মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯০০ টি
হাদীস নং: ৩২৬৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٥٦) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اس میں ایک گھر یا محل دیکھا پس میں نے آواز سنی تو میں نے پوچھا : یہ کس کا ہے ؟ جواب دیا گیا : عمر بن خطاب کا۔ پھر میں نے اس میں داخل ہونا چاہا تو مجھے تمہاری غیر ت یاد آگئی۔ اس پر حضرت عمر (رض) رونے لگے اور فرمایا : اے اللہ کے رسول 5! کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غیرت کھاؤں گا ؟ !۔
(۳۲۶۵۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا یَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : دَخَلْت الْجَنَّۃَ فَرَأَیْتُ فِیہَا دَارًا ، أَوْ قَصْرًا ، فَسَمِعْت صَوْتًا ، فَقُلْتُ : لِمَنْ ہَذَا قِیلَ : لِعُمَرَ ، فَأَرَدْت أَنْ أَدْخُلَہَا فَذَکَرْت غَیْرَتَکَ ، فَبَکَی عُمَرُ وَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَعَلَیْکَ أَغَارُ ؟!۔ (مسلم ۱۸۶۲۔ احمد ۳۰۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٥٧) حضرت بریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میرا گزر ایک مربع محل پر سے ہوا جس میں بالاخانہ تھے۔ تو میں نے پوچھا : یہ محل کس کا ہے ؟ جواب دیا گیا : اہل عرب میں سے ایک آدمی کا۔ اس پر میں نے کہا : میں بھی عربی ہوں۔ یہ محل کس کا ہے ؟ انھوں نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے ایک فرد کا۔ میں نے کہا : میں ہی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں۔ یہ محل کس کا ہے ؟ انھوں نے کہا : عمر بن خطاب کا۔
(۳۲۶۵۷) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی حُسَیْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَرَرْت بِقَصْرٍ مِنْ ذَہَبٍ مُشْرِفٍ مُرَبع ، فَقُلْتُ : لِمَنْ ہَذَا الْقَصْرُ فَقِیلَ : لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ ، فَقُلْتُ : أَنَا عَرَبِی ، لِمَنْ ہَذَا الْقَصْرُ ، قَالُوا : لِرَجُلٍ مِنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْتُ : أَنَا مُحَمَّد ، لِمَنْ ہَذَا الْقَصْرُ ، قَالُوا : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔ (ترمذی ۳۶۸۹۔ احمد ۳۵۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٥٨) حضرت بریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میرا خیال ہے کہ اے عمر ! شیطان تجھ سے ڈرتا ہے۔
(۳۲۶۵۸) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابِ ، عَنْ حُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إنِّی لأَحْسَبُ الشَّیْطَانَ یَفْرَقُ مِنْک یَا عُمَرُ !۔ (ترمذی ۳۶۹۰۔ احمد ۳۵۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٥٩) حضرت ابو ہاشم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر (رض) نے قرآن کی اس آیت { وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِینَ } کے بارے میں فرمایا : : کہ حضرت عمر (رض) مراد ہیں۔
(۳۲۶۵۹) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ {وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِینَ} ، قَالَ : عُمَرُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٦٠) حضرت ابو السفر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کو اکثر ایک چادر پہنے دیکھا گیا تو ان سے پوچھا گیا ؟ بلاشبہ آپ (رض) اکثر یہ چادر پہنتے ہیں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : یہ میرے بہت قریبی ، مخلص اور خاص دوست عمر بن خطاب (رض) نے مجھے پہنائی تھی۔ یقیناعمر (رض) نے اللہ سے خالص توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ کو بھی قبول فرما لیا۔ پھر آپ (رض) رونے لگے۔
(۳۲۶۶۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ خَلَفِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِی السَّفَرِ ، قَالَ : رُؤیَ عَلَی عَلِیٍّ بُرْدٌ کَانَ یُکْثِرُ لُبْسَہُ ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : إنَّک لَتُکْثِرُ لُبْسَ ہَذَا الْبُرْدِ ، فَقَالَ : إِنَّہُ کَسَانِیہِ خَلِیلِی وَصَفِیِّی وَصَدِیقِی وَخَاصَّتِی عُمَرُ ، إنَّ عُمَرَ نَاصَحَ اللَّہَ فَنَصَحَہُ اللَّہُ ، ثُمَّ بَکَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٦١) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) مسلسل سخاوت فرماتے تھے جب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تھی یہاں تک کہ آپ (رض) کا بھی انتقال ہوگیا۔
(۳۲۶۶۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَا زَالَ عُمَرُ جَادًّا جَوَّادًا مِنْ حِینِ قُبِضَ حَتَّی انْتَہَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٦٢) حضرت سعد (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تو (عمر) نہیں کسی راستہ پر چلتا مگر یہ کہ شیطان اس راستہ سے ہٹ کر کسی اور راستہ پر چلا جاتا ہے۔
(۳۲۶۶۲) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَن عبد الحمید بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، مَا سَلَکْتَ فَجًّا إلاَّ سَلَکَ الشَّیْطَانُ فَجًّا سِوَاہُ ، یَقُولُہُ لِعُمَرَ۔
(بخاری ۳۲۹۴۔ مسلم ۲۲)
(بخاری ۳۲۹۴۔ مسلم ۲۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٦٣) حضرت عبداللہ بن شقیق (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت اقرع (رض) نے ارشاد فرمایا : حضرت کھمس (رض) کو شک تھا فرمایا : میں نہیں جانتا کہ اقرع سے مراد مؤذن ہیں یا کوئی اور ۔۔۔ بہرحال حضرت عمر (رض) نے قاصد بھیج کر بڑے پادری کو بلا کر پوچھا اس حال میں کہ میں ان دونوں کے پاس کھڑا ہو کر ان دونوں پر سورج کی دھوپ سے سایہ کررہا تھا، کیا تمہاری کتابوں میں ہمارا ذکر موجود ہے ؟ تو اس پادری نے کہا : تمہارے اوصاف اور تمہارے اعمال کا ذکر ہے۔ آپ (رض) نے پوچھا : میرے بارے میں تمہیں کیا کچھ پتہ ہے ؟ اس نے کہا : آپ (رض) کے بارے میں لوہے کے سینگ کا ذکر پاتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) کے چہرے میں غصہ کے آثار نمودار ہوئے اور فرمایا : لوہے کا سینگ ؟ اس نے کہا : مراد ہے کہ بہت زیادہ امانت دار ہو، تو آپ (رض) کو اس سے بہت خوشی ہوئی۔ فرمایا : میرے بعد کا کیسے ذکر ہے ؟ اس نے کہا : سچا خلیفہ ہوگا جو اپنے قریبی رشتہ داروں کو ترجیح دے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ ابن عفان پر رحم کرے۔ آپ (رض) نے پوچھا : ان کے بعد کا کیسے ذکر ہے ؟ بہت شدید شگاف ہوگا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے آپ (رض) الٹ پلٹ رہے تھے۔ آپ (رض) نے اس کو پھینک دیا اور دو یا تین مرتبہ فرمایا : افسوس ذلیل شخص پر ! اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! آپ ایسے مت کہیے۔ یقیناً وہ مسلمان خلیفہ ہوں گے اور نیک آدمی ہوں گے۔ لیکن انھیں خلیفہ بنایا جائے گا اس حال میں کہ تلوار لٹکی ہوئی ہوگی اور خون بہایا جا چکا ہوگا۔ راوی کہتے ہیں پھر آپ (رض) نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : نماز کا وقت ہے۔
(۳۲۶۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، قَالَ: حدَّثَنِی کَہْمَسٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ شَقِیقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی الأَقْرَعُ شَکَّ کَہْمَسٌ : لاَ أَدْرِی الأَقْرَعُ الْمُؤَذِّنُ ہُوَ ، أَوْ غَیْرُہُ ، قَالَ أَرْسَلَ عُمَرُ إِلَی الأُسْقُفِ قَالَ : فَہُوَ یَسْأَلُہُ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَیْہِمَا أُظِلُّہُمَا مِنَ الشَّمْسِ، فَقَالَ لَہُ: ہَلْ تَجِدُنَا فِی کِتَابِکُمْ، فَقَالَ: صِفَتَکُمْ وَأَعْمَالَکُمْ، قَالَ: فما تَجِدُنِی، قَالَ : أَجِدُک قَرْنًا مِنْ حَدِیدٍ ، قَالَ : فَنَفِطَ عُمَرُ فِی وَجْہِہِ وَقال َ: قَرْنٌ حَدِیدٌ ؟ قَالَ : أَمِینٌ شَدِیدٌ ، فَکَأَنَّہُ فَرِحَ بِذَلِکَ ، قَالَ : فَمَا تَجِدُ بَعْدِی ؟ قَالَ : خَلِیفَۃٌ صِدق یُؤْثِرُ أَقْرَبِیہِ ، قَالَ : یقول عُمَرُ : یَرْحَمُ اللہ ابن عَفَّان ، قَالَ : فَمَا تَجِدُ بَعْدَہُ ؟ قَالَ : صَدَع من حَدِید ، قَالَ : وَفِی یَدِ عُمَرَ شَیئٌ یُقَلِّبُہُ ، قَالَ : فَنَبَذَہُ فَقَالَ: یَا دَفْرَاہُ - مَرَّتَیْنِ ، أَوْ ثَلاَثًا ، قَالَ: فَلاَ تَقُلْ ذَلِکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، فَإِنَّہُ خَلِیفَۃٌ مُسْلِمٌ وَرَجُلٌ صَالِحٌ، وَلَکِنَّہُ یُسْتَخْلَفُ، وَالسَّیْفُ مَسْلُولٌ ، وَالدَّامُ مُہَْرَاقٍ ، قَالَ : ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیَّ ثُمَّ قَالَ : الصَّلاَۃُ۔ (ابوداؤد ۴۶۱۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٦٤) حضرت سمرہ بن جندب (رض) فرماتے ہیں کہ بلاشبہ ایک آدمی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک ڈول آسمان سے نیچے اترا۔ پس حضرت ابوبکر (رض) آئے ! انھوں نے اس کو دونوں کناروں سے پکڑا اور پانی پیا اس حال میں کہ ان میں کمزوری تھی۔ پھر حضرت عمر (رض) آئے انھوں نے اس کو دونوں کناروں سے پکڑ کر پانی پیا یہاں تک کہ وہ سیراب ہوگئے۔ پھر حضرت عثمان (رض) انھوں نے بھی اس کے دونوں کناروں کو پکڑ کر پانی پیا یہاں تک کہ وہ سیراب ہوگئے۔
(۳۲۶۶۴) حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالَ أَخْبَرَنَا الأَشْعَثُ بْنُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنَ جُنْدُبٍ أَنَّ رَجُلاً قَالَ : یَا رَسُولَ اللہ ! رَأَیْتُ کَأَنَّ دَلْوًا دُلِّیَ مِنَ السَّمَائِ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ فَأَخَذَ بِعَرَاقِیہَا فَشَرِبَ شَرَابًا وَفِیہِ ضَعْفٌ ، ثُمَّ جَائَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِیہَا فَشَرِبَ حَتَّی تَضَلَّعَ ، ثُمَّ جَائَ عُثْمَانُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِیہَا فَشَرِبَ حَتَّی تَضَلَّعَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٦٥) حضرت مالک الدار (رض) حضرت عمر (رض) کے شعبہ طعام میں خزانچی تھے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے زمانے میں لوگ قحط سالی میں مبتلا ہوگئے پس ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر پر حاضر ہو کر یوں کہنے لگا : اے اللہ کے رسول 5! اپنی امت کے لیے پانی طلب کیجئے وہ ہلاک ہوگئی ہے ! تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس آدمی کو خواب میں نظر آئے اور اس سے کہا : عمر (رض) کے پاس جا کر اسے میرا سلام کہو اور اسے بتاؤ کہ لوگ سیراب ہونے کی جگہ میں ہیں، اور اس سے کہو : تم پر دانشمندی لازم ہے۔ تم پر دانشمندی لازم ہے۔ پس وہ آدمی حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عمر (رض) کو اس خواب کی خبر دی ، تو حضرت عمر (رض) رونے لگے پھر فرمایا : اے میرے پروردگار ! کوئی کوتاہی نہیں مگر میں اس سے عاجز آگیا۔
(۳۲۶۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ مَالِکِ الدَّارِ ، قَالَ : وَکَانَ خَازِنَ عُمَرَ عَلَی الطَّعَامِ ، قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِی زَمَنِ عُمَرَ ، فَجَائَ رَجُلٌ إِلَی قَبْرِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اسْتَسْقِ لأُمَّتِکَ فَإِنَّہُمْ قَدْ ہَلَکُوا ، فَأَتَی الرَّجُلَ فِی الْمَنَامِ فَقِیلَ لَہُ : ائْتِ عُمَرَ فَأَقْرِئْہُ السَّلامَ ، وَأَخْبِرْہُ أَنَّکُمْ مُسْتَقِیمُونَ وَقُلْ لَہُ : عَلَیْک الْکَیْسُ ، عَلَیْک الْکَیْسُ ، فَأَتَی عُمَرَ فَأَخْبَرَہُ فَبَکَی عُمَرُ ، ثُمَّ قَالَ : یَا رَبِّ لاَ آلُو إلاَّ مَا عَجَزْت عَنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٦٦) حضرت شقیق (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا : اگر عرب کے زندہ لوگوں کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور حضرت عمر (رض) کا علم دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو حضرت عمر (رض) کا علم ان سب پر بھاری ہوگا۔
(۳۲۶۶۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : لَوْ وُضِعَ عِلْمُ أَحْیَائِ الْعَرَبِ فِی کِفَّۃٍ وَوُضِعَ عِلْمُ عُمَرَ فِی کِفَّۃٍ لَرَجَحَ بِہِمْ عِلْمُ عُمَرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٦٧) حضرت سالم (رض) فرماتے ہیں کہ اہل نجران نے حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی : اے امیرالمؤمنین ! آپ (رض) کا اپنا ہاتھ سے حکم لکھنا اور اپنی زبان سے شفاعت کرنا احسان ہوگا۔ حضرت عمر (رض) نے ہمیں ہماری زمین سے نکال دیا تھا۔ آپ (رض) ہمیں واپس وہاں بھیج دیں۔ تو حضرت علی (رض) نے اسے فرمایا : تمہارے لیے ہلاکت ہو یقیناً حضرت عمر (رض) صحیح معاملہ پر قائم تھے۔ اور میں ہرگز اس چیز کو نہیں بدلوں گا جو حضرت عمر (رض) نے فیصلہ کیا تھا۔ حضرت اعمش (رض) نے فرمایا : پس وہ لوگ کہتے تھے۔ اگر ان کے دل میں حضرت عمر (رض) کے بارے میں تھوڑی سی بھی ناراضگی ہوتی تو وہ اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھاتے۔
(۳۲۶۶۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : جَائَ أَہْلُ نَجْرَانَ إِلَی عَلِیٍّ فَقَالُوا : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ کِتَابُک بِیَدِکَ وَشَفَاعَتُک بِلِسَانِکَ ، أَخْرَجَنَا عُمَرُ مِنْ أَرْضِنَا فَارْدُدْنَا إلَیْہَا ، فَقَالَ لَہُمْ عَلِیٌّ : وَیْحَکُمْ ، إنَّ عُمَرَ کَانَ رَشِیدَ الأَمْرِ ، وَلا أُغَیِّرُ شَیْئًا صَنَعَہُ عُمَرُ ، قَالَ الأَعْمَشُ ، فَکَانُوا یَقُولُونَ : لَوْ کَانَ فِی نَفْسِہِ عَلَی عُمَرَ شَیْئٌ لاغْتَنَمَ ہَذَا عَلِیٌّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٦٨) امام شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) جب کوفہ آئے تو فرمایا : میں اس لیے آیا کہ حضرت عمر (رض) نے جو گرہ لگائی ہے۔ اس کو کھولوں۔
(۳۲۶۶۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ عَمَّنْ أَخْبَرَہُ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ حِینَ قَدِمَ الْکُوفَۃَ : مَا قَدِمْت لأَحُلَّ عُقْدَۃً شَدَّہَا عُمَرُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٦٩) حضرت عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ جن بھی حضرت عمر (رض) کے شہید ہونے سے تین دن قبل رو پڑے اور یہ اشعار کہے : (ترجمہ) مدینہ منورہ میں شہید ہونے والے کی جدائی پر زمین اپنے عضاء نامی درخت کے ساتھ کانپ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ امیر المومنین حضرت عمر (رض) کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کے جسم میں برکت عطا فرمائے۔ اگر کوئی سواری پر سوار ہو کر آپ کے کارناموں کو دہرانا چاہے تو ایسا نہیں کرسکتا۔ آپ کے فیصلے خوشوں کے پھل کی طرح عمدہ ہیں۔ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ ان کی وفات نیلی آنکھوں والے مکار درندے (ابولؤلؤ) کے ہاتھوں ہوگی۔
(۳۲۶۶۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنِ الصَّقْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ الْجِنَّ بَکَتْ عَلَی عُمَرَ قَبْلَ أَنْ یُقْتَلَ بِثَلاثٍ ، فَقَالَتْ :
أَبَعْدَ قَتِیلٍ بِالْمَدِینَۃِ أَصْبَحَتْ لَہُ الأَرْضُ تَہْتَزُّ الْعِضَاہُ بِأَسْوُقِ۔
جَزَی اللَّہُ خَیْرًا مِنْ أَمِیرٍ وَبَارَکَتْ یَدُ اللہِ فِی ذَاکَ الأَدِیمِ الْمُمَزَّقِ۔
فَمَنْ یَسْعَ ، أَوْ یَرْکَبْ جَنَاحَیْ نَعَامَۃٍ لِیُدْرِکَ مَا أسدیت بِالأَمْسِ یُسْبَقِ۔
قَضَیْت أُمُورًا ثُمَّ غَادَرْت بَعْدَہَا بَوَائِقَ فِی أَکْمَامِہَا لَمْ تُفَتَّقْ۔
وَمَا کُنْتُ أَخْشَی أَنْ تَکُونَ وَفَاتُہُ بِکَفَّیْ سَبَنْتی أَخْضَرِ الْعَیْنِ مُطْرِقِ
أَبَعْدَ قَتِیلٍ بِالْمَدِینَۃِ أَصْبَحَتْ لَہُ الأَرْضُ تَہْتَزُّ الْعِضَاہُ بِأَسْوُقِ۔
جَزَی اللَّہُ خَیْرًا مِنْ أَمِیرٍ وَبَارَکَتْ یَدُ اللہِ فِی ذَاکَ الأَدِیمِ الْمُمَزَّقِ۔
فَمَنْ یَسْعَ ، أَوْ یَرْکَبْ جَنَاحَیْ نَعَامَۃٍ لِیُدْرِکَ مَا أسدیت بِالأَمْسِ یُسْبَقِ۔
قَضَیْت أُمُورًا ثُمَّ غَادَرْت بَعْدَہَا بَوَائِقَ فِی أَکْمَامِہَا لَمْ تُفَتَّقْ۔
وَمَا کُنْتُ أَخْشَی أَنْ تَکُونَ وَفَاتُہُ بِکَفَّیْ سَبَنْتی أَخْضَرِ الْعَیْنِ مُطْرِقِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٧٠) حضرت زید بن وھب (رض) فرماتے ہیں کہ دو آدمی حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر ان دونوں میں سے ایک کہنے لگا : آپ اس آیت کو کیسے پڑھتے ہیں ؟ تو حضرت عبداللہ (رض) نے اس سے پوچھا : تمہیں یہ آیت کس نے پڑھائی ؟ اس نے کہا : حضرت ابو حکیم المزنی نے ۔ اور آپ (رض) نے دوسرے سے پوچھا : تمہیں یہ آیت کس نے پڑھائی ؟ اس نے کہا : مجھے حضرت عمر (رض) نے پڑھائی۔ آپ (رض) نے فرمایا : تم پڑھو جیسا کہ حضرت عمر (رض) نے تمہیں پڑھایا ، پھر رونے لگے یہاں تک کہ آپ (رض) کے آنسو کنکریوں پر گرنے لگے۔ پھر فرمایا : بلاشبہ حضرت عمر (رض) اسلام کے مضبوط و مستحکم قلعہ تھے جس میں اسلام داخل ہوا اور ان سے نکلا نہیں۔ پس جب حضرت عمر (رض) کا انتقال ہوگیا تو اس قلعہ میں شگاف پڑگیا پس وہ اس سے نکل گیا اور اس میں داخل نہیں ہوا۔
(۳۲۶۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلانِ إِلَی عَبْدِ اللہِ ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، کَیْفَ تَقْرَأُ ہَذِہِ الآیَۃَ ، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللہِ مَنْ أَقْرَأَک ؟ قَالَ : أَبُو حَکِیمٍ الْمُزَنِیّ ، وَقَالَ لِلآخَرِ: مَنْ أَقْرَأَک ؟ قَالَ : أَقْرَأَنِی عُمَرُ ، قَالَ : اقْرَأْ کَمَا أَقْرَأَک عُمَرُ ، ثُمَّ بَکَی حَتَّی سَقَطَتْ دُمُوعُہُ فِی الْحَصَا ، ثُمَّ قَالَ : إنَّ عُمَرَ کَانَ حِصْنًا حَصِینًا عَلَی الإسْلامِ ، یَدْخُلُ فِیہِ ، وَلا یَخْرُجُ مِنْہُ ، فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ انْثَلَمَ الْحِصْنُ فَہُوَ یَخْرُجُ مِنْہُ وَلا یَدْخُلُ فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٧١) حضرت عاصم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عثمان (رض) کے ہاتھ میں ایک لکڑی ہوتی تھی۔ جس کی مدد سے وہ چلتے تھے اور اکثر یوں فرماتے تھے : اگر اللہ چاہے کہ میری لاٹھی بولے تو یہ ضرور بولتی۔ آپ (رض) فرماتے ہیں : اگر حضرت عمر بن خطاب (رض) ترازو ہوتے تو پھر بال برابر بھی ناانصافی نہ ہوتی۔
(۳۲۶۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، أَنَّہُ کَانَتْ فِی یَدِہِ قَنَاۃٌ یَمْشِی عَلَیْہَا ، وَکَانَ یُکْثِرُ أَنْ یَقُولَ : وَاللہِ لَوْ أَشَائُ أَنْ تَنْطِقَ قَنَاتِی ہَذِہِ لَنَطَقَتْ ، لَوْ کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِیزَانًا مَا کَانَ فِیہِ مِیطُ شَعْرَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٧٢) حضرت سلیمان (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن (رض) کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) اور حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) نے ایک عورت کی طرف پیغام نکاح بھیجا تو اس کے اہل خانہ نے حضرت مغیرہ (رض) سے اس عورت کا نکاح کردیا اور حضرت عمر (رض) کو چھوڑ دیا یا راوی نے یوں کہا : کہ حضرت عمر (رض) کے پیغام کو رد کردیا۔ تو اس پر اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : البتہ تحقیق انھوں نے اس امت کے بہترین شخص کو چھوڑا یا فرمایا : رد کیا۔
(۳۲۶۷۲) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ یَقُولُ : خَطَبَ عُمَرُ وَالْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ امْرَأَۃً ، فَأَنْکَحُوا الْمُغِیرَۃَ وَتَرَکُوا عُمَرَ ، أو قَالَ : رَدُّوا عُمَرَ ، قَالَ : فَقَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ تَرَکُوا ، أَوْ رَدُّوا خَیْرَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٧٣) حضرت یونس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسین (رض) کبھی حضرت عمر (رض) کا ذکر کرتے تو فرماتے : اللہ کی قسم اگرچہ وہ پہلے اسلام لانے والوں میں سے نہیں تھے اور نہ ہی اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے والوں میں زیادہ افضل تھے لیکن وہ دنیا سے بےرغبتی میں لوگوں پر غالب تھے۔ اور اللہ کے دین کے معاملہ میں سخت مزاج تھے۔ اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے۔
(۳۲۶۷۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ ، عَنْ یُونُسَ ، قَالَ : کَانَ الْحَسَنُ رُبَّمَاْ ذُکِرَ عُمَرَ ، فَقَالَ : وَاللہِ مَا کَانَ بِأَوَّلِہِمْ إسْلاَمًا ، وَلاَ أَفْضَلِہِمْ نَفَقَۃً فِی سَبِیلِ اللہِ ، وَلَکِنَّہُ غَلَبَ النَّاسَ بِالزُّہْدِ فِی الدُّنْیَا وَالصَّرَامَۃِ فِی أَمْرِ اللہِ ، وَلاَ یَخَافُ فِی اللہِ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٧٤) حضرت قیس بن مسلم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت طارق بن شھاب (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ آپس میں یوں بات کرتے تھے کہ بلاشبہ سکینہ و رحمت حضرت عمر (رض) کی زبان پر نازل ہوتی ہے۔
(۳۲۶۷۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، قَالَ : کُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ السَّکِینَۃَ تَنْزِلُ عَلَی لِسَانِ عُمَرَ۔ (طبرانی ۸۲۰۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٧٥) حضرت ابو سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعد (رض) نے ارشاد فرمایا : بہرحال اللہ کی قسم ! اگرچہ وہ ہم میں اسلام کے اعتبار سے زیادہ قدیم نہیں تھے لیکن میں نے ان کو ہر چیز میں افضل پایا وہ ہم لوگوں میں سب سے زیادہ دنیا سے بےرغبت تھے۔ یعنی حضرت عمر بن خطاب (رض) ۔
(۳۲۶۷۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ، قَالَ: قَالَ سَعْدٌ: أَمَا وَاللہِ، مَا کَانَ بِأَقْدَمِنَا إسْلاَمًا وَلَکِنْ قَدْ عَرَفْت بِأَیِّ شَیْئٍ فَضَلَنَا، کَانَ أَزْہَدَنَا فِی الدُّنْیَا، یَعْنِی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔
তাহকীক: