মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

سزاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৬ টি

হাদীস নং: ২৯১৯৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چور کے ہاتھ کو داغ دینے کا بیان
(٢٩١٩٥) حضرت ابن ثوبان فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹا پھر خون روکنے کے لیے اسے داغ دیا۔
(۲۹۱۹۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ ، عَنْ ابْنِ ثَوْبَانٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَطَعَ یَدَ رَجُلٍ ، ثُمَّ حَسَمَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৯৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چور کے ہاتھ کو داغ دینے کا بیان
(٢٩١٩٦) حضرت محمد بن عبدالرحمن سے بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذکورہ فعل اس سند سے منقول ہے۔
(۲۹۱۹۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، رفعہ ؛ مِثْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৯৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چور کے ہاتھ کو داغ دینے کا بیان
(٢٩١٩٧) حضرت عمرو بن ابو سفیان فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر کے پاس ایک چور لایا گیا پس آپ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا اس پر حضرت ابان بن عثمان نے ان سے فرمایا : اس کو داغ دو ۔ آپ نے فرمایا : تم تو اس پر بہت رحم کرنے والے ہو۔ آپ نے فرمایا : نہیں لیکن یہ عمل سنت ہے۔
(۲۹۱۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی سُفْیَانَ ؛ أَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ أُتِیَ بِسَارِقٍ ، فَقَطَعَہُ ، فَقَالَ لَہُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ : احْسِمْہُ ، فَقَالَ : إِنَّک بِہِ لَرَحِیمٌ ، قَالَ : لاَ ، وَلَکِنَّہُ مِنَ السُّنَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৯৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چور کے ہاتھ کو داغ دینے کا بیان
(٢٩١٩٨) حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے ارشاد فرمایا : چور کو داغ دینا سنت طریقہ ہے۔
(۲۹۱۹۸) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : مِنَ السُّنَّۃِ حَسْمُ السَّارِقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৯৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چور کے ہاتھ کو داغ دینے کا بیان
(٢٩١٩٩) حضرت حجیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی چوروں کے ہاتھ کاٹتے اور ان کو داغ دیتے پھر ان کو قید کردیتے اور ان کا دو ادوار کرتے۔ پس جب زخم تندرست ہوجاتا فرماتے، اپنے ہاتھوں کو اٹھاؤ سو وہ ان کو اٹھاتے گویا کہ وہ سرخ عضو تناسل ہوں پھر آپ فرماتے : تمہارے ہاتھ کس نے کاٹے ؟ وہ جواب دیتے : علی نے۔ آپ فرماتے : کیوں کاٹے ؟ وہ جواب دیتے۔ ہم نے چوری کی تھی۔ پس آپ فرماتے اے اللہ : تو گواہ رہ اے اللہ ! تو گواہ رہ، تم چلے جاؤ۔
(۲۹۱۹۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبْجَرَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ حُجِّیَّۃَ ؛ أَنَّ عَلِیًّا کَانَ یَقْطَعُ اللُّصُوصَ وَیَحْسِمُہُمْ وَیَحْبِسُہُمْ وَیُدَاوِیہِمْ ، فَإِذَا بَرَؤُوا ، قَالَ : أرْفَعُوا أَیْدِیَکُمْ ، فَیَرْفَعُونَہَا کَأَنَّہَا أُیُورُ الْحُمُرِ ، ثُمَّ یَقُولُ : مَنْ قَطَعَکُمْ ؟ فَیَقُولُونَ : عَلِیٌّ ، فَیَقُولُ : وَلِمَ ؟ فَیَقُولُونَ : إِنَّا سَرَقْنَا ، فَیَقُولُ : اللَّہُمَّ اشْہَدْ ، اللَّہُمَّ اشْہَدْ ، اذْہَبُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৯৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو پرندہ یا شکرا چوری کرلے، اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩٢٠٠) حضرت یزید ابن خصیفہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے پرندہ چوری کیا تھا تو آپ نے اس بارے میں حضرت سائب بن یزید سے سے فتویٰ پوچھا انھوں نے فرمایا : میں نے کسی کو نہیں دیکھا جس نے پرندے کی چوری میں ہاتھ کاٹا ہو۔ اور اس بارے میں چور پر کاٹنے کی سزا جار ی نہیں ہوگی حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اسے چھوڑ دیا اور اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
(۲۹۲۰۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ زُہَیْرِ بْنِ مُحَمَّدِ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ ، قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِرَجُلٍ قد سَرَقَ طَیْرًا ، فَاسْتَفْتَی فِی ذَلِکَ السَّائِبَ بْنَ یَزِیدَ ، فَقَالَ : مَا رَأَیْتُ أَحَدًا قَطَعَ فِی الطَّیْرِ ، وَمَا عَلَیْہِ فِی ذَلِکَ قَطْعٌ ، فَتَرَکَہُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَلَمْ یَقْطَعْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২০০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو پرندہ یا شکرا چوری کرلے، اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩٢٠١) حضرت عبداللہ بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے مرغی چوری کی تھی۔ تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ فرمایا : حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے ان سے فرمایا کہ حضرت عثمان نے ارشاد فرمایا : پرندے کی چوری میں کاٹنے کی سزا نہیں ہوگی۔
(۲۹۲۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْن یَسَارٍ ، قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی رَجُلٍ سَرَقَ دَجَاجَۃً ، فَأَرَادَ أَنْ یَقْطَعَہُ ، فَقَالَ لَہُ أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : قَالَ عُثْمَانُ : لاَ قَطْعَ فِی الطَّیْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২০১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو پرندہ یا شکرا چوری کرلے، اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩٢٠٢) حضرت ابو خالد کسی آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی پرندے کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹتے تھے۔
(۲۹۲۰۲) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَقْطَعُ فِی الطَّیْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২০২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو پرندہ یا شکرا چوری کرلے، اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩٢٠٣) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے ایک قابل اعتماد بزرگ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہوگی اس باز میں جس کو چوری کرلیا گیا ہو اگرچہ اس کی قیمت ایک دینار یا اس سے بھی زائد ہو۔
(۲۹۲۰۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ بَعْضَ مَنْ أَرْضَی ، یَقُولُ : لاَ قَطْعَ فِی بَازٍ سُرِقَ ، وَإِنْ کَانَ ثَمَنُہُ دِینَارًا ، أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২০৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو پرندہ یا شکرا چوری کرلے، اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩٢٠٤) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن شعیب بھی یوں ہی فرمایا کرتے تھے۔
(۲۹۲۰۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، قَالَ : کَانَ یَقُولُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২০৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کفن چور کا بیان جس کو پکڑ لیا گیا ہو، اس کی سزا کیا ہے ؟
(٢٩٢٠٥) حضرت زھری فرماتے ہیں کہ مروان بن حکم کے پاس چند لوگ لائے گئے جو قبروں سے کفن چوری کرتے تھے تو مروان نے ان کو مارا اور ان کو جلا وطن کردیا اس حال میں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ وافر مقدار میں موجود تھے۔
(۲۹۲۰۵) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : أُتِیَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ بِقَوْمٍ یَخْتَفُونَ الْقُبُورَ ، یَعْنِی یَنْبُشُونَ ، فَضَرَبَہُمْ وَنَفَاہُمْ ، وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২০৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کفن چور کا بیان جس کو پکڑ لیا گیا ہو، اس کی سزا کیا ہے ؟
(٢٩٢٠٦) حضرت زھری فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ کے زمانہ خلافت میں جب مروان مدینہ کا امیر تھا تو اس دوران ایک کفن چور کو پکڑا گیا تو مروان نے مدینہ میں موجود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ اور فقہاء سے اس کے متعلق پوچھا ؟ پس ان سب نے کسی کو نہیں پایا جس نے کفن چور کا ہاتھ کاٹا ہو سو ان سب کی رائے اس بات پر متفق ہوئی کہ اس کو مارا جائے اور چکر لگوایا جائے۔
(۲۹۲۰۶) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : أُخِذَ نَبَّاشٌ فِی زَمَانِ مُعَاوِیَۃَ ، زَمَانَ کَانَ مَرْوَانُ عَلَی الْمَدِینَۃِ ، فَسَأَلَ مَنْ کَانَ بِحَضْرَتِہِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِینَۃِ وَالْفُقَہَائِ ؟ فَلَمْ یَجِدُوا أَحَدًا قَطَعَہُ ، قَالَ : فَأَجْمَعَ رَأْیُہُمْ عَلَی أَنْ یَضْرِبَہُ ، وَیُطَافَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২০৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کفن چور کا بیان جس کو پکڑ لیا گیا ہو، اس کی سزا کیا ہے ؟
(٢٩٢٠٧) حضرت معمر فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے کفن چور کا ہاتھ کاٹا۔
(۲۹۲۰۷) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَطَعَ نَبَّاشًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২০৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کفن چور کا بیان جس کو پکڑ لیا گیا ہو، اس کی سزا کیا ہے ؟
(٢٩٢٠٨) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی اور حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : ہمارے مردوں کے چور کا بھی ایسے ہی ہاتھ کاٹا جائے گا جیسا کہ ہمارے زندوں کے چور کا کاٹا جاتا ہے۔
(۲۹۲۰۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، وَالشَّعْبِیِّ ، قَالاَ : یُقْطَعُ سَارِقُ أَمْوَاتِنَا ، کَمَا یُقْطَعُ سَارِقُ أَحْیَائِنَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২০৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کفن چور کا بیان جس کو پکڑ لیا گیا ہو، اس کی سزا کیا ہے ؟
(٢٩٢٠٩) حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطائ سے کفن چور کے متعلق پوچھا ؟ آپ نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
(۲۹۲۰۹) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَاجٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَطَائً عَنِ النَّبَّاشِ ؟ قَالَ : یُقْطَعُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২০৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کفن چور کا بیان جس کو پکڑ لیا گیا ہو، اس کی سزا کیا ہے ؟
(٢٩٢١٠) حضرت عبدالملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ سے کفن چور کے بارے میں مروی ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا : وہ چور کے درجہ میں ہے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
(۲۹۲۱۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی النَّبَّاشِ ، قَالَ : ہُوَ بِمَنْزِلَۃِ السَّارِقِ ، یُقْطَعُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২১০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کفن چور کا بیان جس کو پکڑ لیا گیا ہو، اس کی سزا کیا ہے ؟
(٢٩٢١١) حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بصری سے کفن چور کے متعلق سوال کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور میں نے حضرت شعبی سے سوال کیا ؟ تو آپ نے بھی فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
(۲۹۲۱۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ أَشْعَثَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنِ النَّبَّاشِ؟ فَقَالَ: یُقْطَعُ، وَسَأَلْتُ الشَّعْبِیَّ؟ فَقَالَ: یُقْطَعُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২১১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کفن چور کا بیان جس کو پکڑ لیا گیا ہو، اس کی سزا کیا ہے ؟
(٢٩٢١٢) حضرت حکم اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم سے کفن چور کے بارے میں مروی ہے آپ نے ارشاد فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
(۲۹۲۱۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، وَحَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ؛ فِی النَّبَّاشِ ، قَالَ : یُقْطَعُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২১২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کفن چور کا بیان جس کو پکڑ لیا گیا ہو، اس کی سزا کیا ہے ؟
(٢٩٢١٣) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت حماد اور ان کے اصحاب نے فرمایا : کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اس لیے کہ وہ میت کے گھر میں داخل ہوا تھا۔
(۲۹۲۱۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ مُغِیرَۃَ، عَنْ حَمَّادٍ ، وَأَصْحَابِہِ ، قَالُوا: یُقْطَعُ النَّبَّاشُ ، لأَنَّہُ قَدْ دَخَلَ عَلَی الْمَیِّتِ بَیْتَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২১৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کفن چور کا بیان جس کو پکڑ لیا گیا ہو، اس کی سزا کیا ہے ؟
(٢٩٢١٤) حضرت ابن یمان کسی شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت مکحول نے ارشاد فرمایا : ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مگر یہ کہ قبر کا دروازہ ہو۔
(۲۹۲۱۴) حَدَّثَنَا ابْنُ یَمَانٍ ، عَنْ شَیْخٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ : لاَ یُقْطَعُ ، إِلاَّ أَنْ یَکُونَ لِلْقَبْرِ بَابٌ۔
tahqiq

তাহকীক: