মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৮ টি

হাদীস নং: ১৮৬০০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنے غلام کو شادی کی اجازت دے تو طلاق کا حق غلام کے پاس ہوگا
(١٨٦٠١) حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ جب تم نے اپنے باندی کی اپنے غلام سے شادی کردی اور پھر غلام کو بیچ بھی دیا تو اسے اس کی بیوی کے پاس آنے سے منع نہیں کرسکتے۔
(۱۸۶۰۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : إذَا زَوَّجْتَ عَبْدَکَ أَمَتَکَ ، ثُمَّ بِعْتَہُ ، فَلَیْسَ لَکَ أَنْ تَمْنَعَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنے غلام کو شادی کی اجازت دے تو طلاق کا حق غلام کے پاس ہوگا
(١٨٦٠٢) حضرت سعید بن مسیب (رض) اور حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ جب غلام نے اپنے آقا کی اجازت سے شادی کی تو طلاق کا حق غلام کو ہوگا۔
(۱۸۶۰۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، وَالْحَسَنِ قَالاَ : إذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِإِذْنِ سَیِّدِہِ ، فَالطَّلاَقُ بِیَدِ الْعَبْدِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر غلام نے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی تو طلاق کا حق آقا کو ہوگا
(١٨٦٠٣) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر غلام نے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی تو طلاق کا حق آقا کو ہوگا۔
(۱۸۶۰۳) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ : إذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِغَیْرِ إذْنِ سَیِّدِہِ ، فَالطَّلاَقُ بِیَدِ سَیِّدِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر غلام نے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی تو طلاق کا حق آقا کو ہوگا
(١٨٦٠٤) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر غلام نے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی تو آقا اگر چاہے تو نکاح کو ختم کردے اور اگر چاہے تو خاموش رہے۔
(۱۸۶۰۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی الْعَبْدِ یَتَزَوَّجُ بِغَیْرِ إذْنِ سَیِّدِہِ ، قَالَ : إِنْ شَائَ السَّیِّدُ أَبْطَلَ ذَلِکَ ، وَإِنْ شَائَ سَکَتَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر غلام نے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی تو طلاق کا حق آقا کو ہوگا
(١٨٦٠٥) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر غلام نے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی تو طلاق کا حق آقا کو ہوگا، اور اگر آقا کی اجازت سے شادی کی تو طلاق کا حق غلام کو ہوگا۔
(۱۸۶۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : إذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِغَیْرِ إذْنِ سَیِّدِہِ ، فَالطَّلاَقُ بِیَدِ السَّیِّدِ ، وَإِذَا تَزَوَّجَ بِإِذْنِہِ ، فَالطَّلاَقُ بِیَدِ الْعَبْدِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر غلام نے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی تو طلاق کا حق آقا کو ہوگا
(١٨٦٠٦) حضرت ابن عمر (رض) سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۱۸۶۰۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ : حدَّثَنَا الْعُمَرِیُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، مِثْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی
(١٨٦٠٧) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اگر عیسائی عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو وہ اپنے نفس کی مختار ہوگی۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَقِیُّ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ قَالَ:

(۱۸۶۰۷) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إذَا أَسْلَمَتِ النَّصْرَانِیَّۃُ قَبْلَ زَوْجِہَا فَہِیَ أَمْلَکُ بِنَفْسِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی
(١٨٦٠٨) حضرت حسن اور حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی عیسائی کی عیسائی بیوی نے اسلام قبول کرلیا تو اسلام عورت کو اس کی بیوی ہونے سے نکال دے گا۔
(۱۸۶۰۸) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ الْحَسَنَ ، وَعُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالاَ فِی النَّصْرَانِیَّۃِ تُسْلِمُ تَحْتَ زَوْجِہَا ، قَالاَ : الإِسْلاَمُ أَخْرَجَہَا مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی
(١٨٦٠٩) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
(۱۸۶۰۹) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی النَّصْرَانِیَّۃِ تُسْلِمُ تَحْتَ زَوْجِہَا قَالَ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی
(١٨٦١٠) حضرت عطاء ، حضرت طاوس اور حضرت مجاہد (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی عیسائی شخص کی عیسائی بیوی اسلام قبول کرلے تو اگر اس کا خاوند بھی اسلام قبول کرلے تو یہ اس کی بیوی رہے گی اور اگر وہ اسلام قبول نہ کرے تو ان کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
(۱۸۶۱۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِیُّ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، وَطَاوُوسٍ ، وَمُجَاہِدٍ ؛ فِی نَصْرَانِیٍّ تَکُونُ تَحْتَہُ نَصْرَانِیَّۃٌ فَتُسْلِمُ ، قَالُوا : إِنْ أَسْلَمَ مَعَہَا فَہِیَ امْرَأَتُہُ ، وَإِنْ لَمْ یُسْلِمْ فُرِّقَ بَیْنَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی
(١٨٦١١) حضرت داؤد بن کردوس (رض) فرماتے ہیں کہ بنو تغلب کا ایک شخص عبادہ بن نعمان بن زرعہ جو کہ ایک عیسائی تھا، اس کے نکاح میں بنو تمیم کی ایک عیسائی عورت تھی، اس عورت نے اسلام قبول کرلیا لیکن عبادہ نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا، اس پر حضرت عمر (رض) نے دونوں کے درمیان جدائی کرادی۔
(۱۸۶۱۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ السَّفَّاحِ بْنِ مَطَرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ کُرْدُوسٍ قَالَ : کَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی تَغْلِبَ یُقَالُ لَہُ : عُبَادَۃَ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ زُرْعَۃَ ، عِنْدَہُ امْرَأَۃٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ ، وَکَانَ عُبَادَۃَ نَصْرَانِیًّا ، فَأَسْلَمَتِ امْرَأَتُہُ وَأَبَی أَنْ یُسْلِمَ ، فَفَرَّقَ عُمَرُ بَیْنَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی
(١٨٦١٢) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ جب عورت نے اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلیا تو ان کے نکاح کا رشتہ ختم ہوگیا۔
(۱۸۶۱۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ یُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: إذَا أَسْلَمَتِ الْمَرْأَۃُ قَبْلَ زَوْجِہَا انْقَطَعَ مَا بَیْنَہُمَا مِنَ النِّکَاحِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی
(١٨٦١٣) حضرت یزید بن علقمہ (رض) فرماتے ہیں کہ بنو تغلب کا ایک آدمی جس کا نام عبادہ بن نعمان تھا، اس کے عقد میں بنو تمیم کی ایک عورت تھی، اس عورت نے اسلام قبول کرلیا تو حضرت عمر (رض) نے اس کے خاوند کو بلایا اور فرمایا کہ چاہو تو اسلام قبول کرلو بصورتِ دیگر ہم تمہاری بیوی کو تم سے جدا کردیں گے، اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا تو حضرت عمر (رض) نے اس کی بیوی کو اس سے جدا کردیا۔
(۱۸۶۱۳) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَلْقَمَۃَ ؛ أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی تَغْلِبَ یُقَالُ لَہُ : عُبَادَۃُ بْنُ النُّعْمَانِ ، وَکَانَ تَحْتَہُ امْرَأَۃٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ فَأَسْلَمَتْ ، فَدَعَاہُ عُمَرُ فَقَالَ : إمَّا أَنْ تُسْلِمَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِعَہَا مِنْک، فَأَبَی أَنْ یُسْلِمَ ، فَنَزَعَہَا مِنْہُ عُمَرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی
(١٨٦١٤) حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی عیسائی یا یہودی کی بیوی نے اسلام قبول کرلیا تو ان کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
(۱۸۶۱۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ فِی الْیَہُودِیِّ ، أَوِ النَّصْرَانِیِّ تُسْلِمُ امْرَأَتُہُ عِنْدَہُ ، قَالَ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی
(١٨٦١٥) حضرت عمرو بن مرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر (رض) سے سوال کیا کہ اگر کسی عیسائی مرد کی عیسائی بیوی نے اسلام قبول کرلیا تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ان کے درمیان جدائی کرادو، ان کے درمیان جدائی کرادو۔
(۱۸۶۱۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ عَنْ رَجُلٍ نَصْرَانِیٍّ وَامْرَأَتُہُ نَصْرَانِیَّۃٌ ، فَأَسْلَمَتْ ؟ قَالَ : فرِّق ، فرِّق۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی
(١٨٦١٦) حضرت سعید بن جبیر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
(۱۸۶۱۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کافر کی کافرہ بیوی نے اسلام قبول کرلیا تو جن حضرات کے نزدیک ان کے درمیان جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٨٦١٧) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی یہودی یا عیسائی کی بیوی نے اسلام قبول کرلیا تو وہ اس کے خاوند ہونے کے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ ان کا مسلمانوں سے معاہدہ ہے۔
(۱۸۶۱۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : إذَا أَسْلَمَتِ النَّصْرَانِیَّۃُ امْرَأَۃُ الْیَہُودِیِّ ، أَوِ النَّصْرَانِیِّ کَانَ أَحَقَّ بِبُضْعِہَا ، لأَنَّ لَہُ عَہْدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کافر کی کافرہ بیوی نے اسلام قبول کرلیا تو جن حضرات کے نزدیک ان کے درمیان جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٨٦١٨) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ کافر خاوند اس کا زیادہ حق دار ہے جب تک وہ دونوں دارالہجرت میں ہوں۔
(۱۸۶۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، وَشُعْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : ہُوَ أَحَقُّ بِہَا مَا دَامَ فِی دَارِ الْہِجْرَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کافر کی کافرہ بیوی نے اسلام قبول کرلیا تو جن حضرات کے نزدیک ان کے درمیان جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٨٦١٩) حضرت عبداللہ بن یزید خطمی (رض) کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے خط میں اس بارے میں لکھا تھا کہ عورتوں کو اختیار دیا جائے گا۔
(۱۸۶۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ الْخِطْمِیِّ ؛ أَنَّ عُمَرَ کَتَبَ : یُخَیَّرْنَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کافر کی کافرہ بیوی نے اسلام قبول کرلیا تو جن حضرات کے نزدیک ان کے درمیان جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٨٦٢٠) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اس کا خاوند اس کا زیادہ حق دار ہوگا جب تک وہ عورت شہر میں ہو۔
(۱۸۶۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : ہُوَ أَحَقُّ بِہَا مَا کَانَتْ فِی الْمِصْرِ۔
tahqiq

তাহকীক: