মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৮ টি

হাদীস নং: ১৮৩৮০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے اور وہ خود کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٨١) حضرت ابو حلال عتکی ایک وفد کے ساتھ حضرت عثمان (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے ہاتھ میں دے دے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس کا معاملہ اسی کے ہاتھ میں ہوگا۔
(۱۸۳۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ غَیْلاَنَ بْنِ جَرِیرٍ ، عَنْ أَبِی الْحَلاَلِ الْعَتَکِیِّ ؛ أَنَّہُ وَفَدَ إلَی عُثْمَانَ ، فَقَالَ : قُلْتُ : رَجُلٌ جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِہَا ، قَالَ : فَأَمْرُہَا بِیَدِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے اور وہ خود کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٨٢) حضرت ابو الحلال (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان (رض) سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ جو فیصلہ وہ کرے وہی نافذ ہوگا۔
(۱۸۳۸۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ شَدَّادٍ ، عَنْ غَیْلاَنَ بْنِ جَرِیرٍ ، عَنْ أَبِی الْحَلاَلِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عُثْمَانَ عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِہَا ؟ قَالَ : الْقَضَائُ مَا قَضَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے اور وہ خود کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٨٣) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اختیار دیئے جانے کی صورت میں جو فیصلہ بیوی کرے وہی نافذ ہوگا۔
(۱۸۳۸۳) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، وَعَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : الْقَضَائُ مَا قَضَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے اور وہ خود کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٨٤) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اختیار دیئے جانے کی صورت میں جو فیصلہ بیوی کرے وہی نافذ ہوگا۔
(۱۸۳۸۴) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عن عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : الْقَضَائُ مَا قَضَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے اور وہ خود کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٨٥) حضرت ابو عیاض (رض) فرماتے ہیں کہ اختیار دیئے جانے کی صورت میں جو فیصلہ بیوی کرے وہی نافذ ہوگا۔
(۱۸۳۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ (ح) وَعَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ ، عَنْ أَبِی عِیَاضٍ ، قَالَ : الْقَضَائُ مَا قَضَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے اور وہ خود کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٨٦) حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ اختیار دیئے جانے کی صورت میں جو فیصلہ بیوی کرے وہی نافذ ہوگا۔
(۱۸۳۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : الْقَضَائُ مَا قَضَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے اور وہ خود کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٨٧) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے سپرد کردیا اور اس نے خود کو تین طلاقیں دے دیں تو تین طلاقیں ہوجائیں گی۔
(۱۸۳۸۷) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ فِی رَجُلٍ جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِہَا ، فَطَلَّقَتْ نَفْسَہَا ثَلاَثًا ، قَالَ : ہِیَ ثَلاَثٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے اور وہ خود کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٨٨) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اختیار دیئے جانے کی صورت میں جو فیصلہ بیوی کرے وہی نافذ ہوگا، اگر کوئی انکارکرے تو اس سے قسم لی جائے گی۔
(۱۸۳۸۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ عُبَیْد اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ فِی الرَّجُلِ یَجْعَلُ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِہَا ، قَالَ : الْقَضَائُ مَا قَضَتْ ، فَإِن تناکرا حُلِّف۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے اور وہ خود کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٨٩) حضرت مکحول (رض) اور حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ اختیار دیئے جانے کی صورت میں جو فیصلہ بیوی کرے وہی نافذ ہوگا۔
(۱۸۳۸۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، وَالزُّہْرِیِّ ، قَالاَ : الْقَضَائُ مَا قَضَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے اور وہ خود کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٩٠) حضرت شعبہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم (رض) سے سوال کیا اگر آدمی بیوی کا معاملہ اس کے سپرد کردے اور عورت کہے کہ میں نے خود کو تین طلاقیں دے دیں تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ تین طلاقوں کے ساتھ بائنہ ہوجائے گی۔
(۱۸۳۹۰) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْحَکَمِ : قالَتْ : قَدْ طَلَّقْت نَفْسِی ثَلاَثًا ؟ قَالَ : قَدْ بَانَتْ مِنْہُ بِثَلاَثٍ ، یَعْنِی إِذَا جَعَلَ أَمْرَہَا بِیَدِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے اور وہ خود کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٩١) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے سپرد کردیا اور اس نے خود کو تین طلاقیں دے دیں تو ایک طلاق واقع ہوگی۔ پھر وہ حضرت عمر (رض) سے ملے تو انھوں نے فرمایا کہ تم نے بہترین رائے دی ہے۔
(۱۸۳۹۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّ رَجُلاً جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِہَا ، فَطَلَّقَتْ نَفْسَہَا ثَلاَثًا ، قَالَ : ہِیَ وَاحِدَۃٌ ، ثُمَّ لَقِیَ عُمَرَ فَقَالَ : نِعْمَ مَا رَأَیْتَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے اور وہ خود کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٩٢) حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) نے بنو تمیم کے ایک آدمی کے بارے میں لکھا جس نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے سپرد کردیا تھا کہ معاملہ مرد کی طرف لوٹے گا اور اگر عورت نے خود کو طلاق دی تو ایک طلاق ہوگی اور آدمی رجوع کا زیادہ حق دار ہے۔
(۱۸۳۹۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، قَالَ : حُدِّثْنَا إِذْ ذَاکَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَتَبَ فِی رَجُلٍ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِہَا ، قَالَ : إِنْ رَدَّتِ الأَمْرَ إِلَیْہِ فَلاَ شَیْئَ ، وَإِنْ طَلَّقَتْ نَفْسَہَا فَہِیَ وَاحِدَۃٌ ، وَہُوَ أَحَقُّ بِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٩٣) حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے اس کی زبان پر غلط بات کو جاری کردیا، اگر وہ یہ کہتی کہ مجھے تین طلاقیں ہیں تو پھر طلاق ہوتی۔
(۱۸۳۹۳) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ فِی رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : أَمْرُک بِیَدِکِ ، فَقَالَتْ : أَنْتَ طَالِقٌ ثَلاَثًا ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : خَطَّأَ اللَّہُ نَوْئَہَا ، لَوْ قَالَتْ : أَنَا طَالِقٌ ثَلاَثًا ، لَکَانَ کَمَا قَالَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٩٤) حضرت منصور (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم (رض) سے سوال کیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ خواہ یہ کہے کہ میں نے تجھے طلاق دی اور خواہ یہ کہے کہ میں نے خود کو طلاق دی۔ دونوں صورتوں میں ایک طلاق ہوجائے گی اور وہ خاوند رجوع کا زیادہ حق دار ہوگا۔
(۱۸۳۹۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ : ذَکَرْتُہُ ِلإِبْرَاہِیمَ ، فَقَالَ : سَوَائٌ ہِیَ وَاحِدَۃٌ ، وَہُوَ أَمْلَکُ بِہَا إِنْ قَالَتْ : طَلَّقْتُکَ ، أَوْ طَلَّقْتُ نَفْسِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٩٥) حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے اس کی زبان پر غلط بات کو جاری کردیا۔
(۱۸۳۹۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَطَّأَ اللَّہُ نَوْئَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٩٦) حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے اس کی زبان پر غلط بات کو جاری کردیا۔
(۱۸۳۹۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ فِی رَجُلٍ جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِہَا ، فَقَالَتْ : أَنْتَ طَالِقٌ ثَلاَثًا ، قَالَ : خَطَّأَ اللَّہُ نَوْئَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٩٧) حضرت علقمہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن ! میرے اور میری بیوی کے درمیان کچھ جھگڑا ہوا، اس نے مجھے کہا کہ اگر تم اپنا معاملہ میرے ہاتھ میں دے دو تو تم دیکھنا کہ میں کیا کرتی ہں و ؟ میں نے کہا کہ وہ تیرے ہاتھ ہے، پھر اس نے خود کو تین طلاقیں دے دیں۔ حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ ایک طلاق ہوئی، اور تم اس سے رجوع کرنے کے زیادہ حقدار ہو۔ وہ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اس کا تذکرہ حضرت عمر (رض) سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اگر تم اس کے علاوہ کوئی اور بات کرتے تو میں سمجھتا کہ تم نے صحیح بات نہیں کی۔
(۱۸۳۹۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِیُّ ، قَالَ: حدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، قَالَ: قَالَ مَنْصُورٌ ، حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَتَاہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، إِنَّہُ کَانَ بَیْنِی وَبَیْنَ أَہْلِی بَعْضُ مَا یَکُونُ بَیْنَ النَّاسِ ، وَإِنَّہَا قَالَتْ : لَوْ کَانَ مَا بِیَدِکَ مِنَ الأَمْرِ بِیَدِی لَعَلِمْتَ مَا أَصْنَعُ؟ فَقُلْتُ لَہَا : ہُوَ بِیَدِکِ ، قَالَتْ : فَإِنِّی قَدْ طَلَّقْتُکَ ثَلاَثًا ، قَالَ عَبْدُ اللہِ : ہِیَ تَطْلِیقَۃٌ وَاحِدَۃٌ ، وَأَنْتَ أَحَقُّ بِہَا ، قَالَ : ثُمَّ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعُمَرَ ، فَقَالَ : لَوْ قُلْتَ غَیْرَ ذَلِکَ لَرَأَیْتُ أَنَّک لَمْ تُصِبْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٩٨) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ گر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق بائنہ ہوگی۔ اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو کچھ نہیں ہوگا۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر اس نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو ایک طلاق بائنہ ہوگی اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو بھی ایک طلاق ہوگی اور آدمی رجوع کا زیادہ حقدار ہوگا۔
(۱۸۳۹۸) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قَالَ عبْدُ اللہِ : إِذَا خَیَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا ، فَوَاحِدَۃٌ بَائِنَۃٌ ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَہَا فَلاَ شَیْئَ ، وَقَالَ عَلِیٌّ : إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَوَاحِدَۃٌ بَائِنَۃٌ ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَہَا فَوَاحِدَۃٌ ، وَہُوَ أَمْلَکُ بِرجعَتِہَا ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٣٩٩) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ میری بیوی مجھے اختیار کرنے کے بعد ایک، سو یا ہزار طلاقیں اختیار کرلے۔ میں حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اختیار دیا تھا اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار کیا تھا تو کیا یہ طلاق ہوگئی ؟
(۱۸۳۹۹) حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : مَا أُبَالِی خَیَّرْتُ امْرَأَتِی وَاحِدَۃً ، أَوْ مِئَۃً ، أَوْ أَلْفًا ، بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِی ، وَلَقَدْ أَتَیْتُ عَائِشَۃَ فَسَأَلْتہَا عَنْ ذَلِکَ ؟ فَقَالَتْ : قَدْ خَیَّرَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاہُ ، أَفَکَانَ طَلاَقًا ؟۔ (بخاری ۵۲۶۳۔ مسلم ۱۱۵۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٠٠) حضرت عکرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابودردائ (رض) شام میں تھے کہ ان سے سوال کیا گیا کہ ایک مرد نے اپنی بیوی کو اختیار دے دیا اور اس نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ کوئی چیز نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) بھی یہی فرمایا کرتے تھے اور حضرت ابان بن عثمان (رض) نے بھی مدینہ میں یہی فیصلہ فرمایا تھا۔
(۱۸۴۰۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِکْرِمَۃَ یُحَدِّثُ ؛ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ أُتِیَ وَہُوَ بِالشَّامِ فِی رَجُلٍ خَیَّرَ امْرَأَتَہُ فَاخْتَارَتْ زَوْجَہَا ، قَالَ : لَیْسَ بِشَیْئٍ ، قَالَ : وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یُفْتِی بِذَلِکَ ، وَقَضَی بِہِ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ بِالْمَدِینَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক: