মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৮ টি

হাদীস নং: ১৯১২০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اسے ایک طلاق دے دے پھر اس باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہے ؟
(١٩١٢١) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی باندی کو دو طلاقیں دی گئیں پھر اسے آزاد کردیا گیا تو اس کی عدت باندی والی عدت ہوگی اور اگر اسے ایک طلاق دینے کے بعد آزاد کیا گیا تو اس کی عدت آزاد عورت والی عدت ہوگی۔
(۱۹۱۲۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ قَالَ: حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ : إذَا طُلِّقَتِ الأَمَۃُ تَطْلِیقَتَیْنِ، ثُمَّ أُعْتِقَتْ عِنْدَ ذَلِکَ فَعِدَّتُہَا عِدَّۃُ الأَمَۃِ ، وَإِذَا طُلِّقَتْ وَاحِدَۃً ، ثُمَّ أُعْتِقَتْ عِنْدَ ذَلِکَ فَعِدَّتُہَا عِدَّۃُ الْحُرَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১২১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص کے نکاح میں باندی ہو اور وہ آدمی مرجائے اور اس کی موت کے بعد باندی کو بھی آزاد کردیا جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٩١٢٢) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی باندی کا خاوند انتقال کرجائے اور پھر اسے آزاد بھی کردیا جائے تو وہ باندی والی عدت گذارے گی۔
(۱۹۱۲۲) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی امْرَأَۃٍ مَاتَ عَنْہَا زَوْجُہَا ، ثُمَّ أُعْتِقَتْ قَالَ : تَمْضِی عَلَی عِدَّۃِ الأَمَۃِ وَلَیْسَ لَہَا إلاَّ عِدَّۃُ الأَمَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১২২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص کے نکاح میں باندی ہو اور وہ آدمی مرجائے اور اس کی موت کے بعد باندی کو بھی آزاد کردیا جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٩١٢٣) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی باندی کا خاوند انتقال کرجائے اور پھرا سے آزاد بھی کردیا جائے اور وہ عدت میں ہو تو وہ چار مہینے دس دن پورے کرے گی۔
(۱۹۱۲۳) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ زُرْعَۃَ ، عَنِ ابْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : إذَا تُوُفِّیَ عَنْہَا زَوْجُہَا وَہِیَ مَمْلُوکَۃٌ فَأَدْرَکَہَا الْعِتْقُ وَہِیَ فِی عِدَّتِہَا فتتم أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১২৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت اپنی عدت میں شادی کرلے اور پھر میاں بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو وہ کس عدت کو پہلے گزارے گی ؟
(١٩١٢٤) حضرت صالح بن مسلم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اور پھر عدت میں کوئی دوسرا آدمی اس سے شادی کرلے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔ اور وہ دوسرے خاوند سے نئے سرے سے عدت شروع کرے گی اور اس کا مہر بیت المال سے دیا جائے گا۔ دوسرا خاوند تو اس سے کبھی شادی نہیں کرسکتا اور پہلا خاوند پیام نکاح بھیج سکتا ہے۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی۔ وہ پہلی عدت کو پورا کرے گی اور اس خاوند سے نئی عدت گزارے گی۔ وہ آدمی ہی اس کا مہر دے گا اور وہ دونوں اسے پیام نکاح بھجوا سکتے ہیں۔
(۱۹۱۲۴) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ : قُلْتُ لِلشَّعْبِیِّ : رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ فَجَائَ آخَرُ فَتَزَوَّجَہَا ؟ قَالَ عُمَرُ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا وَتُکْمِلُ عِدَّتَہَا الأُولَی ، وَتأْتنِف مِنْ ہَذَا عِدَّۃً جَدِیدَۃً وَیُجْعَلُ الصَّدَاقُ فِی بَیْتِ الْمَالِ وَلاَ یَتَزَوَّجُہَا الثَّانِی أَبَدًا ، وَیَصِیرُ الأَوَّلُ خَاطِبًا ، وَقَالَ عَلِیٌّ : یُفَرَّقُ بَیْنَہَا وَبَیْنَ زَوْجِہَا ، وَتُکْمِلُ عِدَّتَہَا الأُولَی ، وَتَعْتَدُّ مِنْ ہَذَا عِدَّۃً جَدِیدَۃً ، وَیُجْعَلُ لَہَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا ، وَیَصِیرَانِ کِلاَہُمَا خَاطِبَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১২৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت اپنی عدت میں شادی کرلے اور پھر میاں بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو وہ کس عدت کو پہلے گزارے گی ؟
(١٩١٢٥) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص عدت میں شادی کرلے اور پھر میاں بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو تین حیضوں سے نئے سرے سے عدت پوری کرے گی اور باقی ماندہ عدت کو پہلے حیض سے شروع کرے گی۔ اور حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ وہ پہلے خاوند کی باقی ماندہ عدت کو پورا کرے گی اور پھر نئے سرے سے تین حیض پورے کرے گی۔
(۱۹۱۲۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ وَالشَّعْبِیِّ فِی امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ فِی عِدَّتِہَا قَالَ الشَّعْبِیُّ : تَسْتَأْنِفُ ثَلاَثَۃَ قُرُوئٍ وَتُکْمِلُ مَا بَقِیَ عَلَیْہَا مِنَ الأَوَّلِ ، وَقَالَ إبْرَاہِیمُ : تُکْمِلُ مَا بَقِیَ مِنَ الأَوَّلِ وَتَسْتَأْنِفُ ثَلاَثَۃَ قُرُوئٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১২৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت اپنی عدت میں شادی کرلے اور پھر میاں بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو وہ کس عدت کو پہلے گزارے گی ؟
(١٩١٢٦) حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔ عورت پہلی عدت کو پورا کرے گی پھر دوسرے پانی کی عدت شروع کرے گی۔ اس کو دوسرے خاوند سے مہر بھی ملے گا۔ جب عدت پوری ہوجائے تو چاہے تو اس دوسرے مرد سے شادی کرلے اور چاہے تو کسی اور سے شادی کرلے۔
(۱۹۱۲۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی غَنِیَّۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الْحَکَمِ قَالَ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا وَتُکْمِلُ عِدَّتَہَا مِنَ الأَوَّلِ ، وَتَعْتَدُّ مِنْ مَائِ الآخَرِ ، وَیَکُونُ لَہَا الْمَہْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا فَلْتَزَوَّجْہُ ، أَوْ غَیْرَہُ إِنْ شَائَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১২৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک عورت کا کوئی خاوند ہو اور اس عورت کے پیٹ میں کسی اور کا بچہ ہو اور وہ بچہ مر جائے تو جن حضرات کے نزدیک مرد اس وقت تک عورت کے قریب نہیں آسکتا جب تک اسے حیض نہ آجائے
(١٩١٢٧) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک عورت کا کوئی خاوند ہو اور اس عورت کے پیٹ میں کسی اور کا بچہ ہو تو مرد اس وقت تک عورت کے قریب نہیں آسکتا جب تک اس کے پیٹ کے بچے کی صورت حال واضح نہ ہوجائے یا جب تک اسے حیض نہ آجائے۔
(۱۹۱۲۷) حَدَّثَنَا عبد اللہ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ خِلاَسٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ فِی الرَّجُلِ یَتَزَوَّجُ الأَمَۃَ وَلَہَا وَلَدٌ مِنْ غَیْرِہِ فَیَمُوتُ قَالَ : لاَ یَقْرَبُہَا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَہُ مَا فِی بَطْنِہَا ، أَوْ تَحِیضَ حَیْضَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১২৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک عورت کا کوئی خاوند ہو اور اس عورت کے پیٹ میں کسی اور کا بچہ ہو اور وہ بچہ مر جائے تو جن حضرات کے نزدیک مرد اس وقت تک عورت کے قریب نہیں آسکتا جب تک اسے حیض نہ آجائے
(١٩١٢٨) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اس وقت تک اس کے قریب نہ جائے جب تک یہ بات واضح نہ ہوجائے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں ہے۔
(۱۹۱۲۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ عُمَرَ قَالَ : لاَ یَقْرَبُہَا حَتَّی یَنْظُرَ ہل بہا حَبْلٌ ، أَوْ لاَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১২৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک عورت کا کوئی خاوند ہو اور اس عورت کے پیٹ میں کسی اور کا بچہ ہو اور وہ بچہ مر جائے تو جن حضرات کے نزدیک مرد اس وقت تک عورت کے قریب نہیں آسکتا جب تک اسے حیض نہ آجائے
(١٩١٢٩) حضرت حسن بن علی (رض) فرماتے ہیں کہ وہ اس وقت تک اس کے قریب نہ جائے جب تک وہ عدت نہ گزار لے یا اسے حیض نہ آجائے۔
(۱۹۱۲۹) حَدَّثَنَا یحیی بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ حَسَّانِ بْنِ الْمُخَارِقِ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ قَالَ : لاَ یَقْرَبُہَا حَتَّی تَعْتَدَّ ، أَوْ قَالَ : حَتَّی تَحِیضَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১২৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک عورت کا کوئی خاوند ہو اور اس عورت کے پیٹ میں کسی اور کا بچہ ہو اور وہ بچہ مر جائے تو جن حضرات کے نزدیک مرد اس وقت تک عورت کے قریب نہیں آسکتا جب تک اسے حیض نہ آجائے
(١٩١٣٠) حضرت حسن بن علی (رض) نے ایک جنازہ پڑھایا اور پھر خاوند سے فرمایا (جب کہ عورت کا کسی دوسرے مرد سے بچہ تھا) تیرے لیے یہ بات درست نہیں کہ تو کسی دوسرے کے حصے پر قبضہ جمائے۔
(۱۹۱۳۰) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ صَلَّی عَلَی جِنَازَۃٍ فَقَالَ لِلزَّوْجِ وَلِلْمَرْأَۃِ وَلَدٌ مِنْ غَیْرِہِ : لَیْسَ لَکَ أَنْ تَسْتَلْحِقَ سَہْمًا لَیْسَ لَک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৩০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک عورت کا کوئی خاوند ہو اور اس عورت کے پیٹ میں کسی اور کا بچہ ہو اور وہ بچہ مر جائے تو جن حضرات کے نزدیک مرد اس وقت تک عورت کے قریب نہیں آسکتا جب تک اسے حیض نہ آجائے
(١٩١٣١) حضرت ابراہیم (رض) اور حضرت عمارہ (رض) فرماتے ہیں کہ وہ اس وقت تک اس کے قریب نہ جائے جب تک حمل کا ہونا اور نہ ہونا ظاہر نہ ہوجائے۔
(۱۹۱۳۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ وَعُمَارَۃَ قَالاَ : لاَ یَقْرَبُہَا حَتَّی یبین حَمْلٌ أَمْ لاَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৩১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک عورت کا کوئی خاوند ہو اور اس عورت کے پیٹ میں کسی اور کا بچہ ہو اور وہ بچہ مر جائے تو جن حضرات کے نزدیک مرد اس وقت تک عورت کے قریب نہیں آسکتا جب تک اسے حیض نہ آجائے
(١٩١٣٢) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ وہ اس وقت تک اس کے قریب نہ جائے جب تک اسے حیض نہ آجائے۔
(۱۹۱۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : لاَ یَقْرَبُہَا حَتَّی تَحِیضَ حَیْضَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৩২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر نامرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو کیا عورت عدت گزارے گی ؟
(١٩١٣٣) حضرت سعید (رض) اور حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے نامرد کو ایک سال کی مہلت دی کہ اگر وہ جماع کی طاقت رکھے تو ٹھیک ورنہ میاں بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے گی اور عورت پر عدت لازم ہوگی۔
(۱۹۱۳۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، وَالْحَسَنِ قَالاَ : أَجَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْعِنِّینَ سَنَۃً فَإِنِ اسْتَطَاعَہَا وَإِلاَّ فَرَّقَ بَیْنَہُمَا وَعَلَیْہَا الْعِدَّۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৩৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر نامرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو کیا عورت عدت گزارے گی ؟
(١٩١٣٤) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ جب مہلت کو ایک سال گزر جائے تو عورت مطلقہ والی عدت گزارے گی خواہ نامرد نے طلاق نہ دی ہو۔
(۱۹۱۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : إذَا مَضَتِ السَّنَۃُ اعْتَدَّتْ بَعْدَ السَّنَۃِ عِدَّۃَ الْمُطَلَّقَۃِ ، وَإِنْ لَمْ یُطَلِّقْہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৩৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر نامرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو کیا عورت عدت گزارے گی ؟
(١٩١٣٥) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ جب نامرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو اس پر عدت لازم ہوگی۔
(۱۹۱۳۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی امْرَأَۃِ الْعِنِّینِ قَالَ : عَلَیْہَا الْعِدَّۃُ إذَا فُرِّقَ بَیْنَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৩৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر نامرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو کیا عورت عدت گزارے گی ؟
(١٩١٣٦) حضرت عروہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب نامرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو اس پر عدت لازم ہوگی۔
(۱۹۱۳۶) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بن عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : عَلَیْہَا الْعِدَّۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৩৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا مرتد کی بیوی پر عدت لازم ہوگی ؟
(١٩١٣٧) حضرت موسیٰ بن ابی کثیر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب (رض) سے پوچھا کہ مرتدشخص کی بیوی کتنی عدت گزارے گی ؟ انھوں نے فرمایا کہ تین حیض۔ میں نے پوچھا اگر اسے قتل کردیا جائے تو ؟ فرمایا چار مہینے دس دن۔
(۱۹۱۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ أَبِی الصَّبَّاحِ قَالَ : قُلْتُ لِسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : کَمْ تَعْتَدُّ امْرَأَتُہُ ؟ یَعْنِی الْمُرْتَدَّ ، قَالَ : ثَلاَثَۃَ قُرُوئٍ ، قُلْتُ : فَإِنْ قُتِلَ ؟ قَالَ : أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৩৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا مرتد کی بیوی پر عدت لازم ہوگی ؟
(١٩١٣٨) حضرت شعبی (رض) اور حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان مرتد ہو کر کافروں کی سرزمین میں چلا جائے تو اس کی بیوی کو اگر حیض آتا ہو تو تین حیض عدت گزارے گی اور اگر حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے۔ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ پھر وہ چاہے تو شادی کرسکتی ہے۔ اگر اس کا خاوند عدت پوری ہونے سے پہلے واپس آجائے اور توبہ کرلے تو ان کا نکاح باقی رہے گا۔
(۱۹۱۳۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ وَالْحَکَمِ قَالاَ : ؛ فِی الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ یَرْتَدُّ ، عَنِ الإِسْلاَمِ وَیَلْحَقُ بِأَرْضِ الْعَدُوِّ قَالاَ : تَعْتَدُّ امرأتہ ثَلاَثَۃَ قُرُوئٍ إِنْ کَانَتْ تَحِیضُ ، وَإِنْ کَانَتْ لاَ تَحِیضُ فَثَلاَثَۃَ أَشْہُرٍ ، وَإِنْ کَانَتْ حَامِلاً أن َتَضَعُ حَمْلَہَا ، ثُمَّ تَزَوَّجُ إِنْ شَائَتْ ، وَإِنْ ہُوَ رَجَعَ فَتَابَ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا یَثْبُتَانِ عَلَی نِکَاحِہِمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৩৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا مرتد کی بیوی پر عدت لازم ہوگی ؟
(١٩١٣٩) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مرتد ہوجائے تو اس کی بیوی کو ایک طلاق بائنہ ہوجائے گی۔ اس کے پاس بیوی سے رجوع کرنے کا حق نہیں ہوگا اور عورت مطلقہ والی عدت گزارے گی۔
(۱۹۱۳۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إذَا ارْتَدَّ الرَّجُلُ ، عَنِ الإِسْلاَمِ فَقَدْ بَانَتْ مِنْہُ امْرَأَتُہُ بِتَطْلِیقَۃٍ بَائِنَۃٍ وَلَیْسَ عَلَیْہَا سَبِیلٌ إِنْ رَجَعَ وَتَعْتَدُّ عِدَّۃَ الْمُطَلَّقَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৩৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا مرتد کی بیوی پر عدت لازم ہوگی ؟
(١٩١٤٠) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ جب تک عورت عدت میں ہے وہ اس کا زیادہ حق دار ہوگا اگر عدت میں وہ رجوع کرلے تو وہ اسی کی بیوی رہے گی۔ حضرت ابو معشر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) نے یہی بات حضرت عبد الحمید بن عبدالرحمن کی طرف مرتد کے بارے میں لکھی تھی۔
(۱۹۱۴۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : ہُوَ أَحَقُّ بہا مَا دَامَتْ فِی الْعِدَّۃِ، إِنْ رَجَعَ وَہِیَ فِی عِدَّتِہَا فَہِیَ امْرَأَتُہُ ، قَالَ أَبُو مَعْشَرٍ : فَکَتَبَ بِذَلِکَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ إلَی عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِی الْمُرْتَدِّ۔
tahqiq

তাহকীক: