মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৮ টি
হাদীস নং: ১৮৫২০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٢١) حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو یہ تین طلاقوں کے قائم مقام ہے، اب وہ عورت اس خاوند کے لیے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرلے۔ اگر وہ قبول کرنے سے انکار کردیں تو ایک طلاق ہے اور آدمی کو رجوع کا حق حاصل ہوگا۔ حضرت حسن (رض) کی بھی یہی رائے تھی۔
(۱۸۵۲۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی، عَنْ سَعِیدٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: إذَا وَہَبَہَا ِلأَہْلِہَا فَقَبِلُوہَا فَثَلاَثٌ ، لاَ تَحِلُّ لَہُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ ، وَإِنْ رَدُّوہَا فَوَاحِدَۃٌ ، وَہُوَ أَحَقُّ بِہَا ، وَبِہِ کَانَ یَأْخُذُ الْحَسَنُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٢٢) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو اگر وہ قبول کرلیں تو ایک طلاق اور اگر وہ قبول نہ کریں تو کچھ لازم نہیں۔
(۱۸۵۲۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً ثُمَّ وَہَبَہَا ِلأَہْلِہَا ، قَالَ عَطَائٌ : إِنْ قَبِلُوہَا فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ ، وَإِنْ رَدُّوہَا فَلاَ شَیْئَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٢٣) حضرت طاؤس (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو ایک طلاق ہے اور مرد کو رجوع کا حق ہوگا۔
(۱۸۵۲۳) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِیَادٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ؛ فِی الَّتِی تُوہَبُ ِلأَہْلِہَا : تَطْلِیقَۃٌ ، وَہُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٢٤) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو اگر وہ قبول کرلیں تو ایک طلاق بائنہ اور اگر وہ انکار دیں تو ایک طلاق رجعی ہے اور مرد کو رجوع کا حق ہوگا۔
(۱۸۵۲۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ فِی الْمَوْہُوبَۃِ ِلأَہْلِہَا : إِنْ قَبِلُوہَا فَتَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ ، وَإِنْ رَدُّوہَا فَہِیَ وَاحِدَۃٌ ، وَہُوَ أَحَقُّ بِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٢٥) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۱۸۵۲۵) حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ بِنَحْوٍ مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٢٦) حضرت وکیع (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو اگر طلاق کا ارادہ نہیں تھا تو کچھ نہ ہوا خواہ وہ قبول کرلیں یا واپس کردیں اور اگر طلاق کی نیت کی تو جو نیت کی وہ واقع ہوگا خواہ وہ واپس کردیں یا قبول کرلیں۔
(۱۸۵۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ : إذَا وَہَبَہَا ِلأَہْلِہَا وَہُوَ لاَ یُرِیدُ بِذَلِکَ طَلاَقاً ، فَلَیْسَ بِشَیْئٍ قَبِلُوہَا ، أَوْ رَدُّوہَا ، وَإِنْ نَوَی طَلاَقًا ، فَہُوَ مَا نَوَی مِنَ الطَّلاَقِ قَبِلُوہَا ، أَوْ رَدُّوہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت نے اپنے خاوند سے کہا کہ اللہ نے تجھے مجھ سے راحت دی اور آدمی نے کہا ہاں تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٢٧) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا کہ اللہ نے مجھے تجھ سے راحت دی اور آدمی نے جواب میں کہا کہ ہاں، ہاں، ہاں ۔ یہ مقدمہ حضرت عمر (رض) کے پاس پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میں اس راحت کو تجھ سے دور کردوں، وہ تیرے ساتھ ہے وہ تیرے ساتھ ہے۔
(۱۸۵۲۷) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قالَتِ امْرَأَۃٌ لِزَوْجِہَا : أَرَاحَنِی اللَّہُ مِنْک ، قَالَ حُمَیْدٌ : أَوْ نَحْوًا مِنْ ہَذَا ، قَالَ : فَقَالَ : نَعَمْ ، فَنَعَمْ ، فَنَعَمْ ، قَالَ : فَأَتَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ عُمَرُ : تُرِیدُ أَنْ أَتَحَمَّلَہَا عَنْک ؟ ہِیَ بِکَ ، ہِیَ بِک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تجھے ایک ایسی طلاق ہے جو ہزار طلاقوں کے برابر ہے یا کہا کہ تجھے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٢٨) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تجھے اونٹ کے بوجھ کے برابر طلاق ہے تو یہ عورت اس خاوند کے لیے حلال نہیں جب تک وہ کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرلے۔
(۱۸۵۲۸) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ فِی رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ حِمْلَ بَعِیرٍ ، قَالَ : لاَ تَحِلُّ لَہُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تجھے ایک ایسی طلاق ہے جو ہزار طلاقوں کے برابر ہے یا کہا کہ تجھے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٢٩) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تجھے ایک ایسی طلاق ہے جو ہزار طلاقوں کے برابر ہے تو یہ عورت اس خاوند کے لیے حلال نہیں جب تک وہ کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرلے۔
(۱۸۵۲۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُسَیْدٍ ، عَنْ عَرْفَجَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ؛ فِی رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَاحِدَۃً کَأَلْفٍ ، قَالَتْ : لاَ تَحِلُّ لَہُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٣٠) حضرت ابراہیم (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ مقدمہ سلطان کے پاس لے جایا جائے اور اس آدمی سے قسم اٹھوائی جائے، اگر وہ قسم کھالے تو میرے خیال میں بہتر یہ ہے کہ عورت اسے فدیہ دے کر خلع کرلے۔
(۱۸۵۳۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی الرَّجُلِ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا ثُمَّ یَجْحَدُہَا ، قَالَ : أَحَبُّ إلَیَّ أَنْ تُرَافِعَہُ إلَی السُّلْطَانِ ، فَإِنْ حَلَفَ فَأَحَبُّ إلَیَّ أَنْ تَفْتَدِیَ مِنْہُ إذَا ہُوَ حَلَفَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٣١) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو اگر عورت سچی ہے تو اس کے لیے فدیہ دے کر خلع لینا درست ہے۔
(۱۸۵۳۱) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : إِنْ کَانَتْ صَادِقَۃً ، فَقَدْ حَلَّت لَہَا الْفِدْیَۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٣٢) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ عورت ایسی صورت میں خاوند کو سلطان کے پاس لے جائے اور وہ اس سے قسم لے۔
(۱۸۵۳۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : تُقَدِّمُہُ إلَی السُّلْطَانِ فَتَسْتَحْلِفُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٣٣) حضرت حسن (رض) سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے خاوند نے اسے تین طلاقیں دے دی ہیں، اس عورت کے پاس کوئی گواہی نہیں ہے وہ کیا کرے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ اسی کے پاس رہے اس کے پاس سے کہیں نہ جائے۔
(۱۸۵۳۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الْمَرْأَۃِ تَدَّعِی أَنَّ زَوْجَہَا طَلَّقَہَا ثَلاَثًا وَلَیْسَ لَہَا بَیِّنَۃٌ ، قَالَ : کَانَ یَأْمُرُہَا أَنْ تَقَرَّ عِنْدَہُ وَلاَ تَفِرُّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٣٤) حضرت جابر بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ جب تک وہ اکٹھے رہیں گے زنا کریں گے۔
(۱۸۵۳۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : ہُمَا زَانِیَانِ مَا اجْتَمَعَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٣٥) حضرت مجاہد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) کی ایک باندی کا خاوند اسے علیحدگی میں طلاق دیتا تھا، اس باندی نے حضرت ابن عمر (رض) سے بات کی تو انھوں نے اس کے خاوند سے قسم لی اور اسے چھوڑ دیا۔
(۱۸۵۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مُہَاجِرٍ ، عن مجاہد قَالَ : کَانَتْ لابْنِ عُمَرَ سَبِیَّۃٌ ، فَکَانَ زَوْجُہَا یُسَارُّہَا بِالطَّلاَقِ ، فَقَالَتْ لابْنِ عُمَرَ : إنَّہُ یَکُونُ مِنْہُ الشَّیْئُ فِی السِّرِّ ، فَأَحْلَفَہُ وَتَرَکَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٣٦) ایک بزرگ ابو عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میرا خاوند علیحدگی میں مجھے طلاق دیتا ہے اور لوگوں کے سامنے آکر انکار کردیتا ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ آدمی کو چاہیے کہ اللہ کی چار قسمیں کھائے کہ اس نے طلاق نہیں دی اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر اس نے طلاق دی ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔
(۱۸۵۳۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنِ الْہُذَیْلِ بْنِ بِلاَلٍ ، عَنْ شَیْخٍ یُکَنَّی : أَبَا عَمْرٍو ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَأَتَتْہُ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ : إنَّ زَوْجَہَا یُطَلِّقُہَا فِی السِّرِّ وَیَجْحَدُہا فِی الْعَلاَنِیَۃِ ، فَقَالَ : عَلَیْہِ أَنْ یَحْلِفَ أَرْبَعَ شَہَادَاتٍ بِاللَّہِ مَا طَلَّقَ ، وَالْخَامِسَۃَ أَنَّ لَعْنَۃَ اللہِ عَلَیْہِ إِنْ کَانَ فَعَلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٣٧) حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد انکار کرے تو عورت اس کے پاس سے بھاگ جائے۔
(۱۸۵۳۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عَطِیَّۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِیرِینَ ، وَسُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا ، ثُمَّ یَجْحَدُہَا ؟ قَالَ : تَہْرُبُ مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٣٨) حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد انکار کردے تو عورت نماز کے بعد اس سے قسم لے، اگر وہ قسم کھالے تو وہ عورت واپس آجائے گی۔
(۱۸۵۳۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : تَسْتَحْلِفُہُ دُبُرَ الصَّلاَۃِ ، فَإِنْ حَلَفَ رُدَّتْ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٣٩) حضرت شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد (رض) سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور عورت کے پاس کوئی گواہی نہ ہو اور مرد انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ عورت فدیہ دے کر اس مرد سے چھٹکارا حاصل کرلے۔ میں نے کہا اگر مرد انکار کرے تو پھر ؟ انھوں نے فرمایا کہ عورت اس کے پاس سے بھاگ جائے، اس کے پاس نہ ٹھہرے۔
(۱۸۵۳۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ قَالَ : سَأَلْتُُہُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا ، وَلَیْسَ لَہَا بَیِّنَۃٌ ؟ قَالَ : تَفْتَدِی بِمَالِہَا ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنْ أَبَی ؟ قَالَ : تَہْرُبُ مِنْہُ وَلاَ تَقَارُّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٥٤٠) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس صورت میں عورت کو مرد کے پاس سے بھاگ جانے کا مشورہ دیتے تھے۔
(۱۸۵۴۰) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ سَوَّارِ ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ : کَانَ یَأْمُرُ مِثْلَ ہَذِہِ أَنْ تَہْرُبَ۔
তাহকীক: