মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৮ টি

হাদীস নং: ১৯১৬০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اگر ایک بچے کو جنم دے دے تو عدت ختم ہوجاتی ہے
(١٩١٦١) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ جب اس نے ایک بچہ جنم دے دیا تو وہ بائنہ ہوگئی۔
(۱۹۱۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : إذَا وَضَعَتْ أَحَدَہُمَا فَقَدْ بَانَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৬১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اگر ایک بچے کو جنم دے دے تو عدت ختم ہوجاتی ہے
(١٩١٦٢) حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب اس نے ایک بچے جو جنم دے دیا تو وہ بائنہ ہوگئی۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اب وہ شادی کرسکتی ہے ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ بندے (حضرت عکرمہ) سے جھگڑا کیا گیا۔
(۱۹۱۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : إذَا وَضَعَتِ الأَوَّلَ فَقَدْ بَانَتْ ، قَالَ : قِیلَ لَہُ : تُزَوَّجُ ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ قَتَادَۃُ : خُصِم الْعَبْدُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৬২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت عدت کہاں گزارے گی ؟
(١٩١٦٣) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ عورت اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی۔ اور زینت والا سرمہ نہیں لگائے گی۔
(۱۹۱۶۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : تَعْتَدُّ الْمُطَلَّقَۃُ فِی بَیْتِ زَوْجِہَا ، وَلاَ تَکْتَحِلُ بِکُحْلٍ زِینَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৬৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت عدت کہاں گزارے گی ؟
(١٩١٦٤) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ (رض) کے پاس آیا اور اس نے کہا میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں اور وہ گھر سے جانا چاہتی ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ اسے روکے رکھو۔ اس آدمی نے کہا کہ وہ نہیں رکتی۔ انھوں نے فرمایا کہ اس قید کرو۔ اس آدمی نے کہا کہ اس عورت کے بھائی ہیں جو بڑے مضبوط اور توانا ہیں۔ حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ امیر کی طرف رجوع کرو۔
(۱۹۱۶۴) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی عَبْدِ اللہِ فَقَالَ : إنِّی طَلَّقْتُ امْرَأَتِی ثَلاَثًا ، وَإِنَّہَا تُرِیدُ أَنْ تَخْرُجَ ، قَالَ : احْبِسْہَا ، قَالَ : لاَ تجلس قَالَ : قَیِّدْہَا قَالَ : إنَّ لَہَا إخْوَۃً غَلِیظَۃٌ رِقَابُہُمْ ، قَالَ : اسْتَعْدِ الأَمِیرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৬৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت عدت کہاں گزارے گی ؟
(١٩١٦٥) حضرت عروہ (رض) فرماتے ہیں کہ طلاق یافتہ عورت اپنے اقارب سے ملاقات کرسکتی ہے لیکن وہاں رات نہیں گزار سکتی۔
(۱۹۱۶۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : الْمُطَلَّقَۃُ تَزُورُ وَلاَ تَبِیتُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৬৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت عدت کہاں گزارے گی ؟
(١٩١٦٦) حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں وہ اپنے خاوند کے گھر سے باہر نہیں نکل سکتی۔ وہ خوشبو بھی صرف طہر میں لگائے جو کہ قسط اور اظفار نامی خوشبو میں سے معمولی سی۔
(۱۹۱۶۶) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : الْمُطَلَّقَۃُ ثَلاَثًا لاَ تَخْرُجُ مِنْ بَیْتِ زَوْجِہَا وَلاَ تَمَسُّ طِیبًا إلاَّ عِنْدَ الطُّہْرِ بنُبذۃ مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৬৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت عدت کہاں گزارے گی ؟
(١٩١٦٧) حضرت عبد الرحمن بن نضلہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی چچا زادبہن کو تین طلاقیں دے دیں پھر میں حضرت سعید بن مسیب (رض) کے پاس آیا کہ ان سے اس بارے میں سوال کروں۔ انھوں نے فرمایا کہ وہاں اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی جہاں اسے طلاق دی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں حضرت قاسم، سالم، ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث ، خارجہ بن زید اور سلیمان بن یسار (رض) سے سوال کیا تو ان سب نے وہی بات کی جو حضرت سعید بن مسیب (رض) نے فرمائی تھی۔
(۱۹۱۶۷) حَدَّثَنَا أَبُو زُکَیر یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِیُّ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَضْلَۃَ قَالَ : طَلَّقْتُ بِنْت عَمٍّ لِی ثَلاَثًا الْبَتَّۃَ فَأَتَیْت سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ أَسْأَلُہُ فَقَالَ : تَعْتَدُّ فِی بَیْتِ زَوْجِہَا حَیْثُ طُلِّقَتْ ، قَالَ : وَسَأَلْت الْقَاسِمَ وَسَالِمًا وَأَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ وَخَارِجَۃَ بْنَ زَیْدٍ وَسُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ فکُلُّہُمْ یَقُولُ مِثْلَ قَوْلِ سَعِیدٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৬৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت عدت کہاں گزارے گی ؟
(١٩١٦٨) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جس عورت کو تین طلاقیں دی گئی ہوں یا اس کا خاوند انتقال کرگیا ہو وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزاریں گی اور زیر ناف بالوں کو صاف کریں گی۔
(۱۹۱۶۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ فِی الْمُطَلَّقَۃِ ثَلاَثًا وَالْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا : تَعْتَدَّانِ فِی بَیْتِ زَوْجَیْہِمَا وَتُحِدَّانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৬৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت عدت کہاں گزارے گی ؟
(١٩١٦٩) حضرت قاسم (رض) فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید بن عاص (رض) نے اپنی بیوی (بنت عبد الرحمن بن حکم (رض) ) کو طلاق دی۔ وہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی گئیں۔ اس پر حضرت عائشہ (رض) نے مروان کے پاس پیغام بھیجا کہ اللہ سے ڈرو اور عورت کو اس کے خاوند کے گھر واپس بھیج دو ۔ مروان نے کہا کہ عبد الرحمن (رض) مجھ پر غالب آگئے ہیں۔
(۱۹۱۶۹) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ أَنَّ یَحْیَی بْنَ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَکَمِ ، فَانْطَلَقَتْ إلَی أَہْلِہَا ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَۃُ إلَی مَرْوَانَ : اتَّقِ اللَّہَ وَرُدَّ الْمَرْأَۃَ إلَی بَیْتِہَا ، فَقَالَ مَرْوَانُ : إنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৬৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت عدت کہاں گزارے گی ؟
(١٩١٧٠) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جس عورت کو طلاق دے دی گئی ہو یا اس کا خاوند انتقال کرگیا ہو تو وہ اپنے خاوند کے گھر میں ہی رہے گی جب تک اس کی عدت پوری نہ ہوجائے۔
(۱۹۱۷۰) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لاَ تَبِیتُ الْمَبْتُوتَۃُ وَلاَ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا إلاَّ فِی بَیْتِہَا حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৭০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت عدت کہاں گزارے گی ؟
(١٩١٧١) حضرت یحییٰ بن سعید (رض) کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک عورت کو طلاق دی گئی پھر اس کے بارے میں مدینہ کے فقہاء سے سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ وہ اپنے خاوند کے گھر میں رہے گی۔ اس بارے میں حضرت سعید (رض) سے سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ وہ اپنے خاوند کے گھر میں ہی رہے گی۔
(۱۹۱۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : طُلِّقَتِ امْرَأَۃٌ بِالْمَدِینَۃِ فَسُئِلَ فُقَہَائُ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ فَقَالُوا : تَمْکُثُ فِی بَیْتِہَا ، فَسُئِلَ سَعِیدٌ : فَقَالَ : تَمْکُثُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৭১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک مطلقہ عدت میں اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ بھی کہیں رہ سکتی ہے
(١٩١٧٢) حضرت عروہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) نے (طلاق کے بعد) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے اندیشہ ہے کہ اس گھر میں میرے ساتھ زیادتی کی جائے گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اپنے اہل کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔
(۱۹۱۷۲) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : قالَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ قَیْسٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنِّی أَخَافُ أَنْ یُقْتَحَمَ عَلَیَّ قَالَ : فَأَمَرَہَا أَنْ تَحَوَّلَ۔ (مسلم ۱۱۲۱۔ ابن ماجہ ۲۰۳۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৭২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک مطلقہ عدت میں اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ بھی کہیں رہ سکتی ہے
(١٩١٧٣) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں اگر وہ چاہے تو اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ کہیں بھی عدت گزار سکتی ہے۔
(۱۹۱۷۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُس ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الْمُطَلَّقَۃِ ثَلاَثًا : تَعْتَدُّ فِی غَیْرِ بَیْتِہَا إِنْ شَائَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৭৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک مطلقہ عدت میں اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ بھی کہیں رہ سکتی ہے
(١٩١٧٤) حضرت حبیب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطائ (رض) سے مطلقہ کی عدت کے مقام کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ وہ جہاں چاہے وہاں عدت گزار سکتی ہے۔ حضرت (رض) حسن بھی یہی فرماتے تھے۔
(۱۹۱۷۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ، عَنْ حَبِیبٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَطَائً فَقَالَ: تَعْتَدُّ حَیْثُ شَائَتْ، وَقَالَہُ الْحَسَنُ أَیْضًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৭৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک مطلقہ عدت میں اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ بھی کہیں رہ سکتی ہے
(١٩١٧٥) حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) فرماتی ہیں کہ میں بنومخزوم کے ایک آدمی کے نکاح میں تھی۔ انھوں نے مجھے حتمی طلاق دے دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا کہ تم ابن ام مکتوم (رض) کے گھر چلی جاؤ۔ وہ نابینا آدمی ہیں۔ اگر تم ضرورت کے تحت اپنے کپڑے اتارو گی تو بھی وہ کچھ نہ دیکھ سکیں گے۔
(۱۹۱۷۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن عَمرو قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ ، عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ قَالَ : کَتَبْتُ ذَلِکَ مِنْ فِیہَا کِتَابًا ، قَالَتْ: کُنْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِی مَخْزُومٍ فَطَلَّقَنِی الْبَتَّۃَ، فَقَالَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: انْتَقِلِی إلَی ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ، فَإِنَّہُ رَجُلٌ قَدْ ذَہَبَ بَصَرُہُ، فَإِنْ وَضَعْت شَیْئًا لَمْ یَرَ شَیْئًا۔

(مسلم ۱۱۱۶۔ ابوداؤد ۲۲۷۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৭৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کرائے کے گھر میں رہتی تھی اور اسے طلاق ہوگئی تو اب وہ کیا کرے ؟
(١٩١٧٦) حضرت ابراہیم (رض) سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت کرائے کے گھر میں رہتی تھی اور اسے طلاق ہوگئی تو اب وہ کیا کرے ؟ انھوں نے فرمایا کہ بہتر ہے کہ آدمی مکان کا کرایہ دے اور وہ عدت کے پورا ہونے تک اسی گھر میں رہے۔
(۱۹۱۷۶) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ سُئِلَ عَنِ امْرَأَۃٍ طُلِّقَتْ وَہِیَ سَاکِنَۃٌ فِی بَیْتٍ بِکِرَائٍ فَقَالَ : إِنْ أَحْسَنَ أَنْ یُعْطِیَ أَجْرًا وَتَمْکُثَ فِی بَیْتِہَا حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৭৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کرائے کے گھر میں رہتی تھی اور اسے طلاق ہوگئی تو اب وہ کیا کرے ؟
(١٩١٧٧) حضرت یحییٰ بن سعید (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک عورت کرائے کے گھر میں رہتی ہو اور اسے طلاق ہوجائے تو کرایہ کون دے گا ؟ انھوں نے فرمایا کہ کرایہ اس کے خاوند پر لازم ہوگا۔
(۱۹۱۷۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : سُئِلَ سعید بْنُ الْمُسَیَّبِ ، عَنِ امْرَأَۃٍ طُلِّقَتْ وَہِیَ فِی بَیْتٍ بِکِرَائٍ عَلَی مَنِ الْکِرَائُ ؟ قَالَ : عَلَی زَوْجِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৭৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا عورت عدت کے دنوں میں حج کرسکتی ہے ؟
(١٩١٧٨) حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ان عورتوں کو واپس بھیج دیا جو عدت کے دنوں میں حج یا عمرے کے لیے گئی تھیں۔
(۱۹۱۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، وَعَنْ سُفْیَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ رَدَّ نِسْوَۃً حَاجَّاتٍ ، أَوْ مُعْتَمِرَاتٍ خَرَجْنَ فِی عِدَّتِہِنَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৭৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا عورت عدت کے دنوں میں حج کرسکتی ہے ؟
(١٩١٧٩) حضرت مجاہد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے عدت میں حج یا عمرے کے لیے جانے والی عورتوں کو واپس بھیج دیا تھا۔
(۱۹۱۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ حُمَیْدٍ الأَعْرَجِ عن مجاہد أَنَّ عُمَرَ وَعُثْمَانَ رَدَّا نِسْوَۃً حَوَاجَّ أوْ مُعْتَمِرَاتٍ حَتَّی اعْتَدَدْنَ فِی بُیُوتِہِنَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৭৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا عورت عدت کے دنوں میں حج کرسکتی ہے ؟
(١٩١٨١) حضرت ابن مسعود (رض) نے حج یا عمرے کے لیے نکلنے والی ان عورتوں کو واپس بھیج دیا جو عدت میں نکلی تھیں۔
(۱۹۱۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَدَّ نِسْوَۃً حَاجَّاتٍ أو مُعْتَمِرَاتٍ خَرَجْنَ فِی عِدَّتِہِنَّ۔
tahqiq

তাহকীক: