মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৮ টি
হাদীস নং: ১৯১০০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جب باندی کو طلاق دی جائے تو وہ کتنی عدت گزارے گی ؟
(١٩١٠١) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ باندی کی عدت دو حیض ہے۔ اگر حیض نہ آتے ہوں تو وہ ڈیڑھ مہینہ کی عدت گزارے گی۔
(۱۹۱۰۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إِنْ کَانَتْ تَحِیضُ فَحَیْضَتَانِ ، وَإِنْ کَانَتْ ممن لاَ تَحِیضُ فَشَہْرٌ وَنِصْفٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১০১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جب باندی کو طلاق دی جائے تو وہ کتنی عدت گزارے گی ؟
(١٩١٠٢) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ باندی کی عدت دو حیض ہے۔ اگر حیض نہ آتے ہوں تو وہ ڈیڑھ مہینہ کی عدت گزارے گی۔
(۱۹۱۰۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : عِدَّۃُ الأَمَۃِ حَیْضَتَانِ إِنْ کَانَتْ تَحِیضُ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَحِیضُ فَشَہْرٌ وَنِصْفٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১০২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جب باندی کو طلاق دی جائے تو وہ کتنی عدت گزارے گی ؟
(١٩١٠٣) حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ اگر میں باندی کی عدت ایک حیض اور نصف مقرر کرنے کی طاقت رکھتا تو ضرور ایسا کردیتا۔ ایک آدمی نے ان سے کہا کہ اگر آپ ان کی عدت ڈیڑھ مہینہ مقرر کردیں تو زیادہ بہتر ہے۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے سکوت اختیار فرمالیا۔
(۱۹۱۰۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرِو سَمع عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ یَقُولُ : أَخْبَرَنِی رَجُلٌ مِنْ ثَقِیفٍ یَقُولُ : سَمِعْت عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُولُ : لَوِ اسْتَطَعْت أَنْ أَجْعَلَ عِدَّۃَ الأَمَۃِ حَیْضَۃً وَنِصْفًا فَعَلْت فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : لَوْ جَعَلْتہَا شَہْرًا وَنِصْفًا فَسَکَتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১০৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جب باندی کو طلاق دی جائے تو وہ کتنی عدت گزارے گی ؟
(١٩١٠٤) حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ باندی کی عدت دو حیض ہے۔ اگر حیض نہ آتے ہوں تو وہ ڈیڑھ مہینہ کی عدت گزارے گی۔
(۱۹۱۰۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : عِدَّۃُ الأَمَۃِ حَیْضَتَانِ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَحِیضُ فَشَہْرَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১০৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جب باندی کو طلاق دی جائے تو وہ کتنی عدت گزارے گی ؟
(١٩١٠٥) حضرت ضحاک (رض) فرماتے ہیں کہ ایسی باندی جو قریب البلوغ ہو اور اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت پینتالیس دن ہیں۔ اگر اسے حیض آتا ہو تو اس کی عدت ایک حیض ہے۔
(۱۹۱۰۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ جُوَیْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ فِی الأَمَۃِ الَّتِی لَمْ تَحِضْ وَقَدْ رَاہَقَتْ : عِدَّتُہَا خَمْسَۃٌ وَأَرْبَعُونَ یَوْمًا فَإِنْ کَانَتْ تَحِیضُ فَعِدَّتُہَا حَیْضَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১০৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جب باندی کو طلاق دی جائے تو وہ کتنی عدت گزارے گی ؟
(١٩١٠٦) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر باندی کو حیض آتا ہو تو اس کی عدت دو حیض ہیں اور اگر اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت پینتالیس دن ہیں۔
(۱۹۱۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی عِدَّۃِ الأَمَۃِ قَالَ : إِنْ کَانَتْ تَحِیضُ فَحَیْضَتَانِ ، وَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَحِیضُ فَعِدَّتُہَا خَمْسَۃٌ وَأَرْبَعُونَ یَوْمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১০৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جب باندی کو طلاق دی جائے تو وہ کتنی عدت گزارے گی ؟
(١٩١٠٧) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ باندی کی عدت آزاد عورت کی عدت کا نصف ہے۔
(۱۹۱۰۷) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : عِدَّۃُ الأَمَۃِ مِثْلُ نِصْفِ عِدَّۃِ الْحُرَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১০৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو آزاد کردے تو کیا اس پر عدت واجب ہوگی ؟
(١٩١٠٨) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ وہ باندی جس سے جماع کیا گیا ہو اگر اسے بیچ دیا جائے یا ہبہ میں دے دیا جائے یا آزاد کردیا جائے تو وہ ایک حیض عدت گزارے گی۔
(۱۹۱۰۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِی الأَمَۃِ الَّتِی تُوطَأُ : إذَا بِیعَتْ ، أَوْ وُہِبَتْ ، أَوْ أُعْتِقَتْ فَلْتُسْتَبْرَأْ بِحَیْضَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১০৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو آزاد کردے تو کیا اس پر عدت واجب ہوگی ؟
(١٩١٠٩) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ جب باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت تین حیض ہے۔
(۱۹۱۰۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی الأَمَۃِ إذَا أُعْتِقَتْ قَالَ : عِدَّتُہَا ثَلاَثُ حِیَضٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১০৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو آزاد کردے تو کیا اس پر عدت واجب ہوگی ؟
(١٩١١٠) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت تین حیض ہے۔
(۱۹۱۱۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَلِیٍّ فِی الأَمَۃِ إذَا أُعْتِقَتْ قَالَ: تَعْتَدُّ ثَلاَثَۃَ قُرُوئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১১০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو آزاد کردے تو کیا اس پر عدت واجب ہوگی ؟
(١٩١١١) حضرت مکحول (رض) فرماتے ہیں کہ جب باندی کو آزاد کیا جائے تو وہ دو حیض عدت گزارے گی۔ حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ وہ تین حیض عدت گزارے گی۔
(۱۹۱۱۱) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ قَالَ : الأَمَۃُ إذَا أُعْتِقَتِ اعْتَدَّتْ بِحَیْضَتَیْنِ ، وَقَالَ الزُّہْرِیُّ : ثَلاَثَۃَ قُرُوئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১১১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو آزاد کردے تو کیا اس پر عدت واجب ہوگی ؟
(١٩١١٢) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ جب باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت تین حیض ہے۔
(۱۹۱۱۲) حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : تَعْتَدُّ ثَلاَثَ حِیَضٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১১২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی باندی کو آزاد کیا جائے اور اس کا خاوند ہو تو وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو عدت کا کیا حکم ہوگا ؟
(١٩١١٣) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بریرہ (رض) کو حکم دیا کہ وہ آزاد عورتوں والی عدت گزاریں۔
(۱۹۱۱۳) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بَرِیرَۃَ أَنْ تَعْتَدَّ عِدَّۃَ الْحُرَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১১৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی باندی کو آزاد کیا جائے اور اس کا خاوند ہو تو وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو عدت کا کیا حکم ہوگا ؟
(١٩١١٤) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت بریرہ (رض) کو آزاد کیا گیا تو انھوں نے آزاد عورت والی عدت گزاری۔
(۱۹۱۱۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ أَنَّ بَرِیرَۃَ اعْتَدَّتْ عِدَّۃَ الْحُرَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১১৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی باندی کو آزاد کیا جائے اور اس کا خاوند ہو تو وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو عدت کا کیا حکم ہوگا ؟
(١٩١١٥) حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت بریرہ (رض) کو آزاد کیا گیا تو انھوں نے آزاد عورت والی عدت گزاری۔
(۱۹۱۱۵) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ بَرِیرَۃُ أُعْتِقَتْ فَاعْتَدَّتْ عِدَّۃَ الْحُرَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১১৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اسے ایک طلاق دے دے پھر اس باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہے ؟
(١٩١١٦) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی باندی کو دو طلاقیں دی جائیں اور پھر اسے عدت کے پورا ہونے سے پہلے آزادی مل جائے تو باندی والی عدت گزارے گی۔
(۱۹۱۱۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی الأَمَۃِ طَلُقَتْ تَطْلِیقَتَیْنِ لَمْ یُدْرِکْہَا عَتَاقُہُ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِیَ قَالَ : تَعْتَدُّ عِدَّۃَ الأَمَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১১৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اسے ایک طلاق دے دے پھر اس باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہے ؟
(١٩١١٧) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ جب کسی باندی کو ایک طلاق دی جائے اور پھر اس کو عدت کے پورا ہونے سے پہلے آزادی مل جائے تو وہ آزاد عورت والی عدت گزارے گی۔ اگر اسے دو طلاقیں دی جائیں اور پھر اسے آزادی مل جائے تو وہ باندی والی عدت گزارے گی۔ یہی حکم اس باندی کا ہے جس کا خاوند مرجائے۔ اور پھر اسے آزادی بھی مل جائے۔
(۱۹۱۱۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : إذَا طُلِّقَتْ تَطْلِیقَۃً ، ثُمَّ أَدْرَکَہَا عَتَاقُہُ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا اعْتَدَّتْ عِدَّۃَ الْحُرَّۃِ وَإِذَا طَلُقَتْ تَطْلِیقَتَیْنِ ، ثُمَّ أَدْرَکَتہَا عَتَاقُہُ اعْتَدَّتْ عِدَّۃَ الأَمَۃِ لَمَّا بَانَتْ مِنْہُ ، وَالْمُتَوَفَّی عَنْہَا کَذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১১৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اسے ایک طلاق دے دے پھر اس باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہے ؟
(١٩١١٨) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے اپنی ایسی بیوی کو جو کہ باندی تھی ایک طلاق دے دی، پھر عدت کے دوران اسے آزاد بھی کردیا گیا تو وہ آزاد عورت والی عدت گزارے گی۔ اور جب اس کو دو طلاقیں دیں اور پھر وہ آزاد کردی گئی تو وہ اس وقت تک اس سے شادی نہیں کرسکتا جب تک وہ کسی اور سے شادی نہ کرلے۔ اس کی عدت باندی والی عدت ہوگی۔
(۱۹۱۱۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ قَالَ : إذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ وَہِیَ أَمَۃٌ تَطْلِیقَۃً ، ثُمَّ أُعْتِقَتْ فِی الْعِدَّۃِ فَعِدَّتُہَا عِدَّۃُ حُرَّۃٍ وَإِذَا طَلَّقَہَا تَطْلِیقَتَیْنِ ، ثُمَّ أُعْتِقَتْ قَالَ : لاَ یَتَزَوَّجُہَا حَتَّی تَزَوَّجَ زَوْجًا غَیْرَہُ ، وَعِدَّتُہَا عِدَّۃُ أَمَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১১৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اسے ایک طلاق دے دے پھر اس باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہے ؟
(١٩١١٩) حضرت ضحاک (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک باندی کو دو طلاقیں دی گئیں۔ پھر اسے اس کی عدت میں آزاد کردیا گیا تو وہ دو حیض عدت گزارے گی۔ اگر اسے ایک طلاق دی گئی اور اسے اس کی عدت میں آزاد کردیا گیا تو وہ تین حیض عدت گزارے گی اور اس کا خاوند اس کا زیادہ حقدار ہوگا۔
(۱۹۱۱۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ ، عَنِ الضَّحَّاکِ فِی الأَمَۃِ إذَا طُلِّقَتْ تَطْلِیقَتَیْنِ ، ثُمَّ أُعْتِقَتْ فِی عِدَّتِہَا قَالَ : تَعْتَدُّ حَیْضَتَیْنِ ، وَإِنْ طَلُقَتْ وَاحِدَۃً فَأُعْتِقَتْ فِی عِدَّتِہَا قَالَ : تَعْتَدُّ ثَلاَثَ حِیَضٍ وَزَوْجُہَا أَحَقُّ بِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১১৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اسے ایک طلاق دے دے پھر اس باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہے ؟
(١٩١٢٠) حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ اس کی عدت آزاد عورت والی عدت ہوگی۔
(۱۹۱۲۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ : عِدَّتُہَا عِدَّۃُ الْحُرَّۃِ۔
তাহকীক: