মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৮ টি
হাদীস নং: ১৮৬৮০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک لفظ میں طلاق دی اور تین کی نیت کی تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٦٨١) حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ ایک طلاق ہوگی۔
(۱۸۶۸۱) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَعْفَرٍ الأَحْمَرِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : ہِیَ وَاحِدَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک لفظ میں طلاق دی اور تین کی نیت کی تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٦٨٢) حضرت حکم (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے طلاق ہے اور ہاتھ سے تین کا اشارہ کرے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ایک طلاق واقع ہوگی۔
(۱۸۶۸۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ فِی رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : أَنْتِ طَالِقٌ ، وَأَشَارَ بِیَدِہِ ثَلاَثًا ، قَالَ : فَسَأَلُوا لَہُ عَنْ ذَلِکَ ؟ فَقِیلَ : ہِیَ وَاحِدَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک لفظ میں طلاق دی اور تین کی نیت کی تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٦٨٣) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک شخص سے سوال کیا گیا کہ کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور اس نے انگلی سے چار کا اشارہ کیا اور کوئی بات نہ کی تو اس نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا۔
(۱۸۶۸۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ بَیَانٍ ، قَالَ : سُئِلَ الشَّعْبِیُّ عَنْ أَبْوَابِ الطَّلاَقِ ؟ فَقَالَ الشَّعْبِیُّ : سُئِلَ رَجُلٌ مَرَّۃً : أَطَلَّقْتَ امْرَأَتَکَ ؟ قَالَ : فَأَوْمَأَ بِیَدِہِ بِأَرْبَعِ أَصَابِعَ ، وَلَمْ یَتَکَلَّمْ ، فَفَارَقَ امْرَأَتَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ لعان ایک طلاق ہے
(١٨٦٨٤) حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ لعان ایک طلاق بائنہ ہے۔
(۱۸۶۸۴) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، قَالَ : اللِّعَانُ تَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ لعان ایک طلاق ہے
(١٨٦٨٥) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ لعان ایک طلاق بائنہ ہے۔
(۱۸۶۸۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ أَبِی حَنِیفَۃَ ، عَنْ حماد ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : اللِّعَانُ تَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ لعان ایک طلاق ہے
(١٨٦٨٦) حضرت مغیرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم (رض) سے پوچھا کہ کیا لعان کرنے والا تین طلاقیں دینے والے سے زیادہ شدید حکم والا ہے ؟ انھوں نے فرمایا ہاں۔
(۱۸۶۸۶) حَدَّثَنَا ہُشَیم ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ ِلإِبْرَاہِیمَ : الْمُلاَعِنُ أَشَدُّ مِنَ الَّذِی یُطَلِّقُ ثَلاَثًا ؟ فَقَالَ : نَعَمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ لعان ایک طلاق ہے
(١٨٦٨٧) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ لعان سنگسار کرنے سے زیادہ سخت چیز ہے۔
(۱۸۶۸۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : الْمُلاَعَنَۃُ أَشَدُّ مِنَ الرَّجْمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں ، پھر اس سے شادی کرلی تو اب اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہوگا ؟
(١٨٦٨٨) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر (رض) سے بحرین کے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دی تھیں، پھر اس عورت نے شادی کی اور اس کے دوسرے خاوند نے بھی اسے طلاق دے دی، پھر پہلے خاوند نے اس سے نکاح کیا تو اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہوگا، انھوں نے فرمایا کہ اس کے پاس باقی ماندہ طلاق کا حق ہوگا۔
(۱۸۶۸۸) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ، وَحُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ؛ سَمِعْنَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : سَأَلْتُ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْبَحْرَیْنِ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ تَطْلِیقَۃً ، أَوْ تَطْلِیقَتَیْنِ فَتَزَوَّجَتْ ، ثُمَّ إنَّ زَوْجَہَا طَلَّقَہَا ، ثُمَّ إنَّ الأَوَّلَ تَزَوَّجَہَا ، عَلَی کَمْ ہِیَ عِنْدَہُ ؟ قَالَ : ہِیَ عَلَی مَا بَقِیَ مِنَ الطَّلاَقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں ، پھر اس سے شادی کرلی تو اب اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہوگا ؟
(١٨٦٨٩) حضرت ابی (رض) فرماتے ہیں کہ اب اس کے پاس باقی ماندہ طلاق کا حق رہے گا۔
(۱۸۶۸۹) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، وَحَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ أُبَی ، قَالَ : تَرْجِعُ إلَیْہِ بِمَا بَقِیَ مِنَ الطَّلاَقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں ، پھر اس سے شادی کرلی تو اب اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہوگا ؟
(١٨٦٩٠) حضرت شعبی (رض) کہتے ہیں کہ حضرت زیاد (رض) نے عمران بن حصین (رض) اور حضرت شریح (رض) سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں، پھر وہ بائنہ ہوگئی اور پھر کسی آدمی نے اس سے شادی کرکے اسے طلاق دے دی یا وہ فوت ہوگیا، اور پھر پہلے آدمی نے اس سے شادی کرلی تو اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق باقی رہے گا ؟ حضرت عمران (رض) نے فرمایا کہ باقی ماندہ طلاقوں کا جبکہ حضرت شریح (رض) نے فرمایا کہ نیا نکاح اور نئی طلاق ہے۔
(۱۸۶۹۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّ زِیَادًا سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ ،وَشُرَیْحًا عَنِ الرَّجُلِ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ تَطْلِیقَۃً ، أَوْ تَطْلِیقَتَیْنِ ، فَتَبِینُ ، فَیَتَزَوَّجُہَا رَجُلٌ فَیُطَلِّقُہَا ، أَوْ یَمُوتُ عَنْہَا ، فَیَتَزَوَّجُہَا الأَوَّلُ ، عَلَی کَمْ تَکُونُ عِنْدَہُ؟ فَقَالَ عِمْرَانُ : عَلَی مَا بَقِیَ مِنَ الطَّلاَقِ ، وَقَالَ شُرَیْحٌ: نِکَاحٌ جَدِیدٌ ، وَطَلاَقٌ جَدِیدٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں ، پھر اس سے شادی کرلی تو اب اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہوگا ؟
(١٨٦٩١) حضرت عمر، حضرت ابی، حضرت ابو درداء اور حضرت معاذ (رض) فرماتے ہیں کہ باقی ماندہ طلاقوں کا حق باقی رہے گا۔
(۱۸۶۹۱) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ ، وَأُبَیُّ ، وَأَبُو الدَّرْدَائِ، وَمُعَاذٌ ، یَقُولُونَ : تَرْجِعُ إلَیْہِ عَلَی مَا بَقِیَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں ، پھر اس سے شادی کرلی تو اب اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہوگا ؟
(١٨٦٩٢) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ شادی کے رشتے کو تین طلاقیں ہی ختم کرتی ہیں۔
(۱۸۶۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، وَعَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ مَزِیدَۃَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : لاَ یَہْدِمُ الزَّوَاجَ ، إلاَّ الثَّلاَثُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں ، پھر اس سے شادی کرلی تو اب اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہوگا ؟
(١٨٦٩٣) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ باقی ماندہ طلاقوں کا حق ہوگا۔
(۱۸۶۹۳) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مَزِیدَۃَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : عَلَی مَا بَقِیَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں ، پھر اس سے شادی کرلی تو اب اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہوگا ؟
(١٨٦٩٤) حضرت ابی (رض) فرماتے ہیں کہ باقی ماندہ طلاقوں کا حق ہوگا۔
(۱۸۶۹۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ أُبی قَالَ : عَلَی مَا بَقِیَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں ، پھر اس سے شادی کرلی تو اب اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہوگا ؟
(١٨٦٩٥) حضرت عمر، حضرت معاذ، حضرت زید، حضرت ابی اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ باقی ماندہ طلاقوں کا حق ہوگا۔
(۱۸۶۹۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، قَالَ : قضَی عُمَرُ ، وَمُعَاذٌ ، وَزَیْدٌ ، وَأُبَیٌّ ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ؛ أَنَّہَا عَلَی مَا بَقِیَ مِنَ الطَّلاَقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں ، پھر اس سے شادی کرلی تو اب اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہوگا ؟
(١٨٦٩٦) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ باقی ماندہ طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی۔
(۱۸۶۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : عَلَی مَا بَقِیَ مِنَ الطَّلاَقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاقِ جدید کا حق ہوگا
(١٨٦٩٧) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاق جدید کا حق ہوگا۔
(۱۸۶۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : ہِیَ عِنْدَہُ عَلَی طَلاَقٍ مُسْتَقْبَلٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاقِ جدید کا حق ہوگا
(١٨٦٩٨) حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاق جدید کا حق ہوگا۔
(۱۸۶۹۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، وَسُفْیَانُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَابْنِ عُمَرَ قَالاَ : ہِیَ عِنْدَہُ عَلَی طَلاَقٍ جَدِیدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاقِ جدید کا حق ہوگا
(١٨٦٩٩) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ نئے عقد کی صورت میں عورت تین طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی۔
(۱۸۶۹۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : ہِیَ عِنْدَہُ عَلَی ثَلاَثٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاقِ جدید کا حق ہوگا
(١٨٧٠٠) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (رض) کے شاگرد فرمایا کرتے تھے کہ تین طلاقیں نئی طلاق کا حق دلوا سکتی ہیں تو ایک اور دو طلاقیں کیوں نہیں دلوا سکتیں ؟
(۱۸۷۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللہِ یَقُولُونَ : یَہْدِمُ الثَّلاَثَ ، وَلاَ یَہْدِمُ الْوَاحِدَۃَ وَالثِّنْتَیْنِ ، یَعْنِی طَلاَقًا جَدِیدًا۔
তাহকীক: