মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৮ টি

হাদীস নং: ১৮৩০০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنے ہاتھ سے اپنی بیوی کی طلاق لکھے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٠١) حضرت علی بن حکم بنانی (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے ہاتھ سے تکیے پر اپنی بیوی کے لیے طلاق لکھی۔ اس بارے میں حضرت شعبی (رض) سے سوال کیا گیا تو انھوں نے اسے طلاق قرار دیا۔
(۱۸۳۰۱) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ الْبُنَانِیِّ ، قَالَ : حدَّثَنِی رَجُلٌ أَنَّ رَجُلاً کَتَبَ طَلاَقَ امْرَأَتِہِ عَلَی وِسَادَۃٍ ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِکَ الشَّعْبِیُّ ، فَرَآہُ طَلاَقًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنے ہاتھ سے اپنی بیوی کی طلاق لکھے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٠٢) حضرت عطائ (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق لکھی، پھر نادم ہوا اور خط کو روک لیا تو طلاق ہوگی یا نہیں ؟ انھوں نے فرمایا کہ اگر روک لیا تو طلاق نہیں ہوگی اور اگر جانے دیا تو طلاق ہوجائے گی۔
(۱۸۳۰۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عنْ رَجُلٍ کَتَبَ بِطَلاَقَ امْرَأَتِہِ ثُمَّ نَدِمَ، فَأَمْسَکَ الْکِتَابَ ؟ قَالَ : إِنْ أَمْسَکَ فَلَیْسَ بِشَیْئٍ ، وَإِنْ أَمْضَاہُ فَہُوَ طَلاَقٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنے ہاتھ سے اپنی بیوی کی طلاق لکھے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٠٣) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کے نام طلاق لکھی، پھر اسے خیال آیا کہ اس خط کو روک دے، تو اگر وہ تکلم نہ کرے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں، اگر خط بیوی کی طرح بھیج دیا تو جس دن سے خط اسے ملے اسی دن سے وہ عورت عدت شمار کرے گی۔
(۱۸۳۰۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الرَّجُلِ یَکْتُبُ إلَی امْرَأَتِہِ بِطَلاَقِہَا ، ثُمَّ یَبْدُو لَہُ أَنْ یُمْسِکَ الْکِتَابَ ، قَالَ : لَیْسَ بِشَیْئٍ مَا لَمْ یَتَکَلَّمْ ، وَإِنْ بَعَثَ بِہِ إلَیْہَا ، اعْتَدَّتْ مِنْ یَوْمِ یَأْتِیہَا الْکِتَابُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنے ہاتھ سے اپنی بیوی کی طلاق لکھے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٠٤) حضرت حماد (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو خط لکھا اور اس میں تحریر کیا کہ جب میرا یہ خط تمہارے پاس آئے تو تمہیں طلاق ہے، اگر خط اس کے پاس نہ پہنچا تو طلاق نہ ہوگی، اور اگر خط میں لکھا : اما بعد ! تمہیں طلاق ہے۔ تو اگر خط نہ بھی پہنچے تو طلاق ہوجائے گی۔
(۱۸۳۰۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْخَالِقِ ، عَنْ حَمَّادٍ قَالَ : إذَا کَتَبَ الرَّجُلُ إلَی امْرَأَتِہِ : إذَا أَتَاکِ کِتَابِی ہَذَا فَأَنْتِ طَالِقٌ ، فَإِنْ لَمْ یَأْتِہَا الْکِتَابُ ، فَلَیْسَ ہِی بِطَالِقٍ ، وَإِنْ کَتَبَ : أَمَّا بَعْدُ فَأَنْتِ طَالِقٌ ، فَہِیَ طَالِقٌ ، وَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَۃُ : ہِیَ طَالِقٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی نابالغ بچی کو طلاق دی گئی تو وہ عدت کیسے گزارے گی ؟
(١٨٣٠٥) حضرت حسن (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی نابالغ بچی کو طلاق دی گئی تو وہ عدت کیسے گزارے گی ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ مہینوں کے حساب سے عدت گزارے گی، اگر مہینے ختم ہونے سے پہلے اسے حیض آجائے تو وہ عدت کو حیض کے اعتبار سے دوبارہ شروع کرے گی، اگر مہینے پورے ہونے کے بعد اسے حیض آیا تو اس کی عدت مکمل ہوگئی۔
(۱۸۳۰۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمُ بْن بَشِیر ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ (ح) وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ (ح) وَعَنْ یُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ؛ فِی الْجَارِیَۃِ إذَا طُلِّقَتْ وَلَمْ تَبْلُغ الْمَحِیضَ، قَالُوا: تَعْتَدُّ بِالشُّہُورِ، فَإِنْ حَاضَتْ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمْضِیَ الشُّہُورُ ، اسْتَأْنَفَتِ الْعِدَّۃَ بِالْحَیْضِ ، فَإِنْ حَاضَتْ بَعْدَ مَا مَضَتِ الشُّہُورُ ، فَقَدِ انْقَضَتْ عِدَّتُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی نابالغ بچی کو طلاق دی گئی تو وہ عدت کیسے گزارے گی ؟
(١٨٣٠٦) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے نابالغ بچی کو طلاق دے دی تو وہ تین مہینے عدت گذارے گی، اگر تین مہینے پورے ہونے سے پہلے اسے حیض آگیا تو اس کی عدت منہدم ہوگئی اب وہ نئے سرے سے حیض کے اعتبار سے عدت پوری کرے۔
(۱۸۳۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی الرَّجُلِ یَتَزَوَّجُ الْجَارِیَۃَ فَیُطَلِّقُہَا قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ الْمَحِیضَ، قَالَ: تَعْتَدُّ ثَلاَثَۃَ أَشْہُرٍ ، فَإِنْ ہِیَ حَاضَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِیَ الثَّلاَثَۃُ الأَشْہُرُ ، انْہَدَمَتْ عِدَّۃُ الشُّہُورِ، وَاسْتَأْنَفَتْ عِدَّۃَ الْحَیْضِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی نابالغ بچی کو طلاق دی گئی تو وہ عدت کیسے گزارے گی ؟
(١٨٣٠٧) حضرت جابر بن زید (رض) سے سوال کیا گیا کہ ایک نابالغ لڑکی کو اس کے خاوند نے دخول کے بعد طلاق دے دی، اس نے دو مہینے پچیس دن کی عدت گزاری تھی کہ اسے حیض آگیا، اب وہ کیا کرے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اب وہ تین حیض عدت کے گزارے، حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
(۱۸۳۰۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ جَارِیَۃٍ طُلِّقَتْ بَعْدَ مَا دَخَلَ بِہَا زَوْجُہَا ، وَہِیَ لاَ تَحِیضُ ، فَاعْتَدَّتْ شَہْرَیْنِ وَخَمْسَۃً وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً ، ثُمَّ إنَّہَا حَاضَتْ ؟ قَالَ : تَعْتَدُّ بَعْدَ ذَلِکَ ثَلاَثَۃَ قُرُوئٍ ، وَکَذَلِکَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مرد کے نکاح میں ایسی عورت ہو جسے عدم بلوغت یابڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو آدمی اسے کیسے طلاق دے ؟
(١٨٣٠٨) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر مرد کے نکاح میں ایسی عورت ہو جسے عدم بلوغت یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو آدمی اسے جب چاہے طلاق دے دے۔
(۱۸۳۰۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا کَانَتْ عِنْدَ الرَّجُلِ الْمَرْأَۃُ قَدْ أَیِسَتْ مِنَ الْمَحِیضِ ، أَوِ الْجَارِیَۃُ الَّتِی لَمْ تَحِضْ ، فَمَتَی مَا شَائَ طَلَّقَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مرد کے نکاح میں ایسی عورت ہو جسے عدم بلوغت یابڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو آدمی اسے کیسے طلاق دے ؟
(١٨٣٠٩) حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) کو یہ بات پسند تھی کہ ایسی عورت کو چاند نکلنے پر طلاق دی جائے جسے حیض نہ آتاہو۔
(۱۸۳۰۹) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ : کَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ یُطَلِّقَ الَّتِی لَمْ تَحِضْ عِنْدَ الإِہلاَل۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مرد کے نکاح میں ایسی عورت ہو جسے عدم بلوغت یابڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو آدمی اسے کیسے طلاق دے ؟
(١٨٣١٠) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ ایسی عورت کو چاند کے حساب سے طلاق دے۔
(۱۸۳۱۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : یُطَلِّقُہَا عِنْدَ الأَہِلَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩১০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مرد کے نکاح میں ایسی عورت ہو جسے عدم بلوغت یابڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو آدمی اسے کیسے طلاق دے ؟
(١٨٣١١) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر مرد کے نکاح میں ایسی عورت ہو جسے عدم بلوغت یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو آدمی اسے طلاق دینا چاہے تو چاند کی پہلی کو اسے طلاق دے دے پھر عدت پوری ہونے تک طلاق نہ دے۔
(۱۸۳۱۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضیل ، عَنْ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : إذَا کَانَتِ الْمَرْأَۃُ قَدْ قَعَدَتْ مِنَ الْمَحِیضِ ، وَالْجَارِیَۃُ لَمْ تَحِضْ، فَأَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ یُطَلِّقَ، فَیُطَلِّق عِنْدَ غُرَّۃِ الْہِلاَلِ، وَلاَ یُطَلِّقُ غَیْرَہَا حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩১১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں اور وہ کہے کہ تم میں سے ایک کو طلاق ہے ، کسی کا نام نہ لے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣١٢) حضرت معمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد (رض) سے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی کی چار بیویاں ہوں اور وہ کہے کہ اس کی ایک بیوی کو طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ جس پرچا ہے ہاتھ رکھ لے۔ حضرت معمر (رض) کہتے ہیں کہ حضرت حسن (رض) بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
(۱۸۳۱۲) حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : سَأَلْتُہُ عَنْ رَجُلٍ قَالَ : امْرَأَتُہُ طَالِقٌ ، وَلَہُ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ ؟ قَالَ : یَضَعُ یَدَہُ عَلَی أَیَّتِہِنَّ شَائَ۔ قَالَ مَعْمَرٌ : وَکَانَ الْحَسَنُ یَقُولُ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩১২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں اور وہ کہے کہ تم میں سے ایک کو طلاق ہے ، کسی کا نام نہ لے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣١٣) حضرت ابو جعفر (رض) فرماتے ہیں کہ کسی آدمی کے ایسا کہنے کی صورت میں حضرت علی (رض) نے قرعہ اندازی کرائی تھی۔
(۱۸۳۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ؛ أَنَّ عَلِیًّا أَقْرَعَ بَیْنَہُنَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩১৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں اور وہ کہے کہ تم میں سے ایک کو طلاق ہے ، کسی کا نام نہ لے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣١٤) حضرت قتادہ (رض) اور حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر اس نے کسی ایک کا نام لیا تو اسی کو طلاق ہوگی اور اگر نام نہ لیا تو سب کو طلاق ہوجائے گی۔
(۱۸۳۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ (ح) وعَنْ رَجُلٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالاَ : إِنْ کَانَ سَمَّی شَیْئًا فَہُوَ مَا سَمَّی ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ سَمَّی مِنْہُنَّ شَیْئًا ، دَخَلَ عَلَیْہِنَّ الطَّلاَقُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩১৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں اور وہ کہے کہ تم میں سے ایک کو طلاق ہے ، کسی کا نام نہ لے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣١٥) حضرت حسن (رض) سے جب یہ سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ آدمی کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
(۱۸۳۱۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ؛ أَنَّ عَرِیفًا لِبَنِی سَعْدٍ سَأَلَ الْحَسَنَ ، وَکَانَ السُّلْطَانُ اسْتَخْلَفَہُ ؟ فَقَالَ: لَکَ مَا نَوَیْتَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩১৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں اور وہ کہے کہ تم میں سے ایک کو طلاق ہے ، کسی کا نام نہ لے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣١٦) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک شخص کی زیادہ بیویاں ہوں اور وہ کہے کہ اس کی ایک بیوی کی تین طلاق تو اگر کسی کی نیت کی تھی تو اسے طلاق ہوگی اور اگر کسی کی نیت نہیں کی تو ان میں سے جس کو چاہے اختیار کرلے۔ ایلاء اور ظہار کا بھی یہی حکم ہے۔
(۱۸۳۱۶) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی رَجُلٍ قَالَ : امْرَأَتُہُ طَالِقٌ ثَلاَثًا، وَلَہُ نِسْوَۃٌ ، فَقَالَ : إِنْ کَانَ نَوَی مِنْہُنَّ شَیْئًا فَہِیَ الَّتِی نَوَی ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ نَوَی مِنْہُنَّ شَیْئًا فَلْیَخْتَرْ أَیَّتَہنَّ شَائَ ، وَکَذَلِکَ الإِیلاَئُ وَالظِّہَارُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩১৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں اور وہ کہے کہ تم میں سے ایک کو طلاق ہے ، کسی کا نام نہ لے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣١٧) حضرت ابو جعفر (رض) سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کی چار بیویاں تھیں، ان میں سے ایک بیوی نے اسے جھانکا تو اس نے کہا کہ تجھے قطعی طلاق ہے، جب وہ ان کے پاس آیا تو ہر ایک کہنے لگی کہ وہ دوسری تھی، وہ اسے پہچان بھی نہ سکا کہ وہ کون سی تھی تو کیا حکم ہے ؟ حضرت ابو جعفر (رض) نے فرمایا کہ سب اس سے جدا ہوجائیں گی۔
(۱۸۳۱۷) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَدْنِِی ، قَالَ : سُئِلَ أَبُو جَعْفَرٍ عَنْ رَجُلٍ لَہُ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ ، فَاطَّلَعَتْ مِنْہُنَّ امْرَأَۃٌ ، فَقَالَ : أَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّۃَ ، فَدَخَلَ عَلَیْہِنَّ فَإِذَا کُلُّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ تَقُولُ : ہِیَ ہَذِہِ ، وَتَقُولُ ہَذِہِ : ہِیَ ، فَلَمْ یَعْرِفْہَا ؟ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : بِنَّ مِنْہُ جَمِیعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩১৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی ان شاء اللہ کہہ کر طلاق دے لیکن اگر طلاق سے ابتداء کرے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣١٨) حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے طلاق یا عتاق کا تذکرہ کرکے ان شاء اللہ کہا تو طلاق اور عتاق واقع ہوجائیں گے، خواہ وہ قسم توڑ دے یا باقی رکھے۔ اور حضرت سعید بن جبیر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر اس نے قسم نہیں توڑی تو پھر واقع نہیں ہوں گے۔
(۱۸۳۱۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : قَالَ شُرَیْحٌ : إذَا بَدَأَ بِالطَّلاَقِ وَالْعَتَاقِ قَبْلَ الْمَثنویَّۃ وَقَعَ الطَّلاَقُ وَالْعَتَاقُ ، حَنِثَ ، أَوْ لَمْ یَحْنَثْ۔ وَقَالَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ : إذَا لَمْ یَحْنَثْ لَمْ یَقَعْ عَلَیْہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩১৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی ان شاء اللہ کہہ کر طلاق دے لیکن اگر طلاق سے ابتداء کرے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣١٩) حضرت حسن (رض) اور حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ طلاق کا مقدم اور مؤخر کرنا ایک جیسا ہے، جب اسے کلام کے ساتھ ملا کرلائے۔
(۱۸۳۱۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ (ح) وَإِسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالاَ : إِذَا قَدَّمَ الطَّلاَقَ أَوْ أَخَّرَہُ ، فَہُوَ سَوَائٌ إِذَا وَصَلَہُ بِکَلاَمِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩১৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی ان شاء اللہ کہہ کر طلاق دے لیکن اگر طلاق سے ابتداء کرے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٢٠) حضرت سعید بن مسیب (رض) اور حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ طلاق کو مقدم کرے یا مؤخر اس کا ان شاء اللہ کہنا باقی رہے گا۔
(۱۸۳۲۰) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، وَالْحَسَنِ ، قَالاَ : لَہُ ثُنْیَاہُ قَدَّمَ الطَّلاَقَ ، أَوْ أَخَّرَہُ۔
tahqiq

তাহকীক: