মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৮ টি
হাদীস নং: ১৮৬২০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کافر کی کافرہ بیوی نے اسلام قبول کرلیا تو جن حضرات کے نزدیک ان کے درمیان جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٨٦٢١) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ ان دونوں کا نکاح باقی رہے گا۔
(۱۸۶۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : یُقَرَّانِ عَلَی نِکَاحِہِمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کافر کی کافرہ بیوی نے اسلام قبول کرلیا تو جن حضرات کے نزدیک ان کے درمیان جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٨٦٢٢) حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ ہانی بن قبیصہ شیبانی ایک عیسائی تھا، اس کے عقد میں چار عورتیں تھیں، ان سب نے اسلام قبول کرلیا تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حکم لکھا کہ وہ عورتیں اسی کے پاس رہیں گی۔
(۱۸۶۲۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ أَنَّ ہَانِیئَ بْنَ قَبِیصَۃَ الشَّیْبَانِیَّ ، وَکَانَ نَصْرَانِیًّا عِنْدَہُ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ فَأَسْلَمْنَ ، فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ یُقَرّن عِنْدَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کافر کی کافرہ بیوی نے اسلام قبول کرلیا تو جن حضرات کے نزدیک ان کے درمیان جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٨٦٢٣) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عیسائی مرد کی عیسائی عورت نے اسلام قبول کرلیا، اس کے گھر والوں نے اسے اس کے خاوند سے آزاد کرانا چاہا تو وہ حضرت عمر (رض) کی طرف سفر کیا تو انھوں نے اس عورت کو اختیار دیا۔
(۱۸۶۲۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّ نَصْرَانِیَّۃً أَسْلَمَتْ تَحْتَ نَصْرَانِیٍّ فَأَرَادُوا أَہْلَہَا أَنْ یَنْزِعُوہَا مِنْہُ ، فَتَرَحَّلُوا إلَی عُمَرَ فَخَیَّرَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی کافر کی بیوی اسلام قبول کرلے اور اس کا خاوند اسلام قبول کرنے سے انکار کردے تو جن حضرات کے نزدیک یہ ایک طلاق کے حکم میں ہے
(١٨٦٢٤) حضرت حسن اور حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) فرماتے ہیں کہ یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔
(۱۸۶۲۴) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ الْحَسَنَ ، وَعُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالاَ : تَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی کافر کی بیوی اسلام قبول کرلے اور اس کا خاوند اسلام قبول کرنے سے انکار کردے تو جن حضرات کے نزدیک یہ ایک طلاق کے حکم میں ہے
(١٨٦٢٥) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی اور اس کی بیوی مشرک ہوں اور بیوی اسلام قبول کرلے اور خاوند اسلام قبول کرنے سے انکار کردے تو عورت کو ایک طلاق بائنہ ہوجائے گی اور حضرت عکرمہ (رض) بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
(۱۸۶۲۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إِذَا کَانَ الرَّجُلُ وَامْرَأَتُہُ مُشْرِکَیْنِ فَأَسْلَمَتْ وَأَبَی أَنْ یُسْلِمَ بَانَتْ مِنْہُ بِوَاحِدَۃٍ ، وَقَالَ عِکْرِمَۃُ مِثْلَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی کافر کی بیوی اسلام قبول کرلے اور اس کا خاوند اسلام قبول کرنے سے انکار کردے تو جن حضرات کے نزدیک یہ ایک طلاق کے حکم میں ہے
(١٨٦٢٦) حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ قاضی کا جدائی کرانا ایک طلاق ہے۔
(۱۸۶۲۶) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : تَفْرِیقُ الإِمَامِ تَطْلِیقَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مسلمان ہونے والی عورت کا خاوند اس کی عدت میں اسلام قبول کرلے تو جن حضرات کے نزدیک وہ رجوع کا زیادہ حقدار ہے
(١٨٦٢٧) حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ بن ابی جہل کی بیوی نے ان سے پہلے اسلام قبول کرلیا، پھر ان کی عدت میں حضرت عکرمہ (رض) نے بھی اسلام قبول کرلیا تو وہ واپس ان کے نکاح میں چلی گئیں اور ایسا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں ہوا تھا۔
(۱۸۶۲۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی فَرْوَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ؛ أَنَّ امْرَأَۃَ عِکْرِمَۃَ بْنِ أَبِی جَہْلٍ أَسْلَمَتْ قَبْلَہُ ، ثُمَّ أَسْلَمَ وَہِیَ فِی الْعِدَّۃِ ، فَرُدَّتْ إلَیْہِ ، وَذَلِکَ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مالک ۴۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مسلمان ہونے والی عورت کا خاوند اس کی عدت میں اسلام قبول کرلے تو جن حضرات کے نزدیک وہ رجوع کا زیادہ حقدار ہے
(١٨٦٢٨) حضرت مجاہد (رض) فرماتے ہیں کہ اگر نومسلم عورت کا خاوند اس کی عدت میں اسلام قبول کرلے تو وہ اسی کی بیوی رہے گی۔
(۱۸۶۲۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ سَعِیدٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: إذَا أَسْلَمَ وَہِیَ فِی عِدَّتِہَا فَہِیَ امْرَأَتُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مسلمان ہونے والی عورت کا خاوند اس کی عدت میں اسلام قبول کرلے تو جن حضرات کے نزدیک وہ رجوع کا زیادہ حقدار ہے
(١٨٦٢٩) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر نومسلم عورت کا خاوند اس کی عدت میں اسلام قبول کرلے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔
(۱۸۶۲۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : إِنْ أَسْلَمَ وَہِیَ فِی الْعِدَّۃِ فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مسلمان ہونے والی عورت کا خاوند اس کی عدت میں اسلام قبول کرلے تو جن حضرات کے نزدیک وہ رجوع کا زیادہ حقدار ہے
(١٨٦٣٠) حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) فرماتے ہیں کہ اگر نومسلم عورت کا خاوند اس کی عدت میں اسلام قبول کرلے تو وہ اسی کی بیوی رہے گی۔
(۱۸۶۳۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ : ہُوَ أَحَقُّ بِہَا مَا دَامَتْ فِی الْعِدَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مسلمان ہونے والی عورت کا خاوند اس کی عدت میں اسلام قبول کرلے تو جن حضرات کے نزدیک وہ رجوع کا زیادہ حقدار ہے
(١٨٦٣١) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر نومسلم عورت کا خاوند اس کی عدت میں اسلام قبول کرلے تو وہ اسی کی بیوی رہے گی۔
(۱۸۶۳۱) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : إِنْ أَسْلَمَ وَہِیَ فِی الْعِدَّۃِ فَہِیَ امْرَأَتُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مسلمان ہونے والی عورت کا خاوند اس کی عدت میں اسلام قبول کرلے تو جن حضرات کے نزدیک وہ رجوع کا زیادہ حقدار ہے
(١٨٦٣٢) حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے بعد اسلام قبول کرے تو عدت کے دوران عورت کو اختیار ہوگا، یا یہ فرمایا کہ عورت کی عدت میں اسلام قبول کرنے کی صورت میں وہ زیادہ حق دار ہوگا۔
(۱۸۶۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ قَالَ : حُدِّثْنَا عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ : إذَا أَسْلَمَ الزَّوْجُ بَعْدَ امْرَأَتِہِ خَیَّرَہَا مَا دَامَتْ فِی الْعِدَّۃِ ، أَوْ قَالَ : ہُوَ أَحَقُّ بِہَا مَا دَامَتْ فِی الْعِدَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مسلمان ہونے والی عورت کا خاوند اس کی عدت میں اسلام قبول کرلے تو جن حضرات کے نزدیک وہ رجوع کا زیادہ حقدار ہے
(١٨٦٣٣) حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی یہودی یا عیسائی نے اسلام قبول کیا پھر اس کی بیوی نے اسلام قبول کیا تو ان کا عقد باقی رہے گا البتہ اگر سلطان نے ان کے درمیان جدائی کرادی ہو تو پھر عقد ختم ہوگیا۔
(۱۸۶۳۳) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : أَیُّمَا یَہُودِیٍّ ، أَوْ نَصْرَانِیٍّ أَسْلَمَ ، ثُمَّ أَسْلَمَتِ امْرَأَتُہُ فَہُمَا عَلَی نِکَاحِہِمَا ، إلاَّ أَنْ یَکُونَ فَرَّقَ بَیْنَہُمَا سُلْطَانٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہار میں کوئی وقت نہیں ہوتا
(١٨٦٣٤) حضرت سعید بن مسیب (رض) اور حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ ظہار میں وقت نہیں ہوتا اور اس میں ایلاء داخل نہیں ہوتا خواہ وہ کتناہی طویل کیوں نہ ہوجائے۔
(۱۸۶۳۴) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، وَالْحَسَنِ أَنَّہُمَا قَالاَ : لَیْسَ فِی الظِّہَارِ وَقْتٌ ، وَلاَ یَدْخُلُ فِیہِ إیلاَئٌ ، وَإِنْ تَطَاوَلَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہار میں کوئی وقت نہیں ہوتا
(١٨٦٣٥) حضرت ابراہیم (رض) سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۱۸۶۳۵) حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہار میں کوئی وقت نہیں ہوتا
(١٨٦٣٦) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے جماع کیا اور کوئی وقت مقرر نہ کیا تو اس کی بیوی اس سے جدا نہیں ہوگی خواہ وہ اس سے جماع نہ کرے، جبکہ تک کہ وہ کفارے کا انتظار کررہا ہے۔
(۱۸۶۳۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی الرَّجُلِ یُظَاہِرُ مِنِ امْرَأَتِہِ ، وَلاَ یُوَقِّتُ أَجَلاً قَالَ : لاَ تَبِینُ مِنْہُ امْرَأَتُہُ وَإِنْ لَمْ یَقَعْ عَلَیْہَا ، مَا دَامَ یَتَلَوَّمُ فِی الْکَفَّارَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہار میں کوئی وقت نہیں ہوتا
(١٨٦٣٧) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ ظہار میں کوئی وقت نہیں ہوتا۔
(۱۸۶۳۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : لَیْسَ فِی الظِّہَارِ وَقْتٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہار میں کوئی وقت نہیں ہوتا
(١٨٦٣٨) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ ظہار میں کوئی وقت نہیں ہوتا۔
(۱۸۶۳۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : لَیْسَ فِی الظِّہَارِ وَقْتٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہار میں کوئی وقت نہیں ہوتا
(١٨٦٣٩) حضرت طاؤس (رض) فرماتے ہیں کہ ظہار میں کوئی وقت نہیں ہوتا۔
(۱۸۶۳۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ قَالَ : لَیْسَ فِی الظِّہَارِ وَقْتٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہار میں کوئی وقت نہیں ہوتا
(١٨٦٤٠) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر میں ایک سال تک تیرے قریب آیا تو تو میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہے تو ایلاء ظہار میں داخل نہیں ہوگا۔
(۱۸۶۴۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ فِی رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : إِنْ قَرَبْتُہَا سَنَۃً فَہِیَ عَلَیْہِ کَظَہْرِ أُمِّہِ ، قَالَ : فَقَالَ الشَّعْبِیُّ : لاَ یَدْخُلُ الإِیلاَئُ فِی الظِّہَارِ۔
তাহকীক: