মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৮ টি
হাদীস নং: ১৮৪৪০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٤١) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ قطعی طلاق ایک طلاق ہے اور آدمی رجوع کا زیادہ حق دار ہوگا۔
(۱۸۴۴۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ جَعَلَ اَلْبَتَّۃَ تَطْلِیقَۃً ، وَزَوْجُہَا أَمْلَکُ بِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৪১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٤٢) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۱۸۴۴۲) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ (ح) وَعَنِ ابْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عُمَرَ ؛ مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৪২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٤٣) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے قطعی طلاق ہے تو ایک طلاق بائنہ پڑے گی۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ تین طلاقیں ہوں گی جبکہ حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ ہم اسے اس کی بدعت پر موقوف کریں گے۔
(۱۸۴۴۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ عُمَرَ ؛ فِی قَوْلِ الرَّجُلِ لامْرَأَتِہِ أَنْتِ طَالِقٌ اَلْبَتَّۃَ ، إِنَّہَا وَاحِدَۃٌ بَائِنٌ ، وَقَالَ عَلِیٌّ : ہِیَ ثَلاَثٌ ، وَقَالَ شُرَیْحٌ : نَقِفُہُ عَلَی بِدْعَتِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৪৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٤٤) حضرت عروہ بن مغیرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے قطعی طلاق کو ایک طلاق قرار دیا اور خاوند کو رجوع کا حق دار ٹھہرایا۔ جبکہ رائش بن عدی (رض) نے حضرت علی (رض) کے بارے میں گواہی دی کہ انھوں نے طلاق قطعی کو تین طلاقیں قرار دیا۔ جبکہ حضرت شریح (رض) کے نزدیک اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
(۱۸۴۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : شَہِدَ عَبْدُ اللہِ بْنُ شَدَّادٍ عِنْدَ عُرْوَۃَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ، أَنَّ عُمَرَ جَعَلَہَا وَاحِدَۃً ، وَہُوَ أَحَقُّ بِہَا ، وَأَنَّ الْرَائِشَ بْنَ عَدِیٍّ شَہِدَ عَلَی عَلِیٍّ ، أَنَّہُ جَعَلَہَا ثَلاَثًا ، وَأَنَّ شُرَیْحًا قَالَ : نِیَّتُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৪৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٤٥) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ (رض) نے اس بارے میں حضرت شریح (رض) سے استفسار کیا، انھوں نے کوئی جواب دینے سے معذرت کی تو حضرت عروہ (رض) کے اصرار پر انھوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دین پر عمل کرنے کے لیے شریعت کو مقرر کیا لیکن لوگوں نے اس میں بہت سی نئی باتیں ایجاد کر ڈالیں، انھوں نے بدعتوں کو سنتوں کے ساتھ خلط کرلیا، جب تمہارے پاس ایسا کوئی معاملہ آئے تو سنتوں کو الگ کرکے ان کے مطابق فیصلہ کرلیاکرو اور بدعتوں کواربابِ بدعت کے سپرد کردو۔ باقی جہاں تک طلاق کا معاملہ ہے تو وہ ایک معروف چیز ہے جبکہ قطعی ہونا ایک بدعت ہے جس کا مدار آدمی کی نیت پر ہے چاہے تو تقدم کرے اور چاہے تو تاخر۔
(۱۸۴۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَمَّا أَرْسَلَ عُرْوَۃُ إِلَی شُرَیْحٍ اعْتَلَّ عَلَیْہِ فَعَزَمَ عَلَیْہِ لَیَقُولَنَّ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ سَنَّ سُنَنًا ، وَإِنَّ النَّاسَ قَدِ ابْتَدَعُوا ، وَإِنَّہُمْ عَمَدُوا إِلَی بِدَعِہِمْ فَخَلَطُوہَا بِالسُّنَنِ ، فَإِذَا انْتَہَی إلَیْک مِنْ ذَلِکَ شَیْئٌ ، فَمَیِّزُوا السُّنَنَ فَأَمْضُوہَا عَلَی وَجْہِہَا ، وَأَلْحِقُوا الْبِدَعَ بِأَہْلِہَا ، أَمَّا طَالِقٌ : فَمَعْرُوفَۃٌ ، وَأَمَّا اَلْبَتَّۃَ : فَبِدْعَۃٌ یُوقَفُ عَلَی بِدْعَتِہِ ، فَإِنْ شَائَ تَقَدَّمَ ، وَإِنْ شَائَ تَأَخَّرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৪৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٤٦) حضرت نافع (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) اپنی رضاعی ماں کے خاوند کو حضرت عاصم بن عمر (رض) اور حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کے پاس لائے اور فرمایا کہ انھوں نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے طلاق قطعی دے دی ہے، آپ کے پاس اس بارے میں کوئی علم ہے ؟ یا آپ کے پاس اس بارے میں کوئی رخصت ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ہمیں تو علم نہیں، تم حضرت ابن عباس، حضرت ابوہریرہ اور حضرت عائشہ (رض) کے پاس جاؤ اور ان سے سوال کرو، پھر آکر ہمیں بھی بتاؤ۔ وہ گئے اور ان سے سوال کیا تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ جب تک وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے اس کے لیے حلال نہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ وہ بائنہ ہوگئی۔ جبکہ انھوں نے حضرت عائشہ (رض) کے حوالے سے بھی انہی حضرات کی متابعت کو نقل کیا۔
(۱۸۴۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ؛ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ جَائَ بِظِئْرٍ لَہُ إِلَی عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ الزُّبَیْر ، فَقَالَ : إِنَّ ظِئْرِی ہَذَا طَلَّقَ امْرَأَتَہُ اَلْبَتَّۃَ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا ، فَہَلْ عِنْدَکُمَا بِذَلِکَ عِلْمٌ ؟ أَوْ ہَلْ تَجِدَانِ لَہُ رُخْصَۃً ؟ فَقَالاَ : لاَ ، وَلَکِنَّا تَرَکْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ عِنْدَ عَائِشَۃَ ، فَأْتِہِمْ فَسَلْہُمْ ثُمَّ ارْجِعْ إلَیْنَا فَأَخْبِرْنَا، فَأَتَاہُمْ فَسَأَلَہُمْ ؟ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : لاَ تَحِلُّ لَہُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بُتَّتْ ، وَذَکَرَ مِنْ عَائِشَۃَ مُتَابَعَۃً لَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৪৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٤٧) حضرت سعید (رض) طلاقِ قطعی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر ایک کی نیت کی تو ایک طلاق اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں ہوں گی۔
(۱۸۴۴۷) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ؛ فِی اَلْبَتَّۃَ : إِنْ نَوَی وَاحِدَۃً فَوَاحِدَۃٌ ، وَإِنْ نَوَی ثَلاَثًا فَثَلاَثٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৪৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٤٨) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر طلاق کی نیت کی ہے تو اس کی نیت کا کم از کم یعنی ایک طلاق بائنہ تو ہوجائے گی اگر چاہیں تو دوبارہ نکاح کرلیں اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں ہوجائیں گی۔
(۱۸۴۴۸) حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إِنْ نَوَی طَلاَقًا فَأَدْنَی مَا یَکُونُ مِنْ نِیَّتِہِ فِی ذَلِکَ وَاحِدَۃٌ بَائِنٌ ، إِنْ شَائَ وَشَائَتْ تَزَوَّجَہَا ، وَإِنْ نَوَی ثَلاَثًا فَثَلاَثٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৪৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٤٩) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اس کی نیت کا پوچھا جائے گا۔
(۱۸۴۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : یُسْأَلُ عَنْ نِیَّتِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৪৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٥٠) حضرت مکحول (رض) فرماتے ہیں کہ تین طلاقیں ہوں گی۔
(۱۸۴۵۰) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ : ہِیَ ثَلاَثٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৫০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٥١) حضرت مکحول (رض) اور حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ تین طلاقیں ہوں گی۔
(۱۸۴۵۱) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، وَالزُّہْرِیِّ ، قَالاَ : ثَلاَثٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৫১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٥٢) حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) نے مجھ سے طلاق قطعی کے بارے میں سوال کیا تو میں نے ان سے کہا کہ ابان بن عثمان فرمایا کرتے تھے کہ ایک طلاق ہوگی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اگر طلاقیں ایک ہزار بھی ہوں تو طلاق قطعی دینے سے ایک طلاق بھی باقی نہیں رہے گی۔
(۱۸۴۵۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَکْرٍ : سَأَلَنِی عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ اَلْبَتَّۃَ ؟ فَقُلْتُ لَہُ : إِنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ کَانَ یَقُولُ : ہِیَ وَاحِدَۃٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ کَانَ الطَّلاَقُ أَلْفًا ، مَا أَبْقَت اَلْبَتَّۃَ مِنْہُ شَیْئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৫২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٥٣) حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) نے مجھ سے طلاق قطعی کے بارے میں سوال کیا کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں، میں نے ان سے کہا کہ ابان بن عثمان (رض) فرمایا کرتے تھے کہ ایک طلاق ہوگی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اگر طلاقیں ایک ہزار بھی ہوں تو طلاق قطعی دینے سے ایک طلاق بھی باقی نہیں رہے گی۔ جس نے قطعی کا لفظ کہا اس نے انتہاء کو چھو لیا۔
(۱۸۴۵۳) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : یَا أَبَا بَکْرٍ ، اَلْبَتَّۃَ ، مَا یَقُولُ النَّاسُ فِیہَا ؟ فَقُلْتُ لَہُ : کَانَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ یَجْعَلُہَا وَاحِدَۃً ، فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ أَنْ الطَّلاَقُ أَلْف ، مَا أَبْقَت اَلْبَتَّۃَ مِنْہُ شَیْئًا ، مَنْ قَالَ اَلْبَتَّۃَ ، فَقَدْ رَمَی بِالْغَایَۃِ الْقُصْوَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৫৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٤٥٤) حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ طلاق قطعی تین طلاقیں ہیں۔
(۱۸۴۵۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ؛ أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ کَانَ یَقُولُ فِی اَلْبَتَّۃَ : ثَلاَثٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৫৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت کو تخلیہ کا کہنا کیا حکم رکھتا ہے ؟
(١٨٤٥٥) حضرت عمر اور حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ عورت کو تخلیہ کا کہنا ایک طلاق ہے اور آدمی کو رجوع کا حق ہوگا۔
(۱۸۴۵۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَنْ عُمَرَ ، وَعَبْدِ اللہِ قَالاَ : فِی الْخَلِیَّۃِ تَطْلِیقَۃٌ، وَہُوَ أَمْلَکُ بِرَجْعَتِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৫৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت کو تخلیہ کا کہنا کیا حکم رکھتا ہے ؟
(١٨٤٥٦) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ عورت کو تخلیہ کا کہنے میں مرد کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
(۱۸۴۵۶) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ کُرْدُوسٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ؛ فِی الْخَلِیَّۃِ قَالَ : نِیَّتُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৫৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت کو تخلیہ کا کہنا کیا حکم رکھتا ہے ؟
(١٨٤٥٧) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ عورت کو تخلیہ کا کہناتین طلاقیں ہیں۔
(۱۸۴۵۷) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : ہِیَ ثَلاَثٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৫৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت کو تخلیہ کا کہنا کیا حکم رکھتا ہے ؟
(١٨٤٥٨) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ عورت کو تخلیہ کا کہناتین طلاقیں ہیں۔
(۱۸۴۵۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : ہِیَ ثَلاَثٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৫৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت کو تخلیہ کا کہنا کیا حکم رکھتا ہے ؟
(١٨٤٥٩) حضرت طاؤس (رض) فرماتے ہیں کہ عورت کو تخلیہ کا کہنے میں نیت کا اعتبار ہوگا۔
(۱۸۴۵۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ وُہَیْبٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : الْخَلِیَّۃُ مَا نَوَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৫৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت کو تخلیہ کا کہنا کیا حکم رکھتا ہے ؟
(١٨٤٦٠) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو تخلیہ کا کہا اور طلاق کی نیت کی تو کم از کم ایک طلاق واقع ہوگی اور اگر چاہیں تو نکاح کرلیں اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں ہوجائیں گی۔
(۱۸۴۶۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ؛ فِی الْخَلِیَّۃِ : إِنْ نَوَی طَلاَقًا فَأَدْنَی مَا یَکُونُ تَطْلِیقَۃٌ بَائِنًا ، إِنْ شَائَتْ وَشَائَ تَزَوَّجَہَا ، وَإِنْ نَوَی ثَلاَثًا فَثَلاَثٌ۔
তাহকীক: