মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯০০ টি

হাদীস নং: ৩২৬১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦١٦) حضرت سعید بن زید (رض) فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ ابوبکر جنت میں ہے، عمر جنت میں ہے، علی جنت میں ہے، عثمان جنت میں ہے، طلحہ جنت میں ہے، زبیر جنت میں ہے، اور عبد الرحمن بن عوف (رض) جنت میں ہے اور سعد بن ابی وقاص (رض) جنت میں ہے، اور اگر میں چاہوں تو نویں آدمی کا نام بھی لے سکتا ہوں۔
(۳۲۶۱۶) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ، عَنْ زَائِدَۃَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِاللہِ، قَالَ: حدَّثَنَا الْحُرُّ بْنُ صَیَّاحٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الأَخْنَسِ النَّخَعِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : أَبُو بَکْرٍ فِی الْجَنَّۃِ ، وَعُمَرُ فِی الْجَنَّۃِ وَعَلِیٌّ وَعُثْمَان فِی الْجَنَّۃِ وَطَلْحَۃُ فِی الْجَنَّۃِ وَالزُّبَیْرُ فِی الْجَنَّۃِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ فِی الْجَنَّۃِ وَسَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ فِی الْجَنَّۃِ ، وَلَوْ شِئْتُ لَسَمَّیْتُ التَّاسِعَ۔(نسائی ۸۲۱۰۔ احمد ۱۸۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦١٧) حضرت ابو صالح حنفی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : مجھے اور حضرت ابوبکر (رض) سے غزوہ بدر کے دن کہا گیا : تم دونوں میں سے ایک کے ساتھ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں اور دوسرے کے ساتھ حضرت میکائیل ہیں۔ اور حضرت اسرافیل عظیم فرشتہ ہیں جو قتال کے لیے حاضر ہیں یا فرمایا : کہ وہ صف میں کھڑے ہوئے ہیں۔
(۳۲۶۱۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ الثَّقَفِیِّ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ الْحَنَفِیِّ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ، قَالَ : قِیلَ لِی ، وَلأَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ یَوْمَ بَدْرٍ : مَعَ أَحَدِکُمَا جِبْرِیلُ ، وَمَعَ الآخَرِ مِیکَائِیلُ ، وَإِسْرَافِیلُ مَلَکٌ عَظِیمٌ یَشْہَدُ الْقِتَالَ ، أَوْ یَقِفُ فِی الصَّفِّ۔ (احمد ۱۴۷۔ ابن سعد ۱۷۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦١٨) حضرت بسطام بن مسلم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمرو بن العاص (رض) کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا جس میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) بھی تھے۔ پس جب وہ لوگ واپس آئے تو حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) نے حضرت عمرو (رض) کی شکایت کی ۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دونوں پر میرے بعد کسی کو بھی امیر نہیں بنایا جائے گا۔
(۳۲۶۱۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ السَّرِیِّ بْنِ یَحْیَی ، عَنْ بِسْطَامِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَی سَرِیَّۃٍ ، فِیہَا أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ ، فَلَمَّا قَدِمُوا ، اشْتَکَی أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ عَمْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَتَأَمَّرُ عَلَیْکُمَا أَحَدٌ بَعْدِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦١٩) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں پسند کرتا ہوں کہ میں جنت کے ایسے حصہ میں ہوں جہاں سے حضرت ابوبکر (رض) کو دیکھ سکوں۔
(۳۲۶۱۹) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : وَدِدْتُ أَنِّی مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ أَرَی أَبَا بَکْرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٢٠) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمر (رض) کو یوں پکارا : اے لوگو میں سے بہترین شخص ! تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یقیناً میں لوگوں میں سے سب سے بہتر نہیں ہوں۔ پھر اس آدمی نے کہا : اللہ کی قسم میں نے تو کبھی بھی آپ (رض) سے بہتر شخص نہیں دیکھا ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا تو نے ابوبکر (رض) کو نہیں دیکھا ؟ اس نے کہا : نہیں ! آپ (رض) نے فرمایا : اگر تو کہتا : جی ہاں ! تو میں تجھے ضرور سزا دیتا ۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ابوبکر کی زندگی کا ایک دن عمر کی ساری آل کے اعمال سے بہتر ہے۔
(۳۲۶۲۰) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِعُمَرَ : یَا خَیْرَ النَّاسِ ، فَقَالَ : إنِّی لَسْتُ بِخَیْرِ النَّاسِ ، فَقَالَ : وَاللَّہِ مَا رَأَیْت قَطُّ رَجُلاً خَیْرًا مِنْک ، قَالَ : مَا رَأَیْتَ أَبَا بَکْرٍ ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : لَوْ قُلْتَ : نَعَمْ ، لَعَاقَبْتُکَ ، قَالَ ، وَقَالَ عُمَرُ : (یلہم) بَیْنِی وَبَیْنَ أَبِی بَکْرٍ ، یَوْمٌ مِنْ أَبِی بَکْرٍ خَیْرٌ مِنْ آلِ عُمَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٢١) حضرت قیس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو (رض) نے پوچھا : اے اللہ کے رسول 5! لوگوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک کون ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیوں ؟ آپ (رض) نے عرض کیا : تاکہ ہم بھی اس سے محبت رکھیں جس سے آپ محبت کرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ پسند ” عائشہ “ ہیں۔ آپ (رض) نے عرض کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عورتوں سے متعلق نہیں پوچھ رہا بلکہ میں مردوں میں سے پوچھ رہا ہوں۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ فرمایا : ان کے والد اور ایک مرتبہ فرمایا : ” ابوبکر (رض) “
(۳۲۶۲۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إسْمَاعِیلُ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : قَالَ عَمْرٌو : أَیُّ النَّاسِ أَحَبُّ إلَیْک یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : وَلِمَا ؟ قَالَ : لِنُحِبَّ مَنْ تُحِبُّ ، قَالَ : أَحَبُّ النَّاسِ إلَیَّ عَائِشَۃُ ، قَالَ : لَسْتُ أَسْأَلُک عَنِ النِّسَائِ ، إنَّمَا أَسْأَلُک عَنِ الرِّجَالِ ، فَقَالَ مَرَّۃً : أَبُوہَا ، وَقَالَ مَرَّۃً : أَبُو بَکْرٍ۔ (بخاری ۳۶۶۲۔ حاکم ۱۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٢٢) حضرت ابو الھذیل (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : : کوئی ایک بھی مجھ پر ابوبکر سے زیادہ احسان کرنے والا نہیں ہے اپنی ذات سے بھی زیادہ، اور اگر میں کسی کو دوست بناتا تو میں ابوبکر کو بناتا ۔ لیکن وہ میرے دینی بھائی اور ساتھی ہیں ، اور تمہارے ساتھی کو یقیناً دوست بنا لیا گیا ہے۔ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ۔
(۳۲۶۲۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، عَنِ أَبِی الْہُذَیْلِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ أَحَدٍ أَمَنُّ عَلَیْنَا فِی ذَاتِ یَدِہِ مِنْ أَبِی بَکْرٍ ، وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیلاً لاتَّخَذْت أَبَا بَکْرٍ ، وَلَکِنْ أَخِی وَصَاحِبِی وَعَلَی دِینِی ، وَصَاحِبُکُمْ قَدِ اتُّخِذَ خَلِیلاً ، یَعْنِی نَفْسَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٢٣) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک صبح ہمارے پاس تشریف لائے، اور فرمایا : میں نے ابھی ابھی خواب میں دیکھا کہ مجھے چابیاں اور ترازو دیا گیا، بہرحال چابیاں وہ تو یہ ہیں۔ پھر مجھے ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو ایک پلڑے میں رکھ دیا گیا پس میرا پلڑا جھک گیا۔ پھر ابوبکر کو لایا گیا پس اس کا پلڑا بھی بھاری ہوگیا۔ پھر عمر (رض) کو لایا گیا تو اس کا پلڑا بھی بھاری ہوگیا۔ پھر عثمان کو لایا گیا پس اس کا پلڑا بھی بھاری ہوگیا۔ پھر اس ترازو کو اٹھا لیا گیا۔ راوی فرماتے ہیں پس ایک آدمی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : ہم کہاں ہوں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہاں تم اپنے آپ کو رکھو گے۔
(۳۲۶۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِی عَائِشَۃَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَرَجَ إلَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاۃٍ ، فَقَالَ : رَأَیْت آنِفًا کَأَنِّی أُعْطِیتُ الْمَقَالَیدَ وَالْمَوَازِینَ ، فَأَمَّا الْمَقَالَیدُ فَہَذِہِ الْمَفَاتِیحُ ، فَوُضِعْتُ فِی کِفَّۃٍ وَوُضِعَتْ أُمَّتِی فِی کِفَّۃٍ فَرَجَحْتُ بِہِمْ ، ثُمَّ جِیئَ بِأَبِی بَکْرٍ فَرَجَحَ ، ثُمَّ جِیئَ بِعُمَرَ فَرَجَحَ ، ثُمَّ جِیئَ بِعُثْمَانَ فَرَجَحَ ، ثُمَّ رُفِعَتْ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : فَأَیْنَ نَحْنُ ؟ قَالَ : حَیْثُ جَعَلْتُمْ أَنْفُسَکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٢٤) حضرت ابو بکرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ وفد کی صورت میں حاضر ہوئے۔ آپ (رض) نے فرمایا : مجھے کوئی وفد اتنا پسند نہیں آیا جتنا ہمارا وفد پسند آیا۔ پھر فرمایا : اے ابو بکرہ (رض) ! مجھے کوئی ایسی بات بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو۔ آپ (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پسند فرماتے تھے کہ جب ان سے خوابوں کے بارے میں پوچھا جاتا ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے ایک ترازو دیکھا جو آسمان سے اترا، پس اس میں میرا اور ابوبکر (رض) کا وزن کیا گیا تو میر پلڑا ابوبکر سے بھاری ہوگیا۔ پھر ابوبکر کا عمر کے ساتھ وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا بھاری ہوگیا۔ پھر عمر اور عثمان کا وزن کیا گیا تو عمر کا پلڑا عثمان پر بھاری ہوگیا۔ پھر ترازو کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خلافت اور نبوت ہوگی پھر اللہ جس کو چاہیں گے ملک عطا فرما دیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : پس ہمیں گدی سے پکڑ کر نکال دیا گیا۔
(۳۲۶۲۴) حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : وَفَدْنَا إِلَی مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : فَمَا أُعْجِبَ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا ، فَقَالَ : یَا أَبَا بَکْرَۃَ ، حَدِّثْنِی بِشَیْئٍ سَمِعْتہ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ وَکَانَتْ تُعْجِبُہُ الرُّؤْیَا یُسْأَلُ عنہا فَسَمِعْتہ یَقُولُ : رَأَیْت مِیزَانًا أُنْزِلَ مِنَ السَّمَائِ فَوُزِنْتُ فِیہِ أَنَا ، وَأَبُو بَکْرٍ فَرَجَحْتُ بِأَبِی بَکْرٍ ، ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَکْرٍ بِعُمَرَ فَرَجَحَ أَبُو بَکْرٍ ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَان فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِیزَانُ إِلَی السَّمَائِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خِلاَفَۃٌ وَنُبُوَّۃٌ ، ثُمَّ یُؤْتِی اللَّہُ الْمُلْکَ مَنْ یَشَائُ ، قَالَ : فَزُجَّ فِی أَقْفِیَتِنَا فَأُخْرِجْنَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٢٥) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے حضرت عثمان (رض) کا ذکر کیا پس ان میں سے ایک کہنے لگا۔ ان کو شہید کردیا گیا ، تو دوسرا اس کو پکڑ کر حضرت علی (رض) کے پاس لے آیا اور کہنے لگا : بلاشبہ یہ شخص کہتا ہے کہ یقیناً حضرت عثمان (رض) کو شہید کردیا گیا تھا ! آپ (رض) نے فرمایا : تم نے یہ کہا ہے ؟ اس شخص نے کہا : جی ہاں ! کہا آپ (رض) کو یاد نہیں وہ دن جب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے۔ پس میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مانگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے عطا فرمایا : اور میں نے حضرت ابوبکر (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے بھی مجھے عطا فرمایا : اور میں نے حضرت عمر (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے بھی مجھے عطا فرمایا : اور میں نے حضرت عثمان (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے بھی مجھے عطا کیا۔ پس میں نے عرض کی۔ اے اللہ کے رسول 5! میرے لیے برکت کی دعا فرما دیجئے اللہ مجھے برکت عطا کرے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے برکت کیوں نہیں دی جائے گی حالانکہ تجھے ایک نبی، اور ایک صدیق اور دو شہیدوں نے عطا کیا ہے ؟ ! پس حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو ، اس کو چھوڑ دو ، اس کو چھوڑ دو ۔
(۳۲۶۲۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : ذَکَرَ رَجُلاَنِ عُثْمَانَ ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا : قُتِلَ شَہِیدًا ، فَتَعَلَّقَ بِہِ الآخَرُ فَأَتَی بِہِ عَلِیًّا ، فَقَالَ : إِنَّ ہَذَا یَزْعُمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قُتِلَ شَہِیدًا ، قَالَ : قُلْتُ ذَاکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا تَذْکُرُ یَوْمَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَعِنْدَہُ أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ وَعُثْمَان ، فَسَأَلْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِی ، وَسَأَلْت أَبَا بَکْرٍ فَأَعْطَانِی ، وَسَأَلْت عُمَرَ فَأَعْطَانِی ، وَسَأَلْت عُثْمَانَ فَأَعْطَانِی ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ادْعُ اللَّہَ أَنْ یُبَارِکَ لِی ، قَالَ : وَمَا لَکَ لاَ یُبَارَکُ لَکَ وَقَدْ أَعْطَاک نَبِیٌّ وَصِدِّیقٌ وَشَہِیدَانِ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : دَعْہُ ، دَعْہُ ، دَعْہُ۔ (ابویعلی ۱۵۹۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٢٦) حضرت عبداللہ بن سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس امت کے بہترین شخص کے متعلق خبر نہ دوں ؟ پس وہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر بن خطاب (رض) ہیں۔
(۳۲۶۲۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلِمَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ أَنَّہُ قَالَ : أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ ہَذِہِ الأُمَّۃِ بَعْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٢٧) حضرت ابو اسحاق (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن یثیع (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن حضرت ابوبکر (رض) جھونپڑی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔
(۳۲۶۲۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ یُثَیْعٍ ، قَالَ : کَانَ أَبُو بَکْرٍ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ بَدْرٍ عَلَی الْعَرِیشِ۔ (طبری ۱۹۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٢٨) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہر عمل والے کے لیے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ اور وہ اس عمل کی وجہ سے اس دروازے سے پکارے جائیں گے۔ پس روزہ دار کے لیے بھی ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں۔ تو حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : کیا کوئی شخص ایسا ہوگا جو ان سب دروازوں سے پکارا جائے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! اور یقیناً مجھے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو گے۔
(۳۲۶۲۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لِکُلِّ أَہْلِ عَمَلٍ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یُدْعَوْنَ مِنْہُ بِذَاکَ الْعَمَلِ، فَلأَہْلِ الصِّیَامِ بَابٌ یُقَالُ لَہُ الرَّیَّانُ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَہَلْ مِنْ أَحَدٍ یُدْعَی مِنْ تِلْکَ الأَبْوَابِ کُلِّہَا ، قَالَ : نَعَمْ ، وَإِنِّی أَرْجُو أَنْ تَکُونَ مِنْہُمْ یَا أَبَا بَکْرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٢٩) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور انھوں نے ہمارے سردار یعنی حضرت بلال (رض) کو آزاد کروایا۔
(۳۲۶۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : أَبُو بَکْرٍ سَیِّدُنَا وَأَعْتَقَ سَیِّدَنَا ، یَعْنِی بِلالاً۔ (بخاری ۳۷۵۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت ابو بکر (رض) کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٣٠) حضرت قاسم بن محمد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے ارشاد فرمایا : میں اس شعر کو بطور نمونے کے پڑھ رہی تھی اس حال میں کہ ابوبکر فیصلہ فرما رہے تھے۔

اور سفید چہرے والے جن کے چہرے کے وسیلہ سے بادلوں سے پانی طلب کیا جاتا ہے۔

یتیموں کے فریاد رس اور بیواؤں کی عصمت ہیں۔

تو حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : وہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔
(۳۲۶۳۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : تَمَثَّلْتُ بِہَذَا الْبَیْتِ ، وَأَبُو بَکْرٍ یَقْضِی

وَأَبْیَضُ یُسْتَسْقَی الْغَمَامُ بِوَجْہِہِ ثُمَالُ الْیَتَامَی عِصْمَۃٌ لِلأَرَامِلِ

فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : ذَلِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٣١) حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان پر حق کو جاری فرما دیا ہے۔
(۳۲۶۳۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، عَنْ غُضَیْفِ بْنِ الْحَارِثِ رَجُلٍ مِنْ أَیْلَۃَ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : إنَّ اللَّہَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَی لِسَانِ عُمَرَ۔

(ابوداؤد ۶۹۵۵۔ احمد ۱۶۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٣٢) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے خواب میں دکھلایا گیا : گویا کہ میں کنویں پر چرخی سے ڈول کھینچ رہا ہوں پس ابوبکر آئے پھر انھوں نے ایک یا دو ڈول نکالے اور انھوں نے بہت کمزوری سے ڈول کھینچا۔ اللہ ان کی مغفرت کرے ، پھر عمر بن خطاب آیا پس اس نے پانی نکالا یہاں تک کہ چمڑے کا ڈول ٹیڑھا ہوگیا ۔ پس میں نے ایسا کوئی زورآور شخص نہیں دیکھا جو عمر (رض) جیسا حیرت انگیز کام کرتا ہو۔ اور وہ سب لوگ پانی کے پاس بیٹھ گئے۔
(۳۲۶۳۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللہِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُرِیتُ فِی النَّوْمِ کَأَنِّی أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَکْرَۃٍ عَلَی قَلِیبٍ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا، أَوْ ذَنُوبَیْنِ فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِیفًا وَاللَّہُ یَغْفِرُ لَہُ، ثُمَّ جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاسْتَسْقَی فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِیًّا مِنَ النَّاسِ یَفْرِی فَرِیَّہُ حَتَّی رَوِیَ النَّاسُ وَضَرَبُوا بِالْعَطَنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٣٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس درمیان کہ میں کنویں پر پانی پی رہا تھا کہ ابن ابی قحافہ آئے پس انھوں نے ایک یا دو ڈول نکالے بڑی کمزوری سے ، اور اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر عمر بن خطاب نے آ کر ڈول کھینچا یہاں تک کہ ان کے ہاتھ میں چمڑے کے ڈول کے نشان پڑگئے اور لوگ پانی کے قریب بیٹھ گئے ۔ پس میں نے ایسا کوئی زورآور شخص نہیں دیکھا جو ان جیسا حیرت انگیز کام کرتا ہو۔
(۳۲۶۳۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : بَیْنَا أَنَا أَسْقِی عَلَی بِئْرٍ إذْ جَائَ ابْنُ أَبِی قُحَافَۃَ فَنَزَعَ ذَنُوبًا ، أَوْ ذَنُوبَیْنِ فِیہِمَا ضَعْفٌ وَاللَّہُ یَغْفِرُ لَہُ ، ثُمَّ جَائَ عُمَرُ فَنَزَعَ حَتَّی اسْتَحَالَتْ فِی یَدِہِ غَرْبًا ، وَضَرَبَ النَّاسُ بِالْعَطَنِ فَمَا رَأَیْت عَبْقَرِیًّا یَفْرِی فَرِیَّہُ۔ (بخاری ۳۶۶۴۔ مسلم ۱۸۶۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٣٤) حضرت اسود بن ھلال (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے ان سے بیان کیا کہ میں ایک دن صبح کی نماز میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر تھا۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے چہرے کے ساتھ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : میں نے گزشتہ رات اپنی امت کے لوگوں کو دیکھا کہ ان کا وزن کیا جا رہا ہے۔ پس ابوبکر (رض) کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا بھاری ہوگیا۔ پھر عمر (رض) کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا بھاری ہوگیا۔
(۳۲۶۳۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنِ الأَشْعَثِ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ہِلالٍ ، أَنَّ أَعْرَابِیًّا لَہُمْ ، قَالَ : شَہِدْت صَلاۃَ الصُّبْحِ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ ، فَأَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ بِوَجْہِہِ ، فَقَالَ : رَأَیْت نَاسًا مِنْ أُمَّتِی الْبَارِحَۃَ ، وُزِنُوا فَوُزِنَ أَبُو بَکْرٍ فَوَزَنَ ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ فَوَزَنَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٣٥) حضرت ابو سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً گزرے ہوئے لوگوں میں کچھ آدمی ایسے ہوتے تھے جن کا گمان صحیح ہوتا تھا وہ نبی نہیں ہوتے تھے۔ پس اگر میری امت میں کوئی ان میں سے ہیں تو وہ حضرت عمر (رض) ہیں۔
(۳۲۶۳۵) حَدَّثَنَا عبد اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہُ کَانَ فِیمَنْ مَضَی رِجَالٌ مُحَدَّثون فِی غَیْرِ نُبُوَّۃٍ ، فَإِنْ یَکُنْ فِی أُمَّتِی أَحَدٌ مِنْہُمْ فَعُمَرُ۔ (مسلم ۱۸۶۴۔ ترمذی ۳۶۹۳)
tahqiq

তাহকীক: