মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৮ টি

হাদীস নং: ১৮৮৬০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک عورت نے خاوند کے مرض الموت میں اس سے خلع لی اور پھر وہ عدت میں مرگیا تو کیا حکم ہے ؟
(١٨٨٦١) حضرت سماک بن عمران (رض) کہتے ہیں کہ عبد الملک نے قبیصہ (رض) سے سوال کیا کہ خلع کرنے والے میاں بیوی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے ؟ انھوں نے فرمایا کہ نہیں کیونکہ عورت نے اپنی خوشی سے اسے اپنے مال کا فدیہ دیا ہے۔
(۱۸۸۶۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ الْقُرَشِیِّ، عَنْ تَوْبَۃَ بْنِ نَمِرٍ، عَنْ سِمَاک ابْنِ عِمْرَانَ ؛ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکَ سَأَلَ قَبِیصَۃَ عَنِ الْمُخْتَلِعَۃِ یَتَوَارِثَانِ؟ قَالَ: لاَ، ِلأَنَّہَا افْتَدَتْ بِمَالِہَا طَیِّبۃً بِہِ نَفْسُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৬১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٦٢) حضرت عثمان بن عفان (رض) اور حضرت زید بن ثابت (رض) ایلاء کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق ہے اور اس کے بعد عورت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے۔
(۱۸۸۶۲) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ؛ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، وَزَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالاَ فِی الإِیلاَئِ : إذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ ، وَہِیَ أَمْلَکُ بِنَفْسِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৬২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٦٣) حضرت نعمان بن بشیر (رض) نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا تو حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا کہ جب چار مہینے گذر گئے تو عورت ایک طلاق کے ساتھ بائنہ ہوگئی۔
(۱۸۸۶۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ؛ أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ آلَی مِنَ امْرَأَتِہِ ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : إذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَقَدْ بَانَتْ مِنْہُ بِتَطْلِیقَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৬৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٦٤) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے ایلاء کیا اور چار مہینے گذر گئے تو عورت ایک طلاق کے ساتھ بائنہ ہوگئی۔
(۱۸۸۶۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ اللہِ قَالَ : إذَا آلَی ، فَمَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَقَدْ بَانَتْ مِنْہُ بِتَطْلِیقَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৬৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٦٥) حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب عورت نے مرد کے ساتھ ایلاء کیا اور ایفاء نہ کیا اور چار مہینے گذر گئے تو عورت کو ایک طلاق بائنہ ہوگئی۔
(۱۸۸۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالاَ : إذَا آلَی فَلَمْ یَفِیئْ حَتَّی تَمْضِیَ الأَرْبَعَۃُ الأَشْہُرُ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৬৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٦٦) حضرت حبیب (رض) کہتے ہیں کہ امیر مکہ نے حضرت سعید (رض) سے ایلاء کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ حضرت ابن عباس (رض) فرمایا کرتے تھے کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو عورت اپنے معاملہ کی مالک ہوجاتی ہے اور حضرت ابن عمر (رض) بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
(۱۸۸۶۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ حَبِیبٍ قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدًا أَمِیرَ مَکَّۃَ عَنِ الإِیلاَئِ ؟ فَقَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَقُولُ : إذَا مَضَتْ أَرَبَعَۃُ أَشْہُرٍ مَلَکَتْ أَمْرَہَا ، وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَقُولُ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৬৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٦٧) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ طلاق کی عزیمت چار مہینوں کا گذر جانا ہے۔
(۱۸۸۶۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : عَزِیمَۃُ الطَّلاَقِ انْقِضَائُ الأَرْبَعَۃِ الأَشْہُرِ ، وَالْفَیْئُ الْجِمَاعُ۔ (بیہقی ۳۷۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৬৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٦٨) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔
(۱۸۸۶۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، وَیَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : إذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৬৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٦٩) حضرت قبیصہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔
(۱۸۸۶۹) حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَی، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ قَبِیصَۃَ قَالَ: إذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৬৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٧٠) حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت ابن حنفیہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔
(۱۸۸۷۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (ح) وَعَنِ سَالِم ، عَن ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالاَ : إذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৭০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٧١) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے، اور وہ مرد اس سے رجوع کرنے کا زیادہ حقد ار ہے۔
(۱۸۸۷۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : إذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ، وَہِیَ أَمْلَکُ بِنَفْسِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৭১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٧٢) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ جب ایلاء کہ چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے، حضرت شریح (رض) کو جب حضرت مسروق (رض) کے اس قول کی خبر دی گئی تو انھوں نے کہا کہ یہی درست ہے۔
(۱۸۸۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : إذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فِی الإِیلاَئِ کَانَتْ تَطْلِیقَۃً بَائِنَۃً ، فَأَخْبَرْتُ شُرَیْحًا بِقَوْلِ مَسْرُوقٍ ، فَقَالَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৭২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٧٣) حضرت حسن (رض) اور حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔
(۱۸۸۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَابْنِ سِیرِینَ قَالاَ : إذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৭৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٧٤) حضرت سعید بن مسیب (رض) اور حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن (رض) فرماتے ہیں کہ جب ایلاء میں چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے، اور وہ مرد عورت سے رجوع کرنے کا زیادہ حقدار ہے۔
(۱۸۸۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، وَأَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ ، قَالاَ : إذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فِی الإِیلاَئِ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ ، وَہُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৭৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٧٥) حضرت مکحول (رض) فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے، اور وہ مرد عورت سے رجوع کرنے کا زیادہ حقدار ہے۔
(۱۸۸۷۵) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ ، عَنْ مَکْحُولٍ قَالَ : إذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَہِیَ وَاحِدَۃٌ ، وَہُوَ أَمْلَکُ بِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৭৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٧٦) حضرت علقمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت انس (رض) کی اولاد میں ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا، وہ عورت چھ مہینے تک ٹھہری رہی، ایک مرتبہ وہ آدمی ایک مجلس میں بیٹھا تھا کہ اسے ایلاء یاد آگیا، وہ حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس گیا اور ان سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس عورت کو بتادو کہ وہ اپنے معاملے کی خود مالک بن گئی ہے، وہ آدمی اس کے پاس آیا اور اسے خبر دی، اس عورت نے کہا کہ میں تیری ہی بیوی ہوں اور آدمی نے اس عورت کو ایک رطل مہر دیا۔
(۱۸۸۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ : آلَی ابْنُ أَنَسٍ مِنَ امْرَأَتِہِ ، فَلَبِثَتْ سِتَّۃَ أَشْہُرٍ ، فَبَیْنَمَا ہُوَ جَالِسٌ فِی الْمَجْلِسِ إذْ ذکر ، فَأَتَی ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ : أَعْلِمْہَا أَنَّہَا قَدْ مَلَکَتْ أَمْرَہَا ، فَأَتَاہَا فَأَخْبَرَہَا ، فَقَالَتْ : فَأَنَا أَہْلُکَ ، وَأَصْدَقَہَا رِطْلاً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৭৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٧٧) حضرت جریر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ایوب (رض) کے پاس موجود حضرت ابوقلابہ (رض) کے خط میں پڑھا ہے کہ میں نے حضرت ابوسلمہ (رض) اور حضرت سالم (رض) سے ایلاء کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو ایک طلاق بائنہ ہوجاتی ہے۔
(۱۸۸۷۷) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ جَرِیرٍ ، قَالَ : قرَأْتُ فِی کِتَابِ أَبِی قِلاَبَۃَ عِنْدَ أَیُّوبَ : سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَۃَ ، وَسَالِمًا عَنِ الإِیلاَئِ ؟ فَقَالاَ : إذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৭৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
(١٨٨٧٨) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے، عدت میں اس کا خاوند اس عورت کو پیام نکاح بھجواسکتا ہے کوئی اور نہیں بھجوا سکتا۔
(۱۸۸۷۸) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : إذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ ، وَیَخْطُبُہَا زَوْجُہَا فِی عِدَّتِہَا ، وَلاَ یَخْطُبُہَا غَیْرُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৭৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ چار مہینے گذرنے کے بعد حکم ایلاء کرنے والے (مُولِی) پر موقوف ہوگا
(١٨٨٧٩) حضرت عمرو بن سلمہ بن حرب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) چار مہینے گذرنے کے بعد ایلاء کے حکم کو مُولِی پر موقوف رکھتے تھے کہ وہ خود بیان کرے کہ رجوع ہے یا طلاق ہے۔
(۱۸۸۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَۃَ بْنِ حَرْبٍ ؛ أَنَّ عَلِیًّا کَانَ یُوقِفُہُ بَعْدَ الأَرْبَعَۃِ حَتَّی یُبَیِّنَ رَجْعَۃً ، أَوْ طَلاَقًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৭৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ چار مہینے گذرنے کے بعد حکم ایلاء کرنے والے (مُولِی) پر موقوف ہوگا
(١٨٨٨٠) حضرت عبد الرحمن بن ابن ابی لیلیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ایلاء کے حکم کو مُولِی پر موقوف قرار دیا۔
(۱۸۸۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ؛ أَنَّ عَلِیًّا أَوْقَفَہُ۔
tahqiq

তাহকীক: