মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৮ টি
হাদীস নং: ১৮৩৪০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک طلاق کے لیے مجبور کئے گئے شخص کی طلاق نہیں ہوتی
(١٨٣٤١) حضرت محمد بن عبدالرحمن (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عامل نے ایک شخص پر تشدد کیا اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ جب یہ معاملہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) کے پاس پیش ہوا تو انھوں نے اس طلاق کو درست قرار نہیں دیا۔
(۱۸۳۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؛ أَنَّ عَامِلاً مِنَ الْعُمَّالِ ضَرَبَ رَجُلاً حَتَّی طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ، قَالَ : فَکُتِبَ فِیہِ إلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ : فَلَمْ یُجِزْ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৪১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک طلاق کے لیے مجبور کئے گئے شخص کی طلاق نہیں ہوتی
(١٨٣٤٢) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ زبردستی دی گئی طلاق اور آزادی کا کوئی اعتبار نہیں۔
(۱۸۳۴۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ طَلاَقَ وَلاَ عَتَاقَ فِی إغْلاَقٍ۔
(ابوداؤد ۲۱۸۷۔ احمد ۶/۲۷۶)
(ابوداؤد ۲۱۸۷۔ احمد ۶/۲۷۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৪২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مجبور کئے گئے شخص کی طلاق کو درست سمجھتے تھے
(١٨٣٤٣) حضرت سیار (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی (رض) سے کہا کہ لوگ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق کو درست نہیں سمجھتے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ مجھ پر جھوٹ گھڑتے ہیں۔
(۱۸۳۴۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ سَیَّارٍ قَالَ : قُلْتُ لِلشَّعْبِیِّ : إنَّہُمْ یَزْعُمُونَ أَنَّک لاَ تَرَی طَلاَقَ الْمُکْرَہِ شَیْئًا ؟ قَالَ : إنَّہُمْ یَکْذِبُونَ عَلَیَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৪৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مجبور کئے گئے شخص کی طلاق کو درست سمجھتے تھے
(١٨٣٤٤) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق ہوجاتی ہے۔
(۱۸۳۴۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : طَلاَقُ الْمُکْرَہِ جَائِزٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৪৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مجبور کئے گئے شخص کی طلاق کو درست سمجھتے تھے
(١٨٣٤٥) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق ہوجاتی ہے۔ یہ اس نے اپنی جان کا فدیہ دیا ہے۔
(۱۸۳۴۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : ہُوَ جَائِزٌ ، إِنَّمَا ہُوَ شَیْئٌ افْتَدَی بِہِ نَفْسَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৪৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مجبور کئے گئے شخص کی طلاق کو درست سمجھتے تھے
(١٨٣٤٦) حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق ہوجاتی ہے۔
(۱۸۳۴۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُجِیزُ طَلاَقَ الْمُکْرَہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৪৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مجبور کئے گئے شخص کی طلاق کو درست سمجھتے تھے
(١٨٣٤٧) حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق ہوجاتی ہے۔
(۱۸۳۴۷) حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ الْمُبَارَکِ، عَنْ رَجُلٍ، قَدْ سَمَّاہُ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ، عَنْ شُرَیْحٍ، قَالَ: طَلاَقُ الْمُکْرَہِ جَائِزٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৪৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مجبور کئے گئے شخص کی طلاق کو درست سمجھتے تھے
(١٨٣٤٨) حضرت ابو قلابہ (رض) فرماتے ہیں کہ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق ہوجاتی ہے۔
(۱۸۳۴۸) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ؛ إِنَّ طَلاَقَ الْمُکْرَہِ جَائِزٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৪৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مجبور کئے گئے شخص کی طلاق کو درست سمجھتے تھے
(١٨٣٤٩) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے سر پر تلوار رکھی جائے اور پھر وہ طلاق دے دے تو میں اس طلاق کو واقع قرار دے دوں گا۔
(۱۸۳۴۹) حدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لَوْ وُضِعَ السَّیْفُ عَلَی مَفْرِقِہِ ، ثُمَّ طَلَّقَ ، لأَجَزْتُ طَلاَقَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৪৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مجبور کئے گئے شخص کی طلاق کو درست سمجھتے تھے
(١٨٣٥٠) حضرت شعبی (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کو طلاق یا عتاق پر مجبور کیا گیا تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اگر سلطان نے مجبور کیا تو درست ہے اور اگر چوروں نے مجبور کیا تو درست نہیں۔
(۱۸۳۵۰) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ فِی الرَّجُلِ یُکْرَہُ عَلَی أَمْرٍ مِنْ أَمْرِ الْعَتَاقِ ، أَوِ الطَّلاَقِ قَالَ : إِذَا أَکْرَہَہُ السُّلْطَانُ جَازَ ، وَإِذَا أَکْرَہَہُ اللُّصُوصُ لَمْ یَجُزْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৫০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کی دو بیویاں ہو، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھا لہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی ! تو نکلی ؟ تجھے طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٥١) حضرت حسن (رض) سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کی دو بیویاں ہوں، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھا لہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی ! تو نکلی ؟ تجھے طلاق ہے۔ تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ جس کی نیت کی ہے اسے طلاق ہوگی۔
(۱۸۳۵۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ لَہُ امْرَأَتَانِ ، نَہَی إحْدَاہُمَا عَنِ الْخُرُوجِ ، فَخَرَجَتِ الَّتِی لَمْ یَنْہَ ، فَظَنَّ أَنَّہَا الَّتِی نَہَاہَا أَنْ تَخْرُجَ ، فَقَالَ : فُلاَنَۃُ خَرَجْتِ ؟ أَنْتِ طَالِقٌ ، قَالَ : تُطْلَقُ الَّتِی أَرَادَ وَنَوَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৫১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کی دو بیویاں ہو، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھا لہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی ! تو نکلی ؟ تجھے طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٥٢) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی دو بیویاں ہوں، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھا لہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی ! تو نکلی ؟ تجھے طلاق ہے۔ تو اس صورت میں دونوں کو طلاق ہوجائے گی، جس کا نام لیا اسے اس کے نام کی وجہ سے اور دوسری کو یہ کہنے کی وجہ سے کہ تجھے طلاق ہے۔
(۱۸۳۵۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : تُطْلَقَانِ جَمِیعًا ، تُطْلَقُ الَّتِی أَرَادَ بِتَسْمِیَتِہِ إِیَّاہَا ، وَتُطْلَقُ ہَذِہِ بِقَوْلِہِ لَہَا : أَنْتِ طَالِقٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৫২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کی دو بیویاں ہو، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھا لہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی ! تو نکلی ؟ تجھے طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٥٣) حضرت زہری (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو نکلی تجھے طلاق ہے۔ اس کے بعد کسی عورت نے اس کی بیوی کے کپڑے مانگے اور پہن کر باہر جانے لگی، اس کے خاوند نے دیکھ کر کہا کہ تو باہر نکل گئی۔ لہٰذا تجھے طلاق ہے تو یہ طلاق اس کی بیوی کو ہوجائے گی۔
(۱۸۳۵۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ؛ أَنَّہُ قَالَ فِی رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : إِنْ خَرَجْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ، فَاسْتَعَارَتِ امْرَأَۃٌ ثِیَابَہَا فَلَبِسَتْہَا ، فَأَبْصَرَہَا زَوْجُہَا حِینَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَابِ ، فَقَالَ : قَدْ فَعَلْتِ ؟ أَنْتِ طَالِقٌ، قَالَ : یَقَعُ طَلاَقُہُ عَلَی امْرَأَتِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৫৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کی دو بیویاں ہو، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھا لہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی ! تو نکلی ؟ تجھے طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٥٤) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو قسم دی کہ وہ باہر نہیں نکلے گی۔ لیکن اس کی کوئی دوسری بیوی باہر نکلی، اسے کسی نے کہا کہ وہ تیری بیوی ہے۔ وہ یہ سمجھا کہ شاید یہ وہ ہے جسے نکلنے سے منع کیا تھا اور اس نے اسے طلاق دے دی تو طلاق نہیں ہوگی۔
(۱۸۳۵۴) حَدَّثَنَا عُمَرُ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُولُ: إِنْ حَلَفَ رَجُلٌ عَلَی امْرَأَتِہِ أَنَّہَا لاَ تَخْرُجُ، فَخَرَجَتِ امْرَأَۃٌ لَہُ أُخْرَی ، فَقِیلَ لَہُ : ہَذِہِ امْرَأَتُک ، فَحَسِبَہَا الأُخْرَی فَطَلَّقَہَا ، قَالَ عَطَائٌ : لَیْسَ بِشَیْئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৫৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کی دو بیویاں ہو، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھا لہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی ! تو نکلی ؟ تجھے طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٥٥) حضرت قتادہ (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی کی دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک باہر نکلی اور اس نے سوال کیا کہ یہ کون ہے ؟ اسے بتایا گیا کہ فلانی ہے۔ اس نے کہا کہ اسے طلاق ہے، حالانکہ جس کا نام لیا گیا یہ وہ نہیں تھی۔ تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ دونوں کو طلاق ہوجائے گی۔
(۱۸۳۵۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ ، عَنْ قَتَادَۃَ ؛ فِی رَجُلٍ کَانَتْ لَہُ امْرَأَتَانِ ، فَخَرَجَتْ إحْدَاہُمَا ، قَالَ : مَنْ ہَذِہِ ؟ قِیلَ : فُلاَنَۃُ ، قَالَ : إِنَّہَا طَالِقٌ ، وَکَانَتِ الَّتِی لَمْ یُسَمِّ ، قَالَ : قَدْ وَقَعَ الطَّلاَقُ عَلَیْہِمَا جَمِیعًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৫৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کی دو بیویاں ہو، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھا لہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی ! تو نکلی ؟ تجھے طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٥٦) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کی بیویاں یا دو باندیاں تھیں۔ اس نے ایک کو بلایا اور کہا کہ تجھے طلاق ہے۔ اسے دوسری نے جواب دیا تو اسے طلاق ہوگی جس کا اس نے نام لیا، اگر اپنے غلام سے کہا تب بھی یہی حکم ہے۔
(۱۸۳۵۶) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ؛ فِی رَجُلٍ کَانَتْ لَہُ امْرَأَتَانِ ، أوْ مَمْلُوکَتَانِ فَدَعَا إِحْدَاہُمَا ، فَقَالَ : أَنْتِ طَالِقٌ ، فَأَجَابَتْہُ الأُخْرَی ، قَالَ : تُطْلَقُ الَّتِی سَمَّی ، وَإِنْ قَالَ لِعَبْدِہِ ، فَمِثْلُ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৫৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ ” اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا “ تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٥٧) حضرت حسن (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک شخص اپنی بیوی سے کہا کہ ” اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا “ تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس کی نیت کا اعتبار ہے۔
(۱۸۳۵۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ؛ فِی رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ: اِلْحَقِی بِأَہْلِکِ، قَالَ: نِیَّتُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৫৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ ” اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا “ تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٥٨) حضرت عامر (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ ” اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا “ تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ کچھ نہیں، اگر غصے میں تھا اور طلاق کی نیت کی تو طلاق ہوجائے گی۔
(۱۸۳۵۸) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یَقُولُ لامْرَأَتِہِ : اِلْحَقِی بِأَہْلِکِ ، قَالَ : لَیْسَ بِشَیْئٍ ، إِلاَّ أَنْ یَنْوِیَ طَلاَقًا فِی غَضَبٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৫৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ ” اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا “ تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٥٩) حضرت عکرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا تو ایک طلاق ہوگئی۔ حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں اس کو کچھ بھی شمار نہیں کرتا۔
(۱۸۳۵۹) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : إِذَا قَالَ : اِلْحَقِی بِأَہْلِکِ ، قَالَ : ہَذِہِ وَاحِدَۃٌ ، وَقَالَ قَتَادَۃُ : مَا أَعُدُّ ہَذَا شَیْئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৫৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ ” اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا “ تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٦٠) حضرت شعبہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم (رض) اور حضرت حماد (رض) سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی سے کہا کہ نکل جا، اپنے گھر والوں سے مل جا اور اس نے طلاق کی نیت بھی کی ہو تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ایک طلاق ہوگی اور وہ اس سے رجوع کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔
(۱۸۳۶۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ ، وَحَمَّادًا عَنْ رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : اُخْرُجِی، اِلْحَقِی بِأَہْلِکِ یَنْوِی الطَّلاَقَ ؟ قَالاَ : ہِیَ وَاحِدَۃٌ ، وَہُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِہَا۔
তাহকীক: