মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

سزاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৬ টি

হাদীস নং: ২৯২১৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کفن چور کا بیان جس کو پکڑ لیا گیا ہو، اس کی سزا کیا ہے ؟
(٢٩٢١٥) حضرت عبداللہ بن مختار فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن قرہ نے ارشاد فرمایا : کفن چوری کرنے والا چور ہے پس اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔
(۲۹۲۱۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ معاویۃ بْنِ قُرَّۃَ ، قَالَ : النَّبَّاشُ لِصٌّ ، فَاقْطَعْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২১৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کفن چور کا بیان جس کو پکڑ لیا گیا ہو، اس کی سزا کیا ہے ؟
(٢٩٢١٦) حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق ، حضرت ابراہیم نخعی ، حضرت شعبی حضرت زاذان اور حضرت ابو ذرعہ بن عمرو بن جریر یہ سب حضرات کفن چور کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
(۲۹۲۱۶) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ؛ أَنَّ مَسْرُوقًا ، وَإِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیّ ، وَالشَّعْبِیَّ ، وَزَاذَانَ ، وَأَبَا زُرْعَۃَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ ، کَانُوا یَقُولُونَ فِی النَّبَّاشِ : یُقْطَعُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২১৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کفن چور کا بیان جس کو پکڑ لیا گیا ہو، اس کی سزا کیا ہے ؟
(٢٩٢١٧) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : کفن چور پر ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری نہیں ہوگی اس پر کاٹنے کے مشابہ سزا ہوگی۔
(۲۹۲۱۷) حَدَّثَنَا شَیْخٌ لَقِیتُہُ بِمِنَی ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَی النَّبَّاشِ قَطْعٌ ، وَعَلَیْہِ شَبِیہٌ بِالْقَطْعِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২১৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو نشہ میں مدہوش کے بارے میں منقول ہیں کہ اسے کب مارا جائے گا : جب وہ ٹھیک ہوجائے یا اس کے نشہ میں ہونے کی حالت میں ؟
(٢٩٢١٨) حضرت ابو مروان فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے پاس رمضان میں نجاشی شاعر لایا گیا جو نشہ میں دھت تھا تو آپ نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہوگیا پھر آپ نے اسے اسی کوڑے مارے پھر آپ نے اس کو قید کرنے کا حکم دیا پھر آپ نے اگلے دن اسے نکالا اور اسے بیس کوڑے مارے اور فرمایا : اسی کوڑے شراب کی وجہ سے اور بیس کوڑے رمضان میں اللہ پر جرأت کرنے کی وجہ سے۔
(۲۹۲۱۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَاجٍ ، عَنْ أَبِی مُصْعَبٍ عَطَائِ بْنِ أَبِی مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ عَلِیًّا أُتِیَ بِالنَّجَاشِیَّ سَکْرَانًا مِنَ الْخَمْرِ فِی رَمَضَانَ ، فَتَرَکَہُ حَتَّی صَحَا ، ثُمَّ ضَرَبَہُ ثَمَانِینَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِہِ إِلَی السِّجْنِ ، ثُمَّ أَخْرَجَہُ مِنَ الْغَدِ فَضَرَبَہُ عِشْرِینَ ، فَقَالَ : ثَمَانِینَ لِلْخَمْرِ ، وَعِشْرینَ لِجُرْأَتِکَ عَلَی اللہِ فِی رَمَضَانَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২১৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو نشہ میں مدہوش کے بارے میں منقول ہیں کہ اسے کب مارا جائے گا : جب وہ ٹھیک ہوجائے یا اس کے نشہ میں ہونے کی حالت میں ؟
(٢٩٢١٩) حضرت ابو ماجد حنفی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی اپنے بھتیجے کو لایا اور آپ سے کہنے لگا : اے ابو عبدالرحمن ! میرے بھائی کا بیٹا ہے میں نے اسے نشہ کی حالت میں پایا ہے اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : تم اس کو اچھی طرح ہلاؤ، اس کو دھکیلو اور اس کے منہ کی بوسو نگھو پس اسے سنگھایا گیا تو آپ نے اسے نشہ کی حالت میں پایا، اسے جیل بھیج دیا گیا پس جب اگلا دن آیا تو میں آیا اور اسے بھی لایا گیا۔
(۲۹۲۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوصِ ، عَنْ أَبِی الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ ، عَن أَبِی مَاجِدٍ الْحَنَفِیِّ ، قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَاعِدًا ، فَجَائَہُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمیَن بِابْنِ أَخٍ لَہُ ، فَقَالَ لَہُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَانَ ، ابْنُ أَخِی وَجَدْتُہُ سَکْرَانًا ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : تَرْتِرُوہ ، وَمَزْمِزُوہ ، وَاستُنْکِہُوہ ، فَتُرْتِر ،وَمُزْمِز ، وَاستُنْکِہ ، فَوُجِدَ سَکْرَانًا ، فَدُفِعَ إِلَی السِّجْنِ ، فَلَمَا کَانَ الْغَدُ ، جِئْتُ وَجِیئَ بِہِ۔ (بیہقی ۳۱۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২১৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو نشہ میں مدہوش کے بارے میں منقول ہیں کہ اسے کب مارا جائے گا : جب وہ ٹھیک ہوجائے یا اس کے نشہ میں ہونے کی حالت میں ؟
(٢٩٢٢٠) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب انسان نشہ میں دھت ہوجائے تو اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ اسے افاقہ ہوجائے پھر اسے کوڑے مارے جائیں۔
(۲۹۲۲۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إِذَا سَکَرَ الإِنْسَانُ تُرِکَ حَتَّی یُفِیقَ ، ثُمَّ جُلِدَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২২০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو نشہ میں مدہوش کے بارے میں منقول ہیں کہ اسے کب مارا جائے گا : جب وہ ٹھیک ہوجائے یا اس کے نشہ میں ہونے کی حالت میں ؟
(٢٩٢٢١) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : جب امام نشہ میں ہو تو اسے کوڑے مار دیے جائیں درآنحالیکہ وہ ہوش میں نہ ہو اس لیے کہ اگر وہ ہوش میں آئے گا تو وہ روک دے گا۔
(۲۹۲۲۱) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : إِذَا سَکَرَ الإِمَامُ جُلِدَ وَہُوَ لاَ یَعْقِلُ ، فَإِِنَّہُ إِنْ عَقِلَ امْتَنَعَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২২১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جس کے منہ سے شراب کی خوشبو محسوس ہو تو اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩٢٢٢) حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بو میں بھی سزا دیا کرتے تھے۔
(۲۹۲۲۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ؛ أَنَّ عُمَرَ کَانَ یَضْرِبُ فِی الرِّیحِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২২২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جس کے منہ سے شراب کی خوشبو محسوس ہو تو اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩٢٢٣) حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے حمص میں سورة یوسف کی تلاوت فرمائی اس پر ایک آدمی کہنے لگا یہ آیت ایسے نازل نہیں ہوئی ، پس حضرت عبداللہ بن مسعود اس کے قریب ہوئے تو آپ نے اس سے شراب کی بو پائی، آپ نے اس سے فرمایا : تو حق بات کی تکذیب کرتا ہے اور ناپاک چیز پیتا ہے ! اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یہ آیت اسی طرح پڑھائی ہے میں تجھے نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ میں تجھ پر حد لگاؤں گا پھر آپ نے اس پر حد لگائی۔
(۲۹۲۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : قرَأَ عَبْدُ اللہِ سُورَۃَ یُوسُفَ بِحِمْصَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَا ہَکَذَا أُنْزِلَتْ ، فَدَنَا مِنْہُ عَبْدُ اللہِ ، فَوَجَدَ مِنْہُ رِیحَ الْخَمْرِ ، فَقَالَ لَہُ : تُکَذِّبُ بِالْحَقِّ ، وَتَشْرَبُ الرِّجْسَ ، وَاللَّہِ ، لَہکَذَا أَقْرَأَنِیہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لاَ أَدَعُک حَتَّی أَحُدَّک ، فَجَلَدَہُ الْحَدَّ۔ (بخاری ۵۰۰۱۔ مسلم ۵۵۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২২৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جس کے منہ سے شراب کی خوشبو محسوس ہو تو اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩٢٢٤) حضرت یزید بن اصم فرماتے ہیں کہ حضرت میمونہ کا ایک قریبی رشتہ دار آپ کے پاس آیا آپ نے اس سے شراب کی بو محسوس کی، آپ نے فرمایا : اگر تم مسلمانوں کے پاس جاؤ گے تو وہ تم پر حد لگائیں گے یا وہ تمہیں پاک کردیں گے تم میرے گھر کبھی داخل مت ہونا۔
(۲۹۲۲۴) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ الأَصَمِّ ؛ أَنَّ ذَا قَرَابَۃٍ لَمَیْمُونَۃَ دَخَلَ عَلَیْہَا ، فَوَجَدَتْ مِنْہُ رِیحَ شَرَابٍ ، فَقَالَتْ : لَئِنْ لَمْ تَخْرُجْ إِلَی الْمُسْلِمِینَ فَیَحُدُّونَک ، أَوْ یُطَہِّرُونَک ، لاَ تَدْخُلْ عَلَیَّ بَیْتِی أَبَدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২২৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جس کے منہ سے شراب کی خوشبو محسوس ہو تو اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩٢٢٥) حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر کو خط لکھ کر ان سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جس سے شراب کی بو محسوس ہو ؟ آپ نے فرمایا : اگر وہ عادی ہو تو اس پر حد لگائے۔
(۲۹۲۲۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : کَتَبْتُ إِلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ ، أَسْأَلُہُ عَنِ الرَّجُلِ یُوجَدُ مِنْہُ رِیحُ الشَّرَابِ ؟ فَقَالَ : إِنْ کَانَ مُدْمِنًا فَحُدَّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২২৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جس کے منہ سے شراب کی خوشبو محسوس ہو تو اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩٢٢٦) حضرت محمد بن شریک فرماتے ہیں حضرت ابن ابی ملیکہ نے ارشاد فرمایا : میرے پاس ایک آدمی لایا گیا جس سے شراب کی بو آرہی تھی اور میں اس وقت طائف کا قاضی تھا میں نے اسے مارنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگا : بیشک میں نے تو پھل کھایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر کو خط لکھا تو آپ نے مجھے جواب لکھا : اگر پھلوں میں سے کسی پھل کی بو شراب کی بو کے مشابہ ہو تو تم اس سے سزا کو ختم کردو۔
(۲۹۲۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِیکٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : أُتِیتُ بِرَجُلٍ وُجِدَتْ مِنْہُ رِیحُ الْخَمْرِ، وَأَنَا قَاضٍ عَلَی الطَّائِفِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَہُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَکَلْتُ فَاکِہَۃً ، فَکَتَبْتُ إِلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ ، فَکَتَبَ إِلَیَّ : إِنْ کَانَ مِنَ الْفَاکِہَۃِ مَا یُشْبِہُ رِیحَ الْخَمْرِ ، فَادْرَأْ عَنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২২৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جس کے منہ سے شراب کی خوشبو محسوس ہو تو اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩٢٢٧) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ اور حضرت عمرو بن دینار نے ارشاد فرمایا : بو میں حد نہیں ہوگی۔
(۲۹۲۲۷) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، وَعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ، قَالاَ : لاَ حَدَّ فِی رِیحٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২২৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جس کے منہ سے شراب کی خوشبو محسوس ہو تو اس پر کیا سزا جاری ہوگی ؟
(٢٩٢٢٨) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ بو کی صورت میں حد لگانے کی رائے نہیں رکھتے تھے۔
(۲۹۲۲۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی فِی الرِّیحِ حَدًّا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২২৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کے بیان میں جو شراب کی قے کردے : کیا اس پر سزا ہوگی ؟
(٢٩٢٢٩) حضرت مالک بن عمیر بن حنفی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس مظعون کے ایک بیٹے کو لایا گیا تحقیق اس نے شراب پی تھی۔ آپ نے پوچھا : تمہارے گواہ کون ہیں ؟ اس نے کہا : فلاں اور فلاں اور عتاب بن سلمہ اور عتاب کو شیخ صدوق کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ انھوں نے کہا : میں نے اس کو قے کرتے ہوئے دیکھا ہے میں نے اسے شراب پیتے ہوئے نہیں دیکھا، سو حضرت عمر نے اس پر حد لگائی۔
(۲۹۲۲۹) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ سُمَیْعٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ عُمَیْرٍ الْحَنَفِیِّ ، قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بِابْنِ مَظْعُونٍ قَدْ شَرِبَ خَمْرًا ، فَقَالَ : مَنْ شُہُودُک ؟ قَالَ : فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ ، وَعَتَّابُ بْنُ سَلَمَۃَ ، وَکَانَ یُسَمَّی عَتَّابُ الشَّیْخَ الصَّدُوقَ ، فَقَالَ : رَأَیْتُہُ یَقِیؤُہَا ، وَلَمْ أَرَہُ یَشْرَبُہَا ، فَجَلَدَہُ عُمَرُ الْحَدَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২২৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کے بیان میں جو شراب کی قے کردے : کیا اس پر سزا ہوگی ؟
(٢٩٢٣٠) حضرت عتاب بن سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے اس پر حد لگائی اور اس کو لوگوں کے سامنے کھڑا کردیا مگر یہ کہ انھوں نے یوں فرمایا کہ حضرت حفص بن عمر کو لایا گیا۔
(۲۹۲۳۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ سُمَیْعٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ سَلَمَۃَ ؛ أَنَّ عُمَرَ ضَرَبَہُ الْحَدَّ ، وَنَصَبَہُ لِلنَّاسِ ، إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : أُتِیَ بِحَفْصِ بْنِ عُمَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৩০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو سزا میں سر منڈوانے کو مکروہ سمجھے
(٢٩٢٣١) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس سے سر منڈوانے کے متعلق سوال کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا : اللہ رب العزت نے اسے قربانی اور سنت بنایا ہے اور لوگوں نے اسے سزا بنادیا۔
(۲۹۲۳۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الْحَلْقِ ؟ فَقَالَ : جَعَلَہُ اللَّہُ تَعَالَی نُسُکًا وَسُنَّۃً ، وَجَعَلَہُ النَّاسُ عُقُوبَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৩১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو سزا میں سر منڈوانے کو مکروہ سمجھے
(٢٩٢٣٢) حضرت بشر کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ارشاد فرمایا : مجھے سر اور ڈاڑھی منڈوانے سے دور رکھو۔
(۲۹۲۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ یَزِید ، عَنْ بِشْرٍ ، عَنْ أبِیہِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ: إِیَّایَ وَحَلْقَ الرَّأْسِ وَاللِّحْیَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৩২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو سزا میں سر منڈوانے کو مکروہ سمجھے
(٢٩٢٣٣) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس نے بالوں کا مکمل مثلہ کردیا تو وہ ہم میں سے نہیں۔
(۲۹۲۳۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی الرِّضَا ، یَعْنِی طَاوُوسًا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ مَثَّلَ بِالشَّعْرِ فَلَیْسَ مِنَّا۔ (طبرانی ۱۰۹۷۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৩৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو سزا میں سر منڈوانے کو مکروہ سمجھے
(٢٩٢٣٤) حضرت ابراہیم بن میسرہ فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس نے ارشاد فرمایا : اللہ رب العزت نے اسے پاکی بنایا تھا اور تم نے اسے سزا بنادیا۔
(۲۹۲۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَن طَاوُوسٍ ، قَالَ : جَعَلَہُ اللَّہُ طَہُورًا ، وَجَعَلْتُمُوہُ عُقُوبَۃً۔
tahqiq

তাহকীক: