মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
سزاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৬ টি
হাদীস নং: ২৯৩৯৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جلا وطنی کا بیان، کہاں سے کہاں تک ہوگی ؟
(٢٩٣٩٥) حضرت حی فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے بصرہ کی طرف جلا وطن کردیا۔
(۲۹۳۹۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَیِّ ؛ أَنَّ عَلِیًّا نَفَی إِلَی الْبَصْرَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৯৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جلا وطنی کا بیان، کہاں سے کہاں تک ہوگی ؟
(٢٩٣٩٦) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے پاس ھمدان کی ایک باندی لائی گئی۔ آپ نے اسے کوڑے مارے اور آپ نے اسے ایک سال کے لیے بصرہ کی طرف جلا وطن کرکے روانہ کردیا۔
(۲۹۳۹۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : أُتِیَ عَلِیٌّ بِجَارِیَۃٍ مِنْ ہَمْدَانَ ، فَضَرَبَہَا وَسَیَّرَہَا إِلَی الْبَصْرَۃِ سَنَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৯৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جلا وطنی کا بیان، کہاں سے کہاں تک ہوگی ؟
(٢٩٣٩٧) حضرت اسماعیل بن سالم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے حضرت ابن ھبیرہ کے زمانے میں دریافت کیا : کہاں سے لے کر کہاں تک زنا کی سزا میں جلا وطن کیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : اس کے شہر سے دوسرے شہر تک۔
(۲۹۳۹۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ فِی زَمَنِ ابْنِ ہُبَیْرَۃَ : مِنْ أَیْنَ یُنْفَی فِی الزِّنَی ؟ قَالَ : مِنْ عَمَلِہِ إِلَی عَمِلِ غَیْرِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৯৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جلا وطنی کا بیان، کہاں سے کہاں تک ہوگی ؟
(٢٩٣٩٨) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کی طرف جلا وطن کیا۔
(۲۹۳۹۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَفَی إِلَی خَیْبَرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৯৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جلا وطنی کا بیان، کہاں سے کہاں تک ہوگی ؟
(٢٩٣٩٩) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکرصدیق نے ایک آدمی اور ایک عورت کو ایک سال کے لیے جلا وطن کیا۔
(۲۹۳۹۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَن نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ نَفَی رَجُلاً وَامْرَأَۃً حَوْلاً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৯৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جلا وطنی کا بیان، کہاں سے کہاں تک ہوگی ؟
(٢٩٤٠٠) حضرت زھری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے بصرہ کی طرف جلا وطن کرد یا۔
(۲۹۴۰۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ؛ أَنَّ عُمَرَ نَفَی إِلَی الْبَصْرَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪০০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے بیان میں ! جب اس کو سنگسار کیا جائے تو کیسے کیا جائے، اور کتنابڑا گھڑا کھودا جائے ؟
(٢٩٤٠١) حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک عورت کو سنگسار کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے پستان تک گڑھا کھودا۔
(۲۹۴۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن زَکَرِیَّا أَبِی عِمْرَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَیْخًا یُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ أَبِی بَکْرَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجَمَ امْرَأَۃً فَحَفَرَ إِلَی الثَّنْدُوَۃِ۔ (ابوداؤد ۴۴۴۰۔ احمد ۳۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪০১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے بیان میں ! جب اس کو سنگسار کیا جائے تو کیسے کیا جائے، اور کتنابڑا گھڑا کھودا جائے ؟
(٢٩٤٠٢) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ایک عورت کو سنگسار کیا تو آپ نے اس کے لیے ناف تک گڑھا کھودا اور میں اس کا گواہ ہوں۔
(۲۹۴۰۲) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ ، عَن مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ؛ أَنَّ عَلِیًّا رَجَمَ امْرَأَۃً ، فَحَفَرَ لَہَا إِلَی السُّرَّۃِ ، وَأَنَا شَاہِد ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪০২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے بیان میں ! جب اس کو سنگسار کیا جائے تو کیسے کیا جائے، اور کتنابڑا گھڑا کھودا جائے ؟
(٢٩٤٠٣) حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس غامدیہ عورت آئی اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس زنا کا اقرار کرلیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کے سینہ تک گڑھا کھودا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو حکم دیا تو انھوں نے پتھر مارے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اس پر نماز جنازہ پڑھ کر اس کو دفن کردیا گیا۔
(۲۹۴۰۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَشِیرُ بْنُ الْمُہَاجِرِ ، قَالَ : حدَّثَنَی عَبْدُ اللہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتَتْہُ الْغَامِدِیَّۃُ ، فَأَقَرَّتْ عَندَہُ بِالزِّنَی ، فَأَمَرَ بِہَا ، فَحُفِرَ لَہَا إِلَی صَدْرِہَا ، وَأَمَرَ النَّاسَ فَرَجَمُوا ، ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَصُلِّیَ عَلَیْہَا ، ثُمَّ دُفِنَتْ۔ (مسلم ۱۳۲۳۔ ابوداؤد ۴۴۳۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪০৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : جب عورت نے بدکاری کی درآنحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
(٢٩٤٠٤) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ بارق مقام سے ایک عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی : بیشک میں نے زنا کیا ہے سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے بارے میں اللہ کی سزا نافذ فرما دیں ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو لوٹا دیا یہاں تک کہ اس نے اپنے نفس کے خلاف بہت سی گواہیاں دیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : تم واپس جاؤ پس جب اس نے اپنا حمل وضع کردیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے حکم دیا تو وہ پاک ہوگئی اور اس نے اپنا کفن پہن لیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اسے سنگسار کردیا گیا اس کا کچھ خون حضرت خالد بن ولید کو لگ گیا تو آپ نے اس کو برا بھلا کہا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو منع کیا اور فرمایا : تحقیق اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر چنگی وصول کرنے والا ایسی توبہ کرتا تو اس کی توبہ قبول کرلی جاتی۔
(۲۹۴۰۴) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : جَائَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ بَارِقَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّی قَدْ زَنَیْت فَأَقِمْ فِیَّ حَدَّ اللہِ ، قَالَ : فَرَدَّہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی شَہِدَتْ عَلَی نَفْسِہَا شَہَادَاتٍ ، قَالَ : فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ارْجِعِی ، فَلَمَّا وَضَعَتْ حَمْلَہَا أَمَرَہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَتَطَہَّرَتْ ، وَلَبِسَتْ أَکْفَانَہَا ، ثُمَّ أُمِرَ بِہَا فَرُجِمَتْ ، فَأَصَابَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ مِنْ دَمِہَا فَسَبَّہَا ، فَنَہَاہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ تَابَہَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَقُبِلَ مِنْہُ۔ (ابوداؤد ۲۴۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪০৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : جب عورت نے بدکاری کی درآنحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
(٢٩٤٠٥) حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ ایک غامدیہ عورت آئی اور کہنے لگی : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے زنا کیا ہے اور بیشک میں چاہتی ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے پاک کردیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو واپس لوٹا دیا پس جب اگلا دن ہوا اس نے کہا ! یا نبی اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کیوں لوٹا دیا جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعز بن مالک کو واپس لوٹا دیا تھا ! اللہ کی قسم ! بیشک میں حاملہ ہوں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بالکل نہیں، تم جاؤ یہاں تک کہ تم بچہ پیدا کردو، پس جب اس نے بچہ جنا تو وہ بچہ کو پھٹے پرانے کپڑے میں لے کر آئی اور کہنے لگی : میں نے اس کو جن دیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم جاؤ اس کو دودھ پلاؤ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دو پس جب اس عورت نے اس کا دودھ چھڑا دیا تو وہ اس بچہ کو لے کر آئی اس حال میں کہ اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا۔ اس عورت نے کہا ! اے اللہ کے نبی ! تحقیق میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے اور تحقیق اس نے کھانا کھایا ہے سو اس بچہ کو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کے حوالہ کردیا گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اس کے سینہ تک گھڑا کھودا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو حکم دیا تو لوگوں نے اسے پتھر مارے حضرت خالد بن ولید ایک پتھر لائے اور اس کے سر میں مارا تو اس کے خون کی چھینٹیں حضرت خالد بن ولید کے چہرے پر پڑیں تو اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس عورت کو برا بھلا کہتے ہوئے سنا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھہرواے خالد بن ولید ! پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تحقیق اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر چنگی وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی مغفرت کردی جاتی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اس کو دفن کردیا گیا۔
(۲۹۴۰۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، قَالَ: حدَّثَنَا بَشِیرُ بْنُ مُہَاجِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : جَائَتِ الْغَامِدِیَّۃُ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنِّی قَدْ زَنَیْتُ ، وَإِنِّی أُرِیدُ أَنْ تُطَہِّرَنِی ، وَإِنَّہُ رَدَّہَا ، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ ، قَالَتْ : یَا نَبِیَّ اللہِ ، لِمَ تَرُدَّنِی ؟ فَلَعَلَّک أَنْ تُرَدِّدَنِی کَمَا رَدَّدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ ، فَوَاللَّہِ إِنِّی لِحُبْلَی ، قَالَ : إِمَّا لاَ ، فَاذْہَبِی حَتَّی تَلِدِی ، فَلَمَّا وَلَدَتْ أَتَتْہُ بِالصَّبِیِّ فِی خِرْقَۃٍ ، قَالَتْ : ہَذَا قَدْ وَلَدْتُہُ ، قَالَ : اذْہَبِی فَأَرْضِعِیہِ ، حَتَّی تَفْطِمِیہِ ، فَلَمَّا فَطَمَتْہُ أَتَتْہُ بِالصَّبِیِّ ، وَفِی یَدِہِ کِسْرَۃُ خُبْزٍ ، فَقَالَتْ : ہَذَا یَا نَبِیَّ اللہِ قَدْ فَطَمْتُہُ ، وَقَدْ أَکَلَ الطَّعَامَ ، فَدُفَعَ الصَّبِیَّ إِلَی رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَحُفِرَ لَہَا إِلَی صَدْرِہَا ، وَأَمَرَ النَّاسَ فَرَجَمُوا ، فَأَقْبَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ بِحَجَرٍ فَرَمَی رَأْسَہَا ، فَانْتَضَخَ الدَّمُ عَلَی وَجْہِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ ، فَسَمِعَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَبَّہُ إِیَّاہَا ، فَقَالَ : مَہْلاً یَا خَالِدُ بْنَ الْوَلِیدِ ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ تَابَہَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَ لَہُ ، ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَصُلَّیَ عَلَیْہَا وَدُفِنَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪০৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : جب عورت نے بدکاری کی درآنحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
(٢٩٤٠٦) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ قبیلہ جھینہ کی ایک عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی بیشک مجھ پر حد لازم ہوگئی سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو مجھ پر قائم فرمادیں اس حال میں کہ وہ حاملہ تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پس جب اس نے حمل وضع کردیا تو اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اس پر کپڑے ڈال دیے گئے پھر اس کو سنگسار کیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی حضرت عمر نے فرمایا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے حالانکہ اس نے زنا کیا ہے ؟ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : البتہ تحقیق اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کی توبہ مدینہ والوں میں سے ستر لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے تو وہ ان کو گھیر لے کیا تم کسی کو افضل پاؤ گے اس سے جس نے اپنی جان دیدی ہو۔
(۲۹۴۰۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ؛ أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ جُہَیْنَۃَ أَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّی أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْہُ عَلَیَّ ، وَہِیَ حَامِلٌ ، فَأَمَرَ بِہَا أَنْ یُحْسَنَ إِلَیْہَا حَتَّی تَضَعَ ، فَلَمَّا أَنْ وَضَعَتْ ، جِیئَ بِہَا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِہَا ، فَشُکَّتْ عَلَیْہَا ثِیَابُہَا ، ثُمَّ رَجَمَہَا وَصَلَّی عَلَیْہَا ، فَقَالَ عُمَرُ : یَا نَبِیَّ اللہِ ، أَتُصَلِّی عَلَیْہَا وَقَدْ زَنَتْ ؟ فَقَالَ : لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ قُسِمَتْ بَیْنَ سَبْعِینَ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ لَوَسِعَتْہُمْ ، وَہَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِہَا۔ (مسلم ۱۳۲۴۔ ابوداؤد ۴۴۳۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪০৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : جب عورت نے بدکاری کی درآنحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
(٢٩٤٠٧) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے پاس شراحہ قبیلہ ھمدان کی ایک عورت لائی گئی درآنحالیکہ وہ زنا سے حاملہ تھی حضرت علی نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کو جیل میں قید کردیا گیا پس جب اس نے اپنے پیٹ میں موجود حمل کو وضع کردیا تو اس کو جمعرات کے دن نکالا اور آپ نے اسے سو کو ڑے مارے اور اس کو جمعہ کے دن سنگسار کردیا۔
(۲۹۴۰۷) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : أُتِیَ عَلِیٌّ بِشُرَاحَۃَ ، امْرَأَۃٍ مِنْ ہَمْدَانَ ، وَہِیَ حُبْلَی مِنْ زِنًی ، فَأَمَرَ بِہَا عَلِیٌّ فَحُبِسَتْ فِی السِّجْنِ ، فَلَمَّا وَضَعَتْ مَا فِی بَطْنِہَا ، أَخْرَجَہَا یَوْمَ الْخَمِیسِ ، فَضَرَبَہَا مِئَۃ سَوْطٍ ، وَرَجَمَہَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪০৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : جب عورت نے بدکاری کی درآنحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
(٢٩٤٠٨) حضرت ابو سفیان اپنے شیوخ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک عورت کا خاوند غائب ہوگیا تھا پھر وہ واپس آیا اس حال میں کہ اس کی بیوی حاملہ تھی سو اس نے اس عورت کو حضرت عمر کے سامنے پیش کردیا آپ نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا اس پر حضرت معاذ نے فرمایا : اگرچہ آپ کے پاس اس عورت کے خلاف جواز موجود ہے لیکن جو بچہ اس کے پیٹ میں موجود ہے اس کے خلاف تو آپ کے پاس کوئی جواز نہیں ہے، تو حضرت عمر نے فرمایا : اس عورت کو قید کردو یہاں تک کہ وہ بچہ جن دے اس عورت نے بچہ جنا درآنحالیکہ اس کے دو دانت تھے۔ جب اس کے باپ نے اسے دیکھا تو کہنے لگا۔ میرا بیٹا میرا بیٹا یہ خبر حضرت عمر کو پہنچی تو آپ نے فرمایا : عورتیں حضرت معاذ جیسے لوگ پیدا کرنے سے عاجز آگئی ہیں۔ اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔
(۲۹۴۰۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ أَشْیَاخِہِ ؛ أَنَّ امْرَأَۃً غَابَ عنہا زَوْجُہَا ، ثُمَّ جَائَ وَہِیَ حَامِلٌ ، فَرَفَعَہَا إِلَی عُمَرَ ، فَأَمَرَ بِرَجْمِہَا ، فَقَالَ مُعَاذٌ : إِنْ یَکُنْ لَکَ عَلَیْہَا سَبِیلٌ ، فَلاَ سَبِیلَ لَکَ عَلَی مَا فِی بَطْنِہَا ، فَقَالَ عُمَرُ : احْبِسُوہَا حَتَّی تَضَعَ ، فَوَضَعَتْ غُلاَمًا لَہُ ثَنِیَّتَانِ ، فَلَمَّا رَآہُ أَبُوہُ ، قَالَ : ابْنِی ، ابْنِی ، فَبَلَغَ ذَلِکَ عُمَرَ ، فَقَالَ : عَجَزَتِ النِّسَائُ أَنْ تَلِدْنَ مِثْلَ مُعَاذٍ ، لَوْلاَ مُعَاذٌ ہَلَکَ عُمَرُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪০৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : جب عورت نے بدکاری کی درآنحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
(٢٩٤٠٩) حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے پاس ایک عورت لائی گئی تحقیق اس نے زنا کیا تھا تو آپ نے اسے قید کردیا یہاں تک کہ اس نے بچہ جنا اور اس کے نفاس کا خون بند ہوا اور وہ پاک ہوگئی۔
(۲۹۴۰۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَسَن بْن سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحَمَن بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : أُتِیَ عَلِیٌّ بِامْرَأَۃٍ قَدْ زَنَتْ ، فَحَبَسَہَا حَتَّی وَضَعَتْ وَتَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪০৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : جب عورت نے بدکاری کی درآنحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
(٢٩٤١٠) حضرت عبدالرحمن سے حضرت علی کا مذکورہ ارشاد بعینہ اس سند سے بھی منقول ہے۔
(۲۹۴۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪১০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : جب عورت نے بدکاری کی درآنحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
(٢٩٤١١) حضرت ذھل بن کعب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے اس عورت کو سنگسار کرنے کا ارادہ کیا جس نے بدکاری کی تھی اور وہ حاملہ تھی حضرت معاذ نے آپ سے فرمایا : تب تو آپ اس پر ظلم کرو گے آپ کی کیا رائے ہے اس جان کے بارے میں جو اس کے پیٹ میں موجود ہے۔ اس کا کیا گناہ ہے ؟ کس وجہ سے آپ ایک جان کے بدلے دو جانوں کو قتل کرو گے ؟ سو آپ نے اس عورت کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے اپنا حمل وضع کیا پھر آپ نے اسے سنگسار کیا۔
(۲۹۴۱۱) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاکٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی ذُہلُ بْنُ کَعْبٍ ، قَالَ : أَرَادَ عُمَرُ أَنْ یَرْجُمَ الْمَرْأَۃَ الَّتِی فَجَرَتْ وَہِیَ حَامِلٌ ، فَقَالَ لَہُ مُعَاذٌ : إِذًا تَظْلِمُہَا ، أَرَأَیْتَ الَّذِی فِی بَطْنِہَا ، مَا ذَنْبُہُ ؟ عَلاَمَ تَقْتُلْ نَفْسَیْنِ بِنَفْسٍ وَاحِدَۃٍ ؟ فَتَرَکَہَا حَتَّی وَضَعَتْ حَمْلَہَا ، ثُمَّ رَجَمَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪১১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : جب عورت نے بدکاری کی درآنحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
(٢٩٤١٢) حضرت زاذان فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے حکم سے عورت کو چوغہ میں مکمل لپیٹ دیا گیا۔
(۲۹۴۱۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَنْ زَاذَانَ ؛ أَنَّ عَلِیًّا أَمَرَ بِہَا فَلُفَّتْ فِی عَبَائِۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪১২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : جب عورت نے بدکاری کی درآنحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
(٢٩٤١٣) حضرت مسعود جو آل ابو الدرداء کے ایک فرد ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی نے شراحہ کو سنگسار کیا تو لوگوں نے اس پر لعن طعن کرنا شروع کردیا۔ اس پر آپ نے فرمایا اے لوگو ! اس پر لعن طعن مت کرو۔ اس لیے کہ جس شخص پر سزا کا کوڑا مار دیا جائے تو وہ اس کا کفارہ ہوجاتا ہے قرض کی جزا قرض کے بدلے میں۔
(۲۹۴۱۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِیدِ الْہَمْدَانِیِّ ، عَنْ مَسْعُودٍ ، رَجُلٍ مِنْ آلِ أَبِی الدَّرْدَائِ ؛ أَنَّ عَلِیًّا لَمَّا رَجَمَ شُرَاحَۃَ ، جَعَلَ النَّاسُ یَلْعَنُونَہَا ، فَقَالَ : أیُّہَا النَّاسُ ، لاَ تَلْعَنُوہَا ، فَإِنَّہُ مَنْ أُقِیمَ عَلَیْہِ عَصَا حَدٍّ ، فَہُوَ کَفَّارَتُہُ ، جَزَائَ الدَّیْن بِالدَّیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪১৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان لوگوں کے بیان میں جو پتھر مارنے کی ابتدا کریں گے
(٢٩٤١٤) حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے پاس جب گواہ زنا کی گواہی دیتے پھر آپ گواہوں کو پتھر مارنے کا حکم دیتے پھر آپ پتھر مارتے پھر لوگ پتھر مارتے اور جب اقرار کرتا تو آپ خود ابتدا کرتے سو اسے پتھر مارتے پھر لوگ اسے پتھر مارتے۔
(۲۹۴۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ؛ أَنَّ عَلِیًّا کَانَ إِذَا شَہِدَ عَندَہُ الشُّہُودُ عَلَی الزِّنَی ، أَمَرَ الشُّہُودَ أَنْ یَرْجُمُوا ، ثُمَّ رَجَمَ ، ثُمَّ رَجَمَ النَّاسُ ، وَإِذَا کَانَ إِقْرَارًا ، بَدَأَ ہُوَ فَرَجَمَ، ثُمَّ رَجَمَ النَّاسُ۔
তাহকীক: