মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

طلاق کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৮ টি

হাদীস নং: ১৯১৮০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا عورت عدت کے دنوں میں حج کرسکتی ہے ؟
(١٩١٨١) حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے یا جسے طلاق دے دی جائے وہ نہ حج کرے، نہ عمرہ کرے اور جسم کے ساتھ جڑا ہوا کپڑا بھی نہ پہنے۔
(۱۹۱۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی الْمِقْدَامِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : الْمُتَوَفَّی عَنْہَا وَالْمُطَلَّقَۃُ لاَ تَحُجُّ وَلاَ تَعْتَمِرُ وَلاَ تَلْبَسُ مُجْسَدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৮১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا عورت عدت کے دنوں میں حج کرسکتی ہے ؟
(١٩١٨٢) حضرت ابن عمر (رض) نے اس عورت کو ڈانٹا تھا جو اپنی عدت میں حج کے لیے گئی۔
(۱۹۱۸۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُبَارَکٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ زَجَرَ امْرَأَۃً تَحُجُّ فِی عِدَّتِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৮২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا عورت عدت کے دنوں میں حج کرسکتی ہے ؟
(١٩١٨٣) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ان عورتوں کو ذو الحلیفہ سے واپس بھیج دیا تھا جو حج کرنے گئی تھیں جبکہ ان کے خاوند وہاں شہید کردیئے گئے تھے۔
(۱۹۱۸۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : رَدَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نِسْوَۃً مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ حَاجَّاتٍ قُتِلَ أَزْوَاجُہُنَّ فِی بَعْضِ تِلْکَ الْمِیَاہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৮৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کیا عورت عدت کے دنوں میں حج کرسکتی ہے ؟
(١٩١٨٤) حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ان عورتوں کو بیداء سے واپس بھیج دیا تھا جن کے خاوند انتقال کرگئے تھے اور انھیں حج سے روک دیا تھا۔
(۱۹۱۸۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : رَدَّ عُمَرُ نِسْوَۃَ الْمُتَوَفَّی عَنْہُنَّ أَزْوَاجُہُنَّ مِنَ الْبَیْدَائِ ، فَمَنَعَہُنَّ الْحَجَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৮৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے عورت کو عدت میں حج کرنے کی اجازت دی ہے
(١٩١٨٥) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے حضرت ام کلثوم (رض) کو ان کی عدت میں حج کرایا۔
(۱۹۱۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أُسَامَۃَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، وَعَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ عَطَائٍ أَنَّ عَائِشَۃَ أَحَجَّتْ أُمَّ کُلْثُومٍ فِی عِدَّتِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৮৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے عورت کو عدت میں حج کرنے کی اجازت دی ہے
(١٩١٨٦) حضرت ابن عباس (رض) اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ عورتیں اپنی عدت میں حج کریں۔
(۱۹۱۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا لِلْمُطَلَّقَاتِ ثَلاَثًا وَالْمُتَوَفَّی عَنْہُنَّ أَزْوَاجُہُنَّ أَنْ یَحْجُجْنَ فِی عِدَّتِہِنَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৮৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے عورت کو عدت میں حج کرنے کی اجازت دی ہے
(١٩١٨٧) حضرت حبیب معلم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطائ (رض) سے سوال کیا کہ کیا عورت اپنی عدت میں حج کرسکتی ہے۔ انھوں نے فرمایا ہاں کرسکتی ہے۔ حضرت حبیب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن (رض) بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
(۱۹۱۸۷) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ حَبِیبٍ الْمُعَلِّمِ قَالَ : سَأَلْتُ عَطَائً عَنِ الْمُطَلَّقَۃِ ثَلاَثًا وَالْمُتَوَفَّی عَنْہَا : تَحُجَّانِ عَنْہُمَا فِی عِدَّتِہِمَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَقَالَ حَبِیبٌ : وَکَانَ الْحَسَنُ یَقُولُ مِثْلَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৮৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے جن حضرات کے نزدیک وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی
(١٩١٨٨) حضرت ابو سعید خدری (رض) کی بہن حضرت فریعہ بنت مالک (رض) فرماتی ہیں کہ میرے خاوند اپنے عجمی غلاموں کی تلاش میں نکلے جو کہ فرار ہوگئے تھے۔ وہ انھیں مقام قدوم میں ملے جہاں انھوں نے میرے خاوند کو شہید کردیا۔ جب مجھے میرے خاوند کے انتقال کی خبر ملی تو اس وقت میں میں انصار کے ایک گھر میں تھی جو میرے اہل و عیال کے گھروں سے دور تھا۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے عرض کیا کہ مجھے میرے خاوند کے انتقال کی خبر آپہنچی ہے اور میں ایک ایسے گھر میں ہوں جو میرے والدین اور میرے بھائیوں کے گھر سے دور ہے۔ میرے خاوند نے میرے لیے پیسے بھی نہیں چھوڑے جو مجھ پر خرچ کئے جائیں، نہ مال ہے جس کی میں وارث بنوں اور نہ ہی کوئی ایسا گھر ہے جس کے وہ مالک ہیں۔ اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں اپنے والدین اور اپنے بھائیوں کے گھر چلی جاؤں۔ یہ مجھے زیادہ پسند ہے اور اس میں میرے لیے زیادہ فائدہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم جو چاہو کرلو۔ حضرت فریعہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فیصلہ سن کر میں اس حال میں باہر آئی کہ میری آنکھیں ٹھنڈی تھیں۔ پھر اس کے بعد میں مسجد میں تھی یا کسی کمرے میں تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ تم نے کیا فیصلہ کیا ؟ میں نے سارا واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا کہ اس گھر میں ہی ٹھہری رہو جس میں تمہارے خاوند کے انتقال کی خبر آئی تھی یہاں تک کہ مدت پوری ہوجائے۔ وہ فرماتی ہیں کہ پھر میں نے چار مہینے اور دس دن وہیں گزارے۔
(۱۹۱۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ وَکَانَتْ تَحْتَ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ أُخْتَہُ الفُرَیْعَۃَ ابْنَۃَ مَالِکٍ قَالَتْ : خَرَجَ زَوْجِی فِی طَلَبِ أَعْلاَجٍ لَہُ فَأَدْرَکَہُمْ بِطَرَفِ الْقَدُوم فَقَتَلُوہُ فَجَائَ نَعْیُ زَوْجِی وَأَنَا فِی دَارٍ مِنْ دُورِ الأَنْصَارِ شَاسِعَۃٍ عَنْ دُورِ أَہْلِی فَأَتَیْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْت : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّہُ أَتَانِی نَعْیُ زَوْجِی وَأَنَا فِی دَارٍ شَاسِعَۃٌ ، عَنْ دَارِ أَہْلِی وَدَارِ إخْوَتِی وَلَمْ یَدَعْ مَالاً یُنْفَقُ عَلَیَّ وَلاَ مَالَ وَرِثْتہ وَلاَ دَارَ یَمْلِکُہَا فَإِنْ رَأَیْت أَنْ تَأْذَنَ فَأَلْحَقَ بدَارِ أَہْلِی ، ودَارِ إخْوَتِی ، فَإِنَّہُ أَحَبُّ إلَیَّ وَأَجْمَعُ إلَیَّ بَعْضَ أَمْرِی قَالَ : فَافْعَلِی إِنْ شِئْتِ ، قَالَتْ : فَخَرَجْت قَرِیرَۃَ عَیْنٍ لِمَا قَضَی اللَّہُ عَلَی لِسَانِ رَسُولِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی إذَا کُنْتُ فِی الْمَسْجِدِ ، أَوْ فِی بَعْضِ الْحُجْرَۃِ دَعَانِی فقال : کَیْفَ زَعَمْت ؟ قَالَتْ : فَقَصَصْت عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ ، قَالَ : امْکُثِی فِی بَیْتِکَ الَّذِی کَانَ فِیہِ نعی زَوْجُک حَتَّی یَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَہُ ، قَالَتْ : فَاعْتَدَدْت فِیہِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔ (ترمذی ۱۲۰۴۔ ابوداؤد ۲۲۹۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৮৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے جن حضرات کے نزدیک وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی
(١٩١٨٩) حضرت علقمہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہمدان کی کچھ عورتوں کے خاوندقتل کردیئے گئے تو حضرت عبداللہ (رض) نے انھیں حکم دیا کہ وہ دن کو جمع ہوجایا کریں اور رات اپنے گھروں میں گزارا کریں۔
(۱۹۱۸۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ أَنَّ نِسْوَۃً مِنْ ہَمْدَانَ قُتِلَ عَنْہُنَّ أَزْوَاجُہُنَّ فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : یَجْتَمِعْنَ بِالنَّہَارِ وَیَبِتْنَ فِی بُیُوتِہِنَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৮৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے جن حضرات کے نزدیک وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی
(١٩١٩٠) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ ہمدان کی کچھ عورتوں کے خاوند قتل کردیئے گئے۔ انھوں نے ارادہ کیا کہ ان میں سے ایک عورت کے گھر میں عدت گزار لیں۔ اس بارے میں سوال کرنے کے لیے انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس کسی کو بھیجا۔ آپ (رض) نے فرمایا کہ ہر عورت اپنے گھر میں عدت گزارے۔
(۱۹۱۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : تُوُفِّیَ عَنْ نِسْوَۃٍ مِنْ ہَمْدَانَ أَزْوَاجُہُنَّ فَأَرَدْنَ أَنْ یَجْتَمِعْنَ فِی بَیْتِ امْرَأَۃٍ مِنْہُمْ یَعْتَدِدْنَ فَأَرْسَلْنَ إلَی ابْنِ مَسْعُودٍ یَسْأَلْنَہُ قَالَ : تَعْتَدُّ کُلُّ امْرَأَۃٍ فِی بَیْتِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৯০
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے جن حضرات کے نزدیک وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی
(١٩١٩١) حضرت مسیکہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک عورت عدت میں اپنے گھروالوں سے ملاقات کرنے گئی۔ وہاں اس کے بچے کی ولادت کا وقت قریب آگیا۔ ان لوگوں نے مجھے حضرت عثمان (رض) کے پاس بھیجا کہ میں ان سے اس بارے میں سوال کروں۔ اس وقت وہ عشاء کی نماز پڑھ کر اپنے بستر پر جاچکے تھے۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ فلاں عورت اپنی عدت میں اپنے گھروالوں سے ملاقات کے لیے گئی تھی وہاں اسے بچے کی پیدائش کا درد ہونے لگا ہے۔ آپ اس کے بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا کہ اسے اسی حال میں اس کے گھر لے جایا جائے۔
(۱۹۱۹۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ یُوسُفَ بْنِ مَاہَکَ ، عَنْ أُمِّہِ مُسَیْکَۃَ أَنَّ امْرَأَۃً زَارَتْ أَہْلَہَا وَہِیَ فِی عِدَّۃٍ فَتَمَخَّضَتْ عِنْدَہُم فَبَعَثُونِی إلَی عُثْمَانَ بَعْدَ ما صَلَّی الْعِشَائَ وَأَخَذَ مَضْجَعَہُ فَقُلْت : إنَّ فُلاَنَۃَ زَارَتْ أَہْلَہَا وَہِیَ فِی عِدَّتِہَا وَہِیَ تَمْخُضُ فَمَا تَأْمُرُنِی ؟ قَالَ : فَأَمَرَ بِہَا أَنْ تُحْمَلَ إلَی بَیْتِہَا فِی تِلْکَ الْحَالِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৯১
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے جن حضرات کے نزدیک وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی
(١٩١٩٢) حضرت ابن ثوبان (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت کے خاوند کا انتقال ہوگیا اور وہ فاقہ کا شکار تھی۔ اس نے حضرت عمر (رض) سے اجازت چاہی کہ وہ اپنے گھروالوں کے پاس چلی جائے۔ حضرت عمر (رض) نے اسے اس بات کی رخصت دے دی کہ دن کی روشنی میں وہاں چلی جایا کرے۔
(۱۹۱۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُبَارَکٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ امْرَأَۃً تُوُفِّیَ عَنْہَا زَوْجُہَا وَبِہَا فَاقَۃٌ فَسَأَلَتْ عُمَرَ أَنْ تَأْتِیَ أَہْلَہَا ؟ فَرَخَّصَ لَہَا أَنْ تَأْتِیَ أَہْلَہَا بَیَاضَ یَوْمِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৯২
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے جن حضرات کے نزدیک وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی
(١٩١٩٣) حضرت محمد بن عبدالرحمن (رض) فرماتے ہیں کہ انصار کی ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا۔ اس نے اپنے گھر والوں کے پاس جانے کے بارے میں حضرت زید بن ثابت (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے اسے روشنی میں ان کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔
(۱۹۱۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُبَارَکٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ امْرَأَۃً مِنَ الأَنْصَارِ تُوُفِّیَ عَنْہَا زَوْجُہَا فَسَأَلَتْ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَلَمْ یُرَخِّصْ لَہَا إلاَّ فِی بَیَاضِ یَوْمِہَا أَو لَیْلَتِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৯৩
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے جن حضرات کے نزدیک وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی
(١٩١٩٤) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا تھا اور وہ عدت میں تھی۔ اس دوران اس عورت کے والد بیمار ہوگئے۔ اس نے حضرت ام سلمہ (رض) کو پیغام بھیج کر سوال کیا کہ کیا وہ اپنے والد کی تیمارداری کے لیے جاسکتی ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اگر دن کے ایک کنارے میں اپنے گھر میں رہو تو جاسکتی ہو۔
(۱۹۱۹۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : کَانَتِ امْرَأَۃٌ تَعْتَدُّ مِنْ زَوْجِہَا ، تُوُفِّیَ عَنْہَا ، فَاشْتَکَی أَبُوہَا، فَأَرْسَلَتْ إلَی أُمِّ سَلَمَۃَ تَسْأَلُہَا: تَأْتِی أَبَاہَا تُمَرِّضُہُ؟ فَقَالَتْ: إذَا کُنْتِ إِحَدَی طَرَفَیِ النَّہَارِ فِی بَیْتِکِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৯৪
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے جن حضرات کے نزدیک وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی
(١٩١٩٥) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوگیا ہو وہ اپنے گھر کے علاوہ کہیں رات نہیں رہ سکتی۔
(۱۹۱۹۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ إسْمَاعِیلَ، قَالَ: سَمِعْتُ إبْرَاہِیمَ یَقُولُ: الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا لاَ تَبِیتُ فِی غَیْرِ بَیْتِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৯৫
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے جن حضرات کے نزدیک وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی
(١٩١٩٦) حضرت نافع (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت جس کا خاوند فوت ہوگیا تھا اس نے عدت کے دنوں میں سے ایک دن اپنے گھر کے علاوہ کہیں گزارا۔ حضرت ابن عمر (رض) نے اسے وہ دن قضا کرنے کا حکم دیا۔
(۱۹۱۹۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ امْرَأَۃً تُوُفِّیَ زَوْجُہَا فَاعْتَدَّتْ فِی غیر بَیْتِہَا یَوْمًا فَأَمَرَہَا ابْنُ عُمَرَ أَنْ تَقْضِیَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৯৬
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے جن حضرات کے نزدیک وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی
(١٩١٩٧) حضرت ہشام بن عروہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو کیا وہ شہر چھوڑ سکتی ہے ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔ البتہ اگر اس کے گھر والے چھوڑ رہے ہوں تو چھوڑ سکتی ہے۔
(۱۹۱۹۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ أَبِی ، عَنِ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا ، أَتَنْتَقِلُ ؟ قَالَ : لاَ ، إلاَّ أَنْ یَنْتَقِلَ أَہْلُہَا فَتَنْتَقِلَ مَعَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৯৭
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے جن حضرات کے نزدیک وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی
(١٩١٩٨) حضرت خصیف (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب (رض) سے سوال کیا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوگیا ہو کیا وہ اپنے گھر سے نکل سکتی ہے ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔
(۱۹۱۹۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ خُصَیْفٍ قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ، عَنِ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا تَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہَا ؟ قَالَ : لاَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৯৮
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے جن حضرات کے نزدیک وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی
(١٩١٩٩) حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) اور حضرت عبداللہ (رض) فرمایا کرتے تھے کہ وہ گھر تبدیل نہیں کرسکتی۔
(۱۹۱۹۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ قَالَ : کَانَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللہِ یَقُولاَنِ : لاَ تَنْتَقِلُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৯৯
طلاق کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے جن حضرات کے نزدیک وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی
(١٩٢٠٠) حضرت عبداللہ (رض) کے شاگرد فرمایا کرتے تھے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوگیا ہو وہ اپنی عدت پوری کئے بغیر خاوند کے گھر سے نہیں نکل سکتی۔
(۱۹۲۰۰) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللہِ یَقُولُونَ : لاَ تَخْرُجُ حَتَّی تُوَفِّیَ أَجَلَہَا فِی بَیْتِ زَوْجِہَا۔
tahqiq

তাহকীক: