মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
سزاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৬ টি
হাদীস নং: ২৯৩৭৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٧٥) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : رجم کرنا اللہ کی سزاؤں میں سے ایک سزا ہے پس تم لوگوں کو اس کے متعلق دھوکا میں مت ڈالا جائے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ : بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنگسار کیا حضرت ابوبکر نے سنگسار کیا اور میں نے بھی سنگسار کیا۔
(۲۹۳۷۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ یُوسُفَ بْنِ مِہْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : الرَّجْمُ حَدٌّ مِنْ حُدُودِ اللہِ ، فَلاَ تُخْدَعُوا عَنْہُ ، وَآیۃُ ذَلِکَ : أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجَمَ ، وَرَجَمَ أَبُو بَکْرٍ ، وَرَجَمْتُ أَنَا۔ (طیالسی ۲۵۔ عبدالرزاق ۱۳۳۶۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৭৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٧٦) حضرت ابو عثمان بن نصر فرماتے ہیں کہ میرے والد نے ارشاد فرمایا : میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے حضرت ماعز کو سنگسار کیا تھا پس جب انھوں نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہنے لگے : تم لوگ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹا دو پس میں نے اس بات سے انکار کردیا راوی کہتے ہیں میں حضرت عاصم بن عمر کے پاس آیا اور کہا : حضرت حسن بن محمد ابن حنفیہ فرماتے ہیں : تحقیق مجھے خبر پہنچی ہے کہ ! پس میں نے اس کا انکار کردیا میں پھر حضرت جابر کے پاس آیا اور میں نے کہا : تحقیق حضرت اسلمی نے ماعز بن مالک کے قول میں سے کچھ ذکر کیا ہے کہ ؟ تم لوگ مجھے لوٹا دو میں اس کا انکار کرتا ہوں ! سو انھوں نے جواب دیا : میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ان کو سنگسار کیا تھا اور آپ نے فرمایا : بیشک انھوں نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی اور کہا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لوٹا دو بیشک میری قوم نے مجھے تکلیف میں ڈالا، اور لوگوں نے کہا : تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں قتل نہیں کریں گے پس ہم لوگوں نے انھیں نہیں چھوڑا یہاں تک کہ ہم نے ان کو مار دیا پھر جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ان کی حالت کا ذکر کیا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اس کو چھوڑکیوں نہیں دیا یہاں تک کہ میں اس حالت میں غور کرلیتا ؟
(۲۹۳۷۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِی عُثْمَانَ بْنِ نَصْرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنْتُ فِیمَنْ رَجَمَ مَاعِزًا ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ ، قَالَ : رُدُّونِی إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْکَرْتُ ذَلِکَ ، فَأَتَیْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ : لَقَدْ بَلَغَنِی، فَأَنْکَرْتہ، فَأَتَیْتُ جَابِرًا، فَقُلْت: لَقَدْ ذَکَرَ الأَسْلَمِیُّ شَیْئًا مِنْ قَوْلِ مَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ: رُدَّونِی، فَأَنْکَرْتُہُ، فَقَالَ: أَنَا فِیمَنْ رَجَمَہُ ، فَقَالَ: إِنَّہُ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ ، قَالَ: رُدّونِی إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ قَوْمِی آذَوْنِی ، وَقَالُوا : ائْتِ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِنَّہُ غَیْرُ قَاتِلِکَ ، فَمَا أَقْلَعْنَا عَنْہُ حَتَّی قَتَلْنَاہُ ، فَلَمَا ذُکِرَ شَأْنُہُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَلاَ تَرَکْتُمُوہُ حَتَّی أَنْظُرَ فِی شَأْنِہِ۔
(نسائی ۷۲۰۶۔ احمد ۴۳۱)
(نسائی ۷۲۰۶۔ احمد ۴۳۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৭৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٧٧) حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم میں سے ایک آدمی کو سنگسار کیا، جس کا نام ماعز بن مالک تھا۔
(۲۹۳۷۷) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُسَاوِرِ بْنِ عُبَیْدٍ ، عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ ،قَالَ : رَجَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلاً مِنَّا ، یُقَالُ لَہُ : مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ۔ (احمد ۴۲۳۔ بزار ۳۸۵۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৭৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٧٨) حضرت نجیح ابو علی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی زانی کو سنگسار کیا اور حضرت ابوبکر و عمر نے بھی زانی کو سنگسار کیا اور ان دونوں کا طریقہ بھی دین ہے۔
(۲۹۳۷۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمٍ أَبِی ہِلاَلٍ ، عَنْ نَجِیحٍ أَبِی عَلِی ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : رَجَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَرَجَمَ أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ وَأَمْرُہُمَا سُنَّۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৭৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زانی کے بیان میں : اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا ؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٢٩٣٧٩) حضرت نعیم فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : بیشک میں نے زنا کیا ہے سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ پر کتاب اللہ کا حکم قائم کردیں آپ نے ان سے اعراض کیا انھوں نے پھر کہا : بیشک میں نے زنا کیا ہے سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ پر کتاب اللہ کا حکم قائم کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر ان سے اعراض کیا یہاں تک انھوں نے چار مرتبہ ذکر کردیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو لیجاؤ اور اسے سنگسار کردو پس جب ان کو پتھروں کی تکلیف بہت زیادہ محسوس ہوئی تو وہ دوڑے اتنے میں حضرت عبداللہ بن انیس یا ابن انس اپنے جنگل سے نکلے اور انھوں نے اس کو اونٹ کی پنڈلی مار کر ان کو نیچے گرادیا سو لوگوں نے ان کو پتھر مارے یہاں تک کہ ان کو قتل کردیا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ان کے بھاگنے کا ذکر کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا کہ وہ توبہ کرلیتا اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتے اے ھزال یایوں فرمایا : اے ھزان ! اگر تو اپنے کپڑے سے اس کو چھپا لیتا تو یہ تیرے لیے بہتر تھا اس کام سے جو تو نے کیا۔
(۲۹۳۷۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ نُعَیْمٍ ، عَنْ أَبِیہِ ،قَالَ : جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنِّی قَدْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ فِیَّ کِتَابَ اللہِ ، فَأَعْرَضَ عَنْہُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّی قَدْ زَنَیْتُ ، فَأَقِمْ فِیَّ کِتَابَ اللہِ ، فَأَعْرَضَ عَنْہُ حَتَّی ذَکَرَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : اذْہَبُوا فَارْجُمُوہُ ، فَلَمَّا مَسَّہُ مَسَّ الْحِجَارَۃُ اشْتَدَّ ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللہِ بْنُ أُنَیْسٍ ، أَوِ ابْنُ أَنَسٍ ، مِنْ بَادِیَتِہِ ، فَرَمَاہُ بِوَظِیفِ جَمَلٍ فَصَرَعَہُ ، فَرَمَاہُ النَّاسُ حَتَّی قَتَلُوہُ ، فَذُکِرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِرَارُہُ ، فَقَالَ : ہَلاَّ تَرَکْتُمُوہُ یَتُوبُ ، فَیَتُوبَ اللَّہُ عَلَیْہِ ، یَا ہَزَّالُ ، أَوْ یَا ہِزَّانُ ، لَوْ سَتَرْتَہُ بِثَوْبِکَ ؛ کَانَ خَیْرًا لَکَ مِمَّا صَنَعْتَ۔ (بیہقی ۲۱۹۔ احمد ۲۱۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৭৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باکرہ اور شیبہ کے بیان میں کہ ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جب وہ دونوں بدکاری کریں ؟
(٢٩٣٨٠) حضرت عبید اللہ بن عبداللہ ، حضرت ابوہریرہ حضرت زید بن خالد اور حضرت شبل ان سب حضرات نے ارشاد فرمایا : کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کی قسم دیتا ہوں مگر یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فلہار فرمائیں گے۔ اتنے میں اس کے مد مقابل نے بھی کہا ! اور وہ پہلے والے سے زیادہ سمجھدار تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اجازت مرحمت فرمائیں کہ میں کچھ کہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہو، اس نے کہا بیشک میرا بیٹا اس کا خدمت گار تھا اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کرلیا پس میں نے اس کو سو بکریاں اور ایک خادم فدیہ دے کر اپنے بچے کو چھڑا لیا پھر میں نے علماء سے اس بارے میں پوچھا ؟ تو انھوں نے مجھے بتلایا کہ بیشک میرے بیٹے پر سو کوڑوں کی اور ایک سال کے لیے جلا وطنی کی سزا ہوگی اور اس عورت پر رجم کی سزا جاری ہوگی اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ضرور بالضرور تمہارے بیٹے پر سو کوڑوں اور ایک سال جلا وطنی کی سزا جاری ہوگی اور اے انیس ! اس عورت کے پاس جاؤ، پس اگر وہ اعتراف کرلے تو اس کو سنگسار کردو۔
(۲۹۳۸۰) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، وَزَیْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَشِبْلٍ ؛ أَنَّہُمْ قَالُوا :
کُنَّا عَندَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أُنْشِدُک اللَّہَ إِلاَ قَضَیْتَ بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللہِ ، فَقَالَ : خَصْمُہُ ، وَکَانَ أَفْقَہَ مِنْہُ: اقْضِ بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللہِ ، وَائْذَنْ لِی حَتَّی أَقُولَ، قَالَ: قُلْ، قَالَ: إِنَّ ابْنِی کَانَ عَسِیفًا عَلَی ہَذَا ، وَإِنَّہُ زَنَی بِامْرَأَتِہِ ، فَافْتَدَیْتُ مِنْہُ بِمِئَۃِ شَاۃٍ وَخَادِمٍ ، فَسَأَلْتُ رِجَالاً مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ ؟ فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَی ابْنِی جَلْدَ مِئَۃٍ وَتَغْرِیبَ عَامٍ ، وَأَنَّ عَلَی امْرَأَۃِ ہَذَا الرَّجْمَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لأَقْضِیَنَّ بَیْنَکُمَا بِکِتَابِ اللہِ ، الْمِئَۃُ شَاۃٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَیْک ، وَعَلَی ابْنِکَ جَلْدُ مِئَۃٍ وَتَغْرِیبُ عَامٍ، وَاغْدُ یَا أُنَیْسُ عَلَی امْرَأَۃِ ہَذَا، فَإِنَ اعْتَرَفْت فَارْجُمْہَا۔(بخاری ۲۳۱۵۔ ابن ماجہ ۲۵۴۹)
کُنَّا عَندَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أُنْشِدُک اللَّہَ إِلاَ قَضَیْتَ بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللہِ ، فَقَالَ : خَصْمُہُ ، وَکَانَ أَفْقَہَ مِنْہُ: اقْضِ بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللہِ ، وَائْذَنْ لِی حَتَّی أَقُولَ، قَالَ: قُلْ، قَالَ: إِنَّ ابْنِی کَانَ عَسِیفًا عَلَی ہَذَا ، وَإِنَّہُ زَنَی بِامْرَأَتِہِ ، فَافْتَدَیْتُ مِنْہُ بِمِئَۃِ شَاۃٍ وَخَادِمٍ ، فَسَأَلْتُ رِجَالاً مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ ؟ فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَی ابْنِی جَلْدَ مِئَۃٍ وَتَغْرِیبَ عَامٍ ، وَأَنَّ عَلَی امْرَأَۃِ ہَذَا الرَّجْمَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لأَقْضِیَنَّ بَیْنَکُمَا بِکِتَابِ اللہِ ، الْمِئَۃُ شَاۃٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَیْک ، وَعَلَی ابْنِکَ جَلْدُ مِئَۃٍ وَتَغْرِیبُ عَامٍ، وَاغْدُ یَا أُنَیْسُ عَلَی امْرَأَۃِ ہَذَا، فَإِنَ اعْتَرَفْت فَارْجُمْہَا۔(بخاری ۲۳۱۵۔ ابن ماجہ ۲۵۴۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৮০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باکرہ اور شیبہ کے بیان میں کہ ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جب وہ دونوں بدکاری کریں ؟
(٢٩٣٨١) حضرت عبادہ بن صامت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لوگ مجھ سے حکم لے لو تحقیق اللہ نے ان کے لیے راستہ مقرر فرما دیا ہے ثیبہ کے بدلے ثیبہ، اور باکر ہ کے بدلے باکرہ، اس طرح کہ باکرہ کو کوڑے مارے جائیں اور جلا وطن کردیا جائے اور ثیبہ کو کوڑے مارے جائیں اور سنگسار کردیا جائے۔
(۲۹۳۸۱) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سوَّارٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خُذُوا عَنِی ، قَدْ جَعَلَ اللَّہُ لَہُنَّ سَبِیلاً ، الثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ ، وَالْبِکْرُ بِالْبِکْرِ ، الْبِکْرُ یُجْلَدُ وَیُنْفَی ، وَالثَّیِّبُ یُجْلَدُ وَیُرْجَمُ۔ (مسلم ۱۳۔ ابوداؤد ۴۴۱۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৮১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باکرہ اور شیبہ کے بیان میں کہ ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جب وہ دونوں بدکاری کریں ؟
(٢٩٣٨٢) حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت ابی نے ارشاد فرمایا : جب دو غیر شادی شدہ زنا کرلیں تو ان دونوں کو کوڑے مارے جائیں گے اور جلا وطن کردیا جائے گا اور جب دو شادی شدہ زنا کریں تو ان دونوں کو کوڑے مارے جائیں گے اور ان دونوں کو سنگسار کردیا جائے گا۔
(۲۹۳۸۲) حَدَّثَنَا شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عنْ أُبَیٍّ ، قَالَ : إِذَا زَنَی الْبِکْرَانِ یُجْلَدَانِ وَیُنْفَیَانِ ، وَإِذَا زَنَی الثَّیِّبَانِ یُجْلَدَانِ وَیُرْجَمَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৮২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باکرہ اور شیبہ کے بیان میں کہ ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جب وہ دونوں بدکاری کریں ؟
(٢٩٣٨٣) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابی شادی شدہ کے بارے میں یہ رائے رکھتے تھے کہ اسے کوڑے مارے جائیں گے اور سنگسار کردیا جائے گا۔
(۲۹۳۸۳) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ أُبَیٍّ؛ أَنَّہُ کَانَ یَرَی فِی الثَّیِّبِ یُجْلَدُ وَیُرْجَمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৮৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باکرہ اور شیبہ کے بیان میں کہ ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جب وہ دونوں بدکاری کریں ؟
(٢٩٣٨٤) حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق نے ارشاد فرمایا : دونوں غیر شادی شدہ مرد و عورت کو کوڑے مارے جائیں گے اور جلا وطن کردیا جائے گا اور دونوں شادی شدہ مرد و عورت کو کوڑے مارے جائیں گے اور سنگسار کردیا جائے گا۔
(۲۹۳۸۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : الْبِکْرَانِ یُجْلَدَانِ وَیُنْفَیَانِ ، وَالثَّیِّبَانِ یُجْلَدَانِ وَیُرْجَمَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৮৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باکرہ اور شیبہ کے بیان میں کہ ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جب وہ دونوں بدکاری کریں ؟
(٢٩٣٨٥) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے کوڑے مارے اور سنگسار کیا۔
(۲۹۳۸۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، وَالشَّیْبَانِیِّ ، وَأَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّ عَلِیًا جَلَدَ وَرَجَمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৮৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باکرہ اور شیبہ کے بیان میں کہ ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جب وہ دونوں بدکاری کریں ؟
(٢٩٣٨٦) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عمر سنگسار کرتے تھے اور کوڑے ما رتے تھے حضرت علی بھی سنگسار کرتے تھے اور کوڑے مارتے تھے۔
(۲۹۳۸۶) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ یَرْجُمُ وَیَجْلِدُ ، وَکَانَ عَلِیٌّ یَرْجُمُ وَیَجْلِدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৮৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باکرہ اور شیبہ کے بیان میں کہ ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جب وہ دونوں بدکاری کریں ؟
(٢٩٣٨٧) حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر نے ارشاد فرمایا : دونوں شادی شدہ مرد اور عورت کو کوڑے مارے جائیں گے اور دونوں کو سنگسار کردیا جائے گا اور دونوں غیر شادی شدہ مرد اور عورت کو کوڑے مارے جائیں گے اور دونوں کو جلا وطن کردیا جائے گا۔
(۲۹۳۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِیِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : الشَّیْخَانِ الثَّیِّبَانِ یُجْلَدَانِ وَیُرْجَمَانِ، وَالْبِکْرَانِ یُجْلَدَانِ وَیُنْفَیَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৮৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باکرہ اور شیبہ کے بیان میں کہ ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جب وہ دونوں بدکاری کریں ؟
(٢٩٣٨٨) حضرت ابن طاؤس فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت طاؤس نے ارشاد فرمایا : شادی شدہ جب زنا کرے تو اس پر رجم کی سزا جاری ہوگی اور باکرہ پر کوڑوں اور جلا وطنی کی سزا جاری ہوگی۔
(۲۹۳۸۸) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَن زَمْعَۃَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: عَلَی الْمُحْصَنِ إِذَا زَنَی الرَّجْمُ، وَعَلَی الْبِکْرِ الْجَلْدُ وَالنَّفْیُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৮৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باکرہ اور شیبہ کے بیان میں کہ ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جب وہ دونوں بدکاری کریں ؟
(٢٩٣٨٩) حضرت محمد بن سالم فرماتے ہیں کہ حضرت عامر اسے غیر شادی شدہ کے بارے میں مروی ہے کہ جب وہ زنا کرلے تو اس کو ایک سال کے لیے جلا وطن کردیا جائے۔
(۲۹۳۸۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَامِرٍ ؛ فِی الْبِکْرِ إِذَا زَنَی یُنْفَی سَنَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৮৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باکرہ اور شیبہ کے بیان میں کہ ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جب وہ دونوں بدکاری کریں ؟
(٢٩٣٩٠) حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے کوڑے مارے اور سنگسار کیا۔ آپ نے جمعرات کے دن کوڑے مارے اور جمعہ کے دن سنگسار کیا۔
(۲۹۳۹۰) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ عَلِیًّا جَلَدَ وَرَجَمَ، جَلَدَ یَوْمَ الْخَمِیسِ ، وَرَجَمَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৯০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باکرہ اور شیبہ کے بیان میں کہ ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جب وہ دونوں بدکاری کریں ؟
(٢٩٣٩١) حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعز بن مالک کو سنگسار کیا اور آپ نے کوڑوں کا ذکر نہیں فرمایا۔
(۲۹۳۹۱) حَدَّثَنَا شَاذَانُ ، وَعَفَّانُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَن سِمَاکٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجَمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ ، وَلَمْ یَذْکُرْ جَلْدًا۔ (احمد ۹۲۔ طبرانی ۱۹۶۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৯১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باکرہ اور شیبہ کے بیان میں کہ ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جب وہ دونوں بدکاری کریں ؟
(٢٩٣٩٢) حضرت صفیہ بنت ابی عبید فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر نے ایک آدمی کو کوڑے مارے جس نے کسی باکرہ باندی سے وطی کر کے اسے حاملہ کردیا تھا اور اس نے اعتراف بھی کیا تھا اور وہ شادی شدہ نہیں تھا تو حضرت ابوبکر کے حکم سے اسے کوڑے مارے گئے پھر اسے جلا وطن کردیا گیا۔
(۲۹۳۹۲) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ أَبِی عُبَیْدٍ ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ ؛ أَنَّہُ جَلَدَ رَجُلاً وَقَعَ عَلَی جَارِیَۃٍ بِکْرٍ ، فَأَحْبَلَہَا ، فَاعْتَرَفَ ، وَلَمْ یَکُنْ أُحْصِنَ ، فَأَمَرَ بِہِ أَبُو بَکْرٍ فَجُلِدَ ، ثُمَّ نُفِیَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৯২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جلا وطنی کا بیان، کہاں سے کہاں تک ہوگی ؟
(٢٩٣٩٣) حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے فدک کی طرف جلا وطن کردیا۔
(۲۹۳۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَن زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن أَبِیہِ ؛ أَنَّ عُمَرَ نَفَی إِلَی فَدَکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৯৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جلا وطنی کا بیان، کہاں سے کہاں تک ہوگی ؟
(٢٩٣٩٤) حضرت ابن یسار جو کہ حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام ہیں وہ فرماتے ہیں : حضرت عثمان نے ایک عورت کو زنا میں کوڑے مارے پھر آپ نے اس کو اس کے مالک جس کا نام مھری تھا کے ساتھ خیبر بھیج دیا آپ نے اس کو وہاں جلا وطن کیا تھا۔
(۲۹۳۹۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ ابْنِ یَسَارٍ مَوْلًی لِعُثْمَانَ ، قَالَ : جَلَدَ عُثْمَانُ امْرَأَۃً فِی زِنًا ، ثُمَّ أَرْسَلَ بِہَا مَوْلًی لَہُ ، یُقَالُ لَہُ : الْمُہْرِیُّ ، إِلَی خَیْبَرَ ، فَنَفَاہَا إِلَیْہَا۔
তাহকীক: