মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৮ টি
হাদীস নং: ১৮২৮০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد کہے کہ میں نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کو مراد لیا تھا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٨١) حضرت طاؤس سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ ایک تکیے پر بیٹھا تھا، آدمی نے اپنی بیوی کو خطاب کرتے ہوئے تکیہ کی نیت کرتے ہوئے کہا کہ تجھے طلاق ہے، تو کیا حکم ہے ؟ حضرت طاؤس (رض) نے فرمایا کہ اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
(۱۸۲۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِم ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رَجُلاً کَانَ جَالِسًا مَعَ امْرَأَتِہِ عَلَی وِسَادَۃٍ ، وَکَانَ الرَّجُلُ رضا ، فَقَالَ لامْرَأَتِہِ : أَنْتِ طَالِقٌ ، یَعْنِی الْوِسَادَۃَ ، فَقَالَ طَاوُوسٌ : مَا أَرَی عَلَیْک شَیْئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد کہے کہ میں نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کو مراد لیا تھا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٨٢) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ طلاق سے جو نیت ہو وہی ہوتا ہے۔
(۱۸۲۸۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ قَالَ : الطَّلاَقُ مَا عُنِیَ بِہِ الطَّلاَقَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد کہے کہ میں نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کو مراد لیا تھا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٨٣) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا میں نے تجھے آزاد کیا اور طلاق کی نیت تھی تو طلاق ہوگی۔
(۱۸۲۸۳) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی رَجُلٍ یَقُولُ لامْرَأَتِہِ : قدْ أَعْتَقْتُکِ ، قَالَ : لاَ یَکُونُ طَلاَقًا ، إلاَّ أَنْ یَکُونَ نَوَی ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد کہے کہ میں نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کو مراد لیا تھا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٨٤) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ طلاق سے جو نیت ہو وہی ہوتا ہے۔
(۱۸۲۸۴) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ رَجَائٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : قَالَ مَسْرُوقٌ : إنَّمَا الطَّلاَقُ مَا عُنِیَ بِہِ الطَّلاَقَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد کہے کہ میں نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کو مراد لیا تھا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٨٥) حضرت ابو ثمامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ کنانہ بن نقب (رض) کے نکاح میں ایک عورت تھی، جس کے بطن سے زمانہ جاہلیت میں ان کی اولاد بھی ہوئی تھی، کنانہ نے اس عورت سے کہا کہ تیرے پیٹ سے اوپر کا حصہ آزاد ہے، وہ عورت جھگڑا لے کر حضرت ابوموسیٰ (رض) کے پاس آئی۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے آدمی سے پوچھا کہ کیا تو نے طلاق کی نیت کی تھی۔ اس نے کہا جی ہاں۔ حضرت ابوموسیٰ (رض) نے فرمایا کہ پھر ہم نے اسے تجھ سے جدا کردیا۔
(۱۸۲۸۵) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ ، عَنْ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو ثُمَامَۃَ ، وَامْرَأَتُہُ مِنْ أَہْلِنَا ؛ أَنَّ کِنَانَۃَ بْنَ نَقْبٍ کَانَتْ عِنْدَہُ امْرَأَۃٌ ، وَقَدْ وَلَدَتْ لَہُ أَوْلاَدًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، فَقَالَ لَہَا : مَا فَوْقَ نِطَاقِکَ مُحَرَّرٌ ، فَخَاصَمَتْہُ إلَی الأَشْعَرِیِّ ، فَقَالَ : أَرَدْتَ بِمَا قُلْتَ الطَّلاَقَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَقَدْ أَبَنَّاہَا مِنْک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد کہے کہ میں نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کو مراد لیا تھا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٨٦) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق کی نیت کرتے ہوئے کہا کہ تو آزاد ہے تو ایک طلاق پڑجائے گی اور وہ اس سے رجوع کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔
(۱۸۲۸۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : أَنْتِ عَتِیقَۃٌ ، قَالَ : ہِیَ تَطْلِیقَۃٌ ، وَہُوَ أَحَقُّ بِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد کہے کہ میں نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کو مراد لیا تھا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٨٧) حضرت عیسیٰ بن حطان کہتے ہیں کہ ریان بن صبرہ حنفی (رض) اپنی قوم کی مسجد میں بیٹھا تھا، اس نے ایک گٹھلی پکڑی اور تین مرتبہ کہا کہ گٹھلی کو طلاق ہے۔ یہ مقدمہ حضرت علی (رض) کے پاس پیش ہوا، آپ نے اس سے پوچھا کہ تیری نیت کیا تھی ؟ اس نے کہا کہ میں نے بیوی کو طلاق دینے کی نیت کی تھی اور حضرت علی (رض) نے ان کے درمیان جدائی کرادی۔
(۱۸۲۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مُسْلِمٍ الْحَنَفِیِّ ، عَنْ عِیسَی بْنِ حِطَّانَ ، عَنِ الریَّانِ بْنِ صَبِرَۃَ الْحَنَفِیِّ ؛ أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا فِی مَسْجِدِ قَوْمِہِ ، فَأَخَذَ نَوَاۃً ، فَقَالَ : نَوَاۃٌ طَالِقٌ ، نَوَاۃٌ طَالِقٌ ، ثَلاَثًا ، قَالَ : فَرُفِعَ إلَی عَلِیٍّ ، فَقَالَ : مَا نَوَیْتَ ؟ ، قَالَ : نَوَیْتُ امْرَأَتِی ، قَالَ : فَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد کہے کہ میں نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کو مراد لیا تھا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٨٨) حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس ایک آدمی لایا گیا اس نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ تیری رسی تیری گردن پر ہے۔ حضرت ابن مسعود (رض) نے حضرت عمر (رض) کو اس بارے میں خط لکھا، حضرت عمر (رض) نے جواب دیا کہ اسے کہو کہ موسم حج میں مجھے ملے۔ وہ آدمی موسم حج میں آیا، حضرت عمر (رض) نے حضرت علی (رض) کو بلوایا، حضرت علی (رض) نے اس آدمی سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تمہاری نیت کیا تھی ؟ اس نے کہا کہ میں نے بیوی کو طلاق دینے کی نیت کی تھی، حضرت علی (رض) نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی۔
(۱۸۲۸۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : أُتِیَ ابْنُ مَسْعُودٍ فِی رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : حَبْلُکِ عَلَی غَارِبِکَ ، فَکَتَبَ ابْنُ مَسْعُودٍ إلَی عُمَرَ ، فَکَتَبَ عُمَرُ : مُرْہُ فَلْیُوَافِینِی بِالْمَوْسِمِ ، فَوَافَاہُ بِالْمَوْسِمِ ، فَأَرْسَلَ إلَی عَلِیٍّ ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : أَنْشُدُک بِاللَّہِ ، مَا نَوَیْتَ ؟ قَالَ : امْرَأَتِی ، قَالَ: فَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تجھے اجازت دی، تو شادی کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٨٩) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تجھے اجازت دی، تو شادی کرلے تو اگر طلاق کی نیت نہیں تھی تو یہ کچھ نہیں، یہ بات حضرت شعبی (رض) کے سامنے ذکر کی گئی تو انھوں نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے نام کی قسم کھائی جاتی ہے، اس سے بہتر یہ تھا کہ طلاق ہوجاتی۔
(۱۸۲۸۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، عَنْ مُغِیرَۃَ، عَنْ إبْرَاہِیمَ؛ فِی رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ: قدْ أَذِنْتُ لَکَ فَتَزَوَّجِی، قَالَ: إِنْ لَمْ یَنْوِ طَلاَقًا فَلَیْسَ بِشَیْئٍ، فَذُکِرَ ذَلِکَ لِلشَّعْبِیِّ، فَقَالَ الشَّعْبِیُّ: وَالَّذِی یُحْلَفُ بِہِ إنَّ أَہْوَنَ مِنْ ہَذَا لَیَکُونُ طَلاَقًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تجھے اجازت دی، تو شادی کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٩٠) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرے گھر سے نکل جا ! تو میرے گھر میں کیوں بیٹھی ہے ؟ تو میری بیوی نہیں ہے ! یہ تین مرتبہ کہا۔ حضرت حسن (رض) نے فرمایا لیکن یہ ایک مرتبہ ہوگا اور اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
(۱۸۲۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ أَبِی حَرَّۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : اُخْرُجِی مِنْ بَیْتِی ، مَا یُجْلِسُک فِی بَیْتِی ؟ لَسْتِ لِی بِامْرَأَۃٍ ، یَقُولُ ذَلِکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ الْحَسَنُ : ہَذِہِ وَاحِدَۃٌ ، وَیَنْظُرُ مَا نَوَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৯০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٩١) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں تو اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
(۱۸۲۹۱) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی الرَّجُلِ یَقُولُ لامْرَأَتِہِ : لاَ حَاجَۃَ لِی فِیکِ ، قَالَ : نِیَّتُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৯১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٩٢) حضرت مکحول (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
(۱۸۲۹۲) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَبْیدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ؛ فِی رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : لاَ حَاجَۃَ لِی فِیکِ ، قَالَ مَکْحُولٌ : لَیْسَ بِشَیْئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৯২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٩٣) حضرت شعبہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم (رض) اور حضرت حماد (رض) سے پوچھا کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اگر طلاق کی نیت کی تھی تو ایک طلاق واقع ہوجائے گی اور وہ اس سے رجوع کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔
(۱۸۲۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شعبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ ، وَحَمَّادًا عَنْ رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : اذْہَبِی حَیْثُ شِئْتِ ، لاَ حَاجَۃَ لِی فِیکِ ؟ قَالاَ : إِنْ نَوَی طَلاَقًا فَوَاحِدَۃٌ ، وَہُوَ أَحَقُّ بِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৯৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٩٤) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ نکل جا، پردہ کرلے ، چلی جا، مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں تو ایک طلاق پڑے گی اگر طلاق کی نیت کی ہو۔
(۱۸۲۹۴) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ عَمرو ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : اُخْرُجِی ، اسْتَتِرِی ، اذْہَبِی ، لاَ حَاجَۃَ لِی فِیکِ ، فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ ، إِنْ نَوَی الطَّلاَقَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৯৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٩٥) حضرت عکرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا تو ایک طلاق پڑجائے گی۔ حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں اس بات کو کچھ نہیں سمجھتا۔
(۱۸۲۹۵) حدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ؛ فِی رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : إِلْحَقِی بِأَہْلِکِ، قَالَ : ہَذِہِ وَاحِدَۃٌ ، وَقَالَ قَتَادَۃُ : مَا أَعُدُّ ہَذَا شَیْئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৯৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تیرا راستہ چھوڑ دیا یا مجھے تجھ پر کوئی حق نہیں تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٩٦) حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تیرا راستہ چھوڑ دیا تو اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس نے تین کی نیت کی ہو ! انھوں نے کہا کہ مجھے خوف ہے کہ ایسا ہی ہے۔
(۱۸۲۹۶) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ فِی رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : قدْ خَلَّیْتُ سَبِیلَکِ ، قَالَ : نِیَّتُہُ ، قَالَ : أَرَأَیْتَ إِنْ نَوَی ثَلاَثًا ، قَالَ : أَخَافُ أَنْ یَکُونَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৯৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تیرا راستہ چھوڑ دیا یا مجھے تجھ پر کوئی حق نہیں تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٩٧) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرا تجھ پر کوئی حق نہیں تو ایک طلاق بائنہ پڑجائے گی۔
(۱۸۲۹۷) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا قَالَ : لاَ سَبِیلَ لِی عَلَیْکِ ، فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৯৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تیرا راستہ چھوڑ دیا یا مجھے تجھ پر کوئی حق نہیں تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٢٩٨) حضرت عامر (رض) سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۱۸۲۹۸) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ؛ مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৯৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی نے اپنی بیوی کو حالتِ حمل میں تین طلاقیں دے دیں تو وہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شخص سے شادی نہ کرلے
(١٨٢٩٩) حضرت ابراہیم، حضرت عامر، حضرت مصعب بن سعد، حضرت ابو مالک اور حضرت عبداللہ بن شداد (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو حالت حمل میں تین طلاقیں دے دیں تو وہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شخص سے شادی نہ کرلے۔
(۱۸۲۹۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ (ح) وَعَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ (ح) وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ عِقَال ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، وَأَبِی مَالِکٍ ، وَعَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ قَالُوا : إذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا وَہِیَ حَامِلٌ ، لَمْ تَحِلَّ لَہُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৯৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنے ہاتھ سے اپنی بیوی کی طلاق لکھے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٠٠) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنے ہاتھ سے اپنی بیوی کی طلاق لکھی تو یہ واقع ہوجائے گی۔
(۱۸۳۰۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا کَتَبَ الطَّلاَقَ بِیَدِہِ ، وَجَبَ عَلَیْہِ۔
তাহকীক: