মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৮ টি

হাদীস নং: ১৮৪২০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے اور عورت اختیار قبول نہ کرے اور مجلس سے اٹھ جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٢١) حضرت عطائ (رض) اور حضرت عمرو بن دینار (رض) فرماتے ہیں کہ جب تملیک اور اختیار میں جدا ہوگئے تو اختیار ختم ہوگیا۔
(۱۸۴۲۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بَشِیر ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ عَطَائٍ ، وَعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ، قَالاَ : إِذَا افْتَرَقَا فِی التَّمْلِیکِ وَالتَّخْیِیرِ ، فَلاَ خِیَارَ لَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے اور عورت اختیار قبول نہ کرے اور مجلس سے اٹھ جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٢٢) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے اپنی بیوی کو اختیار دیا تو اختیار اس وقت تک باقی رہے گا جب تک دونوں مجلس میں رہیں۔
(۱۸۴۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ عبد اللہِ بْنِ عَمْرٍو ؛ فِی الرَّجُلِ یُخَیِّرُ امْرَأَتَہُ ، قَالَ : ذَلِکَ لَہَا مَا دَامَتْ فِی مَجْلِسِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے اور عورت اختیار قبول نہ کرے اور مجلس سے اٹھ جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٢٣) حضرت عطائ، حضرت طاؤس اور حضرت مجاہد (رض) فرماتے ہیں کہ عورت اگر اختیار ملنے کے بعد اختیار کو مجلس میں استعمال نہ کرے تو اختیار ختم ہوجائے گا۔
(۱۸۴۲۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، وَطَاوُسٍ ، وَمُجَاہِدٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یُخَیِّرُ امْرَأَتَہُ ، قَالُوا : إِنْ قَامَتْ مِنْ مَجْلِسِہَا قَبْلَ أَنْ تَخْتَارَ ، فَلاَ خِیَارَ لَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے اور عورت اختیار قبول نہ کرے اور مجلس سے اٹھ جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٢٤) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر مرد نے بیوی کو اختیار دیا اور اس نے مجلس میں اختیار کو استعمال نہ کیا تو اختیار ختم ہوگیا۔
(۱۸۴۲۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : إِذَا خَیَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ ، فَلَمْ تَخْتَرْ فِی ذَلِکَ الْمَجْلِسِ ، فَلَیْسَ لَہَا فِی ذَلِکَ خِیَار۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ عورت کے بولنے تک اسے اختیار رہے گا یعنی جب بات کی تو اختیار ختم ہوجائے گا
(١٨٤٢٥) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا اختیار اس کے حوالے کردیا تو یہ اس وقت تک اس کے پاس رہے گا جب تک وہ کوئی بات نہ کرلے۔ اسی طرح اگر یہ اختیار کسی آدمی کے ہاتھ میں دیا تو یہ اس آدمی کے پاس بھی بات کرنے تک رہے گا، یعنی جب بات کی تو اختیار ختم ہوجائے گا۔
(۱۸۴۲۵) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ فِی رَجُلٍ جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِہَا، قَالَ : ہُوَ لَہَا حَتَّی تَتَکَلَّمَ ، أَوْ جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِ رَجُلٍ ، قَالَ : ہُوَ بِیَدِہِ حَتَّی یَتَکَلَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ عورت کے بولنے تک اسے اختیار رہے گا یعنی جب بات کی تو اختیار ختم ہوجائے گا
(١٨٤٢٦) حضرت حسن بن مسلم (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کا معاملہ اسی کو سونپ دیا وہ کھڑی ہوئی اور اس نے کوئی فیصلہ نہ کیا، یہ معاملہ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کے پاس پیش ہوا، انھوں نے عورت سے پوچھا کہ تم کس نیت سے کھڑی ہوئی تھیں ؟ اس نے کہا کہ میں اس ارادے سے کھڑی ہوئی تھی کہ دوبارہ کبھی اس کے پاس نہ آؤں گی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) نے اس عورت کو آدمی سے جدا کرادیا۔
(۱۸۴۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ؛ أَنَّ رَجُلاً جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِہَا ، فَقَامَتْ وَلَمْ تَقْضِ شَیْئًا ، فَرُفِعَ إلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ ، فَقَالَ : عَلَی مَا قُمْتِ ؟ قَالَتْ : عَلَی أَنْ لاَ أَرْجِعَ إلَیْہِ ، فَأَبَانَہَا عَنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص بیوی کو اختیار دے تو کیا بیوی کے اختیار کو استعمال کرنے سے پہلے اختیار واپس لے سکتا ہے ؟
(١٨٤٢٧) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے تو اس کے بولنے سے پہلے اختیار واپس لے سکتا ہے۔
(۱۸۴۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ فِی رَجُلٍ خَیَّرَ امْرَأَتَہُ ، قَالَ : لَہُ أَنْ یَرْجِعَ مَا لَمْ تَتَکَلَّمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص بیوی کو اختیار دے تو کیا بیوی کے اختیار کو استعمال کرنے سے پہلے اختیار واپس لے سکتا ہے ؟
(١٨٤٢٨) حضرت جابر بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے تو اس کے بولنے سے پہلے اختیار واپس لے سکتا ہے۔
(۱۸۴۲۸) حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : لَہُ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص بیوی کو اختیار دے تو کیا بیوی کے اختیار کو استعمال کرنے سے پہلے اختیار واپس لے سکتا ہے ؟
(١٨٤٢٩) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے تو اس کے بولنے سے پہلے اختیار واپس لے سکتا ہے۔
(۱۸۴۲۹) حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یُخَیِّرُ امْرَأَتَہُ ، أَوْ یَجْعَلُ أَمْرَہَا بِیَدِہَا ، ثُمَّ یَرُدُّ ذَلِکَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقُولَ شَیْئًا ، قَالَ : لَہُ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص بیوی کو اختیار دے تو کیا بیوی کے اختیار کو استعمال کرنے سے پہلے اختیار واپس لے سکتا ہے ؟
(١٨٤٣٠) حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے اور وہ عورت مجلس سے اٹھ جائے تو عورت کا اختیار ختم ہوگیا اور اگر مرد عورت کے اختیار کو استعمال کرنے سے پہلے رجوع کرلے تو کوئی چیز لازم نہ ہوگی۔
(۱۸۴۳۰) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : إِذَا خَیَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ ، فَقَامَتْ مِنْ مَجْلِسِہَا ، فَلاَ أَمْرَ لَہَا ، فَإِنِ ارْتَجَعَ فِیہَا قَبْلَ أَنْ تَخْتَارَ ، فَلاَ شَیْئَ لَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق کا اختیار دے اور وہ ایک کو استعمال کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٣١) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق کا اختیار دے دیا اور عورت نے خود کو ایک مرتبہ اختیار کیا تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
(۱۸۴۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : إِذَا خَیَّرَہَا ثَلاَثًا ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا مَرَّۃً فَہِیَ ثَلاَثٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق کا اختیار دے اور وہ ایک کو استعمال کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٣٢) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق کا اختیار دیا اور عورت نے خود کو ایک مرتبہ اختیار کیا تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
(۱۸۴۳۲) حدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ فِی رَجُلٍ خَیَّرَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثَ مِرَارٍٍ ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا مَرَّۃً وَاحِدَۃً ، قَالَ : بَانَتْ مِنْہُ بِثَلاَثٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق کا اختیار دے اور وہ ایک کو استعمال کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٣٣) حضرت شعبی (رض) سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے عورت سے کہا تجھے اختیار ہے، وہ خاموش رہی، پھر کہا تجھے اختیار ہے وہ پھر خاموش رہی، پھر کہا تجھے اختیار ہے ، اب اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ عورت بائنہ ہوجائے گی اور یہ تین طلاقیں ہوں گی۔
(۱۸۴۳۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : اخْتَارِی ، فَسَکَتَتْ ، ثُمَّ قَالَ : اخْتَارِی ، فَسَکَتَتْ ، ثُمَّ قَالَ : اخْتَارِی ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا عِنْدَ الثَّالِثَۃِ ؟ فَأَبَانَہَا مِنْہُ ، فَجَعَلَہَا ثَلاَثًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق کا اختیار دے اور وہ ایک کو استعمال کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٣٤) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق کا اختیار دیا اور عورت نے خود کو ایک مرتبہ اختیار کیا تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
(۱۸۴۳۴) حُدِّثْتُ عَنْ جَرِیرٍ، عَنْ مُغِیرَۃَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ، قَالَ: إِذَا خَیَّرَہَا ثَلاَثًا فَاخْتَارَتْ مَرَّۃً، فَہِیَ ثَلاَثٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے عورت کو اختیار دیا لیکن وہ خاموش رہی اور اس نے کوئی بات نہ کی تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٣٥) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور وہ خاموش رہی تو خاموشی خاوند کے ساتھ رہنے کی رضامندی کی علامت ہے۔
(۱۸۴۳۵) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زُہَیْرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : سُکُوتُہَا رِضًا بِالزَّوْجِ ، إِذَا خَیَّرَہَا فَسَکَتَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے عورت کو اختیار دیا لیکن وہ خاموش رہی اور اس نے کوئی بات نہ کی تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٣٦) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور وہ خاموش رہی تو خاموشی خاوند کے ساتھ رہنے کی رضامندی کی علامت ہے۔
(۱۸۴۳۶) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : سُکُوتُہَا رِضًا بِالزَّوْجِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٣٧) حضرت عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان کے داد احضرت رکانہ (رض) نے اپنے بیوی کو قطعی طلاق دی، پھر وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ نے پوچھا کہ اس سے تمہارا ارادہ کیا تھا ؟ انھوں نے کہا کہ ایک طلاق کا ارادہ تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر پوچھا کہ کیا خدا کی قسم ایک ہی طلاق کا ارادہ تھا ؟ انھوں نے فرمایا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایک ہی طلاق کا ارادہ تھا۔ لہٰذا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے نکاح کو باقی رکھا۔
(۱۸۴۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ یَزِیدَ بْنِ رُکَانَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ؛ أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ اَلْبَتَّۃَ ، فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہُ ؟ فَقَالَ : مَا أَرَدْتَ بِہَا ؟ فَقَالَ : وَاحِدَۃً ، قَالَ : آللَّہِ مَا أَرَدْتُ بِہَا إلاَّ وَاحِدَۃً ؟ قَالَ : آللَّہِ مَا أَرَدْتُ بِہَا إِلاَّ وَاحِدَۃً ، قَالَ : فَرَدَّہَا عَلَیْہِ۔ (ابوداؤد ۲۲۰۱۔ بیہقی ۳۴۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٣٨) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ قطعی طلاق تین طلاقیں ہیں۔
(۱۸۴۳۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : ہِیَ ثَلاَثٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٣٩) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ قطعی طلاق تین طلاقیں ہیں۔
(۱۸۴۳۹) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ فِی الْبَتَّۃِ ثَلاَثُ تَطْلِیقَاتٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٤٠) حضرت عمر اور حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ قطعی طلاق ایک طلاق ہے اور آدمی رجوع کا زیادہ حق دار ہوگا۔
(۱۸۴۴۰) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَنْ عُمَرَ ، وَعَبْدِ اللہِ ، قَالاَ : تَطْلِیقَۃٌ ، وَہُوَ أَمْلَکُ بِہَا۔
tahqiq

তাহকীক: