মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
سزاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৬ টি
হাদীস নং: ২৯১৭৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چور کے بیان میں جس کو پکڑ کر لایا گیا اور اس سے یوں کہا گیا : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ کہہ دے : نہیں
(٢٩١٧٥) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ماعز بن مالک سے فرمایا : شاید کہ تو نے بوسہ لیا ہو یا چھوا ہو یا تو صرف اس سے گلے ملا ہوگا۔
(۲۹۱۷۵) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ یَحْیَی ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ : لَعَلَّک قَبَّلْتَ ، أَوْ لَمَسْتَ ، أَوْ بَاشَرْتَ ۔ (احمد ۲۵۵۔ بخاری ۶۸۲۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৭৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو پھل اور کھانا چوری کرتا ہو
(٢٩١٧٦) حضرت رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پھل اور کھجور کے شگوفے کی چوری میں ہاتھ نہیں کٹے گا۔
(۲۹۱۷۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ قَطْعَ فِی ثُمَّرٍ ، وَلاَ کَثَرٍ۔ (احمد ۴۶۳۔ مالک ۸۳۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৭৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو پھل اور کھانا چوری کرتا ہو
(٢٩١٧٧) حضرت شعیب فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے ارشاد فرمایا : جانور میں کسی بھی صورت میں ہاتھ نہیں کٹے گا یہاں تک کہ وہ جانور کے رات رہنے کی جگہ تک پہنچ جائے اور نہ پھلوں کی کسی چوری میں ہاتھ کٹے گا یہاں تک کہ وہ کھجور کے خشک ہونے کی جگہ تک نہ پہنچ جائے۔
(۲۹۱۷۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، قَالَ : لَیْسَ فِی شَیْئٍ مِنَ الْحَیَوَانِ قَطْعٌ حَتَّی یَأْوِیَ الْمُرَاحَ ، وَلَیْسَ فِی شَیْئٍ مِنَ الثِّمَارِ قَطْعٌ حَتَّی یَأْوِیَ الْجَرِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৭৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو پھل اور کھانا چوری کرتا ہو
(٢٩١٧٨) حضرت سعید فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے ارشاد فرمایا : پھلوں میں سے کسی بھی صورت میں ہاتھ نہیں کٹے گا مگر جو کھجور کے خشک ہونے کی جگہ تک پہنچ جائے اور جانور میں بھی کسی صورت میں ہاتھ نہیں کٹے گا مگر اس صورت میں کہ وہ ان کے رات رہنے کی جگہ تک پہنچ جائے۔
(۲۹۱۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَیْسَ فِی شَیْئٍ مِنَ الثِّمَارِ قَطْعٌ ، إِلاَّ مَا أَوَی الْجَرِینَ ، وَلَیْسَ فِی شَیْئٍ مِنَ الْمَاشِیَۃِ قَطْعٌ ، إِلاَّ فِیمَا آوَی الْمُرَاحَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৭৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو پھل اور کھانا چوری کرتا ہو
(٢٩١٧٩) حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : کھجور کے خوشوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور نہ ہی قحط والے سال میں۔
(۲۹۱۷۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ : قَالَ یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لاَ یُقْطَعُ فِی عِذْقٍ ، وَلاَ فِی عَامِ سَنَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৭৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو پھل اور کھانا چوری کرتا ہو
(٢٩١٨٠) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے کھانا چوری کیا تھا تو آپ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
(۲۹۱۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، وَالسُّرِیِّ بْنِ یَحْیَی ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِرَجُلٍ سَرَقَ طَعَامًا ، فَلَمْ یَقْطَعْہُ۔ (ابوداؤد ۲۴۵۔ عبدالرزاق ۱۸۹۱۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৮০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو پھل اور کھانا چوری کرتا ہو
(٢٩١٨١) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے کھانا چوری کیا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
(۲۹۱۸۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ ، وَعَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِرَجُلٍ سَرَقَ طَعَامًا ، فَلَمْ یَقْطَعْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৮১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو پھل اور کھانا چوری کرتا ہو
(٢٩١٨٢) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے اس آدمی کے متعلق دریافت کیا جو کھانا چوری کرلے یا صحراء سے گدھا چوری کرلے ؟ آپ نے فرمایا : اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری نہیں ہوگی۔
(۲۹۱۸۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ عَنِ الرَّجُلِ یَسْرِقُ الطَّعَامَ ، أَوِ الْحِمَارَ مِنَ الصَّحْرَائِ ؟ فَقَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ قَطْعٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৮২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو پھل اور کھانا چوری کرتا ہو
(٢٩١٨٣) حضرت عبدالرحمن بن قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک مد میں یا کھانے کے چند مدوں میں ہاتھ کاٹا۔
(۲۹۱۸۳) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ الْقَاسِمِ ، قَالَ : قَطَعَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی مُدٍّ ، أَوْ أَمْدَادٍ مِنْ طَعَامٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৮৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو پھل اور کھانا چوری کرتا ہو
(٢٩١٨٤) حضرت حصین بن حدیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو سنا آپ ارشاد فرما رہے تھے : کھجور کے شگوفے کی چور ی میں اور قحط والے سال میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
(۲۹۱۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ حسان بْنِ زَاہِرٍ ، عَنْ حُصَیْنِ بْنِ حُدَیرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ وہو یَقُولُ : لاَ قَطْعَ فِی عِذْقٍ ، وَلاَ فِی عَامِ سَنَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৮৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو پھل اور کھانا چوری کرتا ہو
(٢٩١٨٥) حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت زھری نے ارشاد فرمایا : پھل اور چرنے والے جانور کی چوری میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہوگی لیکن اس میں سخت سزا اور دگنا تاوان ادا کرنا ہوگا اور جب وہ شخص جانوروں کے رات رہنے کی جگہ یا کھجور خشک ہونے کی جگہ تک پہنچ جائے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا جب وہ چار دینار کی مقدار جتنی چوری کرلے۔
(۲۹۱۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ؛ أَنَّہُ قَالَ: لَیْسَ فِی الثَمَرَۃِ قَطْعٌ، وَلاَ فِی الْمَاشِیَۃِ الرَّاعِیَۃِ، وَلَکِنْ فِیہَا نَکَالٌ وَتَضْعِیفُ الْغُرْمِ ، فَإِذَا آوَاہا الْمُرَاحُ ، أَوِ الْجَرِینُ ، یُقْطَعُ إِذَا سَرَقَ قَدْرَ رُبْعِ دِینَارٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৮৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں کاٹنے کے بیان میں، جو یوں کہے : ایڑی چھوڑ دی جائے گی
(٢٩١٨٦) حضرت نعمان بن مرہ زرقی فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے چور کے پاؤں کا تلوا کاٹ دیا۔
(۲۹۱۸۶) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ حَکِیمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَیْفٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُرَّۃَ الزُّرَقِیِّ ؛ أَنَّ عَلِیًّا قَطَعَ سَارِقًا مِنَ الْخَصْرِ ، خَصْرِ الْقَدَمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৮৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں کاٹنے کے بیان میں، جو یوں کہے : ایڑی چھوڑ دی جائے گی
(٢٩١٨٧) حضرت ام رزین فرماتی ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کیا ہمارے حکمران اس سے عاجز آگئے ہیں کہ وہ اس طرح کاٹیں جیسا اس دیہاتی نجدہ نے کاٹا ہے۔ یعنی اس نے کاٹا ہے اور بالکل غلطی نہیں کی : اس نے پاؤں کاٹ دیا اور اس کی ایڑی چھوڑ دی۔
(۲۹۱۸۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ الْحَنَفِیِّ ، عَنْ أُمِّ رَزِینٍ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : أَیَعْجِزُ أُمَرَاؤُنَا ہَؤُلاَئِ أَنْ یَقْطَعُوا کَمَا قَطَعَ ہَذَا الأَعْرَابِیُّ ، یَعْنِی نَجْدَۃَ ، فَلَقَدْ قَطَعَ فَمَا أَخْطَأَ ، یَقْطَعُ الرِّجْلَ ، وَیَذَرُ عَاقِبَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৮৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں کاٹنے کے بیان میں، جو یوں کہے : ایڑی چھوڑ دی جائے گی
(٢٩١٨٨) حضرت عبدالملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ سے کاٹنے کے متعلق پوچھا گیا ؟ آپ نے فرمایا : جہاں تک پاؤں کا تعلق ہے تو اس کی ایڑی چھوڑ دی جائے گی۔
(۲۹۱۸۸) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، وَعَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : سُئِلَ عَنِ الْقَطْعِ ؟ فَقَالَ : أَمَّا الرِّجْلُ ، فَیُتْرَکُ لَہُ عَقِبُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৮৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں کاٹنے کے بیان میں، جو یوں کہے : ایڑی چھوڑ دی جائے گی
(٢٩١٨٩) حضرت علاء بن عبدالکریم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جعفر نے ارشاد فرمایا : پاؤں قدم کے درمیان والے جوڑ سے کاٹا جائے گا۔
(۲۹۱۸۹) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِالْکَرِیمِ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ، قَالَ: الرِّجْلُ تُقْطَعُ مِنْ وَسَطِ الْقَدَمِ مِنْ مَفْصِلٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৮৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں کاٹنے کے بیان میں، جو یوں کہے : ایڑی چھوڑ دی جائے گی
(٢٩١٩٠) حضرت ابو جعفر کا ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
(۲۹۱۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْعَلاَئِ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ؛ بِنَحْوِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৯০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں کاٹنے کے بیان میں، جو یوں کہے : ایڑی چھوڑ دی جائے گی
(٢٩١٩١) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے جوڑ سے ہاتھ کاٹا اور حضرت علی نے پاؤں کاٹا، حضرت عمرو بن دینار نے پاؤں کے نصف حصہ کی طرف اشارہ کیا۔
(۲۹۱۹۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَیْسَرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ، عنْ عِکْرِمَۃَ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَطَعَ الْیَدَ مِنَ الْمَفْصِلِ ، وَقَطَعَ عَلِیٌّ الْقَدَمَ ، وَأَشَارَ عَمْرٌو إِلَی شَطْرِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৯১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ یوں کہیں : کہاں سے کاٹا جائے گا
(٢٩١٩٢) حضرت رجاء بن حیوہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوڑ سے پاؤں کاٹا۔
(۲۹۱۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَسَرَّۃَ بْنِ مَعْبَدٍ اللَّخْمِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَدِیَّ بْنِ عَدِیٍّ یُحَدِّثُ ، عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَطَعَ رَجُلاً مِنَ الْمَفْصِلِ۔ (۲۷۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৯২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ یوں کہیں : کہاں سے کاٹا جائے گا
(٢٩١٩٣) حضرت سمرہ ابو عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے حیرہ میں ایک آدمی کو دیکھا جس کا جوڑ سے پاؤں کٹا ہوا تھا میں نے پوچھا : کس نے کاٹا ؟ اس نے کہا : نیک آدمی حضرت علی نے میرا پاؤں کاٹا بہرحال انھوں نے مجھ پر ظلم نہیں کیا۔
(۲۹۱۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سَمُرَۃَ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : رَأَیْتُ بِالْحِیرَۃ مَقْطُوعًا مِنَ الْمَفْصِلِ ، فَقُلْتُ : مَنْ قَطَعَک ؟ قَالَ : قَطَعَنی الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلِیٌّ ، أَمَا إِنَّہُ لَمْ یَظْلِمْنِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৯৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ یوں کہیں : کہاں سے کاٹا جائے گا
(٢٩١٩٤) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ہاتھ جوڑ سے کاٹا۔
(۲۹۱۹۴) حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ؛ أَنَّ عُمَرَ قَطَعَ الْیَدَ مِنَ الْمَفْصِلِ۔
তাহকীক: