মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

سزاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৬ টি

হাদীস নং: ২৯৪১৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان لوگوں کے بیان میں جو پتھر مارنے کی ابتدا کریں گے
(٢٩٤١٥) حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا : اے لوگو بیشک زنا دو طرح کا ہوتا ہے۔ پوشیدہ زنا اور اعلانیہ زنا پس پوشیدہ زنا تو یہ ہے کہ گواہ زنا کی گواہی دیں سو گواہ سب سے پہلے پتھر مارنے والے ہوں گے پھر حاکم پھر لوگ اور اعلانیہ زنا یہ ہے کہ حمل ظاہر ہوجائے یا اعتراف کرلے سو امام سب سے پہلے پتھر مارنے والا ہوگا راوی کہتے ہیں آپ کے ہاتھ میں کچھ پتھر تھے سو آپ نے اس عورت کو ایک پتھر مارا جو اس کے کان کے سوراخ میں جا لگا تو وہ گھومنے لگی اور لوگوں نے پتھر مارے۔
(۲۹۴۱۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنَّ الزِّنَی زِنَائَانِ : زِنَی سِرٍّ ، وَزِنَی عَلاَنِیَۃٍ ، فَزِنَی السِّرِّ ، أَنْ یَشْہَدَ الشُّہُودُ فَتَکُونَ الشُّہُودُ أَوَّلَ مَنْ یَرْمِی ، ثُمَّ الإِمَامُ ، ثُمَّ النَّاسُ ، وَزِنَی الْعَلاَنِیَۃِ ، أَنْ یَظْہَرَ الْحَبَلُ ، أَوِ الاِعْتِرَافُ ، فَیَکُونُ الإِمَامُ أَوَّلَ مَنْ یَرْمِی ، قَالَ : وَفِی یَدِہِ ثَلاَثَۃُ أَحْجَارٍ ، قَالَ : فَرَمَاہَا بِحَجَرٍ فَأَصَابَ صِمَاخَہَا فَاسْتَدَارَتْ ، وَرَمَی النَّاسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪১৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان لوگوں کے بیان میں جو پتھر مارنے کی ابتدا کریں گے
(٢٩٤١٦) حضرت عبدالرحمن سے حضرت علی کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی بعنہا منقول ہے۔
(۲۹۴۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ مِثْلُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪১৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان لوگوں کے بیان میں جو پتھر مارنے کی ابتدا کریں گے
(٢٩٤١٧) حضرت عمرو بن نافع فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا : رجم کی دو قسمیں ہیں ایک رجم وہ جو حاکم پتھر مارتا ہے پھر لوگ اور ایک رجم وہ جو گواہ پتھر مارتے ہیں پھر حاکم پھر لوگ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت حکم سے عرض کی : امام کا رجم کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جب وہ عورت بچہ پیدا کرلے یا وہ اقرار کرلے اور گواہوں کا رجم یہ ہے کہ جب وہ گواہی دے دیں۔
(۲۹۴۱۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ نَافِعٍ ، یُحَدِّثُ عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : الرَّجْمُ رَجْمَانِ ، فَرَجْمٌ یَرْجُمُ الإِمَامُ ، ثُمَّ النَّاسُ ، وَرَجْمٌ یَرْجُمُ الشُّہُودُ ، ثُمَّ الإِمَامُ ، ثُمَّ النَّاسُ ، فَقُلْتُ لِلْحَکَمِ : مَا رَجْمُ الإِمَامِ ؟ قَالَ : إِذَا وَلَدَتْ ، أَوْ أَقَرَّتْ ، وَرَجْمُ الشُّہُودِ إِذَا شَہِدُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪১৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان لوگوں کے بیان میں جو پتھر مارنے کی ابتدا کریں گے
(٢٩٤١٨) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے دریافت کیا حاکم کا رجم کرنا کیا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جب عورت بچہ پیدا کرلے یا اقرار کرلے اور جب گواہ گواہی دے دیں، تو گواہ ہی ابتدا کریں گے۔
(۲۹۴۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْحَکَمِ : مَا رَجْمُ الإِمَامِ ؟ قَالَ : إِذَا وَلَدَتْ ، أَوْ أَقَرَّتْ ، وَإِذَا شَہِدَ الشُّہُودُ بَدَأَ الشُّہُودُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪১৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کی گواہی دینے کے بیان میں کہ وہ کیسے دی جائے گی ؟
(٢٩٤١٩) حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکرہ اور ان کے دو ساتھیوں نے حضرت مغیرہ کے خلاف گواہی دے دی تو زیاد آئے حضرت عمر نے ان سے فرمایا : ایک آدمی ہرگز گواہی نہیں دے گا ان شاء اللہ مگر حق بات کی۔ اس نے کہا : میں نے حیران کن بات اور بری مجلس دییھت اس پر حضرت عمر نے پوچھا کیا تو نے سلائی کو سرمہ دانی میں داخل ہونے کی طرح دیکھا ؟ اس نے کہا نہیں حضرت عمر نے ان کے متعلق حکم دیا تو ان سب کو کوڑے مارے گئے۔
(۲۹۴۱۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ : لَمَّا شَہِدَ أَبُو بَکْرَۃَ وَصَاحِبَاہُ عَلَی الْمُغِیرَۃِ ، جَائَ زِیَادٌ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : رَجُلٌ لَنْ یَشْہَدَ إِنْ شَائَ اللَّہُ إِلاَّ بِحَقٍّ ، قَالَ : رَأَیْتُ انْبِہَارًا وَمَجْلِسًا سَیِّئًا ، فَقَالَ عُمَرُ : ہَلْ رَأَیْتَ الْمِرْوَدَ دَخَلَ الْمُکْحُلَۃِ ؟ قَالَ : لاَ ، فَأَمَرَ بِہِمْ فَجُلِدُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪১৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کی گواہی دینے کے بیان میں کہ وہ کیسے دی جائے گی ؟
(٢٩٤٢٠) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ چند لوگوں نے ایک آدمی کے خلاف زنا کی گواہی دی تو حضرت عثمان نے اپنا ہاتھ اس طرح کر کے فرمایا : تم اس بات کی گواہی دیتے ہو، اور آپ نے اپنی شہادت کی انگلی کو اپنی بائیں انگلی میں ڈالا اور دس کا عدد بنایا۔
(۲۹۴۲۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَتِیقٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ؛ أَنَّ أُنَاسًا شَہِدُوا عَلَی رَجُلٍ فِی زِنًی ، قَالَ : فَقَالَ عُثْمَانُ بِیَدِہِ ہَکَذَا : تَشْہَدُونَ أَنَّہُ ،وَجَعَلَ یُدْخِلُ إِصْبَعَہُ السَّبَّابَۃَ فِی إِصْبَعِہِ الْیُسْرَی ، وَقَدْ عَقَدَ بِہَا عَشْرًۃ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪২০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کی گواہی دینے کے بیان میں کہ وہ کیسے دی جائے گی ؟
(٢٩٤٢١) حضرت قسامہ بن زھیر فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکرہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کا معاملہ ہوا تھا تو وہ اس طرح تھا حضرت ابو بکرہ نے کہا : دور رہو ہماری نمازوں سے بیشک ہم تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے سو حضرت مغیرہ نے ان کے بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا : حضرت عمر نے حضرت مغیرہ کو جواب لکھا کہ : حمدو صلوٰۃ کے بعد بیشک اس نے مجھے تمہاری باتوں میں سے ایک بات پہنچائی ہے پس اگر وہ تمہارے خلاف سچی ہے تو ضرور تمہارا آج کے دن سے پہلے مرجانا تمہارے لیے بہتر تھا۔ اور پھر آپ نے ان کو اور گواہوں کو خط لکھا کہ وہ سب میرے پاس آئیں۔

پس جب وہ سب لوگ حضرت عمر کے پاس پہنچ گئے تو آپ نے گواہوں کو بلایا سو انھوں نے گواہی دی پس حضرت ابو بکرہ ، حضرت شبل بن معبد اور ابو عبداللہ نافع نے گواہی دی راوی کہتے ہیں : جب یہ تینوں گواہی دے چکے تو حضرت عمر نے فرمایا : مغیرہلاک ہوگیا چوتھے آدمی آئے ! اور حضرت عمر پر ان کی یہ حالت بہت بھاری گزری۔ سو جب زیاد کھڑا ہوا تو آپ نے فرمایا : یہ ہرگز گواہی نہیں دے گا ان شاء اللہ مگر حق بات کی پھر اس نے گواہی دی اور کہا : جہاں تک زنا کا تعلق ہے تو میں اس کی گواہی نہیں دیتا لیکن تحقیق میں نے فحش معاملہ دیکھا ہے اس پر حضرت عمر نے فرمایا : اللہ اکبر ان تینوں کو کوڑے مارو سو آپ نے ان کو کوڑے مارے پس جب حضرت ابو بکرہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک وہ زانی ہے ! سو حضرت عمر ان پر دوبارہ حد جاری کرنے کے لیے جانے لگے اس پر حضرت علی نے فرمایا : اگر تم اس کو کوڑے مارتے ہو تو اپنے ساتھی کو بھی سنگسار کرو ! پس حضرت عمر نے ان کو چھوڑ دیا اور ایک تہمت میں دو مرتبہ اس کے بعد کوڑے نہیں مارے گئے۔
(۲۹۴۲۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ قَسَامَۃَ بْنِ زُہَیْرٍ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ مِنْ شَأْنِ أَبِی بَکْرَۃَ وَالْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ الَّذِی کَانَ ، قَالَ أَبُو بَکْرَۃَ : اجْتَنِبْ ، أَوْ تَنَحَّ عَن صَلاَتِنَا ، فَإِنَّا لاَ نُصَلِّی خَلْفَک ، قَالَ : فَکَتَبَ إِلَی عُمَرَ فِی شَأْنِہِ ، قَالَ : فَکَتَبَ عُمَرُ إِلَی الْمُغِیرَۃِ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّہُ قَدْ رَقِیَ إِلَیَّ مِنْ حَدِیثِکَ حَدِیثٌ ، فَإِنْ یَکُنْ مَصْدُوقًا عَلَیْک ، فَلأَنْ تَکُونَ مِتَّ قَبْلَ الْیَوْمِ خَیْرٌ لَکَ ، قَالَ : فَکَتَبَ إِلَیْہِ وَإِلَی الشُّہُودِ ، أَنْ یُقْبِلُوا إِلَیْہِ۔

فَلَمَّا انْتَہَوْا إِلَیْہِ ، دَعَا الشُّہُودَ فَشَہِدُوا ، فَشَہِدَ أَبُو بَکْرَۃَ ، وَشِبْلُ بْنُ مَعْبَدٍ ، وَأَبُو عَبْدِ اللہِ نَافِعٌ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ حِینَ شَہِدَ ہَؤُلاَئِ الثَّلاَثَۃُ : أَوْدَی الْمُغِیرَۃِ أَرْبَعَۃٌ ، وَشَقَّ عَلَی عُمَرَ شَأْنُہُ جِدًّا ، فَلَمَّا قَامَ زِیَادٌ ، قَالَ: لَنْ یَشْہَدْ إِنْ شَائَ اللَّہُ إِلاَّ بِحَقٍّ ، ثُمَّ شَہِدَ ، فَقَالَ : أَمَّا الزِّنَی فَلاَ أَشْہَدُ بِہِ ، وَلَکِنِّی قَدْ رَأَیْتُ أَمْرًا قَبِیحًا، فَقَالَ عُمَرُ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، حُدُّوہُمْ ، فَجَلَدَہُمْ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ جَلْدِ أَبِی بَکْرَۃَ ، قَامَ أَبُو بَکْرَۃَ ، فَقَالَ : أَشْہَدُ أَنَّہُ زَانٍ ، فَذَہَب عُمَرُ یُعِیدَ عَلَیْہِ الْحَدَّ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : إِنْ جَلَدْتَہُ فَارْجُمْ صَاحِبَک ، فَتَرَکَہُ ، فَلَمْ یُجْلَدْ فِی قَذفٍ مَرَّتَیْنِ بَعْدُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪২১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کی گواہی دینے کے بیان میں کہ وہ کیسے دی جائے گی ؟
(٢٩٤٢٢) حضرت ابو خلدہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ارطبان جو حضرت ابن عون کے چچا ہیں ان کی مجھ سے ملاقات ہوئی وہ کہنے لگے کیا تمہارا حضرت ابو العالیہ کے پاس جانے کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں انھوں نے کہا ! تم ان سے کہنا حضرت حسن بصری ، حضرت ابن سیرین اور حضرت ثابت بنانی ان سب حضرات نے ایک آدمی اور ایک عورت کے خلاف گواہی دی ہے کہ ان دونوں نے زنا کیا ہے اور اس عورت نے اقرار کرلیا اور آدمی نے انکار کردیا تو کیا حکم ہے ؟ راوی کہتے ہیں، پس میں نے حضرت ابو العالیہ سے اس کے متعلق سوال کیاٖ انھوں نے فرمایا : تمہاری نفس پرستوں میں سے کسی آدمی سے ملاقات ہوئی ہے حسن بصری کو اسی کوڑے مارے جائیں گے اور محمد کو اسی کوڑے مارے جائیں گے اور ثابت بنانی کو اسی کوڑے اور اس عورت کو اعتراف کرنے کی وجہ سے سنگسار کردیا جائے گا اور آدمی چلا جائے گا اور اس پر کوئی سزا لاگو نہیں ہوگی۔
(۲۹۴۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ أَبِی خَلْدَۃَ ، قَالَ : لَقِیَنِی سَعِیدُ بْنُ أَرْطَبَان ، عَمُّ ابْنِ عَوْنٍ ، فَقَالَ : أَتُرِیدُ أَنْ تَأْتِیَ أَبَا الْعَالِیَۃِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَقُلْ لَہُ : شَہِدَ الْحَسَنُ ، وَابْنُ سِیرِینَ ، وَثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَلَی امْرَأَۃٍ وَرَجُلٍ أَنَّہُمَا زَنَیَا ، وَأَقَرَّتِ الْمَرْأَۃُ ، وَأَنْکَرَ الرَّجُلُ ؟ فَسَأَلْتُ أَبَا الْعَالِیَۃِ عَن ذَلِکَ ؟ فَقَالَ : لَقِیْتَ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الأَہْوَائِ ؛ یُجْلَدُ الْحَسَنُ ثَمَانِینَ ، وَمُحَمَّدٌ ثَمَانِینَ ، وَثَابِتٌ ثَمَانِینَ ، وَتُرْجَمُ الْمَرْأَۃُ بِاعْتِرَافِہَا ، وَیَذْہَبُ الرَّجُلُ لَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪২২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کی گواہی دینے کے بیان میں کہ وہ کیسے دی جائے گی ؟
(٢٩٤٢٣) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : اس کی حد کیا ہے یعنی سنگسار کرنے کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب چار آدمی گواہی دے دیں کہ بیشک انھوں نے اس شخص کو داخل کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں داخل کرتے ہیں تو تحقیق رجم ثابت ہوگیا۔
(۲۹۴۲۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّ الْیَہُودَ قَالُوا لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا حَدَّ ذَلِکَ ؟ یَعْنونَ الرَّجْمَ ، قَالَ : إِذَا شَہِدَ أَرْبَعَۃٌ أَنَّہُمْ رَأَوْہُ یُدْخِلُ کَمَا یُدْخِلُ الْمِیلُ فِی الْمُکْحُلَۃِ ، فَقَدْ وَجَبَ الرَّجْمُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪২৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کی گواہی دینے کے بیان میں کہ وہ کیسے دی جائے گی ؟
(٢٩٤٢٤) حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : جب چار آدمیوں نے کسی چیز کی گواہی دی تو انھوں نے اپیب پشتوں کی حفاظت کرلی اور ان کی گواہی جائز ہوگی۔
(۲۹۴۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : إِذَا شَہِدَ أَرْبَعَۃٌ عَلَی شَیْئٍ ،مَنَعُوا ظُہُورَہُمْ ، وَجَازَتْ شَہَادَاتُہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪২৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کی گواہی دینے کے بیان میں کہ وہ کیسے دی جائے گی ؟
(٢٩٤٢٥) حضرت جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا : میں پسند نہیں کرتا کہ میں چار میں سب سے پہلا گواہ ہوں۔
(۲۹۴۲۵) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: قَالَ عَلِّیٌّ: مَا أُحِبَّ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ الشُّہُودِ الأَرْبَعَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪২৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کے بیان میں جس کے خلاف دو گواہ گواہی دیں پھر وہ دونوں چلے جائیں
(٢٩٤٢٦) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے پاس ایک آدمی لایا گیا اور اس کے خلاف دو گواہوں نے گواہی دی کہ اس نے چوری کی ہے۔ پس آپ لوگوں کے معاملات میں سے کسی کے کام میں مشغول ہوگئے اور آپ نے جھوٹے گواہوں کو ڈانٹ پلائی اور فرمایا : میرے پاس کسی جھوٹے گواہ کو نہ لایا جائے مگر میں اس کے ساتھ ایسا اور ایسا معاملہ کروں گا راوی نے فرمایا : پھر آپ نے ان دونوں گواہوں کو طلب کیا تو ان کو نہ پایا سو آپ نے اس شخص کو آزاد چھوڑد یا۔
(۲۹۴۲۶) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : أُتِیَ عَلِیٌّ بِرَجُلٍ وَشَہِدَ عَلَیْہِ رَجُلاَنِ أَنَّہُ سَرَقَ ، فَأَخَذَ فِی شَیْء مِنْ أُمُورِ النَّاسِ ، وَتَہَدَّدَ شُہُودَ الزُّورِ ، فَقَالَ : لاَ أُوتَی بِشَاہِدِ زُورٍ إِلاَّ فَعَلْتُ بِہِ کَذَا وَکَذَا ، قَالَ : ثُمَّ طَلَبَ الشَّاہِدَیْنِ فَلَمْ یَجِدْہُمَا ، فَخَلَّی سَبِیلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪২৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی اور عورت کے بیان میں جو دونوں حد کا اقرار کرلیں پھر وہ دونوں انکار کردیں
(٢٩٤٢٧) حضرت عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ ایک عورت کو حضرت عمر کے سامنے پیش کیا گیا جس نے چار مرتبہ زنا کا اقرار کیا۔ اس پر آپ نے فرمایا : اگر تو واپس لوٹ جائے تو ہم تجھ پر حد قائم نہیں کریں گے اس عورت نے کہا : مجھ پر پھر دو معاملہ جمع ہوجائیں گے ! میں نے فحش کام کیا اور مجھ پر حد بھی نہیں لگائی گئی تو آپ نے اس پر حد قائم کردی۔
(۲۹۴۲۷) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ ؛ أَنَّ امْرَأَۃً رُفِعَتْ إِلَی عُمَرَ ، أَقَرَّتْ بِالزِّنَی أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ : إِنْ رَجَعْتِ لَمْ نُقِمْ عَلَیْکِ الْحَدَّ ، فَقَالَتْ : لاَ یَجْتَمِعُ عَلَیَّ أَمْرَانِ ؛ آتِی الْفَاحِشَۃَ ، وَلاَ یُقَامُ عَلَیَّ الْحَدُّ ، قَالَ : فَأَقَامَہُ عَلَیْہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪২৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی اور عورت کے بیان میں جو دونوں حد کا اقرار کرلیں پھر وہ دونوں انکار کردیں
(٢٩٤٢٨) حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت ابو واقد حضرت عمر کونے اس عورت کی طرف بھیجا پھر آپ نے ماقبل جیسی حدیث ذکر کی۔
(۲۹۴۲۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ نَافِع، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ؛ أَنَّ أَبَا وَاقِدٍ بَعَثَہُ عُمَرُ إِلَیْہَا ، فَذَکَرَ مِثْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪২৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی اور عورت کے بیان میں جو دونوں حد کا اقرار کرلیں پھر وہ دونوں انکار کردیں
(٢٩٤٢٩) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر شعبی اور حضرت عطائ ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : جب کوئی حد زنا یا حد سرقہ کا اقرار کرلے پھر وہ انکار کرے تو اس سے سزا ختم کردی جائے گی۔
(۲۹۴۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، وَعَطَائٍ ، قَالاَ : إِذَا أَقَرَّ بِحَدِّ زِنًی ، أَوْ سَرِقَۃٍ ، ثُمَّ جَحَدَ دُرِئَ عَنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪২৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی اور عورت کے بیان میں جو دونوں حد کا اقرار کرلیں پھر وہ دونوں انکار کردیں
(٢٩٤٣٠) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن یعمر نے ارشاد فرمایا : اگر کسی نے اقرار کیا پھر انکار کردیا یعنی وہ شخص جو حد کا اقرار کرلے پھر رجوع کرلے۔
(۲۹۴۳۰) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ، قَالَ : إِنْ کَانَ أَقَرَّ فَقَدْ أَنْکَرَ ، یَعْنِی الَّذِی یُقِرُّ بِالْحَدِّ ، ثُمَّ یَرْجِعُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৩০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی اور عورت کے بیان میں جو دونوں حد کا اقرار کرلیں پھر وہ دونوں انکار کردیں
(٢٩٤٣١) حضرت حمید فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری سے اس آدمی کے بارے میں مروی ہے جو لوگوں کے سامنے اقرار کرلے پھر انکار کردے آپ نے فرمایا : اس کو اس وجہ سے پکڑا جائے گا۔
(۲۹۴۳۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الرَّجُلِ یُقِرُّ عِنْدَ النَّاسِ ، ثُمَّ یَجْحَدُ ، قَالَ : یُؤْخَذُ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৩১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی اور عورت کے بیان میں جو دونوں حد کا اقرار کرلیں پھر وہ دونوں انکار کردیں
(٢٩٤٣٢) حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری سے اس آدمی کے بارے میں مروی ہے جو بادشاہ کی غیر موجودگی میں حد کا اقرار کرلے پھر وہ انکار کردے جب اسے پیش کیا جائے۔ تو آپ نے یہ رائے نہیں رکھی کہ اس پر لازم کردیا جائے۔
(۲۹۴۳۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الرَّجُلِ یُقِرُّ بِالْحَدِّ دُونَ السُّلْطَانِ ، ثُمَّ یَجْحَدُ إِذَا رُفِعَ ، لَمْ یَرَ أَنْ یَلْزَمَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৩২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی اور عورت کے بیان میں جو دونوں حد کا اقرار کرلیں پھر وہ دونوں انکار کردیں
(٢٩٤٣٣) حضرت اسماعیل فرماتے ہیں کہ حضرت ابن شھاب نے ارشاد فرمایا : جو شخص کئی مرتبہ چوری یا حد کا اعتراف کرلے پھر وہ انکار کردے تو اس پر کوئی چیز نافد نہیں ہوگی۔
(۲۹۴۳۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَی إِسْمَاعِیلُ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ،قَالَ : مَنِ اعْتَرَفَ مِرَارًا کَثِیرَۃً بِسَرِقَۃٍ ، أَوْ بِحَدٍّ ثُمَّ أَنْکَرَ ، لَمْ یَجُزْ عَلَیْہِ شَیئٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৩৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس ذمی کے بیان میں جو مسلمان عورت کو بدکاری پر مجبور کرے
(٢٩٤٣٤) حضرت زیاد بن عثمان فرماتے ہیں کہ ایک عیسائی آدمی نے ایک مسلمان عورت کو بدکاری پر مجبور کیا سوا س شخص کو حضرت ابو عبیدہ بن جراح کی خدمت میں پیش کردیا گیا، آپ نے فرمایا : کیا ہم نے تم سے اس کام پر مصالحت کی تھی ؟ آپ نے اس کی گردن اڑا دی۔
(۲۹۴۳۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ دَاوُد ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عُثْمَان ؛ أَنَّ رَجُلاً مِن النَّصَارَی اسْتَکْرَہ امْرَأَۃً مُسْلِمَۃً عَلَی نَفْسِہَا ، فَرُفِعَ إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، فَقَالَ : مَا عَلَی ہَذَا صَالَحْنَاکُم ، فَضَرَبَ عُنُقَہُ۔
tahqiq

তাহকীক: