মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৮ টি
হাদীস নং: ১৮৯০০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب ایلاء میں چارمہینے گزرجائیں تو عورت پر عدت گزارنا ضروری ہے
(١٨٩٠١) حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت ابن حنفیہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب ایلاء میں چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے اور عورت پر تین حیض عدت گزارنا لازم ہوگا۔
(۱۸۹۰۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (ح) وَعَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالاَ : إذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فِی الإِیلاَئِ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ ، وَعَلَیْہَا أَنْ تَعْتَدَّ ثَلاَثَۃَ قُرُوئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯০১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب ایلاء میں چارمہینے گزرجائیں تو عورت پر عدت گزارنا ضروری ہے
(١٨٩٠٢) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب ایلاء میں چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے اور عورت پر تین حیض عدت گزارنا لازم ہوگا۔
(۱۸۹۰۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ بَذِیمَۃَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ : إذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ بَائِنٌ ، وَتَعْتَدُّ بَعْدَ ذَلِکَ ثَلاَثَ حِیَضٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯০২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب ایلاء میں چارمہینے گزرجائیں تو عورت پر عدت گزارنا ضروری ہے
(١٨٩٠٣) حضرت حسن (رض) اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ ایلاء کردہ عورت چار مہینے کے بعد مطلقہ والی عدت گزارے گی۔
(۱۸۹۰۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدٍ قَالاَ : تَعْتَدُّ بَعْدَ أَرْبَعَۃِ أَشْہُرٍ عِدَّۃَ الْمُطَلَّقَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯০৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب ایلاء میں چارمہینے گزرجائیں تو عورت پر عدت گزارنا ضروری ہے
(١٨٩٠٤) حضرت حکم (رض) اور حضرت حماد (رض) فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور چار مہینے گذر گئے تو اگر اسے حیض نہ آتا ہو تو وہ تین مہینے عدت گزارے گی۔
(۱۸۹۰۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ وَحَمَّادٍ قَالاَ : إذَا آلَی الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِہِ فَمَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ ، فَإِنَّہَا تَعْتَدُّ بَعْدَ ذَلِکَ ثَلاَثَۃَ أَشْہُرٍ ، إذَا کَانَتْ لاَ تَحِیضُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯০৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب ایلاء میں چارمہینے گزرجائیں تو عورت پر عدت گزارنا ضروری ہے
(١٨٩٠٥) حضرت مکحول (رض) فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور چار مہینے گذر گئے تو ایک طلاق ہوگئی اور وہ عدت نئے سرے سے گزارے گی۔
(۱۸۹۰۵) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ قَالَ : إذَا آلَی الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِہِ فَمَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ ، وَتَسْتَقْبِلُ الْعِدَّۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯০৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب ایلاء میں چارمہینے گزرجائیں تو عورت پر عدت گزارنا ضروری ہے
(١٨٩٠٦) حضرت جابر بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ اس پر عدت لازم نہیں ہے۔
(۱۸۹۰۶) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : لَیْسَ عَلَیْہَا عِدَّۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯০৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب ایلاء میں چارمہینے گزرجائیں تو عورت پر عدت گزارنا ضروری ہے
(١٨٩٠٧) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور چار مہینے گذر گئے تو وہ تین حیض عدت کے گزارے گی۔
(۱۸۹۰۷) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی رَجُلٍ آلَی مِنِ امْرَأَتِہِ حَتَّی مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ کَیْفَ تَعْتَدُّ ؟ قَالَ : تَعْتَدُّ ثَلاَثَۃَ قُرُوئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯০৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک چار مہینے سے کم کا ایلاء شرعی ایلاء نہیں ہے
(١٨٩٠٨) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایک مہینے، دو مہینے یا تین مہینے کا ایلاء کیا یعنی اتنا جو چار مہینے کی حد کو نہ پہنچے تو یہ ایلاء نہیں ہے۔
(۱۸۹۰۸) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إذَا آلَی مِنِ امْرَأَتِہِ شَہْرًا ، أَوْ شَہْرَیْنِ ، أَوْ ثَلاَثَۃً ، مَا لَمْ یَبْلُغِ الْحَدَّ فَلَیْسَ بِإِیلاَئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯০৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک چار مہینے سے کم کا ایلاء شرعی ایلاء نہیں ہے
(١٨٩٠٩) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے سے کم بیوی سے دور رہنے کی قسم کھائی تو یہ ایلاء نہیں ہے۔
(۱۸۹۰۹) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : إذَا حَلَفَ عَلَی دُونِ الأَرْبَعَۃِ فَلَیْسَ بِإِیلاَئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯০৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک چار مہینے سے کم کا ایلاء شرعی ایلاء نہیں ہے
(١٨٩١٠) حضرت طاؤس (رض) اور حضرت سعید بن جبیر (رض) فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے سے کم بیوی سے دور رہنے کی قسم کھائی تو یہ ایلاء نہیں ہے۔
(۱۸۹۱۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالاَ : إذَا حَلَفَ عَلَی دُونِ الأَرْبَعَۃِ فَلَیْسَ بِإِیلاَئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک چار مہینے سے کم کا ایلاء شرعی ایلاء نہیں ہے
(١٨٩١١) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے قسم کھائی کہ وہ تین ماہ تک بیوی کے قریب نہیں جائے گا اور اسے چھوڑے رکھا اور چار مہینے گذر گئے تو یہ ایلاء نہیں ہوگا۔
(۱۸۹۱۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ فِی رَجُلٍ حَلَفَ أَنْ لاَ یَقْرَبَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثَۃَ أَشْہُرٍ ، فَتَرَکَہَا حَتَّی مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ ، قَالَ : لاَ یَکُونُ مُولِیًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک چار مہینے سے کم کا ایلاء بھی شرعی ایلاء ہے
(١٨٩١٢) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ جس شخص نے دس دن کے لیے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اس پر ایلاء کا حکم نافذ ہوگا۔
(۱۸۹۱۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ وَبَرَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّ رَجُلاً آلَی مِنِ امْرَأَتِہِ عشرًا ، فَأَوْقَعَہُ عَلَیْہِ عَبْدُ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک چار مہینے سے کم کا ایلاء بھی شرعی ایلاء ہے
(١٨٩١٣) حضرت حسن (رض) اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے ایک مہینے تک کے لیے ایلاء کیا پھر چار مہینے گذر گئے تو ایک طلاق بائنہ پڑگئی۔
(۱۸۹۱۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدٍ قَالاَ : إذَا آلَی الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِہِ شَہْرًا ، ثُمَّ تَرَکَہَا حَتَّی تَمْضِیَ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ ، إنَّہَا تَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک چار مہینے سے کم کا ایلاء بھی شرعی ایلاء ہے
(١٨٩١٤) حضرت حماد (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ خدا کی قسم ! میں آج تیرے قریب نہیں آؤں گا اور پھر چار مہینے تک اسے چھوڑے رکھا تو یہ ایلاء ہے۔
(۱۸۹۱۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ قَالَ : إذَا قَالَ الرَّجُلُ لامْرَأَتِہِ : وَاللَّہِ لاَ أَقْرَبُک الْیَوْمَ ، فَتَرَکَہَا أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ فَہُوَ إیلاَئٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک چار مہینے سے کم کا ایلاء بھی شرعی ایلاء ہے
(١٨٩١٥) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر چار مہینے سے کم کی قسم کھائی تو بھی ایلاء ہوگیا۔
(۱۸۹۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : إذَا حَلَفَ عَلَی دُونِ أَرْبَعَۃٍ فَہُوَ مُولٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک چار مہینے سے کم کا ایلاء بھی شرعی ایلاء ہے
(١٨٩١٦) حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے قسم کھائی کہ وہ ایک ماہ تک اپنی بیوی کے قریب نہیں جائے گا تو وہ ایلاء کرنے والا ہے۔
(۱۸۹۱۶) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ فِی الرَّجُلِ یَحْلِفُ أَنْ لاَ یَقْرَبَ امْرَأَتَہُ شَہْرًا قَالَ : ہُوَ مُولٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ایلاء کرے پھر وہ اس قسم کو توڑنا چاہے لیکن کسی مرض یا عذر کی وجہ سے نہ توڑ سکے اور زبان سے ایلاء کی قسم کو توڑنے کا کہہ دے تو جن کے نزدیک یہ رجوع کے حکم میں ہے
(١٨٩١٧) حضرت ابو شعثائ (رض) کہتے ہیں کہ علاقے کے ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا پھر وہ عورت نفا س کا شکار ہوگئی تو میں نے اس بارے میں حضرت علقمہ، حضرت اسود اور حضرت مسروق (رض) سے سوال کیا، انھوں نے فرمایا کہ جب زبان سے قسم توڑنے کو کہہ دیا تو قسم ٹوٹ گئی۔
(۱۸۹۱۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِی الشَّعْثَائِ قَالَ : آلَی رَجُلٌ مِنَ الْحَیِّ فَنُفِسَتِ امْرَأَتُہُ قَالَ : فَسَأَلَت عَلْقَمَۃَ وَالأَسْوَدَ وَمَسْرُوقًا فَقَالُوا : إذَا فَائَ بِلِسَانِہِ فَقَدْ فَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ایلاء کرے پھر وہ اس قسم کو توڑنا چاہے لیکن کسی مرض یا عذر کی وجہ سے نہ توڑ سکے اور زبان سے ایلاء کی قسم کو توڑنے کا کہہ دے تو جن کے نزدیک یہ رجوع کے حکم میں ہے
(١٨٩١٨) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا، لیکن کسی مرض، مصروفیت یا عذر وغیرہ نے جماع سے روکے رکھا لیکن آدمی نے قسم سے رجوع پر گواہ بنالئے تو یہ کافی ہے۔
(۱۸۹۱۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : إذَا آلَی الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِہِ فَمَنَعَہُ مِنْ جِمَاعِہَا مَرَضٌ ، أَوْ شُغْلٌ ، أَوْ عُذْرٌ مِنْہُ ، أَوْ مِنْہَا ، وَأَشْہَدَ عَلَی فَیْئِہِ أَجْزَأَہُ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ایلاء کرے پھر وہ اس قسم کو توڑنا چاہے لیکن کسی مرض یا عذر کی وجہ سے نہ توڑ سکے اور زبان سے ایلاء کی قسم کو توڑنے کا کہہ دے تو جن کے نزدیک یہ رجوع کے حکم میں ہے
(١٨٩١٩) حضرت ابو قلابہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب کسی نے اپنی زبان سے رجوع کرلیا تو یہ رجوع ہے۔
(۱۸۹۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ قَالَ : إذَا رَاجَعَ بِلِسَانِہِ فَہِی رَجْعَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ایلاء کرے پھر وہ اس قسم کو توڑنا چاہے لیکن کسی مرض یا عذر کی وجہ سے نہ توڑ سکے اور زبان سے ایلاء کی قسم کو توڑنے کا کہہ دے تو جن کے نزدیک یہ رجوع کے حکم میں ہے
(١٨٩٢٠) حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے بیوی سے ایلاء کیا، پھر وہ بیمار ہوگیا یا بیوی سے دورسفر میں تھا یا بیوی حائضہ ہوگئی تو وہ رجوع پر کسی کو گواہ بنالے۔
(۱۸۹۲۰) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ فِی الْمُولِی : إذَا کَانَ مَرِیضًا ، أَوْ کَانَ مُسَافِرًا ، أَوْ کَانَتْ حَائِضًا أَشْہَدَ عَلَی فَیْئِہِ۔
তাহকীক: