মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
سزاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৬ টি
হাদীস নং: ২৯১৫৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو بیت المال سے چوری کرلے اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩١٥٥) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جو بیت المال سے چوری کرتا ہو ؟ آپ نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور حضرت حکم نے ارشاد فرمایا : اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
(۲۹۱۵۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ حَمَّادًا عَنِ الرَّجُلِ یَسْرِقُ مِنْ بَیْتِ الْمَالِ ؟ قَالَ : یُقْطَعُ ، وَقَالَ الْحَکَمُ : لاَ یُقْطَعُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৫৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو بیت المال سے چوری کرلے اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩١٥٦) حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے بیت المال سے چوری کی تو حضرت سعد نے اس بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا۔ حضرت عمر نے حضرت سعد کو جواب لکھا : اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری نہیں ہوگی کیونکہ اس کا بھی بیت المال میں حصہ ہے۔
(۲۹۱۵۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِیِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ؛ أَنَّ رَجُلاً سَرَقَ مِنْ بَیْتِ الْمَالِ ، فَکَتَبَ فِیہِ سَعْدٌ إِلَی عُمَرَ ، فَکَتَبَ عُمَرُ إِلَی سَعْدٍ : لَیْسَ عَلَیْہِ قَطْعٌ ، لَہُ فِیہِ نَصِیبٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৫৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو بیت المال سے چوری کرلے اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩١٥٧) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جو بیت المال سے چوری کرتا ہو ؟ آپ نے فرمایا : اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری نہیں ہوگی۔
(۲۹۱۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَکَمَ عن الرجل یَسْرِقُ مِنْ بَیْتِ الْمَالِ؟ قَالَ: لَیْسَ عَلَیْہِ قَطْعٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৫৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو بیت المال سے چوری کرلے اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩١٥٨) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جو مال غنیمت سے چوری کرلے۔ آپ نے فرمایا : اس پر حد جاری نہیں ہوگی جب کہ اس شخص کا بھی حصہ ہو۔
(۲۹۱۵۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ؛ فِی الرَّجُلِ یَسْرِقُ مِنَ الْمَغْنَمِ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ حَدٌّ ، إِذَا کَانَ لَہُ فِیہِ نَصِیبٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৫৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو بیت المال سے چوری کرلے اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩١٥٩) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے ارشاد فرمایا : جب آدمی نے مال غنیمت سے چوری کی درآنحالیکہ اس کا بھی اس میں حصہ تھا تو اس کا ہاتھ نہیں کٹے گا اور اگر اس نے چوری کی مال غنیمت سے درآنحالیکہ اس کا اس میں حصہ نہیں تھا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
(۲۹۱۵۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إِذَا سَرَقَ الرَّجُلُ مِنَ الْغَنِیمَۃِ ، وَلَہُ فِیہَا شَیْئٌ لَمْ یُقْطَعْ ، فَإِنْ سَرَقَ مِنْہَا وَلَیْسَ لَہُ فِیہَا نَصِیبٌ قُطِعَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৫৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو بیت المال سے چوری کرلے اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩١٦٠) حضرت ابن عبید بن ابرص فرماتے ہیں حضرت علی کشادہ میدان میں اسلحہ تقسیم کر رہے تھے کہ ایک آدمی نے ذرہ کی ٹوپی لے لی اور اسے اپنے سر پر رکھ لیا پس ایک آدمی نے اسے اس حالت میں پایا تو وہ اسے حضرت علی کے پاس لے آیا، آپ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا اور فرمایا : اس کا بھی مال میں حصہ ہے۔
(۲۹۱۶۰) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنِ ابن عبَیْدِ بْنِ الأَبْرَصِ ؛ أَنَّ عَلِیًّا کَانَ یَقْسِمُ سِلاَحًا فِی الرَّحْبَۃِ ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِغْفَرًا ، فَالْتَحَفَ عَلَیْہِ ، فَوَجَدَہُ رَجُلٌ ، فَأَتَی بِہِ عَلِیًّا ، فَلَمْ یَقْطَعْہُ ، وَقَالَ : لَہُ فِیہِ شِرْکٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৬০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کے بیان میں جو اپنے آقا کے مال میں سے چوری کرلے، اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩١٦١) حضرت عبداللہ بن عمرو بن حضرمی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس اپنا ایک غلام لایا اور میں نے عرض کی، آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں، آپ نے پوچھا : اس کا قصور کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اس نے میری بیوی کا آئینہ چوری کیا ہے جو ساٹھ دراہم سے بہتر ہے، حضرت عمر نے فرمایا : تمہارے غلام نے تمہارا ہی مال چوری کیا ہے۔
(۲۹۱۶۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ ؛ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَضْرَمِیِّ ، قَالَ : أَتَیْتُ عُمَرَ بِغُلاَمٍ لِی ، فَقُلْتُ : اقْطَعْہُ ، قَالَ : وَمَا لَہُ ؟ قُلْتُ : سَرَقَ مِرْآۃً لاِمْرَأَتِی خَیْرٌ مِنْ سِتِّینَ دِرْہَمًا ، قَالَ عُمَرُ : غُلاَمُکُمْ یَسْرقُ مَتَاعَکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৬১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کے بیان میں جو اپنے آقا کے مال میں سے چوری کرلے، اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩١٦٢) حضرت عمرو بن شرحبیل فرماتے ہیں کہ حضرت معقل مزنی حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس آئے اور فرمایا : میرے غلام نے میرا چوغہ چوری کیا ہے تو آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا : نہیں، تیرے مال کا بعض حصہ میں بعض شائع ہے۔
(۲۹۱۶۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَنْ ہَمَّامٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ ،قَالَ : جَائَ مَعْقِلٌ الْمُزَنِیّ إِلَی عَبْدِ اللہِ ، فَقَالَ : غُلاَمِی سَرَقَ قَبَائِی ، فَاقْطَعُہُ ؟ قَالَ عَبْدُ اللہِ : لاَ ، مَالِکُ بَعْضُہُ فِی بَعْضٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৬২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کے بیان میں جو اپنے آقا کے مال میں سے چوری کرلے، اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩١٦٣) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا : جب میرے غلام نے میرے مال سے چوری کی تھی تو میں نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
(۲۹۱۶۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ أَنَّ عَلِیًّا ، قَالَ : إِذَا سَرَقَ عَبْدِی مِنْ مَالِی لَمْ أَقْطَعْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৬৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کے بیان میں جو اپنے آقا کے مال میں سے چوری کرلے، اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩١٦٤) حضرت سعید بن مینائ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر حضرت زبیر کے صدقہ کا انتظام و انصرام سنبھالتے تھے اور وہ صدقہ کا مال اس گھر میں ہوتا تھا جس میں کوئی شخص حضرت عبداللہ بن زبیر اور ان کی باندی کے علاوہ داخل نہیں ہوسکتا تھا پس اس میں سے کچھ مال گم ہوگیا۔ تو آپ نے باندی سے کہا : اس گھر میں میرے اور تیرے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوتا تو کس نے یہ مال لیا ہے ؟ باندی نے اقرار کرلیا۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : اے سعید اس کو لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ د و اس لیے کہ اگر میرا ہوتا تو پھر اس کا ہاتھ نہ کٹتا۔
(۲۹۱۶۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَیْمُ بْنُ حَیَّانَ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مِینَائَ ، قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ بْنُ الزُّبَیْرِ یَلِی صَدَقَۃَ الزُّبَیْرِ ، وَکَانَتْ فِی بَیْتٍ لاَ یَدْخُلُہُ أَحَدٌ غَیْرُہُ ، وَغَیْرُ جَارِیَۃٍ لَہُ ، فَفَقَدَ شَیْئًا مِنَ الْمَالِ، فَقَالَ لِلْجَارِیَۃِ : مَا کَانَ یَدْخُلُ ہَذَا الْبَیْتَ غَیْرِی وَغَیْرُک ، فَمَنْ أَخَذَ ہَذَا الْمَالَ ؟ فَأَقَرَّتِ الْجَارِیَۃُ ، فَقَالَ لِی : یَا سَعِیدُ ، انْطَلِقْ بِہَا فَاقْطَعْ یَدَہَا ، فَإِنَّ الْمَالَ لَوْ کَانَ لِی لَمْ یَکُنْ عَلَیْہَا قَطْعٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৬৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو اپنی ماں کی باندی سے صحبت کرلے
(٢٩١٦٥) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد اور حضرت حکم سے اس آدمی کے متعلق دریافت کیا جو اپنی ماں کی باندی سے صحبت کرلے ؟ ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : اس پر حد جاری ہوگی۔
(۲۹۱۶۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، قَالَ: سَأَلْتُ حَمَّادًا، وَالْحَکَمَ عَنِ الرَّجُلِ یَقَعُ عَلَی جَارِیَۃِ أُمِّہِ؟ قَالاَ: عَلَیْہِ الْحَدُّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৬৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو اپنی ماں کی باندی سے صحبت کرلے
(٢٩١٦٦) حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے ارشاد فرمایا : اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔
(۲۹۱۶۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَن ، قَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ حَدٌّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৬৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چور کے بیان میں جس کو پکڑ کر لایا گیا اور اس سے یوں کہا گیا : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ کہہ دے : نہیں
(٢٩١٦٧) حضرت یزید بن ابی کبشہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوالدردائ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے چوری کی تھی۔ آپ نے اس سے فرمایا : اے سلامہ ! کیا تو نے چوری کی ہے ؟ کہہ دے : نہیں۔
(۲۹۱۶۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الأَقْمَرِ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی کَبْشَۃَ ؛ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ أُتِیَ بِامْرَأَۃٍ قَدْ سَرَقَتْ ، فَقَالَ لَہَا : سَلامَۃُ ، أَسَرَقْتِ ؟ قُولِی : لاَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৬৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چور کے بیان میں جس کو پکڑ کر لایا گیا اور اس سے یوں کہا گیا : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ کہہ دے : نہیں
(٢٩١٦٨) حضرت ابو مسعود نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی لایا گیا جس نے چوری کی تھی۔ آپ نے پوچھا : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ تو یوں کہہ دے : میں نے اس مال کو پایا ہے۔ اس نے کہہ دیا : میں نے اس مال کو پایا ہے۔ تو آپ نے اسے چھوڑ دیا۔
(۲۹۱۶۸) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مَوْلًی لأَبِی مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ ، قَالَ : أُتِیَ بِرَجُلٍ سَرَقَ ، فَقَالَ : أَسَرَقْتَ ؟ قُلْ : وَجَدْتُہُ ، قَالَ : وَجَدْتُہُ ، فَخَلَّی سَبِیلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৬৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چور کے بیان میں جس کو پکڑ کر لایا گیا اور اس سے یوں کہا گیا : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ کہہ دے : نہیں
(٢٩١٦٩) حضرت ابو المتوکل فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ کے پاس ایک چور لایا گیا درآنحالیکہ ان دنوں آپ امیر تھے۔ آپ نے فرمایا : کا تو نے چوری کی ہے ؟ کیا تو نے چوری کی ہے ؟ یوں کہہ دو ، نہیں، نہیں، دو یا تین مرتبہ فرمایا۔
(۲۹۱۶۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانِ النَّاجِی ، عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ ؛ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ أُتِیَ بِسَارِقٍ ، وَہُوَ یَوْمَئِذٍ أَمِیرٌ ، فَقَالَ : أَسَرَقْتَ ؟ أَسَرَقْتَ ؟ قُلْ : لاَ ، لاَ مَرَّتَیْنِ ، أَوْ ثَلاَثًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৬৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چور کے بیان میں جس کو پکڑ کر لایا گیا اور اس سے یوں کہا گیا : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ کہہ دے : نہیں
(٢٩١٧٠) حضرت محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان فرماتے ہیں کہ ایک آدی نے چادر چوری کی تو اس کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا لوگ کہنے لگے : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس نے چادر چوری کی ہے اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرا گمان نہیں ہے کہ اس نے چوری کی ہو۔
(۲۹۱۷۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ؛ أَنَّ رَجُلاً سَرَقَ شَمْلَۃً، فَأُتِیَ بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَذَا سَرَقَ شَمْلَۃً ، فَقَالَ : مَا إِخَالَہُ سَرَقَ۔
(عبدالرزاق ۱۳۸۳۔ دارقطنی ۱۰۲)
(عبدالرزاق ۱۳۸۳۔ دارقطنی ۱۰۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৭০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چور کے بیان میں جس کو پکڑ کر لایا گیا اور اس سے یوں کہا گیا : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ کہہ دے : نہیں
(٢٩١٧١) حضرت سبیع ابو سالم فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسن بن علی کے پاس حاضر تھا درآنحالیکہ ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اقرار کیا تھا اس پر حضرت حسن نے اس سے فرمایا : شاید کہ تو نے دھوکا سے چھین لیا ہوتا کہ وہ یوں کہہ دے کہ نہیں۔
(۲۹۱۷۱) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ غَالِبٍ أَبِی الْہُذَیْلِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُبَیْعًا أَبَا سَالِمٍ ، یَقُولُ : شَہِدْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ ، وَأُتِیَ بِرَجُلٍ أَقَرَّ بِسَرِقَۃٍ ، فَقَالَ لَہُ الْحَسَنُ : لَعَلَّک اخْتَلَسْتَ ؟ لِکَیْ یَقُولَ : لاَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৭১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چور کے بیان میں جس کو پکڑ کر لایا گیا اور اس سے یوں کہا گیا : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ کہہ دے : نہیں
(٢٩١٧٢) حضرت عکرمہ بن خالد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کیا تھا اس پر حضرت عمر نے فرمایا : بیشک میری رائے یہ ہے کہ اس آدمی کا ہاتھ یہ چور کا ہاتھ نہیں ہے، اس آدمی نے کہا : اللہ کی قسم : میں چور نہیں ہوں، سو حضرت عمر نے اسے چھوڑ دیا اور اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
(۲۹۱۷۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بِسَارِقٍ قَدِ اعْتَرَفَ ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّی لأَرَی یَدَ رَجُلٍ مَا ہِیَ بِیَدِ سَارِقٍ، قَالَ الرَّجُلُ: وَاللَّہِ مَا أَنَا بِسَارِقٍ، فَأَرْسَلَہُ عُمَرُ وَلَمْ یَقْطَعْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৭২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چور کے بیان میں جس کو پکڑ کر لایا گیا اور اس سے یوں کہا گیا : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ کہہ دے : نہیں
(٢٩١٧٣) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ نے ارشاد فرمایا : گزرے ہوئے لوگوں میں سے جن کے پاس چور لایا جاتا تھا وہ پوچھتے تھے : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ اور میں نہیں جانتا ان کے بارے میں مگر یہ کہ آپ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کا نام لیا۔
(۲۹۱۷۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : کَانَ مَنْ مَضَی یُؤْتَی بِالسَّارِقِ ، فَیَقُولُ : أَسَرَقْتَ ؟ وَلاَ أَعْلَمہُ إِلاَّ سَمَّی أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৭৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چور کے بیان میں جس کو پکڑ کر لایا گیا اور اس سے یوں کہا گیا : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ کہہ دے : نہیں
(٢٩١٧٤) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت مسکین نے جو میرے گھر کے ایک فرد ہیں، مجھے بیان کیا کہ میں حضرت علی کے پاس حاضر تھا کہ ایک آدمی اور عورت کو لایا گیا جو دونوں ویران جگہ میں پائے گئے تھے، حضرت علی نے اس آدمی سے پوچھا : کیا تو اس عورت کے قریب ہوا تھا ؟ اس پر حضرت علی کے ہمنشینوں نے کہا : کہہ دے : نہیں اس آدمی نے کہا نہیں تو آپ نے اسے چھوڑ دیا۔
(۲۹۱۷۴) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی مِسْکِینٌ ، رَجُلٌ مِنْ أَہْلِی ، قَالَ : شَہِدْتُ عَلِیًّا أُتِیَ بِرَجُلٍ وَامْرَأَۃٍ وُجِدَا فِی خَرِبَۃٍ ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : أَقَرُبْتَہَا ؟ فَجَعَلَ أَصْحَابُ عَلِیٍّ یَقُولُونَ لَہُ : قُلْ : لاَ ، فَقَالَ : لاَ ، فَخَلَّی سَبِیلَہُ۔
তাহকীক: