মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯০০ টি

হাদীস নং: ৩২৬৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٣٦) حضرت قیس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا : جب حضرت عمر (رض) اسلام لائے تو ہم ہمیشہ کے لیے معزز ہوگئے۔
(۳۲۶۳۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ وَوَکِیعٌ وَابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : قَالَ عبْدُ اللہِ : مَا زِلْنَا أَعِزَّۃً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ۔ (بخاری ۳۶۸۴۔ حاکم ۸۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٣٧) امام شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم اس بات کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ بلاشبہ سکینہ و رحمت حضرت عمر (رض) کی زبان سے بولتی ہے۔
(۳۲۶۳۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ وَإِسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : مَا کُنَّا نُبْعِدُ أَنَّ السَّکِینَۃَ تَنْطِقُ بِلِسَانِ عُمَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٣٨) حضرت اسود (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے سامنے جب صلحاء کا ذکر کیا جاتا تو وہ فوراً حضرت عمر (رض) کا نعرہ لگاتے۔
(۳۲۶۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ عَبْدُ اللہِ : إذَا ذُکِرَ الصَّالِحُونَ فَحَیَّ ہَلاً بِعُمَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٣٩) حضرت طارق بن شھاب (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ کے سامنے صلحاء اور نیکوکاروں کا ذکر کیا جاتا تو آپ (رض) فورا سے حضرت عمر کا نعرہ لگاتے۔
(۳۲۶۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : إذَا ذُکِرَ الصَّالِحُونَ فَحَیَّ ہَلاً بِعُمَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٤٠) حضرت زید بن وھب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ حضرت عمر اسلام کے لیے مضبوط قلعہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ جن میں اسلام داخل ہوا اور اس سے اسلام نکلا نہیں۔ پس جب حضرت عمر (رض) کو قتل کردیا گیا تو اس قلعہ میں شگاف پڑگیا۔ پھر اسلام اس سے نکل گیا اور اس میں دوبارہ داخل نہیں ہوا۔
(۳۲۶۴۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : إنَّ عُمَرَ کَانَ لِلإِسْلامِ حِصْنًا حَصِینًا ، یَدْخُلُ فِیہِ الإسْلامُ ، وَلا یَخْرُجُ مِنْہُ ، فَلَمَّا قُتِلَ عُمَرُ انْثَلَمَ الْحِصْنُ فَالإِسْلامُ یَخْرُجُ مِنْہُ وَلا یَدْخُلُ فِیہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٤١) حضرت طارق بن شھاب (رض) فرماتے ہیں کہ جس دن حضرت عمر (رض) کو قتل کیا گیا تو حضرت ام ایمن (رض) نے فرمایا : آج اسلام میں شگاف پیدا ہوگیا۔
(۳۲۶۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، قَالَ : قالَتْ أُمُّ أَیْمَنَ لَمَّا قُتِلَ عُمَرُ الْیَوْمَ وَہَی الإسْلامُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٤٢) حضرت زر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی کو مدینہ کی ایک گلی میں شیطان ملا ۔ پس ان دونوں نے ایک دوسرے کو پکڑ لیا پھر شیطان کو پچھاڑ دیا گیا۔ حضرت عبداللہ (رض) سے پوچھا گیا کہ وہ شخص کون تھا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : تمہارے گمان میں حضرت عمر (رض) کے علاوہ کون ہوسکتا ہے ؟ !
(۳۲۶۴۲) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : لَقِیَ رَجُلٌ شَیْطَانًا فِی بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ فَاتخِذا فَصُرِعَ الشَّیْطَانَ ، فَسئلَ عَبْدُ اللہِ ، فَقَالَ : مَنْ تظنونہ إلاَّ عُمَرَ۔ (بیہقی ۱۲۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٤٣) حضرت ابراہیم بن مہاجر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد (رض) نے ارشاد فرمایا : حضرت عمر (رض) کی جو رائے ہوتی قرآن ویسے ہی نازل ہوجاتا۔
(۳۲۶۴۳) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، وعَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُہَاجِرِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ إذَا رَأَی الرَّأْیَ نَزَلَ بِہِ الْقُرْآنُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٤٤) حضرت مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب اس بات کو کنایۃً نہیں کرتے تھے کہ یقیناً فرشتہ حضرت عمر (رض) کی زبان کے مطابق بات کرتا ہے۔
(۳۲۶۴۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : مَا کُنَّا نَتَعَاجَمُ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ مَلَکًا یَنْطِقُ بِلِسَانِ عُمَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٤٥) حضرت واصل (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم تو آپس میں یوں بات کرتے تھے کہ یقیناً شیطان حضرت عمر (رض) کے زمانے میں ہتھکڑیوں میں جکڑ بند تھا۔ پس جب آپ (رض) کی وفات ہوگئی تو وہ آزاد ہوگیا۔
(۳۲۶۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : کُنَّا نُحَدَّثُ ، أَوْ کُنَّا نَتَحَدَّثُ ، أَنَّ الشَّیَاطِینَ کَانَتْ مُصَفَّدَۃً فِی زَمَانِ عُمَرَ ، فَلَمَّا أُصِیبَ بُثَّتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٤٦) حضرت ابو وائل (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا : میں حضرت عمر (رض) کے بارے میں رائے نہیں رکھتا تھا مگر یہ کہ گویا فرشتہ ان کی دو آنکھوں کے درمیان ہے اور ان کی راہنمائی کر کے سیدھے راستہ پر چلا رہاے۔
(۳۲۶۴۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : مَا رَأَیْت عُمَرَ إلاَّ وَکَأَنَّ بَیْنَ عَیْنَیْہِ مَلَکًا یُسَدِّدُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٤٧) حضرت زید بن وھب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : یقیناً عرب میں سے وہ گھرانہ جن پر حضرت عمر (رض) کی وفات کی آفت داخل نہیں ہوئی یقیناً وہ برا گھرانہ ہے۔
(۳۲۶۴۷) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : إنَّ أَہْلَ الْبَیْتِ مِنَ الْعَرَبِ لَمْ تَدْخُلْ عَلَیْہِمْ مُصِیبَۃُ عُمَرَ لأَہْلُ بَیْتِ سُوئٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٤٨) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کی وفات کے دن حضرت طلحہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کوئی شہر ی یا دیہاتی گھرانہ ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ ان کا نقصان ہوا۔
(۳۲۶۴۸) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ وَالثَّقَفِیُّ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو طَلْحَۃَ یَوْمَ مَاتَ عُمَرُ : مَا أَہْلُ بَیْتٍ حَاضِرٍ ، وَلا بَادٍ إلاَّ وَقَدْ دَخَلَ عَلَیْہِمْ نَقْصٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٤٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان اور دل میں رکھ دیا ہے۔
(۳۲۶۴۹) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ الْعُمَرِیِّ ، عَنْ جَہْمِ بْنِ أَبِی الْجَہْمِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ اللَّہَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَی لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہِ۔

(ابن حبان ۶۸۸۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٥٠) حضرت عبد الملک (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت قبیصہ بن جابر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نے کوئی شخص نہیں دیکھا جو حضرت عمر (رض) سے زیادہ اللہ کو جاننے والا، اور کتاب اللہ کو سب سے زیادہ پڑھنے والا اور اللہ کے دین میں زیادہ سمجھ رکھنے والا ہو۔
(۳۲۶۵۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ : حَدَّثَنِی قَبِیصَۃُ بْنُ جَابِرٍ ، قَالَ : مَا رَأَیْت رَجُلاً أَعْلَمَ بِاللہِ ، وَلا أَقْرَأَ لِکِتَابِ اللہِ ، وَلا أَفْقَہَ فِی دِینِ اللہِ مِنْ عُمَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٥١) حضرت زید بن وھب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا : میرا گمان نہیں ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گھرانہ ایسا ہو جہاں حضرت عمر کی وفات کے دن حضرت عمر (رض) کا غم داخل نہ ہوا ہو، مگر یہ کہ کوئی برا گھرانہ ہوگا۔ یقیناً حضرت عمر (رض) ہم میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھنے والے، اور اللہ کی کتاب کو ہم سب میں زیادہ پڑھنے والے، اور اللہ کے دین کے بارے میں ہم سب سے زیادہ سمجھ رکھنے والے تھے۔
(۳۲۶۵۱) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : مَا أَظُنُّ أَہْلَ بَیْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ لَمْ یَدْخُلْ عَلَیْہِمْ حُزْنُ عُمَرَ یَوْمَ أُصِیبَ عُمَرُ إلاَّ أَہْلَ بَیْتِ سُوئٍ ، إنَّ عُمَرَ کَانَ أَعْلَمَنَا بِاللہِ وَأَقْرَأَنَا لِکِتَابِ اللہِ وَأَفْقَہَنَا فِی دِینِ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٥٢) حضرت زر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے سامنے نیکو کاروں کا ذکر کیا جاتا تو وہ فوراً حضرت عمر (رض) کا نعرہ لگاتے۔ اور فرماتے ! یقیناً ان کا اسلام مسلمانوں کی مدد تھی اور ان کی خلافت مسلمانوں کی فتح تھی۔ اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا زمین پر کسی چیز کو مگر یہ کہ ہر چیز نے حضرت عمر (رض) کی کمی محسوس کی یہاں تک کہ کانٹے دار درختوں نے بھی۔ اللہ کی قسم ! بلاشبہ میں گمان کرتا تھا کہ ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ ہے جو ان کو سیدھی راہ دکھاتا ہے اور ان کی راہنمائی کرتا ہے۔ اور اللہ کی قسم ! بلاشبہ شیطان خوف کھاتا تھا اس بات سے کہ وہ اسلام میں کوئی رخنہ ڈالے اس لیے کہ حضرت عمر (رض) اس کو اس پر واپس لوٹا دیں گے۔ اللہ کی قسم ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کوئی کتا بھی حضرت عمر (رض) سے محبت کرتا ہے تو میں اس سے بھی محبت کرنے لگوں۔
(۳۲۶۵۲) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : إذَا ذُکِرَ الصَّالِحُونَ فَحَیَّ ہَلاً بِعُمَرَ ، إنَّ إسْلامَہُ کَانَ نَصْرًا ، وَإِنَّ إمَارَتَہُ کَانَتْ فَتْحًا ، وَایْمُ اللہِ ، مَا أَعْلَمُ عَلَی الأَرْضِ شَیْئًا إلاَّ وَقَدْ وَجَدَ فَقْدَ عُمَرَ حَتَّی الْعِضَاہُ ، وَایْمُ اللہِ إنِّی لأَحْسَبُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ مَلَکًا یُسَدِّدُہُ وَیُرْشِدُہُ ، وَایْمُ اللہِ إِنِّی لأَحْسَبُ الشَّیْطَانَ یَفْرَقُ أَنْ یُحْدِثَ فِی الإِسْلاَمِ فَیَرُدَّ عَلَیْہِ عُمَرُ ، وَایْمُ اللہِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ کَلْبًا یُحِبُّ عُمَرَ لأَحْبَبْتہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٥٣) حضرت مصعب بن سعد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل (رض) نے فرمایا : یقیناً عمر (رض) جنت میں ہیں، اور حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کچھ نیند اور بیداری میں دیکھا وہ سب حق ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں جنت میں تھا کہ میں نے اس میں ایک گھر دیکھا پس میں نے پوچھا : یہ کس کے لیے ہے ؟ تو کہا گیا : عمر بن خطاب کے لیے۔
(۳۲۶۵۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، وَأَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : إنَّ عُمَرَ فِی الْجَنَّۃِ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا رَأَی فِی نَوْمِہِ وَفِی یَقْظَتِہِ فَہُوَ حَقٌ ، إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : بَیْنَمَا أَنَا فِی الْجَنَّۃِ إذ رَأَیْت فِیہَا دَارًا ، فَقُلْتُ : لِمَنْ ہَذِہِ ؟ فَقِیلَ : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔ (احمد ۲۴۵۔ ابن حبان ۶۸۸۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٥٤) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ یقیناً نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے ایک خوبصورت سونے سے بنا ہوا محل دیکھا تو میں نے پوچھا : یہ کس کا گھر ہے ؟ فرشتوں نے کہا : قریش کے ایک نوجوان کا۔ پس میں نے گمان کیا کہ یقیناً وہ میں ہی ہوں گا ، تو میں نے پوچھا : وہ کون سا نوجوان ہے ؟ انھوں نے کہا : عمر بن خطاب ۔
(۳۲۶۵۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : دَخَلْت الْجَنَّۃَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَہَبٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ ہَذَا ؟ قَالُوا : لِشَابٍّ مِنْ قُرَیْشٍ ، فَظَنَنْت أَنِّی أَنَا ہُوَ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ ہُوَ؟ قَالُوا : لِعُمَرَ۔ (احمد ۱۷۹۔ ابن حبان ۶۸۸۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٥٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں جنت میں داخل ہوا تو اس میں میں نے ایک سونے کا محل دیکھا جس کی خوبصورتی مجھے بہت اچھی لگی ۔ پس میں نے پوچھا : یہ کس کے لیے ہے ؟ تو مجھے بتایا گیا : عمر بن خطاب کے لیے۔ پس مجھے کسی بات نے بھی نہیں روکا اس میں داخل ہونے سے مگر یہ کہ مجھے اے ابو حفص تیری غیرت کا خیال آیا۔ تو حضرت عمر (رض) رونے لگے اور فرمایا : اے اللہ کے رسول 5! کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غیرت کھاؤں گا ؟ !
(۳۲۶۵۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : دَخَلْت الْجَنَّۃَ فَإِذَا فِیہَا قَصْرٌ مِنْ ذَہَبٍ فَأَعْجَبَنِی حُسْنُہُ ، فَسَأَلْت : لِمَنْ ہَذَا ؟ فَقِیلَ لِی : لِعُمَرَ ، فَمَا مَنَعَنِِی أَنْ أَدْخُلَہُ إلاَّ لِمَا أَعْلَمُ مِنْ غَیْرَتِکَ یَا أَبَا حَفْصٍ ، فَبَکَی عُمَرُ ، وَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، عَلَیْک أَغَارُ ؟!۔ (بخاری ۳۲۴۲۔ احمد ۳۳۹)
tahqiq

তাহকীক: