মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৮ টি
হাদীস নং: ১৮৭০০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاقِ جدید کا حق ہوگا
(١٨٧٠١) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (رض) کے شاگرد فرمایا کرتے تھے کہ تین طلاقیں نئی طلاق کا حق دلوا سکتی ہیں تو ایک اور دو طلاقیں کیوں نہیں دلوا سکتیں ؟
(۱۸۷۰۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللہِ یَقُولُونَ : یَہْدِمُ الثَّلاَثَ ، وَلاَ یَہْدِمُ الْوَاحِدَۃَ وَالثِّنْتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاقِ جدید کا حق ہوگا
(١٨٧٠٢) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (رض) کے شاگرد فرمایا کرتے تھے جبکہ حضرت عبیدہ فرماتے تھے کہ مرد کے پاس صرف باقی ماندہ طلاقوں کا حق ہوگا۔ ایک اور دو طلاقیں نئی طلاق کا حق دلوا سکتی ہیں جس طرح تین طلاقیں نئی طلاق کا حق دلواتی ہیں۔
(۱۸۷۰۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّ أَصْحَابَ عَبْدِ اللہِ کَانُوا یَقُولُونَ : یَہْدِمُ الْوَاحِدَۃَ وَالثِّنْتَیْنِ کَمَا یَہْدِمُ الثَّلاَثَ ، إلاَّ عَبِیْدَۃَ فَإِنَّہُ قَالَ : ہِیَ عَلَی مَا بَقِیَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاقِ جدید کا حق ہوگا
(١٨٧٠٣) حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ وہ نئی طلاق اور نئے نکاح کے ساتھ واپس آئے گی۔
(۱۸۷۰۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ شُرَیْحٍ قَالَ : عَلَی طَلاَقٍ جَدِیدٍ ، وَعَلَی نِکَاحٍ جَدِیدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاقِ جدید کا حق ہوگا
(١٨٧٠٤) حضرت میمون (رض) فرماتے ہیں کہ وہ نئی طلاق کے ساتھ واپس آئے گی۔
(۱۸۷۰۴) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ مَیْمُونٍ ، قَالَ : ہِیَ عِنْدَہُ عَلَی طَلاَقٍ جَدِیدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاقِ جدید کا حق ہوگا
(١٨٧٠٥) حضرت رجائ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قبیصہ (رض) سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ بائنہ ہوگئی، اس نے عدت پوری کی اور کسی مرد سے شادی کرلی، اس نے اس سے دخول کیا پھر وہ مرگیا یا اس کو طلاق دے دی، یہ پھر پہلے خاوند کے پاس واپس آئی تو کتنی طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی ؟ انھوں نے فرمایا کہ باقی ماندہ طلاقوں کے ساتھ، میں نے سوال کیا کہ اگر اس نے اسے دوسری مرتبہ طلاق دی، وہ بائنہ ہوگئی، پھر اس نے کسی آدمی سے نکاح کیا، اس نے اس سے دخول کیا اور پھر وہ مرگیا یا اسے طلاق دے دی، یہ پھر پہلے خاوند کے پاس واپس آئی تو کتنی طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی ؟ انھوں نے فرمایا کہ باقی ماندہ طلاقوں کے ساتھ، میں نے کہا کہ اس نے پھر طلاق دے دی، اس نے عدت کے بعد کسی اور مرد سے شادی کرلی ، اس نے اس سے دخول کیا اور پھر اسے طلاق دے دی یا مرگیا یہ عورت پھر پہلے خاوند کے پاس واپس آئی تو کتنی طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی ؟ انھوں نے فرمایا کہ تین طلاقوں کے ساتھ۔
(۱۸۷۰۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ رَجَائٍ ، عَنْ قَبِیصَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ : رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ تَطْلِیقَۃ فَبَانَتْ مِنْہُ ، فَحَلَّتْ فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا ، فَدَخَلَ بِہَا ثُمَّ مَاتَ عَنْہَا ، أَوْ طَلَّقَہَا ، فَرَجَعَتْ إلَی الأَوَّلِ ، عَلَی کَمْ ہِیَ عِنْدَہُ ؟ قَالَ : عَلَی مَا بَقِیَ مِنَ الطَّلاَقِ ۔ قَالَ : قُلْتُ : فَطَلَّقَہَا أُخْرَی فَبَانَتْ مِنْہُ ، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا فَدَخَلَ بِہَا ثُمَّ مَاتَ عَنْہَا ، أَوْ طَلَّقَہَا ، فَرَجَعَتْ إلَی زَوْجِہَا الأَوَّلِ ، عَلَی کَمْ ہِیَ عِنْدَہُ ؟ قَالَ : ہِیَ عَلَی مَا بَقِیَ ۔ قُلْتُ : فَطَلَّقَہَا أُخْرَی ، فَحَلَّتْ فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا ، ثُمَّ دَخَلَ بِہَا ثُمَّ مَاتَ عَنْہَا ، أَوْ طَلَّقَہَا ، فَرَجَعَتْ إلَی زَوْجِہَا الأَوَّلِ ، عَلَی کَمْ ہِیَ عِنْدَہُ ؟ قَالَ : ہِیَ عَلَی ثَلاَثٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاقِ جدید کا حق ہوگا
(١٨٧٠٦) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر اس نے دخول کیا تو تین طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی اور اگر دخول نہ کیا تو باقی ماندہ طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی۔
(۱۸۷۰۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : إِنْ دَخَلَ بِہَا فَإِنَّہَا عِنْدَہُ عَلَی ثَلاَثِ تَطْلِیقَاتٍ ، وَإِنْ لَمْ یَدْخُلْ بِہَا فَإِنَّہَا عِنْدَہُ عَلَی بَقِیَّۃِ الطَّلاَقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو حاملہ ہوئی تو تجھے طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٧٠٧) حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا جب تو حاملہ ہوئی تو تجھے طلاق ہے تو آدمی کو چاہیے کہ ہر طہر میں اس سے جماع کرنے کے بعد دوبارہ جماع نہ کرے یہاں تک کہ وہ دوبارہ حیض آنے کے بعد پاک ہوجائے، جب اس کا حمل ظاہر ہوجائے تو وہ بائنہ ہوجائے گی۔
(۱۸۷۰۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، قَالَ : یَقَعُ عَلَیْہَا عِنْدَ کُلِّ طُہْرٍ مَرَّۃً ، ثُمَّ یُمْسِکُ حَتَّی تَطْہُرَ ، فَإِذَا اسْتَبَانَ حَمْلُہَا بَانَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو حاملہ ہوئی تو تجھے طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٧٠٨) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ جب تو حاملہ ہوئی تجھے طلاق ہے، تو وہ عورت کے حیض سے پاک ہونے کے بعد اس سے جماع کرے اور پھر رک جائے۔ حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ اس کے حمل کے ظاہر ہونے تک اس سے جماع کرسکتا ہے۔
(۱۸۷۰۸) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ قَالَ فِی رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِہِ : إذَا حَمَلْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ ، قَالَ : یَغْشَاہَا إذَا طَہُرَتْ مِنَ الْحَیْضِ ، ثُمَّ یُمْسِکُ عَنْہَا إلَی مِثْلِ ذَلِکَ ، وَقَالَ ابْنُ سِیرِینَ : یَغْشَاہَا حَتَّی تَحْمِلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مجوسی میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٧٠٩) حضرت حسن، حضرت عکرمہ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) فرماتے ہیں کہ اگر مجوسی میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کرلے تو مرد کو بغیر نئے سرے سے پیغام نکاح کے عورت پر کوئی حق نہیں رہا۔
(۱۸۷۰۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعِکْرِمَۃَ ، وَکِتَابِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَنَّہُمْ قَالُوا : إذَا سَبَقَ أَحَدُہُمَا صَاحِبَہُ بِالإِسْلاَمِ ، فَلاَ سَبِیلَ لَہُ عَلَیْہَا إلاَّ بِخِطْبَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مجوسی میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٧١٠) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر مجوسی میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کرلے تو ان کا نکاح ختم ہوگیا۔
(۱۸۷۱۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الْمَجُوسِیَّیْنِ إذَا أَسْلَمَا فَہُمَا عَلَی نِکَاحِہِمَا ، فَإِنْ أَسْلَمَ أَحَدُہُمَا قَبْلَ صَاحِبِہِ ، فَقَدِ انْقَطَعَ مَا بَیْنَہُمَا مِنَ النِّکَاحِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭১০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مجوسی میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٧١١) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۱۸۷۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ مِثْلَہُ إلاَّ أَنَّہُ قَالَ : بَانَتْ مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭১১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مجوسی میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٧١٢) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ مشرک مردو عورت اگر اکٹھے اسلام قبول کرلیں تو ان کا نکاح باقی رہے گا اور اگر ایک اسلام قبول کرلے تو ان کا نکاح ختم ہوجائے گا، یہ حکم مجوسیوں اور مشرکوں کا ہے اہل کتاب کا نہیں۔
(۱۸۷۱۲) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی الرَّجُلِ وَامْرَأَتِہِ یَکُونَانِ مُشْرِکَیْنِ فَیُسْلِمَانِ ، قَالَ: یَثْبُتُ نِکَاحُہُمَا ، فَإِنْ أَسْلَمَ أَحَدُہُمَا قَبْلَ الآخَرِ انْقَطَعَ مَا بَیْنَہُمَا ، یَعْنِی بِذَلِکَ الْمَجُوسَ وَالْمُشْرِکِینَ غَیْرَ أَہْلِ الْکِتَابِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭১২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر مجوسی میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٧١٣) حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر مجوسی میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کرلے تو ان کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
(۱۸۷۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ فِی الْمَجُوسِیَّیْنِ : إذَا أَسْلَمَ أَحَدُہُمَا قَبْلَ صَاحِبِہِ فُرِّقَ بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭১৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ طلاق اور غلام کو آزاد کرنے میں مزاح نہیں ہوتا، یہ لازم ہوجاتے ہیں
(١٨٧١٤) حضرت ابو دردائ (رض) فرماتے ہیں کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں مزاح نہیں ہوتا : نکاح، عتاق اور طلاق
(۱۸۷۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ، قَالَ : ثَلاَثٌ لاَ یُلْعَبُ بِہِنَّ : النِّکَاحُ ، وَالْعَتَاقُ ، وَالطَّلاَقُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭১৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ طلاق اور غلام کو آزاد کرنے میں مزاح نہیں ہوتا، یہ لازم ہوجاتے ہیں
(١٨٧١٥) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ چار چیزیں ہر حال میں نافذ ہوجاتی ہیں : غلام کی آزادی، طلاق، نکاح اور نذر
(۱۸۷۱۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ سُحَیْمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : أَرْبَعٌ جَائِزَاتٌ عَلَی کُلِّ حَالٍ : الْعِتْقُ ، وَالطَّلاَقُ ، وَالنِّکَاحُ ، وَالنَّذْرُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭১৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ طلاق اور غلام کو آزاد کرنے میں مزاح نہیں ہوتا، یہ لازم ہوجاتے ہیں
(١٨٧١٦) حضرت ضحاک (رض) فرماتے ہیں کہ تین چیزوں میں مزاح نہیں ہوتا : طلاق، نکاح اور نذر
(۱۸۷۱۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی کِبْرَان ، عَنِ الضَّحَّاکِ ؛ قَالَ سَمِعْتُہُ یَقُولُ : ثَلاَثٌ لاَ یُلْعَبُ بِہِنَّ : الطَّلاَقُ ، وَالنِّکَاحُ ، وَالنَّذْرُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭১৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ طلاق اور غلام کو آزاد کرنے میں مزاح نہیں ہوتا، یہ لازم ہوجاتے ہیں
(١٨٧١٧) حضرت عمرو بن مہاجر (رض) کہتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان، سلیمان، عمر بن عبد العزیز اور یزید بن عبدالملک (رض) نے خط میں لکھا تھا کہ تم بیوقوفوں کی سب باتوں کو معاف کردو لیکن طلاق اور غلام کی آزادی میں انھیں چھوٹ نہ دو ۔
(۱۸۷۱۷) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُہَاجِرٍ ، قَالَ : کَتَبَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ ، وَسُلَیْمَانُ ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، وَیَزِیدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ : مَا أَقَلْتُمُ السُّفَہَائَ عَنْ شَیْئٍ ، فَلاَ تُقِیلُوہُمُ الطَّلاَقَ وَالْعَتَاقَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭১৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ طلاق اور غلام کو آزاد کرنے میں مزاح نہیں ہوتا، یہ لازم ہوجاتے ہیں
(١٨٧١٨) حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں مزاح نہیں ہوتا : نکاح، طلاق اور آزادی
(۱۸۷۱۸) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : ثَلاَثٌ لاَ لَعِبَ فِیہِنَّ : النِّکَاحُ ، وَالطَّلاَقُ ، وَالْعِتَاقُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭১৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ طلاق اور غلام کو آزاد کرنے میں مزاح نہیں ہوتا، یہ لازم ہوجاتے ہیں
(١٨٧١٩) حضرت ابو دردائ (رض) فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں آدمی اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد رجوع کرلیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تو مزاح کررہا تھا، غلام کو آزاد کرتا تھا اور رجوع کرلیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تو مزاح کررہا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا { وَلاَ تَتَّخِذُوا آیَاتِ اللہِ ہُزُوًا } اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ، اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس نے طلاق دی، غلام کو آزاد کرایا، نکاح کرایا یا نکاح کیا اور پھر کہا کہ میں تو مزاح کررہا تھا یہ چیزیں پھر بھی نافذ ہوجائیں گی۔
(۱۸۷۱۹) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ أَبی الدَّردَاء ، قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یُطَلِّقُ ثُمَّ یَرْجِعُ ، یَقُولُ : کُنْتُ لاَعِبًا ، وَیُعْتِقُ ثُمَّ یَرْجِعُ ، یَقُولُ : کُنْتُ لاَعِبًا ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی: {وَلاَ تَتَّخِذُوا آیَاتِ اللہِ ہُزُوًا} ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ طَلَّقَ ، أَوْ حَرَّرَ ، أَوْ أَنْکَحَ ، أَوْ نَکَحَ ، فَقَالَ إنِّی کُنْتُ لاَعِبًا فَہُوَ جَائِزٌ۔ (طبری ۴۸۲۔ طبرانی ۷۸۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭১৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ طلاق اور غلام کو آزاد کرنے میں مزاح نہیں ہوتا، یہ لازم ہوجاتے ہیں
(١٨٧٢٠) حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) نے خط میں لکھا کہ بیوقوفوں کی ہر غلطی کو معاف کردو لیکن غلام کی آزادی اور طلاق دینے کو معاف نہ کرو۔
(۱۸۷۲۰) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَبِیبٍ الْمُحَارِبِیِّ ، قَالَ : کَتَبَ إلَیَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : مَہْمَا أَقَلْتَ السُّفَہَائَ مِنْ أَیْمَانِہِمْ ، فَلاَ تُقِلْہُمُ الْعَتَاقَ وَالطَّلاَقَ۔
তাহকীক: