মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৮ টি
হাদীস নং: ১৮৪০০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٠١) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے اپنی بیوی کا معاملہ اپنی گردن سے اتار دیا تو ایک طلاق ہوگئی خواہ عورت اپنے خاوند کو ہی اختیار کرلے۔
(۱۸۴۰۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُوسَی بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : إِذَا خَلَعَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِہِ مِنْ عُنُقِہِ ، فَہِیَ وَاحِدَۃٌ وَإِنِ اخْتَارَتْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪০১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٠٢) حضرت زاذان (رض) فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علی (رض) کے پاس بیٹھے تھے کہ ان سے اختیار کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انھوں نے فرمایا کہ امیر المومنین حضرت عمر (رض) نے مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو میں نے کہا تھا کہ اگر وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو ایک طلاق بائنہ ہے اور اگر اپنے خاوند کو اختیار کرلے تو ایک طلاق ہوگی، اور خاوند رجوع کا زیادہ حق دار ہوگا۔ انھوں نے فرمایا کہ جو تم نے کہا ہے وہ درست نہیں، اگر وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو ایک طلاق ہوگی اور آدمی رجوع کا زیادہ حقدار ہوگا، اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو کچھ لازم نہ ہوا اور وہ آدمی اس عورت کا زیادہ حق دار ہوگا۔ امیر المومنین کے یہ فرمادینے کے بعد میرے پاس ان کی اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب مجھے امیر بنایا گیا اور میرے پاس شادی کے مسائل لائے جانے لگے تو میں نے دوبارہ سابقہ رائے کو اختیار کرلیا۔ ان سے کہا گیا کہ جماعت کے سامنے آپ کی جو رائے ہے وہ ہمارے نزدیک آپ کی تنہائی والی رائے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس پر حضرت علی (رض) مسکرا دیئے اور فرمایا کہ انھوں نے حضرت زید بن ثابت (رض) کی طرف پیغام بھیجا اور اس مسئلے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اگر اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو تین طلاقیں ہوگئیں اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق ہوگی۔
(۱۸۴۰۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ عِیسَی بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِیٍّ ، فَسُئِلَ عَنِ الْخِیَارِ ؟ فَقَالَ : سَأَلَنِی عَنْہَا أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرُ ، فَقُلْتُ : إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَوَاحِدَۃٌ بَائِنَۃٌ ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَہَا فَوَاحِدَۃٌ ، وَہُوَ أَحَقُّ بِہَا ، فَقَالَ : لَیْسَ کَمَا قُلْتَ : إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَوَاحِدَۃٌ ، وَہُوَ أَحَقُّ بِہَا ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَہَا فَلاَ شَیْئَ ، وَہُوَ أَحَقُّ بِہَا ، فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا مِنْ مُتَابَعَۃِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ ۔ فَلَمَّا وُلِّیتُ وَأَتَیْتُ فِی الْفُرُوجِ رَجَعْت إلَی مَا کُنْت أَعْرِفُ ، فَقِیلَ لَہُ : رَأْیُکُمَا فِی الْجَمَاعَۃِ أَحَبُّ إِلَیْنَا مِنْ رَأْیِکَ فِی الْفُرْقَۃِ ، فَضَحِکَ عَلِیٌّ وَقَالَ : أَمَا إِنَّہُ أَرْسَلَ إِلَی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، فَسَأَلَہُ ؟ فَقَالَ : إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَثَلاَثٌ ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَہَا فَوَاحِدَۃٌ بَائِنَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪০২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٠٣) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنے آپ کو اختیار کرلے ، پس اگر اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق پڑگئی اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو کچھ نہ ہوا۔
(۱۸۴۰۳) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یَقُولُ لامْرَأَتِہِ : اخْتَارِی ، قَالَ : إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَوَاحِدَۃٌ ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَہَا فَلاَ شَیْئَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪০৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٠٤) حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ اگر عورت نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو تین طلاقیں ہوئیں اور اگر اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق ہوئی۔
(۱۸۴۰۴) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَثَلاَثٌ ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَہَا فَوَاحِدَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪০৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٠٥) حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ اگر عورت نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق ہوئی اور آدمی رجوع کا زیادہ حق دار ہوگا اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو کوئی چیز لازم نہ ہوئی۔
(۱۸۴۰۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، وَأَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَوَاحِدَۃٌ ، وَہُوَ أَمْلَکُ بِہَا ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَہَا فَلاَ شَیْئَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪০৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٠٦) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اختیار دیا۔ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار فرمایا، آپ نے اس اختیار کو طلاق شمار نہیں فرمایا۔
(۱۸۴۰۶) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : خَیَّرَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاہُ ، فَلَمْ یَعْدُدْہَا عَلَیْنَا شَیْئًا۔ (بخاری ۵۲۶۲۔ مسلم ۲۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪০৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٠٧) حضرت ابو اسحاق (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ابوجعفر (رض) سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے اور وہ اپنے خاوند کو اختیار کرلے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ کوئی چیز نہیں۔ میں نے کہا کہ اگر عورت اپنے نفس کو اختیار کرلے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ایک طلاق ہوگی اور آدمی رجوع کا زیادہ حق دا رہے۔
(۱۸۴۰۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عَنْ الرَّجُلِ یُخَیِّرُ امْرَأَتَہُ ، فَتَخْتَارُ زَوْجَہَا ؟ قَالَ : لَیْسَ بِشَیْئٍ ، قُلْتُ : فَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَہَا ؟ قَالَ : تَطْلِیقَۃٌ ، وَہُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪০৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٠٨) حضرت سعید بن مسیب (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور عورت نے اختیار مرد کو واپس دے دیا اور اس میں کوئی فیصلہ نہ کیا تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ کوئی چیز نہیں۔
(۱۸۴۰۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ؛ فِی رَجُلٍ خَیَّرَ امْرَأَتَہُ ، فَرَدَّتْ ذَلِکَ إلَیْہِ ، وَلَمْ تَقْضِ فِیہِ شَیْئًا ، قَالَ : لَیْسَ ذَلک بِشَیْء ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪০৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٠٩) حضرت سعید بن مسیب (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور عورت نے اختیار مرد کو واپس دے دیا اور اس میں کوئی فیصلہ نہ کیا تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ کوئی چیز نہیں۔
(۱۸۴۰۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی الْخِیَارِ ، مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ ، وَعَبْدِ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪০৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مرد کا بیوی سے کہناکہ ” تجھے اختیار ہے “ اور یہ کہنا کہ ” تیرا معاملہ تیرے ہاتھ ہے “ ایک جیسے ہیں
(١٨٤١٠) حضرت عمر اور حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ مرد کا بیوی سے کہنا کہ ” تجھے اختیار ہے “ اور یہ کہنا کہ ” تیرا معاملہ تیرے ہاتھ ہے “ ایک جیسے ہیں۔
(۱۸۴۱۰) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَنْ عُمَرَ ، وَعَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّہُمَا قَالاَ : أَمْرُک بِیَدِکِ وَاخْتَارِی ، سَوَائٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪১০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مرد کا بیوی سے کہناکہ ” تجھے اختیار ہے “ اور یہ کہنا کہ ” تیرا معاملہ تیرے ہاتھ ہے “ ایک جیسے ہیں
(١٨٤١١) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ مرد کا بیوی سے کہنا کہ ” تجھے اختیار ہے “ اور یہ کہنا کہ ” تیرا معاملہ تیرے ہاتھ ہے “ ایک جیسے ہیں۔
(۱۸۴۱۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : فِی قَوْلِہِمْ أَمْرُکِ بِیَدِکِ وَاخْتَارِی ، سَوَائٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪১১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مرد کا بیوی سے کہناکہ ” تجھے اختیار ہے “ اور یہ کہنا کہ ” تیرا معاملہ تیرے ہاتھ ہے “ ایک جیسے ہیں
(١٨٤١٢) حضرت علی، حضرت عبداللہ اور حضرت زید (رض) فرماتے ہیں کہ مرد کا بیوی سے کہنا کہ ” تجھے اختیار ہے “ اور یہ کہنا کہ ” تیرا معاملہ تیرے ہاتھ ہے “ ایک جیسے ہیں۔
(۱۸۴۱۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، وَعَبْدِ اللہِ ، وَزَیْدٍ ، قَالُوا : أَمْرُک بِیَدِکِ وَاخْتَارِی ، سَوَائٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪১২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مرد کا بیوی سے کہناکہ ” تجھے اختیار ہے “ اور یہ کہنا کہ ” تیرا معاملہ تیرے ہاتھ ہے “ ایک جیسے ہیں
(١٨٤١٣) حضرت ابراہیم (رض) اور حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ مرد کا بیوی سے کہنا کہ ” تجھے اختیار ہے “ اور یہ کہنا کہ ” تیرا معاملہ تیرے ہاتھ ہے “ ایک جیسے ہیں۔
(۱۸۴۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ (ح) وَعَنْ بَیَانٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالاَ : أَمْرُک بِیَدِکِ وَاخْتَارِی ، سَوَائٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪১৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مرد کا بیوی سے کہناکہ ” تجھے اختیار ہے “ اور یہ کہنا کہ ” تیرا معاملہ تیرے ہاتھ ہے “ ایک جیسے ہیں
(١٨٤١٤) حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) فرماتے ہیں کہ مرد کا بیوی سے کہنا کہ ” تجھے اختیار ہے “ اور یہ کہنا کہ ” تیرا معاملہ تیرے ہاتھ ہے “ ایک جیسے ہیں۔
(۱۸۴۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ؛ أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ جَعَلَ أَمْرَکِ بِیَدِکِ وَاخْتَارِی ، سَوَائً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪১৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے اور عورت اختیار قبول نہ کرے اور مجلس سے اٹھ جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤١٥) حضرت جابر بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے دے تو یہ اختیار صرف مجلس تک باقی رہے گا جب مجلس برخاست ہوجائے تو اختیار ختم ہوجائے گا۔
(۱۸۴۱۵) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : إِذَا خَیَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ ، فَہُوَ مَا قَالَتْ فِی مَجْلِسِہَا ، فَإِنْ تَفَرَّقَا فَلاَ شَیْئَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪১৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے اور عورت اختیار قبول نہ کرے اور مجلس سے اٹھ جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤١٦) حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن عفان (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دے دیا، پھر ان کی مجلس برخاست ہوگئی اور عورت نے کوئی بات نہ کی تو معاملہ مرد کے پاس چلا جائے گا۔
(۱۸۴۱۶) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنِ الْمُثَنَّی ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالاَ : أَیُّمَا رَجُلٍ مَلَّکَ امْرَأَتَہُ أَمْرَہَا ، أَوَ خَیَّرَہَا ، فَافْتَرَقَا مِنْ ذَلِکَ الْمَجْلِسِ، فَلَمْ تُحْدِثْ فِیہِ شَیْئًا ، فَأَمْرُہَا إلَی زَوْجِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪১৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے اور عورت اختیار قبول نہ کرے اور مجلس سے اٹھ جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤١٧) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ کسی آدمی کے سپرد کردیا اور اس آدمی نے کوئی فیصلہ نہ کیا اور مجلس برخاست ہوگئی تو اس کا اختیار ختم ہوگیا۔
(۱۸۴۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِ رَجُلٍ ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ یَقْضِیَ فِی ذَلِکَ شَیْئًا ، فَلاَ أَمْرَ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪১৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے اور عورت اختیار قبول نہ کرے اور مجلس سے اٹھ جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤١٨) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور عورت نے اس مجلس میں اختیار کو استعمال نہ کیا تو اس کا اختیار ختم ہوگیا۔
(۱۸۴۱۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : إِذَا خَیَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ ، فَلَمْ تَخْتَرْ فِی مَجْلِسِہَا ذَلِکَ ، فَلاَ خِیَارَ لَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪১৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے اور عورت اختیار قبول نہ کرے اور مجلس سے اٹھ جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤١٩) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی کو اختیار دیا، اب اگر عورت فوری طور پر اختیار کو استعمال کرلے تو ٹھیک ورنہ وہ جب کبھی بھی چاہے اختیار کو استعمال نہیں کرسکتی۔
(۱۸۴۱۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ : إِذَا خَیَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ ، فَإِنِ اخْتَارَتْ ، وَإِلاَّ فَلَیْسَ لَہَا أَنْ تَخْتَارَ کُلَّمَا شَائَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪১৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے اور عورت اختیار قبول نہ کرے اور مجلس سے اٹھ جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٢٠) حضرت مجاہد (رض) فرماتے ہیں کہ جب عورت مجلس سے اٹھ گئی تو اختیار ختم ہوگیا۔
(۱۸۴۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : إِذَا قَامَتْ مِنْ مَجْلِسِہَا فَلاَ شَیْئَ۔
তাহকীক: