وَاللَّہِ مَا أَیْقَظَنِی إِلاَّ رَجُلٌ رقصنی وَأَلْقَی فِی بَطْنِی مِثْلَ الشِّہَابِ ، ثُمَّ نَظَرْت إِلَیْہِ مُقَفِّیًا مَا أَدْرِی مَنْ ہُوَ مِنْ خَلْقِ اللہِ ، فَکَتَبْتُ فِیہَا إِلَی عُمَرَ ، فَکَتَبَ عُمَرُ : وَافِنِی بِہَا ، وَبِنَاسٍ مِنْ قَوْمِہَا ، قَالَ : فَوَافَیْنَاہُ بِالْمَوْسِمِ ، فَقَالَ شَبَہَ الْغَضْبَانِ : لَعَلَّک قَدْ سَبَقْتَنِی بِشَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الْمَرْأَۃِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لاَ ، ہِیَ مَعِی وَنَاسٌ مِنْ قَوْمِہَا ، فَسَأَلَہَا ، فَأَخْبَرَتْہُ کَمَا أَخْبَرَتْنِی ، ثُمَّ سَأَلَ قَوْمَہَا فَأَثْنَوْا خَیْرًا ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : شَابَّۃٌ تِہَامِیَّۃٌ نُوَمۃ ، قَدْ کَانَ یُفْعَلُ ، فَمَارَّہَا ، وَکَسَاہَا ، وَأَوْصَی قَوْمَہَا بِہَا خَیْرًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৯২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
(٢٩٠٩٣) حضرت نزال بن سبرہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ ہم منی میں حضرت عمر کے ساتھ تھے ایک بھاری بھر کم عورت گدھے پر رو رہی تھی۔ قریب تھا کہ لوگ رش سے اس کو مار دیتے۔ وہ کہہ رہے تھے : تو نے زنا کیا ہے۔ پس جب وہ حضرت عمر کے پاس پہنچی آپ نے پوچھا : کس بات نے تجھے رلایا ؟ بیشک کبھی کبھار عورت کو بدکاری پر مجبور بھی کردیا جاتا ہے ! اس عورت نے کہا : میں بہت زیادہ سونے والی عورت ہوں اور اللہ رب العزت مجھے رات کی نماز کی توفیق عطا فرماتے تھے پس میں نے ایک رات نماز پڑھی پھر میں سو گئی اللہ کی قسم ! مجھے بیدار نہیں کیا مگر اس آدمی نے تحقیق جو مجھ پر سوار ہوچکا تھا۔ میں نے اس کو دور کرتے ہوئے غور سے دیکھا میں نہیں جانتی کہ وہ اللہ کی مخلوق میں سے کون تھا ؟ اس پر حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : اگر میں اس کو قتل کردوں تو مجھے جہنم کی سختی کا خوف ہے پھر آپ نے شہروں میں خط لکھ دیا : کہ کسی جان کو بغیر وجہ کے قتل نہ کیا جائے۔
(۲۹۰۹۳) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَۃَ ، قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ بِمِنًی مَعَ عُمَرَ ، إِذَا امْرَأَۃٌ ضَخْمَۃٌ عَلَی حِمَارَۃٍ تَبْکِی ، قَدْ کَادَ النَّاسُ أَنْ یَقْتُلُوہَا مِنَ الزِّحَامِ ، یَقُولُونَ : زَنَیْتِ ، فَلَمَّا انْتَہَتْ إِلَی عُمَرَ ، قَالَ : مَا یُبْکِیکِ ؟ إِنَّ الْمَرأَۃ رُبَّمَا اسْتُکْرِہَتْ ، فَقَالَتْ : کُنْت امْرَأَۃً ثَقِیلَۃَ الرَّأْسِ ، وَکَانَ اللَّہُ یَرْزُقُنِی مِنْ صَلاَۃِ اللَّیْلِ ، فَصَلَّیْتُ لَیْلَۃً ثُمَّ نِمْتُ ، فَوَاللَّہِ مَا أَیْقَظَنِی إِلاَّ الرَّجُلُ قَدْ رَکِبَنِی ، فَنَظرتُ إِلَیْہِ مُقْفِیًا مَا أَدْرِی مَنْ ہُوَ مِنْ خَلْقِ اللہِ ، فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ قَتَلْتُ ہَذِہِ خَشِیت عَلَی الأَخْشَبَیْنِ النَّارَ ، ثُمَّ کَتَبَ إِلَی الأَمْصَارِ : أَنْ لاَ تُقْتَلَ نَفْسٌ دُونَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৯৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
(٢٩٠٩٤) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے ارشاد فرمایا : سزاؤں کو مسلمانوں سے اپنی طاقت کے بقدر دور کرو پس جب تم مسلمانوں کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ پاؤ تو ان کو چھوڑ دو اس لیے کہ حاکم کا معافی میں غلطی کرنا سزا میں غلطی کرنے سے بہتر ہے۔
(۲۹۰۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیِّ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : ادْرَؤُوا الْحُدُودَ عَنِ الْمُسْلِمِینَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، فَإِذَا وَجَدْتُمْ لِلْمُسْلِمِ مَخْرَجًا ، فَخَلُّوا سَبِیلَہُ ، فَإِنَّ الإِمَامَ أَنْ یُخْطِیء فِی الْعَفْوِ ، خَیْرٌ مِنْ أَنْ یُخْطِئَ فِی الْعُقُوبَۃِ۔ (ترمذی ۱۴۲۴۔ حاکم ۳۸۴)
তাহকীক: