মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

سزاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৬ টি

হাদীস নং: ২৯৩৫৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کے بیان میں جو اپنے غلام سے شادی کرلے
(٢٩٣٥٥) حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت بکر نے ارشاد فرمایا : ایک عورت نے اپنے غلام سے شادی کی پس اس سے اس بارے میں پوچھا گیا ؟ تو وہ کہنے لگی : کیا اللہ رب العزت نے یوں نہیں فرمایا : اور وہ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہیں، تو میرا داہنا ہاتھ اس کا مالک ہے، اور ایک دوسری عورت نے بغیر گواہی اور ولی کی اجازت کے بغیر شادی کی پس اس سے اس بارے میں پوچھا گیا ؟ تو وہ کہنے لگی : میں ثیبہ عورت ہوں اور مجھے میرے معاملہ کا اختیار ہے سو ان دونوں کا معاملہ حضرت عمر کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ آپ نے لوگوں کو جمع کر کے ان سے ان دونوں کے بارے میں پوچھا ؟ لوگوں نے کہا ! تحقیق ان دونوں نے اللہ جل جلالہ کی کتاب سے جھگڑا کیا ہے اور حضرت علی نے بھی فرمایا : تحقیق ان دونوں نے اللہ جل جلالہ کی کتاب سے جھگڑا کیا ہے۔ سو آپ نے ان دنوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارے پھر آپ نے شہروں کے امراؤں کو خط لکھ دیا : جو کوئی عورت اپنے غلام سے شادی کرلے یا وہ ولی کی اجازت کے بغیر شادی کرلے تو زانیہ کے درجہ میں ہوگی۔
(۲۹۳۵۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ بَکْرٍ ، قَالَ : تَزَوَّجَتِ امْرَأَۃٌ عَبْدَہَا ، فَقِیلَ لَہَا ؟ فَقَالَتْ : أَلَیْسَ اللَّہُ یَقُولُ : {وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} فَہَذَا مْلِکُ یَمِینِی ، وَتَزَوَّجَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ غَیْرِ بَیِّنَۃٍ ، وَلاَ وَلِیٍّ ، فَقِیلَ لَہَا ؟ فَقَالَتْ : أَنَا ثَیِّبٌ ، وَقَدْ مَلَکْتُ أَمْرِی ، فَرُفِعَتا إِلَی عُمَرَ ، فَجَمَعَ النَّاسَ فَسَأَلَہُمْ ؟ فَقَالُوا : قَدْ خَاصَمَتَاک بِکِتَابِ اللہِ جَلَّ جَلاَلُہُ ، وَقَالَ عَلِیٌّ : قَدْ خَاصَمَتَاک بِکِتَابِ اللہِ ، فَجَلَدَ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِئَۃَ جَلْدَۃٍ ، ثُمَّ کَتَبَ إِلَی الأَمْصَارِ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدَہَا ، أَوْ تَزَوَّجَتْ بِغَیْرِ وَلِیٍّ ، فَہِیَ بِمَنْزِلَۃِ الزَّانِیَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৫৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کے بیان میں جو اپنے غلام سے شادی کرلے
(٢٩٣٥٦) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک عورت کے بارے میں خط لکھا جس نے اپنے غلام سے شادی کرلی تھی : کہ ان دونوں کے درمیان تفریق کردی جائے اور اس عورت پر حد قائم کردی جائے۔
(۲۹۳۵۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ أَنَّ عُمَرَ کَتَبَ فِی امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدَہَا ، أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَہُمَا ، وَیُقَامُ الْحَدُّ عَلَیْہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৫৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کے بیان میں جو اپنے غلام سے شادی کرلے
(٢٩٣٥٧) حضرت اسماعیل بن مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطائ ، حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر اور حضرت مجاھد سے ایک عورت کے متعلق دریافت کیا جس کا ایک غلام تھا پس اس عورت نے اس کو اس شرط پر آزاد کرنے کا ارادہ کیا کہ وہ اس عورت سے شادی کرلے، اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت عطائ اور حضرت عبداللہ بن عبید نے فرمایا : وہ عورت اس کو آزاد کردے اور اس پر شرط نہ لگائے اور حضرت مجاھد نے فرمایا : اس میں اللہ کی اور حاکم کی سزا ہوگی : اس کو اس سے جدا کردیا جائے گا اور اس عورت پر حد قائم کردی جائے گی۔
(۲۹۳۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَطَائً ، وَعَبْدَ اللہِ بْنَ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، وَمُجَاہِدًا عَنِ امْرَأَۃٍ کَانَ لَہَا عَبْدٌ ، فَأَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَہُ عَلَی أَنْ یَتَزَوَّجَہَا ؟ فَقَالَ عَطَائٌ ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ عُبَیْدٍ : تُعْتِقُہُ ، وَلاَ تُشَارِطُہُ ، وَقَالَ مُجَاہِدٌ : فِی ہَذَا عُقُوبَۃٌ مِنَ اللہِ وَمِنَ السُّلْطَانِ ، تُفَارِقُہُ ، وَیُقَامُ عَلَیْہَا الْحَدُّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৫৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کے بیان میں جو اپنے غلام سے شادی کرلے
(٢٩٣٥٨) حضرت ابو نوفل بن ابی عقرب فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عمر بن خطاب کے پاس آکر کہنے لگی اے امیر المومنین ! بیشک میں ایک عام عورت ہوں جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں جبکہ دوسری عورتیں مجھ سے زیادہ خوبصورت ہیں اور میرا ایک غلام ہے تحقیق میں اس کے دین اور اس کی ایمان داری سے راضی ہوں اور میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں اس پر آپ نے اس غلام کو بلایا اور ان دونوں کو سخت مار لگائی اور آپ نے غلام کے بارے میں حکم دیا تو اس کو اجنبی دور علاقہ میں فروخت کردیا گیا۔
(۲۹۳۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ شَیْبَانَ ، عَنْ أَبِی نَوْفَلِ بْنِ أَبِی عَقْرَبٍ ، قَالَ : جَائَتِ امْرَأَۃٌ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَتْ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إِنِّی امْرَأَۃٌ کَمَا تَرَی ، وَغَیْرِی مِنَ النِّسَائِ أَجْمَلُ مِنِّی ، وَلِی عَبْدٌ قَدْ رَضِیتُ دِینَہُ وَأَمَانَتَہُ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَہُ ، فَدَعَا بِالْغُلاَمِ فَضَرَبَہُمَا ضَرْبًا مُبَرِّحًا ، وَأَمَرَ فِی الْعَبْدِ فَبِیعَ فِی أَرْضِ غُرْبَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৫৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو آدمی کو یوں کہے : اے زانیہ کے بیٹے، اس کی سزا کیا ہوگی ؟
(٢٩٣٥٩) حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے ارشاد فرمایا : جب وہ یوں کہے : اے دو زانیوں کے بیٹے ! تو اس کہنے والے کو دو حدیں لگائی جائیں گی۔
(۲۹۳۵۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: إِذَا قَالَ: یَاابْنَ الزَّانِیَیْنِ، قَالَ: یُجْلَدُ حَدَّیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৫৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جو آدمی کو یوں کہے : اے زانیہ کے بیٹے، اس کی سزا کیا ہوگی ؟
(٢٩٣٦٠) حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول سے ایک آدمی کے بارے میں مروی ہے جس نے ایک آدمی کو یوں کہا : اے زانی اور زانیہ عورت کے بیٹے، آپ نے فرمایا : اس کو دو سزائیں دی جائیں گی۔
(۲۹۳۶۰) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ حُسَیْنٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ؛ فِی رَجُلٍ قَالَ لِرَجُلٍ : یَا زَانٍ ، یَاابْنَ الزَّانِیَۃِ ، قَالَ : یُضْرَبُ حَدَّیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৬০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٦١) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ نے پوچھا کیا اس کا کوئی گواہ ہے ؟ سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں واپس لوٹا دیا پھر وہ تین مرتبہ آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا اس کا کوئی گواہ ہے ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو واپس لوٹا دیا جب وہ چوتھی مرتبہ آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگ اس کو سنگسارکر دو سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور ہم نے اسے پتھر مارے اور وہ بھاگنے لگے تو ہم نے ان کا پیچھا کیا۔ حضرت عامر نے فرمایا : حضرت جابر نے مجھ سے فرمایا : ہم نے یہاں ان کو مارا تھا۔
(۲۹۳۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الْمُجَالِدِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّہُ قَدْ زَنَی ، فَقَالَ : أَمَا لِہَذَا أَحَدٌ ؟ فَرَدَّہُ ، ثُمَّ جَائَ ثَلاَثَ مِرَارٍ ، فَقَالَ : أَمَا لِہَذَا أَحَدٌ ، فَرَدَّہُ ، فَلَمَّا کَانَتِ الرَّابِعَۃُ ، قَالَ : ارْجُمُوہُ ، فَرَمَاہُ وَرَمَیْنَاہُ ، وَفَرَّ وَاتَّبَعَنَاہُ ، قَالَ عَامِرٌ : فَقَالَ لِی جَابِرٌ : فَہَاہُنَا قَتَلْنَاہُ۔ (بخاری ۵۲۷۰۔ مسلم ۱۳۱۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৬১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٦٢) حضرت نعیم بن ھزال فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک میرے والد کی پرورش میں تھے انھوں نے قبیلہ کی ایک باندی سے زنا کرلیا تو میرے والد نے ان سے کہا : تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ اور جو تم نے کیا ہے اس بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلاؤ وہ تمہارے لیے استغفار کریں گے۔ اور میرے والد نے اس سے یہ ارادہ کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے لیے کوئی راستہ نکالیں گے۔ پس وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ پر کتاب اللہ کا حکم قائم فرما دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اعراض کیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے یہاں تک کہ راوی نے چار مرتبہ کا ذکر کیا۔ پھر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چوتھی بار آئے اور کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ پر کتا باللہ کا حکم قائم فرما دیں اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تم نے یہ بات چار مرتبہ نہیں کہی ؟ پس کس عورت سے کیا ؟ انھوں نے کہا : فلاں عورت سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے اس سے ہمبستری کی ؟ انھوں نے کہا، جی ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تم نے اس سے وطی کی ؟ انھوں نے کہا، جی ہاں، ٓپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر پوچھا ! کیا تم نے اس سے جماع کیا ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں، راوی کہتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کو سنگسار کیا گیا اور اسے حرہ کی زمین کی طرف لے جایا گیا جب انھوں نے پتھروں کی سختی محسوس کی وہ کراہتے ہوئے تکلیف سے نکلنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن انیس اس سے ملے اور تحقیق اس کو مارنے والے ساتھی عاجز آگئے تھے انھوں نے اپنے اونٹ کی پنڈلی کا پتلا حصہ اکھیڑا اور ان کو اس سے مار کر انھیں قتل کردیا۔ پھر وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس بات کا ذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا شاید کہ وہ توبہ کرلیتا اور اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتے ؟
(۲۹۳۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَی یَزِیدُ بْنُ نُعَیْمٍ بْنِ ہَزَّالٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ فِی حَجْرِ أَبِی ، فَأَصَابَ جَارِیَۃً مِنَ الْحَیِّ ، فَقَالَ لَہُ أَبِی : إِئْتِ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْہُ بِمَا صَنَعْتَ ، یَسْتَغْفِرْ لَکَ ، وَإِنَّمَا یُرِیدُ بِذَلِکَ لِیَجْعَلَ لَہُ مَخْرَجًا ، فَأَتَاہُ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنِّی قَدْ زَنَیْت فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللہِ ، فَأَعْرَضَ عَنْہُ ، ثُمَّ أَتَاہُ ، حَتَّی ذَکَرَ أَرْبَعَ مِرَارٍ ، ثُمَّ أَتَاہُ الرَّابِعَۃَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنِّی قَدْ زَنَیْت فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَلَیْسَ قَدْ قُلْتَہَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَبِمَنْ ؟ قَالَ : بِفُلاَنَۃٍ ، قَالَ : ہَلْ ضَاجَعْتہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : ہَلْ بَاشَرْتَہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : ہَلْ جَامَعْتہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِہِ لِیُرْجَمَ ، فَأُخْرِجَ إِلَی الْحَرَّۃِ ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ خَرَجَ یَشْتَدُّ، فَلَقِیَہُ عَبْدُ اللہِ بْنُ أُنَیْسٍ وَقَدْ أَعْجَزَ أَصْحَابَہُ ، فَانْتَزَعَ لَہُ بِوَظِیفِ بَعِیرٍ ، فَرَمَاہُ بِہِ فَقَتَلَہُ ، ثُمَّ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ : ہَلاَّ تَرَکْتُمُوہُ ، لَعَلَّہُ یَتُوبُ ، فَیَتُوبَ اللَّہُ عَلَیْہِ ؟۔ (ابوداؤد ۴۴۱۸۔ احمد ۲۱۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৬২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٦٣) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے : بیشک میں نے زنا کیا ہے ! سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اعراض کیا یہاں تک کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چوتھی مرتبہ آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں حکم دیاتو ان کو سنگسار کیا گیا جب انہں پ پتھروں کی تکلیف پہنچی تو وہ تکلیف سے بھاگنے لگے اتنے میں اسے ایک آدمی ملا جس کے ہاتھ میں اونٹ کا جبڑا تھا پس اس نے اسے مارا اور اسے نیچے گرا دیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ان کے بھاگنے کا معاملہ ذکر کیا گیا جب انھیں پتھروں کی تکلیف محسوس ہوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا ؟ ’
(۲۹۳۶۳) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّی قَدْ زَنَیْتَ ، فَأَعْرَضَ عَنْہُ حَتَّی أَتَاہُ أَرْبَعَ مِرَارٍ ، فَأَمَرَ بِہِ أَنْ یُرْجَمَ ، فَلَمَّا أَصَابَتْہُ الْحِجَارَۃُ أَدْبَرَ یَشْتَدُّ ، فَلَقِیَہُ رَجُلٌ بِیَدِہِ لَحْیُ جَمَلٍ ، فَضَرَبَہُ فَصَرَعَہُ ، فَذُکِرَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِرَارُہُ حِینَ مَسَّتْہُ الْحِجَارَۃُ ، قَالَ : فَہَلاَّ تَرَکْتُمُوہُ۔ (بخاری ۵۲۷۲۔ مسلم ۱۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৬৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٦٤) حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تین مرتبہ اقرار کیا میں نے کہا : اگر تم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چوتھی مرتبہ اقرار کرو تو سزا ہوگی ! سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اسے قید کردیا گیا یعنی سنگسار کردیا گیا۔
(۲۹۳۶۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَی ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : أَتَی مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَقَرَّ عَندَہُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَقُلْتُ : إِنْ أَقْرَرْتَ عَندَہُ الرَّابِعَۃَ ، فَأَمَرَ بِہِ فَحُبِسَ ، یَعْنِی یُرْجَمُ۔ (احمد ۸۔ ابویعلی ۳۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৬৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٦٥) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : ماعز بن مالک نے اپنے خلاف زنا کرنے کی چار مرتبہ گواہی دی تھی سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے ان کو سنگسار کردیا گیا۔
(۲۹۳۶۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : شَہِدَ مَاعِزٌ عَلَی نَفْسِہِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ أَنَّہُ قَدْ زَنَی ، فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُرْجَمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৬৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٦٦) حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا جب ماعز بن مالک کو لایا گیا تو ایک زیادہ بالوں والے اور مضبوط پیٹھے والے شخص کو لایا گیا جو تہہ بند پہنے ہوئے تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دو مرتبہ واپس لوٹایا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔
(۲۹۳۶۶) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ، قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ أُتِیَ بِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ ، أُتِیَ بِرَجُلٍ أَشْعَرَ ذِی عَضَلاَتٍ ، فِی إِزَارِہِ ، فَرَدَّہُ مَرَّتَیْنِ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِہِ۔ (مسلم ۱۳۲۰۔ ابوداؤد ۴۴۲۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৬৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٦٧) حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور عرض کی : بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور میں نے زنا کیا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے پاک کردیں، سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو واپس کردیا جب اگلا دن آیا تو وہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے اور عرض کی : یا سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو دوسری مرتبہ بھی واپس لوٹا دیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی قوم کی طرف قاصد بھیجا اور فرمایا : کیا تم اس کی عقل میں کوئی حرج سمجھتے ہو ؟ کیا تم اس میں کوئی غلط چیز دیکھتے ہو ؟ انھوں نے کہا : ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے مگر یہ کہ اس کی عقل ہمارے نیک لوگوں کی طرح ہے جیسا کہ ہمیں دکھائی دیا۔ راوی کہتے ہیں : پس وہ تیسری بار نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی قوم کی طرف پھر قاصد بھیجا اور اس کے بارے میں سوال کیا ؟ ان لوگوں نے بتلایا کہ اس میں اور اس کی عقل میں کوئی حرج والی بات نہیں، پس جب وہ چوتھی مرتبہ آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے ایک گڑھا کھودا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے انھیں سنگسار کردیا گیا۔
(۲۹۳۶۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا بَشِیرُ بْنِ الْمُہَاجِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَی عَبْدُ اللہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ الأَسْلَمِیَّ أَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّی قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِی وَزَنَیْتُ ، وَإِنِّی أُرِیدُ أَنْ تُطَہِّرَنِی ، فَرَدَّہُ ، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ أَتَاہُ أَیْضًا ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنِّی قَدْ زَنَیْتُ ، فَرَدَّہُ الثَّانِیَۃَ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی قَوْمِہِ ، فَقَالَ : أَتَعْلَمُونَ بِعَقْلِہِ بَأْسًا ؟ تُنْکِرُونَ مِنْہُ شَیْئًا ؟ فَقَالُوا : لاَ نَعْلَمُہُ إِلاَّ وَفِی الْعَقْلِ مِنْ صَالِحِینَا فِیمَا نُرَی ، قَالَ : فَأَتَاہُ الثَّالِثَۃَ ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہِمْ أَیْضًا ، فَسَأَلَ عَنْہُ ؟ فَأَخْبَرُوہُ أَنَّہُ لاَ بَأْسَ بِہِ ، وَلاَ بِعَقْلِہِ ، فَلَمَّا کَانَ الرَّابِعَۃُ ، حَفَرَ لَہُ حُفْرَۃً ، ثُمَّ أَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ۔ (مسلم ۱۳۲۳۔ ابوداؤد ۴۴۳۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৬৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٦٨) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں ماعز بن مالک آئے اور انھوں نے تین مرتبہ زنا کا اعتراف کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے متعلق سوال کیا ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے انھیں سنگسار کردیا گیا، سو ہم نے انھیں ٹھیکری، چھوٹے چھوٹے پتھر اور ہڈیاں ماریں اور نہ ہم نے ان کے لیے کوئی گڑھا کھودا اور نہ ہم نے ان کو باندھا پس وہ ہم سے آگے حرہ مقام کی طرف دورڑے اور ہم نے ان کاپیچھا کیا سوو ہ ہماری طرف متوجہ ہو کر کھڑے ہوگئے پھر ہم نے انھیں پتھر مارے یہاں تک کہ وہ ساکت ہوگئے اور نہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے استغفار کیا اور نہ ہی ان کو برا بھلا کہا۔
(۲۹۳۶۸) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ دَاوُد ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَسَأَلَ عَنْہُ ؟ ثُمَّ أَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ ، فَرَمَیْنَاہُ بِالْخَزَفِ ، وَالْجَنْدَلِ ، وَالْعِظَامِ ، وَمَا حَفَرْنَا لَہُ ، وَلاَ أَوْثَقْنَاہُ ، فَسَبَقْنَا إِلَی الْحَرَّۃِ وَاتَّبَعَناہُ ، فَقَامَ إِلَیْنَا ، فَرَمَیْنَاہُ حَتَّی سَکَتَ ، فَمَا اسْتَغْفَرَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلاَ سَبَّہُ۔ (مسلم ۱۳۲۱۔ ابوداؤد ۴۴۲۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৬৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٦٩) حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ کسی سفر میں ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے زنا کا اقرار کیا سو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو تین بار واپس لوٹا دیا جب وہ چوتھی بار آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے متعلق حکم دیا سو اسے سنگسار کردیا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ بات بہت ہی ناگوار گزری یہاں تک کہ اس کا اثر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ میں محسوس کیا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غصہ ختم ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو ذر ! تمہارے ساتھی کی مغفرت کردی گئی، راوی نے فرمایا : یوں کہا جاتا تھا، بیشک اس کی توبہ یہ ہے کہ اس پر حد قائم کردی جائے۔
(۲۹۳۶۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ الطَّائِفِیِّ ، عَنِ ابْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ ، فَجَائَ رَجُلٌ فَأَقَرَّ أَنَّہُ قَدْ زَنَی ، فَرَدَّہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلاَثًا ، فَلَمَّا کَانَتِ الرَّابِعَۃُ وَنَزَلَ ، أَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ ، وَشَقَّ ذَلِکَ عَلَیْہِ حَتَّی عَرَفْتُہَ فِی وَجْہِہِ ، فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ الْغَضَبُ ، قَالَ : یَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنَّ صَاحِبَکُمْ قَدْ غُفِرَ لَہُ ، قَالَ : وَکَانَ یُقَالُ : إِنَّ تَوْبَتَہُ أَنْ یُقَامَ عَلَیْہِ الْحَدُّ۔ (احمد ۱۱۹۔ طحاوی ۱۴۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৬৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٧٠) حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفی سے دریافت کیا : کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنگسار کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : جی ہاں، میں نے دریافت کیا : سورة نور کے نازل ہونے کے بعد یا اس سے پہلے ؟ انھوں نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم۔
(۲۹۳۷۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِی أَوْفَی ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : رَجَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : بَعْدَ مَا أُنْزِلَتْ سُورَۃُ النُّورِ ، أَوْ قَبْلَہَا ؟ قَالَ : لاَ أَدْرِی۔

(بخاری ۶۸۱۳۔ مسلم ۱۳۲۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৭০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٧١) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر لمبازمانہ گزرے گا یہاں تک کہ کہنے والا کہے گا : ہم تو رجم کے حکم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے ! سو وہ گمراہ ہوں گے ایک فریضہ کو چھوڑنے کی وجہ سے جس کا حکم اللہ نے نازل کیا ہے خبردار ! رجم کا حکم برحق ہے جب آدمی شادی شدہ ہو یا بینہ قائم ہوجائے یا حاملہ ہو یا اعتراف کیا ہو اور تحقیق میں نے اس کی تلاوت کی ہے ترجمہ :۔ شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت جب دونوں زنا کریں تو تم ان کو لازمی طور پر سنگسار کرو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ہم نے سنگسار کیا ہے حضرت سفیان سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنگسار کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : جی ہاں۔
(۲۹۳۷۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : قَدْ خَشِیت أَنْ یَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ حَتَّی یَقُولَ الْقَائِلُ : مَا نَجِدُ الرَّجْمَ فِی کِتَابِ اللہِ ، فَیَضِلُّوا بِتَرْکِ فَرِیضَۃٍ أَنْزَلَہَا اللَّہُ ، أَلاَ وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ ، إِذَا أُحْصِنَ الرَّجُل ، أَوْ قَامَتِ الْبَیِّنَۃُ ، أَوْ کَانَ حَمْلٌ ، أَوِ اعْتِرَافٌ ، وَقَدْ قَرَأْتُہَا : {الشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ}۔

رَجَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَہُ۔

قِیلَ لِسُفْیَانَ : رَجَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ (بخاری ۲۸۲۹۔ مسلم ۱۳۱۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৭১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٧٢) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جو زنا کا اقرر کرتا ہو کہ اس کو کتنی مرتبہ لوٹا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ایک مرتبہ اور میں نے حضرت حکم سے سوال کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : چار مرتبہ۔
(۲۹۳۷۲) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : سَأَلْتُہُ عَنِ الرَّجُلِ یُقِرُّ بِالزِّنَی ، کَمْ یُرَدُّ ؟ قَالَ : مَرَّۃً ، وَسَأَلْتُ الْحَکَمَ ؟ فَقَالَ : أَرْبَعَ مَرَّاتٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৭২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٧٣) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور انھیں اطلاع دی کہ میں نے زنا کیا ہے تو حضرت ابوبکر نے ان سے فرمایا : کیا تم نے اس بات کو میرے علاوہ کسی سے ذکر کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں حضرت ابوبکر نے ان سے فرمایا : تم اللہ کی ستر پوشی کی وجہ سے اپنا عیب چھپاؤ اور اللہ سے توبہ کرو بیشک لوگ عار دلائے جاتے ہیں لیکن غیرت نہیں کھاتے کریں گے اور اللہ رب العزت اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ پس ان کے نفس کو قرار نہیں آیا یہاں تک کہ وہ حضرت عمر کے سامنے ذکر کی تھی حضرت عمر نے بھی ان کو وہی جواب دیا جو حضرت ابوبکر نے دیا تھا۔ ان کے نفس کو قرار نہیں آیا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دی کہ بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے اعراض کیا۔ یہاں تک کہ انھوں نے کئی مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کہا جب بہت زیادہ ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی قوم کی طرف ایک قاصد بھیجا اور ان سے کہا : کیا یہ بیمار ہے ؟ یا اس کو جنون لاحق ہے ؟ انھوں نے عرض کی : نہیں، اللہ کی قسم ! یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بیشک یہ بالکل صحیح ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا ! غیر شادی شدہ ہے یا شادی شدہ ؟ انھوں نے کہا : بلکہ شادی شدہ ہے۔ سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے ان کو سنگسار کردیا گیا۔
(۲۹۳۷۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ؛ أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ أَتَی أَبَا بَکْرٍ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ زَنَی ، فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ : ذَکَرَتَ ہَذَا لأَحَدٍ غَیْرِی ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ : اسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللہِ ، وَتُبْ إِلَی اللہِ ، فَإِنَّ النَّاسَ یُعَیِّرُونَ ، وَلاَ یُغَیِّرُونَ ، وَاللَّہُ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَن عِبَادِہِ ، فَلَمْ تَقَرَّ نَفْسُہُ، حَتَّی أَتَی عُمَرَ ، فَذَکَرَ مِثْلَ مَا ذکرَ لأَبِی بَکْرٍ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : مِثْلَ مَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ ، فَلَمْ تَقَرَّ نَفْسُہُ حَتَّی أَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ قَدْ زَنَی ، فَأَعْرَضَ عَنْہُ ، حَتَّی قَالَ لَہُ ذَلِکَ مِرَارًا ، فَلَمَّا أَکْثَرَ ، بَعَثَ إِلَی قَوْمِہِ ، فَقَالَ لَہُمْ : ہَلَ اشْتَکَی ؟ أَبِہِ جِنَّۃٌ ؟ فَقَالُوا : لاَ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّہُ صَحِیحٌ ، قَالَ : أَبِکْرٌ ، أَمْ ثَیِّبٌ ؟ قَالُوا : بَلْ ثَیِّبٌ ، فَأَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ۔ (عبدالرزاق ۱۳۳۴۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৭৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٧٤) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنگسار کیا ہے، حضرت ابوبکر صدیق نے سنگسار کیا ہے اور میں نے سنگسار کیا ہے۔
(۲۹۳۷۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُد ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : رَجَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَرَجَمَ أَبُو بَکْرٍ ، وَرَجَمْتُ۔ (ترمذی ۱۴۳۱۔ مالک ۱۰)
tahqiq

তাহকীক: