মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৮ টি

হাদীস নং: ১৯১৪০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ذمیہ عورت کو طلاق ہوجائے یا اس کا خاوند مرجائے اور وہ عدت میں مسلمان ہوجائے تو کتنی عدت گزارے گی ؟
(١٩١٤١) حضرت زیاد بن عبدالرحمن (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی (رض) سے سوال کیا کہ اگر ذمیہ عورت کو طلاق ہوجائے یا اس کا خاوند مرجائے اور وہ عدت میں مسلمان ہوجائے تو کتنی عدت گزارے گی ؟ انھوں نے فرمایا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اس پر مسلمان عورتوں کے احکام لاگو ہوں گے۔
(۱۹۱۴۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ زِیَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : سَأَلْتُ الشَّعْبِیَّ ، عَنِ امْرَأَۃٍ ذِمِّیَّۃٍ طُلِّقَتْ فَأَسْلَمَتْ فِی عِدَّتِہَا ، قَالَ : إذَا أَسْلَمَتْ فِی عِدَّتِہَا لَزِمَہَا مَا لَزِمَ الْمُسْلِمَاتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৪১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ذمیہ عورت کو طلاق ہوجائے یا اس کا خاوند مرجائے اور وہ عدت میں مسلمان ہوجائے تو کتنی عدت گزارے گی ؟
(١٩١٤٢) حضرت ابو حرہ (رض) کہتے ہیں کہ حضرت حسن (رض) سوال کیا گیا کہ اگر کوئی نصرانی عورت جو کہ ایک نصرانی کے نکاح میں تھی۔ اگر اسلام قبول کرتی ہے تو کیا ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی ؟ انھوں نے فرمایا کہ ہاں اس پر عدت لازم ہوگی، تین حیض یاتین مہینے۔
(۱۹۱۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ أَبِی حُرَّۃَ قَالَ : سُئِلَ الْحَسَنُ ، عَنْ نَصْرَانِیَّۃٍ تحت نَصْرَانِیٍّ فَأَسْلَمَتْ یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : عَلَیْہَا عِدَّۃٌ قَالَ : نَعَمْ ، عَلَیْہَا عِدَّۃُ ثَلاَثِ حِیَضٍ ، أَوْ ثَلاَثَۃِ أَشْہُرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৪২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر ذمیہ عورت کو طلاق ہوجائے یا اس کا خاوند مرجائے اور وہ عدت میں مسلمان ہوجائے تو کتنی عدت گزارے گی ؟
(١٩١٤٣) حضرت عطائ (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی عورت کا عیسائی خاوند مرجائے اور عورت اسلام قبول کرلے تو وہ کتنی عدت گزارے گی ؟ انھوں نے فرمایا کہ چار مہینے اور دس دن۔
(۱۹۱۴۳) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ قَالَ : سُئِلَ عَطَائٌ ، عَنِ الْمَرْأَۃِ یَمُوتُ زَوْجُہَا وَہو نَصْرَانِیّ ، ثُمَّ تُسْلِمُ کَمْ تَعْتَدُّ ؟ قَالَ : أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৪৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک عیسائی اور یہودی عورت کی طلاق مسلمان عورت کی طلاق کی طرح ہے اور ان کی عدت بھی مسلمان عورت کی طرح ہے
(١٩١٤٤) حضرت حسن (رض) فرمایا کرتے تھے کہ عیسائی اور یہودی عورت کی طلاق مسلمان عورت کی طلاق کی طرح ہے اور ان کی عدت بھی آزاد مسلمان عورت کی طرح ہے۔
(۱۹۱۴۴) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : طَلاَقُ الْیَہُودِیَّۃِ وَالنَّصْرَانِیَّۃ طَلاَقُ الْمُسْلِمَۃِ وَعِدَّتُہُمَا عِدَّۃُ الْحُرَّۃِ الْمُسْلِمَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৪৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک عیسائی اور یہودی عورت کی طلاق مسلمان عورت کی طلاق کی طرح ہے اور ان کی عدت بھی مسلمان عورت کی طرح ہے
(١٩١٤٥) حضرت سعید بن مسیب (رض) اور حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے مسلمان عورت کے ہوتے ہوئے کسی یہودی یاعیسائی عورت سے شادی کی تو ان کے درمیان برابری سے کام لے۔ ان کی طلاق اور عدت بھی آزاد مسلمان عورت کی طرح ہوگی۔
(۱۹۱۴۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، وَالْحَسَنِ فِیمَنْ تَزَوَّجَ الْیَہُودِیَّۃَ ، أَوِ النَّصْرَانِیَّۃَ عَلَی الْمُسْلِمَۃِ قَالَ : یَقْسِمُ بَیْنَہُمَا سَوَائً وَطَلاَقُہَا طَلاَقُ حُرَّۃٍ وَعِدَّتُہَا کَذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৪৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک عیسائی اور یہودی عورت کی طلاق مسلمان عورت کی طلاق کی طرح ہے اور ان کی عدت بھی مسلمان عورت کی طرح ہے
(١٩١٤٦) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ عیسائی اور یہودی عورت کی طلاق مسلمان عورت کی طلاق کی طرح ہے اور ان کی عدت بھی آزاد مسلمان عورت کی طرح ہے۔ اور ان کے درمیان تقسیم بھی آزاد عورت کی طرح کرے گا۔
(۱۹۱۴۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : طَلاَقُ الْیَہُودِیَّۃِ وَالنَّصْرَانِیَّۃ طَلاَقُ الْحُرَّۃِ وَعِدَّتُہُمَا عِدَّۃُ الْحُرَّۃِ وَیَقْسِمُ لَہُمَا کَمَا یَقْسِمُ لِلْحُرَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৪৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک عیسائی اور یہودی عورت کی طلاق مسلمان عورت کی طلاق کی طرح ہے اور ان کی عدت بھی مسلمان عورت کی طرح ہے
(١٩١٤٧) حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ نصرانیہ کی عدت مسلمان عورت کی طرح ہے اور ان کے درمیان تقسیم بھی برابر ہوگی۔
(۱۹۱۴۷) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : عِدَّۃُ النَّصْرَانِیَّۃِ مِثْلُ عِدَّۃِ الْمُسْلِمَۃِ وَقِسْمَتُہُمَا سَوَائٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৪৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک عیسائی اور یہودی عورت کی طلاق مسلمان عورت کی طلاق کی طرح ہے اور ان کی عدت بھی مسلمان عورت کی طرح ہے
(١٩١٤٨) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ وہ آدمی جو مسلمان، یہودیہ اور عیسائیہ عورت سے شادی کرے تو مال اور جان میں ان کے درمیان برابری کرے گا۔
(۱۹۱۴۸) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یَتَزَوَّجُ الْمُسْلِمَۃَ وَالْیَہُودِیَّۃَ ، أَوِ النَّصْرَانِیَّۃَ قَالَ : یُسَوِّی بَیْنَہُمَا فی الْقَسم مِنْ مَالِہِ وَنَفْسِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৪৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک عیسائی اور یہودی عورت کی طلاق مسلمان عورت کی طلاق کی طرح ہے اور ان کی عدت بھی مسلمان عورت کی طرح ہے
(١٩١٤٩) حضرت شعبہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم (رض) اور حضرت حماد (رض) سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص کسی عیسائی عورت سے شادی کرے تو (مسلمان عورت کے ہوتے ہوئے ان دونوں میں برابری اور تقسیم کا) کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ دونوں کے درمیان تقسیم میں برابری کرے گا۔
(۱۹۱۴۹) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ وَحَمَّادًا عَنِ الرَّجُلِ یَتَزَوَّجُ النَّصْرَانِیَّۃَ فَقَالاَ : قِسْمَتُہُمَا سَوَائٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৪৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اس کے پیٹ میں دو بچے ہوں، وہ ایک کو جنم دے دے تو عدت کا حکم ہے ؟
(١٩١٥٠) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر عورت ایک بچے کو جنم دے اور دوسرا اس کے پیٹ میں ہو تو مرد اس سے رجوع کرسکتا ہے جب تک وہ دوسرے بچے کو جنم نہ دے دے۔
(۱۹۱۵۰) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ أَبِی عَمْرٍو الْعَبْدِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : إذَا وَضَعَتْ وَلَدًا وَبَقِیَ فِی بَطْنِہَا وَلَدٌ فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا مَا لَمْ تَضَعِ الآخَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৫০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اس کے پیٹ میں دو بچے ہوں، وہ ایک کو جنم دے دے تو عدت کا حکم ہے ؟
(١٩١٥١) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب عورت نے ایک بچے کو جنم دیا اور ایک بچہ اس کے پیٹ میں باقی تھا تو مرد اس سے رجوع کرنے کا حقدار ہے جب تک وہ دوسرے بچے کو جنم نہ دے دے۔
(۱۹۱۵۱) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إذَا وَضَعَتْ وَلَدًا وَبَقِیَ فِی بَطْنِہَا وَلَدٌ فَہُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِہَا مَا لَمْ تَضَعِ الآخَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৫১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اس کے پیٹ میں دو بچے ہوں، وہ ایک کو جنم دے دے تو عدت کا حکم ہے ؟
(١٩١٥٢) حضرت عطائ (رض) سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۱۹۱۵۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ مِثْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৫২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اس کے پیٹ میں دو بچے ہوں، وہ ایک کو جنم دے دے تو عدت کا حکم ہے ؟
(١٩١٥٣) حضرت قتادہ، حضرت سعید بن مسیب، حضرت عطاء اور حضرت سلیمان بن یسار (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک طلاق دے اور اس کے بعد عورت ایک بچے کو جنم دے اور دوسرا بچہ اس کے رحم میں ہو تو دوسرے بچے کی پیدائش سے پہلے آدمی اس سے رجوع کرسکتا ہے۔
(۱۹۱۵۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، وَعَطَائٍ وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ تَطْلِیقَۃً فَتَضَعُ وَلَدًا ، ویکون فِی بَطْنِہَا آخَرُ ، فَیُرَاجِعُہَا زَوْجُہَا فِیمَا بَیْنَ ذَلِکَ قَالُوا : إِنْ شَائَ رَاجَعَہَا حَتَّی تَضَعَ الآخَرَ مِنْہما۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৫৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اس کے پیٹ میں دو بچے ہوں، وہ ایک کو جنم دے دے تو عدت کا حکم ہے ؟
(١٩١٥٤) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے اور اس کے پیٹ میں دو بچے ہوں تو وہ دوسرے بچے کی پیدائش تک رجوع کا حق رکھتا ہے۔ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی { وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ }
(۱۹۱۵۴) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَفِی بَطْنِہَا وَلَدَانِ ، قَالَ ہُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِہَا مَا لَمْ تَضَعَ الآخَرَ وَتَلاَ : {وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৫৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اس کے پیٹ میں دو بچے ہوں، وہ ایک کو جنم دے دے تو عدت کا حکم ہے ؟
(١٩١٥٥) حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک مرد اپنی بیوی کو طلاق دے اور اس کے رحم میں دو بچے ہوں تو مرد اس وقت تک رجوع کرسکتا ہے جب تک وہ دوسرے بچے کو جنم نہ دے۔
(۱۹۱۵۵) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ فِی الَّذِی یُطَلِّقُ وَفِی بَطْنِہَا الولدان قَالَ لَہُ الرَّجْعَۃُ حَتَّی تَضَعَ مَا فِی بَطْنِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৫৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اس کے پیٹ میں دو بچے ہوں، وہ ایک کو جنم دے دے تو عدت کا حکم ہے ؟
(١٩١٥٦) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ مرد اپنی بیوی سے اس وقت تک رجوع کرسکتا ہے جب تک دوسرے بچے کو جنم نہ دے دے۔
(۱۹۱۵۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ ہُوَ أَحَقُّ بِہَا مَا لَمْ تَضَعِ الآخَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৫৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اس کے پیٹ میں دو بچے ہوں، وہ ایک کو جنم دے دے تو عدت کا حکم ہے ؟
(١٩١٥٧) حضرت سعید بن مسیب (رض) ، حضرت حسن (رض) ، حضرت سلیمان بن یسار (رض) اور حضرت عطاء بن ابی رباح (رض) فرماتے ہیں کہ مرد اپنی بیوی سے اس وقت تک رجوع کرسکتا ہے جب تک دوسرے بچے کو جنم نہ دے دے۔
(۱۹۱۵۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَالحَسَن وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ وَعَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ قَالُوا : ہُوَ أَحَقُّ بِہَا مَا لَمْ تَضَعَ الآخَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৫৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اس کے پیٹ میں دو بچے ہوں، وہ ایک کو جنم دے دے تو عدت کا حکم ہے ؟
(١٩١٥٨) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ اسلاف فرمایا کرتے تھے کہ اگر ایک بچے کا کچھ حصہ اپنی ماں کے رحم سے باہر آجائے تو پھر بھی خاوند کو رجوع کا حق ہوتا ہے جب تک بچہ پورے کا پورا باہر نہ آجائے۔
(۱۹۱۵۸) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ : کَانُوا یَقُولُونَ : لَوْ کَانَ وَلَدٌ وَاحِدٌ خَرَجَ مِنْہُ طَائِفَۃٌ کان یَمْلِکُ الرَّجْعَۃَ مَا لَمْ یَخْرُجْ کُلُّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৫৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اس کے پیٹ میں دو بچے ہوں، وہ ایک کو جنم دے دے تو عدت کا حکم ہے ؟
(١٩١٥٩) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ مرد اپنی بیوی سے اس وقت تک رجوع کرسکتا ہے جب تک دوسرے بچے کو جنم نہ دے دے۔
(۱۹۱۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ: حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی خَالِد، عَنِ أَبِی حَنْظَلَۃَ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ: ہُوَ أَحَقُّ بِہَا مَا لَمْ تَضَعِ الآخَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৫৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اگر ایک بچے کو جنم دے دے تو عدت ختم ہوجاتی ہے
(١٩١٦٠) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ جب کسی آدمی کا انتقال ہوگیا یا اس نے اپنی حاملہ بیوی کو طلاق دے دی۔ عورت نے بچے کو جنم دیا اور اس کے پیٹ میں ایک اور بچہ بھی تھا تو پہلے بچے کی پیدائش سے عدت پوری ہوگئی۔
(۱۹۱۶۰) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إذَا تُوُفِّیَ الرَّجُلُ ، أَوْ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَامِلٌ فَوَضَعَتْ وَلَدًا وَبَقِیَ فِی بَطْنِہَا آخَرُ فَقَدِ انْقَضَتْ عِدَّتُہَا بِالأَوَّلِ۔
tahqiq

তাহকীক: