মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৮ টি
হাদীস নং: ১৮৩৬০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو آدھی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٦١) حضرت حارث عکلی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کی چار بیویاں ہوں اور وہ ان سے کہے کہ تمہارے درمیان تین طلاقیں، تو ان میں سے ہر ایک تین طلاقوں کے ساتھ بائنہ ہوجائے گی، اور اگر آدمی نے اپنی بیوی کو آدھی طلاق دی تو وہ پوری ایک طلاق شمار کی جائے گی۔
(۱۸۳۶۱) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُکْلِیِّ ؛ فِی رَجُلٍ لَہُ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ فَقَالَ لَہُنَّ : بَیْنَکُنَّ ثَلاَثُ تَطْلِیقَاتٍ ، قَالَ : بَانَتْ کُلُّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ بِثَلاَثِ تَطْلِیقَاتٍ ، وَالرَّجُلُ یُطَلِّقُ نِصْفَ تَطْلِیقَۃٍ ، قَالَ : ہِیَ تَطْلِیقَۃٌ تَامَّۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৬১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو آدھی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٦٢) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کی چار بیویاں ہوں اور کہے کہ تم سب کے درمیان ایک طلاق ہے تو سب کو ایک ایک طلاق ہوگی۔
(۱۸۳۶۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ کَانَ لَہُ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ ، فَقَالَ لَہُنَّ : بَیْنَکُنَّ تَطْلِیقَۃٌ ، قَالَ : لِکُلِّ وَاحِدَۃٍ تَطْلِیقَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৬২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو آدھی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٦٣) حضرت اوزاعی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو آدھی طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ ایک طلاق ہوگی۔
(۱۸۳۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ رَوَّادُ بْنُ جَرَّاحٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، قَالَ : قِیلَ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ : الرَّجُلُ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ نِصْفَ تَطْلِیقَۃٍ ؟ قَالَ : ہِیَ تَطْلِیقَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৬৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو آدھی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٦٤) حضرت حماد (رض) اور حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کی چار بیویاں ہوں اور وہ کہے کہ تم سب کے درمیان ایک طلاق ہے تو ہر ایک کو ایک طلاق ہوگی۔
(۱۸۳۶۴) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، وَقَتَادَۃَ ؛ فِی رَجُلٍ کَانَ لَہُ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ ، فَقَالَ لَہُنَّ: بَیْنَکُنَّ تَطْلِیقَۃٌ ، قَالَ : عَلَی کُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ تَطْلِیقَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৬৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو آدھی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٦٥) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو کہا کہ تجھے آدھی یا ایک تہائی طلاق ہے تو وہ ایک طلاق ہوگی۔
(۱۸۳۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : إِذَا قَالَ : أَنْتِ طَالِقٌ نِصْفَ ، أَوْ ثُلُثَ تَطْلِیقَۃٍ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৬৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دل میں بیوی کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٦٦) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل کے خیالات کو معاف کردیا ہے جب تک وہ ان تکلم نہ کریں یا اس کے تقاضے پر عمل نہ کرے۔
(۱۸۳۶۶) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، وَعَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّہَ تَجَاوَزَ ِلأَمَّتِی عَمَّا حَدَّثَتْ بِہِ أَنْفُسَہَا ، مَا لَمْ تَکَلَّمْ بِہِ ، أَوْ تَعْمَلْ بِہِ۔ (بخاری ۲۵۲۸۔ مسلم ۲۰۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৬৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دل میں بیوی کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٦٧) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ دل میں طلاق دینا کوئی چیز نہیں۔ ابن سیرین (رض) فرمایا کرتے تھے کہ اگر اس سے سوال نہ کیا جائے تو زیادہ اچھی بات ہے۔
(۱۸۳۶۷) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، وَالْحَسَنِ ، أَنَّہُمَا قَالاَ : حدِیثُ النَّفْسِ بِالطَّلاَقِ لَیْسَ بِشَیْئٍ ، وَقَالَ ابْنُ سِیرِینَ : لَوْ لَمْ یُسْأَلْ کَانَ أَحَبَّ إلَیَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৬৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دل میں بیوی کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٦٨) حضرت اسماعیل بن آدم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن سیرین (رض) سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص بیوی کو دل میں طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ دل میں کی گئی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
(۱۸۳۶۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ آدَمَ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِیرِینَ عَنِ الرَّجُلِ یُحَدِّثُ نَفْسَہُ بِالطَّلاَقِ ؟ قَالَ : لَیْسَ حَدِیثُ النَّفْسِ بِشَیْئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৬৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دل میں بیوی کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٦٩) حضرت سعید بن جبیر (رض) سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۱۸۳۶۹) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ؛ مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৬৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دل میں بیوی کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٧٠) حضرت جابر بن زید (رض) اور حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ دل میں دی گئی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں۔
(۱۸۳۷۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ (ح) وَعَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالاَ : لَیْسَ بِشَیْئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৭০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دل میں بیوی کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٧١) حضرت جابر بن زید (رض) سے یونہی منقول ہے۔
(۱۸۳۷۱) حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ (ح) وَعَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ ؛ بِنَحْوِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৭১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دل میں بیوی کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٧٢) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر دل میں طلاق دی یا آزاد کیا تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
(۱۸۳۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : إِذَا حَدَّثَ نَفْسُہُ بِالطَّلاَقِ ، أَوِ العَتَاقِ ، فَلَیْسَ بِشَیْئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৭২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ کسی دوسرے آدمی کے سپرد کردے، پھر وہ دوسرا آدمی طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٧٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ کسی دوسرے آدمی کے سپرد کردے، پھر وہ دوسرا آدمی طلاق دے دے تو ایک طلاق بائنہ ہوگی۔
(۱۸۳۷۳) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِ غَیْرِہِ ، فَمَا طَلَّقَ مِنْ شَیْئٍ فَہِیَ وَاحِدَۃٌ بَائِنَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৭৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ کسی دوسرے آدمی کے سپرد کردے، پھر وہ دوسرا آدمی طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٧٤) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ کسی دوسرے آدمی کے سپرد کردے، پھر وہ دوسرا آدمی جو کرے گا وہی نافذ ہوگا۔
(۱۸۳۷۴) حدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَی، عَنْ یُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ؛ فِی الرَّجُلِ یَجْعَلُ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِ رَجُلٍ، قَالَ: ہُوَ کَمَا قَالَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৭৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ کسی دوسرے آدمی کے سپرد کردے، پھر وہ دوسرا آدمی طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٧٥) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کہا کہ جاؤ اور میری طرف سے فلانی عورت کو طلاق دے دو ۔ انھوں نے کہا کہ جائز ہے، اگر اس نے طلاق دی تو جائز ہے۔
(۱۸۳۷۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یَقُولُ لِلرَّجُلِ : انْطَلِقْ فَطَلِّقْ عَنِّی فُلاَنَۃً ، قَالَ : ہُوَ جَائِزٌ ، ِإنْ طَلَّقَ جَازَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৭৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ کسی دوسرے آدمی کے سپرد کردے، پھر وہ دوسرا آدمی طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٧٦) حضرت عامر سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ کسی دوسرے آدمی کے سپرد کردے، پھر وہ دوسرا آدمی تین طلاق دے دے تو کیا حکم ہے، انھوں نے فرمایا کہ وہ ایک طلاق ہوگی، اس نے عورت کا معاملہ آدمی کے ہاتھ میں ایک مرتبہ ہی دیا تھا۔
(۱۸۳۷۶) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، قَالَ : سُئِلَ عَامِرٌ عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِ رَجُلٍ آخَرَ ، فَطَلَّقَہَا الرَّجُلُ ثَلاَثًا ؟ فَقَالَ : ہِیَ وَاحِدَۃٌ ، إِنَّمَا جَعَلَ أَمْرَہَا بِیَدِہِ مَرَّۃً وَاحِدَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৭৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ کسی دوسرے آدمی کے سپرد کردے، پھر وہ دوسرا آدمی طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٧٧) حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ کسی دوسرے آدمی کے سپرد کردے، پھر وہ دوسرا آدمی طلاق دے دے تو ایک طلاق بائنہ ہوگی۔
(۱۸۳۷۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِ رَجُلٍ ، فَطَلَّقَ ، فَہِیَ وَاحِدَۃٌ بَائِنَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৭৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ کسی دوسرے آدمی کے سپرد کردے، پھر وہ دوسرا آدمی طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٧٨) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کا معاملہ اسی کے سپرد کرے، اس کے بھائی یا باپ یا کسی اور کے سپرد کردے تو مختار شخص جو بھی کرے وہ نافذ ہوگا۔ اگر ایک طلاق دی تو ایک، دو دیں تو دو ، اور اگر تین دیں تو تین۔
(۱۸۳۷۸) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَعْمَرًا یَذْکُرُ عَنِ الزُّہْرِیِّ ؛ فِی الرَّجُلِ یَجْعَلُ طَلاَقَ امْرَأَتِہِ بِیَدِہَا ، أَوْ بِیَدِ أَخِیہَا ، أَوْ أَبِیہَا ، أَوْ بِیَدِ أَحَدٍ ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ ، إِنْ طَلَّقَہَا وَاحِدَۃً فَوَاحِدَۃً ، وَإِنْ طَلَّقَہَا ثِنْتَیْنِ فَثِنْتَیْنِ ، وَإِنْ طَلَّقَ ثَلاَثًا فَثَلاَثًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৭৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے اور وہ خود کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٧٩) حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے سپرد کردیا اور اس نے خود کو تین طلاقیں دے دیں، اب کیا حکم ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے حضرت عبداللہ (رض) سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا میرے خیال میں ایک طلاق ہوئی، اور آدمی بیوی سے رجوع کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ میری بھی رائے یہی ہے۔
(۱۸۳۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ فَقَالَ : إِنِّی جَعَلْت أَمْرَ امْرَأَتِی بِیَدِہَا ، فَطَلَّقَتْ نَفْسَہَا ثَلاَثًا ، فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللہِ : مَا تَقُولُ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : أَرَاہَا وَاحِدَۃً، وَہُوَ أَمْلَکُ بِہَا ، فَقَالَ عُمَرُ : وَأَنَا أَیْضًا أَرَی ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৭৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے اور وہ خود کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٨٠) حضرت زیدبن ثابت (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تم نے اس دروازے کی چوکھٹ عبور کی، تو تمہارا معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اس عورت نے چوکھٹ عبور کی اور پھر عورت نے خود کو کئی طلاقیں دے دیں تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ایک طلاق ہوگی۔
(۱۸۳۸۰) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ؛ أَنَّہُ قَالَ فِی رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : إِنْ جُزْتِ عَتَبَۃَ ہَذَا الْبَابِ ، فَأَمْرُک بِیَدِکِ ، فَجَازَتْ ، فَطَلَّقَتْ نَفْسَہَا طَلاَقًا کَثِیرًا ، قَالَ زَیْدٌ : ہِیَ وَاحِدَۃٌ۔
তাহকীক: